(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولانامحمدارسل

مولانامحمدارسل

پروفائل | تمام کالمز
2026/10/14
موضوعات
روایتِ حدیث میں حفظ و معرفت کی شرط امام اعظمؒ کی نظرمیں
علومِ حدیث میں روایتِ حدیث کے آداب اور اس کے قبول و رد سے متعلق متعدد علمی مباحث پائے جاتے ہیں، انہی میں ایک اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ اگر کسی راوی کا سماع اور کتابت درست ہو، لیکن اسے اپنی روایت کردہ حدیث زبانی یاد نہ ہو، تو کیا محض کتاب میں موجود تحریر کی بنیاد پر اس کی روایت قابلِ قبول ہوگی؟ اس مسئلے میں آئمۂ حدیث کے مابین اختلاف منقول ہے، اور امام اعظم أبو حنیفہ رحمہ الله سے اس معاملے میں نسبتاً سخت موقف منقول ہے، ذیل میں اس موقف کے اثبات میں آئمۂ حدیث کی تصریحات پیش کی جاتی ہیں:

حافظ أبوبکر خطیب بغدادی علیہ الرحمہ نقل کرتے ہیں: أخبرنا أبو عبد الله أحمد بن محمد بن عبد الله الكاتب، أنا أبو بكر محمد بن حميد بن سهل المخرمي، ثنا علي بن الحسين بن حبان , قال وجدت في كتاب أبي بخط يده قال أبو زكريا يعني يحيى بن معين وسئل عن الرجل , يجد الحديث بخطه لا بحفظه فقال أبو زكريا «كان أبو حنيفة يقول لا تحدث إلا بما تعرف وتحفظ»

علی بن الحسین بن حبان کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کی کتاب میں ان کی اپنے ہاتھ سے لکھی ہوئی عبارت پائی، اس میں لکھا تھا کہ أبو زکریا، یعنی امام یحییٰ بن معین رحمہ الله سے ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو حدیث اپنی تحریر میں پاتا ہے لیکن اسے زبانی یاد نہیں رکھتا تو أبو زکریا نے فرمایا کہ امام أبو حنیفہ رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے: صرف وہی حدیث بیان کرو جسے تم پہچانتے ہو اور یاد رکھتے ہو ۔

[ الکفایة فی علم حدیث - (ص: 231) - ط: حیدرآباد الدکن الھند ]

حافظ أبو عبد اللّٰه حاکم نیشاپوری علیہ الرحمہ (م 405ھ) لکھتے ہیں: روايات محدث صحيح السماع صحيح الكتاب معروف بالسماع ظاهر العدالة غير أنه لا يعرف ما يحدث به ولا يحفظه كأكثر محدثي زماننا هذا فإن هذا القسم محتج به عند أكثر أهل الحديث فأما أبو حنيفة ومالك بن أنس رحمهما الله فلا يريان الحجة به.ایسے محدث کی روایات جو صحیح السماع، صحیح الکتاب، معروف بالسماع اور ظاہر العدالہ ہو، لیکن وہ ان احادیث کو نہ جانتا ہو جنہیں بیان کرتا ہے اور نہ انہیں یاد رکھتا ہو، جیسا کہ ہمارے زمانے کے اکثر محدثین کا حال ہے، تو اس قسم کی روایت اکثر اہلِ حدیث کے نزدیک حجت ہے، لیکن امام أبو حنیفہ اور امام مالک رحمہما الله اسے حجت نہیں مانتے ۔

[ المدخل الی کتاب الاکلیل - (ص: 48) - ط: دار الدعوۃ الاسکندریه ]

امام أبو عمرو إبن الصلاح علیہ الرحمہ (م 643ھ) لکھتے ہیں: إذا وجد سماعه في كتابه، وهو غير ذاكر لسماعه ذلك، فعن أبي حنيفة (رحمه الله) وبعض أصحاب الشافعي (رحمه الله) أنه لا تجوز له روايته. جب کسی شخص کو اپنی کتاب میں اپنے سماع کا اندراج ملے، لیکن اسے اپنا وہ سماع یاد نہ ہو، تو امام أبو حنیفہ رحمہ الله اور امام شافعی رحمہ الله کے بعض اصحاب سے یہ موقف منقول ہے کہ اس کے لیے اس حدیث کو روایت کرنا جائز نہیں ۔[ مقدمة إبن الصلاح - (ص: 213) - ط: دار الفکر بیروت ]

ان کے علاوہ امام اعظم أبو حنیفہ رحمہ اللہ کے اس مؤقف کے بارے میں دیگر آئمہ حدیث کے اقوال بھی ہیں، لیکن یاد رہے جمہور آئمہ حدیث کا مؤقف اس کے برخلاف ہے، اس مسئلے میں امام أعظم اور امام مالک بعض شوافع رحمہم اللّٰه کا مؤقف جمہور کی بنسبت سخت ہے ۔

کالم نگار : مولانامحمدارسل
| | |
44