(+92) 319 4080233
کالم نگار

مفتی سمیع الرحمٰن

مفتی سمیع الرحمٰن

پروفائل | تمام کالمز
2026/10/14
موضوعات
مشاجراتِ صحابہ کرام اور بعض اہل علم کی عبارات
اہلِ بیتِ عظام اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی محبت و عقیدت ایمان کا لازمی جزو اور طُرۂ امتیاز ہے۔ اسی جذبے کے تحت اہل سنت والجماعت نے ہمیشہ اس نوعیت کے حساس موضوعات اور بالخصوص "مشاجراتِ صحابہ" سے طبعی گریز کا رویہ اختیار کیا ہے۔

تاہم حالیہ عرصہ میں مولانا اللہ وسایا صاحب کی مرتب کردہ کتاب "احتسابِ ناصبیت " کی اشاعت کے بعد اس موضوع پر نئے سرے سے علمی و فکری بحثیں شروع ہوئیں، اور سوشل میڈیا پر موافق و مخالف آراء کا ایک ایسا طوفان اٹھا جس میں اہل سنت والجماعت کا متوازن، معتدل اور اصولی موقف پسِ منظر میں چلا گیا۔اس پس منظر میں غیر ضروری ہیجان سے گریز کرتے ہوئے اور خالص علمی و تاریخی اسلوب کو مدنظر رکھتے ہوئے چند معروضات نمبر وار پیشِ خدمت ہیں تاکہ اہل سنت کا مؤقف اور اکابرِ امت کی عبارات کی صحیح تشریح واضح ہو سکے۔

1- اہل سنت کا متفقہ عقیدہ ہے کہ صحابہ کرام سب کے سب عادل ہیں ۔ عادل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے دین کی بات جو آپ علیہ السلام سے سنی، دیکھی ، اسے مِنْ و عَنْ آگے امت تک پہنچایا ، اس میں کسی قسم کا ردو بدل ، حذف و اضافہ نہیں کیا ۔ جبکہ روافض اس کے قائل نہیں ہیں ۔

2- اہل سنت کا متفقہ عقیدہ ہے کہ صحابہ کرام امت کی سب سے مقدس جماعت ہے ، لیکن وہ معصوم نہیں ہے ۔ عصمت صرف انبیاء کا خاصہ ہے ، شیعہ اس کے قائل نہیں ہیں ۔ وہ اپنے ائمہ کو بھی معصوم کہتے ہیں، بلکہ ان پر نزول وحی کا دعویٰ کرکے عقیدہ ختم نبوت پر کاری ضرب بھی لگاتے ہیں ۔ اہل سنت کے نزدیک صحابہ کرام سے خطا ہو سکتی ہے ، گناہ بھی صادر ہو سکتا ہے ، مگر اللہ تعالیٰ اپنے ان محبوب بندوں کو موت سے قبل توبہ کی توفیق دے دیتا ، اس لئے وہ سب کے سب معصوم تو نہیں ہیں مگر مغفور ضرور ہیں ۔ رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ کا پروانہ ان کو مل چکا ہے ۔

3- جس طرح انبیاء علیہم السلام مخلوق میں سب سے مقدس جماعت ہے مگر ان کے باہمی مراتب میں تفاوت ہے جس کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ{ تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ ۘ مِّنْهُم مَّن كَلَّمَ اللَّهُ ۖ وَرَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجَاتٍ ۚ } میں فرمایا ہے۔ اسی طرح امت محمدیہ میں سب سے افضل گروہ صحابہ کرام کا ہے ، ان کے باہمی مراتب میں بھی تفاوت ہے اور یہ تفاوت قربانیوں کی بنا پر ہے ، جس کی تفصیل محدثین کرام بیان کرتے ہیں ، یہاں اس کی تفصیل کا موقع نہیں ہے ۔ مگر کسی بھی صحابی کا مرتبہ دوسرے صحابی کے مقابلے میں اس طریقے سے بیان کرنا کہ اس سے دوسرے صحابی کی ذات گرامی پر تنقیص لازم آتی ہو جائز نہیں ہے ۔ صحابہ کرام کے تمام طبقات کے لئیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے جنت کا وعدہ ہے ۔ وَ کُلًّا وَّعَدَ اللّٰہُ الۡحُسۡنٰی ۔۔۔

