(+92) 319 4080233
کالم نگار

عالم خان

عالم خان

پروفائل | تمام کالمز
2026/10/14
موضوعات
قرآن فہمی ۔کبھی ایک لفظ پورا منظر بدل دیتا ہے
گزشتہ دنوں قرآنی اصطلاحات کے موضوع پر ایک مقالہ نظر سے گزرا۔ تحریر عمدہ تھی، لیکن اس میں قرآنی اصطلاحات کے بجائے لغوی بحث زیادہ نمایاں تھی۔ حالاں کہ قرآنی اصطلاحات کا مطالعہ ایک نہایت اہم علمی موضوع ہے، جس پر قابلِ قدر کام ہو چکا ہے اور مزید تحقیق کی وسیع گنجائش بھی موجود ہے۔

ہر علم کی اپنی اصطلاحات ہوتی ہیں۔ ان کے معانی، اطلاقات اور باریکیوں کو سمجھے بغیر اس علم کی گہرائی تک پہنچنا مشکل ہوتا ہے۔ اسی طرح قرآن مجید کی اصطلاحات کو بھی اس کے اپنے اسلوب، سیاق و سباق اور مختلف مقامات پر ان کے استعمالات کی روشنی میں سمجھنا ضروری ہے۔

اسی سلسلے میں 2019ء کا ایک واقعہ یاد آگیا۔

ترکیہ میں جرمنی سے ایک تعلیمی وفد آیا تھا، جس کے ساتھ ہماری ایک علمی نشست رکھی گئی۔ مجلس میں زیادہ تر شرکاء عمر، علم اور تجربے کے اعتبار سے بزرگ اور ممتاز اساتذہ تھے۔ اس لیے ہم زیادہ تر خاموش رہے اور اہلِ علم کی گفتگو سنتے رہے۔اسی دوران ایک عمر رسیدہ مستشرق پروفیسر نے کہا:

’’کل جمعہ ہے اور مسلمان عموماً جمعہ کے دن سورۂ کہف پڑھتے ہیں۔ کیا آپ نے کبھی اس کی آیات پر غور کیا ہے؟ بعض آیات ایسی ہیں جنہیں پڑھ کر آدمی الجھن میں پڑ سکتا ہے کہ آیا یہ واقعی کلامِ الٰہی ہے یا نہیں؟‘‘ اس کے بعد انہوں نے سورۂ کہف کی آیت 77 پیش کی، جس میں حضرت موسیٰ اور حضرت خضر علیہما السلام کے سفر کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے:

«حَتَّىٰ إِذَا أَتَيَا أَهْلَ قَرْيَةٍ اسْتَطْعَمَا أَهْلَهَا فَأَبَوْا أَن يُضَيِّفُوهُمَا»

’’یہاں تک کہ جب وہ دونوں ایک بستی والوں کے پاس پہنچے تو ان سے کھانا طلب کیا، لیکن انہوں نے دونوں کی مہمان نوازی سے انکار کر دیا۔‘‘

پروفیسر نے کہا کہ قرآن مجید نے یہاں اس مقام کے لیے «قریۃ» کا لفظ استعمال کیا ہے، لیکن چند آیات بعد، جب حضرت خضر علیہ السلام دیوار کی تعمیر کا راز بیان کرتے ہیں، تو اسی مقام کے لیے «المدینۃ» کا لفظ آتا ہے:

«وَأَمَّا الْجِدَارُ فَكَانَ لِغُلَامَيْنِ يَتِيمَيْنِ فِي الْمَدِينَةِ»

ان کا اعتراض یہ تھا کہ عربی زبان میں «قریۃ» اور «مدینہ» کے معانی اور اطلاقات میں فرق ہے۔ یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ اس دوران قریہ، مدینہ بن گیا تھا، کیونکہ حضرت خضر علیہ السلام کا بیان اسی واقعے کے تسلسل میں ہے۔ پھر سوال یہ ہے کہ وہ مقام قریہ تھا یا مدینہ؟

مجلس میں موجود اہلِ علم نے اس اعتراض کا جواب دینے کی کوشش کی، لیکن پروفیسر مطمئن نہ ہوا۔ میں اس موضوع پر پہلے ہی مطالعہ کر چکا تھا اور اس اعتراض کا جواب بھی جانتا تھا، تاہم مجلس میں بزرگ اہلِ علم کی موجودگی کے باعث گفتگو کرنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔

جب نشست اختتام کے قریب پہنچی تو میں نے ایک پروفیسر صاحب سے اجازت لے کر اپنی بات پیش کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ انہوں نے حاضرین کو خاموش کرایا اور مجھے گفتگو کا موقع دیا۔

میں نے عرض کیا کہ ان آیات کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم قرآن مجید کی اصطلاحات اور ان کے مدلولات کو سمجھیں۔ «قریۃ» اور «مدینہ» کے فرق کو محض آبادی کی قلت یا کثرت کی بنیاد پر دیکھنا کافی نہیں، بلکہ ان کے معنوی استعمالات اور قرآنی سیاق و سباق کو بھی پیشِ نظر رکھنا چاہیے۔

اس زاویۂ نظر سے قرآن مجید میں «قریۃ» کا اطلاق ایسی آبادی پر ہوتا ہے جس کے افراد کسی مشترک وصف، عقیدے یا رویے میں یکسانیت رکھتے ہوں، جب کہ «مدینہ» کا لفظ ایسی آبادی کے لیے بھی آتا ہے جہاں مختلف اوصاف اور طبائع کے حامل لوگ موجود ہوں۔

سورۂ کہف میں جب حضرت موسیٰ اور حضرت خضر علیہما السلام اس مقام پر پہنچے تو وہاں کے لوگوں نے ان کی مہمان نوازی سے انکار کر دیا۔ اس اجتماعی رویے میں یکسانیت کے اظہار کے لیے «قریۃ» کا لفظ استعمال ہوا۔ لیکن جب یتیم بچوں کی دیوار کا ذکر آیا تو ان کے والد کے بارے میں فرمایا گیا:«وَكَانَ أَبُوهُمَا صَالِحًا»

’’اور ان کا باپ نیک آدمی تھا۔‘‘

یہاں یتیم بچوں کے نیک والد کا ذکر آبادی کے دیگر لوگوں سے ان کے وصفی امتیاز کو نمایاں کرتا ہے۔ گویا اس مقام پر مختلف اوصاف کے حامل افراد کا ذکر ہے، اس لیے یہاں «المدینۃ» کا لفظ استعمال ہوا ہے۔

میری اس وضاحت کو حاضرین نے سراہا، جب کہ جرمن پروفیسر نے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان آیات پر مزید غور و تحقیق کرے گا۔

مأخَذ

سوشل میڈیا سے انتخاب

کالم نگار : عالم خان
| | |
67