(+92) 319 4080233
کالم نگار

ضیاء چترالی

ضیاء چترالی

پروفائل | تمام کالمز
2026/10/14
موضوعات
صیدنایا میں ہماری پھانسی کا دن
شام کی بدنام زمانہ جیل صیدنایا، جسے زندہ انسانوں کا قصاب خانہ یا مذبح کہا جاتا تھا، تین شامی نوجوانوں کے لیے موت کا انتظار گاہ بن چکی تھی۔ ان کے بارے میں گردش کرنے والی اس دردناک داستان کے مطابق، جیل میں ہر روز فجر کی اذان کے تقریباً آدھے گھنٹے بعد تین قیدیوں کو پھانسی دے دی جاتی تھی۔

جیل صحرا میں واقع تھی، اس لیے فجر کی اذان کی آواز مدھم سنائی دیتی تھی۔ یہ تینوں دوست اذان سنتے، وضو کرتے اور مل کر نماز ادا کرتے تھے۔ لیکن ایک دن ایسا آیا جب انہیں معلوم ہوا کہ اب پھانسی کی باری انہی کی ہے۔

وہ ان کی زندگی کی سب سے بھاری صبح تھی۔ تینوں ایک دوسرے سے لپٹ کر رونے لگے۔ موت سامنے کھڑی تھی، چند لمحوں بعد کیا ہونے والا تھا، کوئی نہیں جانتا تھا۔ وہ اپنے اہل خانہ، اپنی زندگی اور آخرت کے بارے میں سوچتے رہے۔

اسی اضطراب میں ان کی زبان پر یہ دعا آئی:

’’یا اللہ! ہمیں معاف فرما۔ آج ہم فجر کی اذان نہیں سننا چاہتے! اے اللہ! ہم اذان سے نفرت نہیں کرتے، ہم تو اسے ہر روز محبت سے سنتے ہیں، لیکن آج ہم اس اذان کے بعد آنے والے لمحے سے خوف زدہ ہیں!‘‘ اذان ہوگئی۔ چھ بجے، سات بجے، آٹھ بجے اور پھر دس بج گئے، مگر کوئی انہیں لینے نہ آیا۔ اچانک جیل کے اوپر ہیلی کاپٹر کی آواز سنائی دی۔ ایک نوجوان نے دیوار میں بنی ہوا کی چھوٹی سی درز سے باہر جھانکا تو کچھ اجنبی داڑھی والے افراد دکھائی دیے۔

پھر جیل میں شور اٹھا۔ کہیں قیدی خوشی سے چیخ رہے تھے، کہیں لوگ رو رہے تھے۔ تینوں دوست ابھی تک بے یقینی کی کیفیت میں تھے کہ اچانک ان کے کمرے کا بھاری دروازہ کھلا۔ باہر سے آواز آئی: ’’باہر نکلو! اسد کی حکومت گر چکی ہے!‘‘

یہ سنتے ہی تینوں زمین پر سجدے میں گر پڑے۔ وہ رو رہے تھے، اللہ کا شکر ادا کر رہے تھے اور بار بار کہہ رہے تھے:’’یا اللہ! ہم تو آج پھانسی پر چڑھنے والے تھے! ہم تو سمجھ رہے تھے کہ اب اپنے رب کے پاس جانے کا وقت آگیا ہے!‘‘

اس داستان میں بیان ہونے والا خوف، امید اور نجات کا احساس انسان کو ایک حقیقت یاد دلاتا ہے: جب دنیا کے تمام دروازے بند دکھائی دیں، تب بھی اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔

قرآن کریم میں ارشاد ہے:’’پس بے شک تنگی کے ساتھ آسانی ہے، بے شک تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔‘‘ (الانشرح: 5-6)

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:’’اور اللہ اپنے کام پر غالب ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ (یوسف: 21)

اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہ ہوں۔ انسان اپنی آنکھوں سے صرف موجودہ حالات دیکھتا ہے، لیکن اللہ وہ راستے بھی جانتا ہے جو ابھی اس کی نگاہوں سے اوجھل ہیں۔

کالم نگار : ضیاء چترالی
| | |
34