اس کے ساتھ ساتھ اہل سنت کا عقیدہ یہ بھی ہے کہ ادنی سے ادنی درجے کے صحابی بھی اتنی عظیم فضیلت رکھتے ہیں کہ صحابہ کرام کی جماعت کے بعد ساری دنیا کے اولیاء، محدثین، فقہاء، صوفیاء اپنے اعمال صالحہ و خدمات دینیہ کے ذریعے ان کے مرتبے کی الف باء تک بھی نہیں پہنچ سکتے ۔

4-- صحابہ کرام قرآنی شخصیات ہیں ، تاریخی شخصیات نہیں ۔ یعنی ان کے مقام و مرتبہ کا معیار قرآن وحدیث طے کرتا ہے ، تاریخی روایت کی بنیاد پر ان پر جرح کا حق کسی کو نہیں ہے اور نہ ہی تاریخی روایات کی بنیاد پر ان کا مرتبہ متعین ہوگا بالخصوص مقام جرح میں وہ روایات ناقابل اعتبار ہیں ۔

5-- زندگی کے اجتماعی اور انفرادی معاملات میں صحابہ کرام کے درمیان جو تنازعات پیش آئے ہیں ، ان کو حسن ادب کے الفاظ میں " مشاجرات صحابہ کرام" کہا جاتا ہے ، سلف صالحین ان مشاجرات میں کفّ لسان کو ترجیح دیتے ہیں ۔ مشاجرات صحابہ ایسا پل صراط ہے جس پر چلنے والے عموما ایک کسی جانب لڑھک جاتا ہے، بہت کم لوگ عافیت کے ساتھ اسے پار کر پاتے ہیں ۔

6- مشاجرات صحابہ کا عقیدہ سے کوئ تعلق نہیں ہے۔ اس پر کوئ عمل موقوف نہیں ہے ۔ اگر کسی مسلمان کو پوری زندگی اس کا علم نہ ہو تو اس کے ایمان اور اعمال صالحہ پر کوئ منفی اثر نہیں پڑتا ۔ اس لئیے مسلمان کو اس میں نہیں پڑنا چاہیے ، علما کو عوامی مجمع میں یہ موضوع بیان نہیں کرنا چاہیے ، علمائے اہل سنت صرف اس وقت دفاع کے طور پر اس کو موضوع بحث بناتے ہیں جب کوئ اس کی آڑ میں قرآنی شخصیات کو ہدف طعن بناتا ہے ، قرآن کریم اور احادیث رسول میں ان کا جو مقام و مرتبہ بیان کیا گیا ہے ۔ اس کا دفاع کرنا درحقیقت قرآن و حدیث کا دفاع کرنا ہے ۔ اہل ہوی نفس کی تسکین کے لئے متشابہات اور تاریخی ظنیات پر اپنے موقف کی بنیاد رکھ کر امت میں انتشار و افتراق کا بیج بوتے ہیں ۔

7-- حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان جو اختلاف رونما ہوا اس کی بنیاد قاتلین عثمان کے قصاص پر تھی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ تاخیر قصاص کا موقف رکھتے تھے اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ تعجیل قصاص کا ۔ دونوں اپنے دعویٰ میں مجتہد تھے ۔ حضرت عثمان کی شہادت کے مرتکب شرپسند حضرت علی رضی اللہ کے ہاتھ پر بیعت خلافت کرکے اپنی جان بچانے کی غرض سے ان کی چھتری میں آچکے تھے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا موقف اور اجتہاد یہ تھا کہ ان شر پسندوں عناصر سے قصاص کے لئے خلافت کی وحدت اور قوت کی ضرورت ہے ، کیونکہ اس کے بغیر قصاص کا اقدام مزید فساد کا باعث بنے گا ۔ اگر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ بھی پہلے بیعت کرلیں تو خلافت مستحکم ہو جائے گا ، پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں کا قصاص لینا آسان ہو جائے گا ۔ شرپسندوں کی طاقت بھی کمزور پڑ جائے گی ۔ قصاص کو بالکلیہ معطل کرنا تو شریعت کو معطل کرنا ہے اس لئے قصاص معطل تو نہیں کیا جاسکتا ، لیکن اس کے نفاذ کو مناسب وقت تک موقوف کیا جاسکتا ہے ۔ گویا حضرت علی رضی اللہ عنہ کا اجتہادی موقف "تاخیر قصاص " کا تھا ۔

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا موقف یہ تھا کہ آیت قرآنی ۔ وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيِّهِ سُلْطَانًا فَلَا يُسْرِفْ فِي الْقَتْلِ ۖ إِنَّهُ كَانَ مَنْصُورًا ۔ کی رو سے بحثیت ولی اموی خاندان کے مجھے یہ حق ولایت حاصل ہے کہ میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں سے اس کا قصاص لوں ۔ یہ حق قرآنی آیت کی رو سے خلیفہ کے ہاتھ بیعت کرنے پر موقوف نہیں ہے ۔ شرپسندوں کو ڈھیل دینا مزید سرکش بنانا ہے ۔گویا ان کا اجتہادی موقف " تعجیل قصاص کا تھا " ۔

8-- اس بنا پر اہل سنت کا اس پر اتفاق ہے کہ ہر دو جانب نزاع کے جتنے امور تھے وہ سب اجتہادی تھے ، کسی کو اپنے موقف پر ایسی قطعیت کا دعویٰ نہیں تھا کہ دوسرے کو قطعیت کے ساتھ غلط ٹہرا سکے۔ کیونکہ اجتہادی امور ظن کے درجے میں ہوتے ہیں ۔ صرف روافض ہی ہیں جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے موقف کو قطعی الدلالة اور قطعی الثبوت سمجھتے ہیں بلکہ وہ آپ کو خلیفہ بلا فصل سمجھتے ہیں ۔ اہل سنت کے نزدیک اجتہادی امور میں اگر مجتہد کی رائے منشاء الٰہی کے موافق ہو تو اس پر اس کو دو اجر ملتے ہیں ۔ اور اگر مجتہد کی رائے منشاء الٰہی کے موافق نہ ہو تو ایک اجر کا مستحق ٹھہرتا ہے ۔ اور اسی کو فقہائے اصول خطائے اجتہادی سے تعبیر کرتے ہیں ۔ اس سے مجتہد گناہ گار نہیں ہوتا نہ ہی قابل ملامت ہوتا ہے ۔ ہر مجتہد خود کو مصیب مگر محتمل الخطا ، اور مخالف کو مخطی مگر محتمل الصواب سمجھتا ہے اور اسی فہم کا مکلف ہوتا ہے ۔ اجتہاد میں مخطی ہوجانا نہ مقام نبوت کے منافی ہے نہ مقام صحابیت کے ۔ ہاں جب آپ علیہ السلام سے خطائے اجتہادی کا صدور ہوتا تھا تو وحی کے ذریعے متنبہ کردیا جاتا تھا ۔

9--اب سوال یہ ہے کہ حضرت علی اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما میں کون مجتہد مصیب اور کون مجتہد مخطی تھا ؟ اس کا مدار اجتہاد کے منشاء الٰہی کے موافق ہونے نہ ہونے پر ہے۔ اور اس کا حقیقی علم اللہ تعالیٰ کو ہے۔ البتہ دنیا میں ہر فریق کو حق حاصل ہے کہ دعوی و دلائل کی بنیاد پر اپنے برحق ہونے کا اثبات کرے ۔ اس مقام پر صحابہ کرام کے تین آراء سامنے آتی ہیں ۔ اور یہی اہل سنت کی فکری بنیادیں ہیں ۔

پہلی رائے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھ شامل صحابہ کرام کی ہے ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد اپ کو اہل مدینہ اور اہل رائے نے خلافت کے لئیے منتخب کیا تھا اس لئے آپ کو حق تھا کہ تمام علاقوں کے گورنروں سے تجدید بیعت لے کر ان پر اپنا حکم نافذ کریں، اس بنا پر ان کو حق تھا کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو بیعت پر مجبور کریں تاکہ امت ایک امیر پر مجتمع ہو ۔

دوسری رائے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھ صحابہ کرام کی ہے ۔ ان کی رائے یہ تھی کہ مقتول کے اولیا کو قصاص کا حق قرآن کرم دیتا ہے اور اس حق کا مطالبہ خلیفہ کی بیعت پر موقوف نہیں ہے ۔ اس لئیے پہلے حضرت علی رضی اللہ عنہ ہمیں قصاص لینے دیں پھر ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کریں گے ۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ صحابی رسول ہیں ۔ کاتب وحی ہیں ۔ آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مقابلے میں خلافت کا دعویٰ نہیں کیا تھا نہ ہی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ماتحت علاقوں کو چھین کر اس پر حکومت قائم کی تھی ، صرف اپنے محکومہ علاقے میں صاحب اقتدار رہے ۔ اجتہادی اصول کے مطابق آپ کا یہ اجتہاد اپنے تئیں صواب اور محتمل الخطاء تھا ۔ آپ اور آپ کی تائید کرنے والے صحابہ کرام بھی اہل حق ہیں ، آپ کے موقف کی تائید کرنے والے بھی صرف اس تائید کی بنا پر اہل سنت سے خارج نہیں کہلائیں گے ۔ لیکن جمہور اہل سنت ، اصول و قواعد کی رو سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اجتہاد میں صواب کی تائید کرتے ہیں ۔ وہ صحابہ کرام کے درمیان حکم اور جج نہیں بنتے جیسا کہ بعض لوگوں کو یہ خیال آتا ہے ۔ کسی امتی کو کیا حق بنتا ہے کہ وہ صحابہ کرام میں فیصل اور جج بنںے ۔ ہاں جمہور اہل سنت حضرت علی رضی اللہ عنہ کے موقف کی تائید کرتے ہیں کیونکہ وہ السابقون الاولون میں سے ہیں ، بدری ہیں ، عشرہ مبشرہ میں سے ہیں ، صحابہ کرام کی جماعت میں چوتھے نمبر پر سب سے افضل صحابی ہیں ، ان کے ذاتی فضائل بہ کثرت وارد ہیں ۔ ان کو اہل شوری نے خلافت کے لئے منتخب کیا تھا ۔ ان تمام چیزوں کو سامنے رکھتے ہوئے جمہور اہل سنت حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اجتہاد کو صواب مگر محتمل الخطاء سمجھتے ہیں ۔ کسی جانب بھی صواب و خطا کو قطعی نہیں سمجھتے ۔

تیسری رائے صحابہ کرام کی ایک جماعت کی ہے جو دونوں کی عظمت کے قائل ہونے کے ساتھ ساتھ عملی طور پر اس نزاع سے الگ تھلگ رہی ۔ انہوں نے اپنی زبان اور اپنا اسلحہ کو اس نزاع سے پاک رکھا ۔ لہذا اس نزاع میں نہ پڑنا ، دونوں کی ناموس کی حفاظت کرنا بھی اہل سنت کا ایک موقف ہے ۔

10-- جب یہ بات واضح ہوگئی کہ تعجیل قصاص اور تاخیر قصاص پر نزاع اجتہادی تھا، یہ بھی واضح ہوگیا کہ اس میں صواب و خطا قطعی نہیں ہوتا ، یہ بھی واضح ہوگیا کہ جمہور اہل سنت اصول و قواعد کی بنا پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اجتہاد کی تائید کرتے چلے آئے ہیں ، اب سوال یہ ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے لئے جو صحابی بھی تھے، کاتب وحی بھی، مجتہد بھی تھے ، ان کے حق میں خطائے اجتہادی کے علاوہ مورخین کی روایات کی بنا پر ایسے الفاظ کی نسبت کی جاسکتی ہے جو ان کو صحابیت، اور اجتہاد کے منصب سے ہٹا کر ان کے متعلق نعوذ باللہ گناہ گار اور فسادی کا تاثر دے ؟ اس پر روشنی ڈالتے ہوئے حضرت مجدد الف ثانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: ’’جمہور اہل السنۃ والجماعۃ کا دلائل کی روشنی میں یہ عقیدہ ہے کہ مشاجراتِ صحابہؓ میں حق حضرت علیؓ کے ساتھ تھا اور ان کے مخالفین نے خطا کا راستہ اپنایا تھا۔ لیکن چونکہ یہ خطا اجتہادی ہے اس لیے ملامت اور اعتراض سے مبرا اور بالاتر ہے اور اہلسنۃ والجماعۃ محاربینِ علیؓ کے حق میں صرف خطاء کے لفظ کا اطلاق کرتے ہیں، کیونکہ اس میں تاویل کی گنجائش ہے، اس کے بغیر ان پر کسی لفظ کا اطلاق روا نہیں رکھتے۔‘‘ (مکتوبات حصہ ششم دفتر دوم ص ۷۹)

اب اگر کسی مؤرخ، محدث، ناقد ، مناظر کی عبارات و روایات میں خطائے اجتہادی کے علاوہ باغی ، ظالم ، جائر ، جیسے الفاظ استعمال ہوئے ہوں تو ہمیں کیا کرنا چاہیے ؟ اولاً ۔ ہمیں یہ ذہن نشین رکھنا چاہیے کہ ایسی عبارات عقیدہ اہل سنت کا معیار نہیں۔ ثانیاً ۔ ان الفاظ کے استعمال کرنے اور ترویج دینے سے اجتناب کیا جائے ۔

ثالثاً ۔ اگر ایسے الفاظ استعمال کرنے والے ناقد ، مناظر ،محدث، مورخ، میں تشیع کے قرائن نہیں ہیں تو ان کی دینی خدمات کے پیش نظر ان کے الفاظ کی تاویل کی جائے کہ یہ باغی ظالم جائر کے الفاظ "برحق اجتہاد " کے مقابلے میں " خطائے اجتہادی "کے لئے بطور مترادف کے استعمال ہوئے ہیں ، کیونکہ ان کے لغوی معنی میں ایسا توسع ہے جس کے اعتبار سے "اجتہاد برحق سے ہٹنا " مراد لیا جاسکتا ہے .

الفاظ کے لغوی معنی میں توسع کی بنا پر قرآن کریم میں حضرت آدم علیہ السلام کے لیئے عصیان کی نسبت استعمال ہوئ ہے، فعصی آدم ربه ۔ اسی طرح انبیاء علیہ السلام خلاف اولی امور پر اپنے لئے ظلم کے لفظ کی نسبت اس کی وسعت معنوی کی بنا پر فرماتے تھے ۔ یہ تفصیل بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ باغی ظالم جائر کے الفاظ کے معنی میں ایسا توسع ہے کہ اسے خطائے اجتہادی کا مترادف قرار دیا جائے ۔ تاویل کی حد تک یہ درست ہے ۔ مگر اس کے باوجود ان الفاظ کا استعمال صحابی کے لئے نقل کرنا ، رائج کرنا ممنوع ہے ۔ کیونکہ انبیاء کی عصمت کی وجہ سے الفاظ کی تاویل کی طرف ذہن فورا منتقل ہوجاتا ہے ۔

مگر صحابی کے موقع پر ایسا نہیں ہوتا کیونکہ وہ معصوم نہیں ہیں۔ بلکہ شرپسند اور اہل سنت کے دشمن عناصر ان الفاظ کو بازاری اور مخصوص اصطلاحی معنی میں لے کر سب و شتم کا دروازے کھولتے ہیں ۔ بلکہ اگر باغی سے اصطلاح شرعی کا باغی مراد لیا جائیے اور ظالم سے کبائر کا مرتکب یا لوگوں کے حقوق کو غصب کرنے والا مراد لیا جائے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ پر بھی حرف آئے گا کہ آپ نے ان سے تعرض کیوں ختم فرما دیا تھا ؟ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے ایسے باغی اور ظالم کے ہاتھ پر بیعت کیوں کر لی تھی بلکہ اپنی خلافت بھی ان کے سپرد کردی گویا باغی اور ظالم کے معاون بن گئے تھے ؟ ہر گز نہیں ! یہ سب اشکال اس وجہ سے ہوئے کہ ہم ان کو ان کے منصب اجتہاد سے ہٹا دیا ۔ اس لئے سداً للذرائع بھی ظالم باغی جائر کی لغوی نسبت کرنا بھی درست نہیں ہے ۔

رابعاً ۔ جن مصنفین کے الفاظ کی تاویل نہ ہوسکتی ہو تو اسے مصنف کا تفرد قرار دیا جائے گا ۔ اس سے اہل سنت کا موقف کشید کرنا یا اس تفرد کی صحت پر اصرار کرنا اہل سنت کا منہج نہیں ہے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنے فضائل و مرتبہ میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے افضل ہیں ۔ مگر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ایسی توصیف کرنا کہ جس سے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی شان میں تنقیص ہو یہ تشیع ہے ، اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی ایسی توصیف کرنا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شان میں تنقیص آئے یہ ناصبیت ہے ۔ اہل سنت ان دونوں سے پناہ مانگتے ہیں ۔ مشاجرات میں سکوت کو افضل اور احوط قرار دیتے ہیں ۔

علامہ ابن عابدین شامیؒ فرماتے ہیں کہ:
’’ہم پر یہ واجب ہے کہ ہم صحابہ کرامؓ کا احترام اور ان کی تعظیم کریں، ان پر اعتراض و تنقید کو حرام سمجھیں اور ان کے باہمی مشاجرات کے بارے میں سکوت اختیار کریں یعنی تنقید اعتراض زبان روک کر رکھیں یا جج اور ثالث بن کر فیصلہ نہ کریں اسی طرح بلاضروت اس پر بحث نہ کریں، کیونکہ صحابہ کرام کے مشاجرات اجتہاد کی بنیاد پر تھے۔ یہ اہلِ حق اہل السنۃ والجماعۃ کا مذہب ہے، جس شخص نے اس راستہ کو چھوڑ کر دوسرا طریقہ اختیار کیا وہ یا تو ضال اور مبتدع ہے، یا پھر کافر ہے۔‘‘ (رسائل ابن عابدین ص ۳۵۷)

کالم نگار : مفتی سمیع الرحمٰن
| | |
45