(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولانا محمد طیب حنیف میمن(لیکچرار، بحریہ کالج، کارساز | فاضل و متخصص، جامعہ علومِ اسلامیہ، بنوری ٹاؤن)

مولانا محمد طیب حنیف میمن(لیکچرار، بحریہ کالج، کارساز | فاضل و متخصص، جامعہ علومِ اسلامیہ، بنوری ٹاؤ

پروفائل | تمام کالمز
2026/10/14
موضوعات
منہجِ نبوی ﷺ میں تعلیم و تربیت کے زریں اصول اور بچوں کی نفسیات
آج کے معلمین اور والدین بچوں پر بڑھتے ہوئے ذہنی دباؤ، بے جا مسابقت اور بدلتے ہوئے رویّوں جیسے مسائل سے دوچار ہیں۔ ایسے میں ہم نئے نظریات کی تلاش میں رہتے ہیں، حالاں کہ تعلیم و تربیت کا ایک کامل نظام چودہ صدیاں پہلے معلمِ اعظم ﷺ پیش فرما چکے ہیں۔ یہ نظام انسانی نفس، جذبات اور اخلاق کی گہری سمجھ پر مبنی ہے۔ اس کا مقصد محض معلومات منتقل کرنا نہیں، بلکہ شخصیت کو سنوارنا بھی ہے۔ اس مضمون میں نبوی منہج کے چند بنیادی اصولوں کا جائزہ جدید نفسیاتی تحقیقات کی روشنی میں لیا گیا ہے۔

نبی کریم ﷺ: معلمِ کامل:
نبی اکرم ﷺ نے خود ارشاد فرمایا: *”مجھے تو معلم بنا کر بھیجا گیا ہے۔“* (سنن ابن ماجہ)

آپ ﷺ کا طریقۂ تدریس بے ترتیب اور رسمی نہیں تھا، بلکہ اس میں حکمت، بصیرت اور انسانی دل و دماغ کی گہری سمجھ پائی جاتی تھی۔ مختصر عرصے میں آپ ﷺ نے ایک بکھرے ہوئے معاشرے کی ایسی تربیت فرمائی کہ وہی لوگ علم، اخلاق اور تہذیب کے رہنما بن گئے۔

جدید تعلیمی تحقیقات بھی استاد کی اہمیت کو تسلیم کرتی ہیں۔ ماہرِ تعلیم جان ہیٹی (John Hattie) کی تحقیق کے مطابق طالب علم کی تعلیمی کامیابی اور شخصیت کی تشکیل میں استاد کی ذات اور اس کا تدریسی انداز مؤثر عوامل میں شامل ہیں۔

تعلیم کے ساتھ تزکیہ اور کردار سازی: نبوی نظامِ تربیت کی بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں ذہن کو معلومات سے بھر دینا کافی نہیں سمجھا جاتا، بلکہ روح کی پاکیزگی اور اخلاق کی اصلاح، یعنی تزکیے، کو بھی بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ قرآنِ مجید نے مقاصدِ بعثت میں تلاوتِ آیات کے ساتھ تزکیہ اور تعلیمِ کتاب و حکمت کا ذکر کیا ہے۔ گویا حقیقی تعلیم وہ ہے جو طالب علم کی شخصیت اور کردار کو بھی سنوارے۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:*”إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ صَالِحَ الْأَخْلَاقِ“*

”مجھے اعلیٰ اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہے۔“

ایک اور موقع پر ارشاد فرمایا:*”أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا“*

”مومنوں میں کامل ایمان والا وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔“

آج جدید دنیا بھی اس حقیقت کو تسلیم کرتی ہے کہ زندگی اور تعلیم میں کامیابی کے لیے محض ذہانت (IQ) کافی نہیں، بلکہ جذباتی پختگی (EQ) اور اخلاقی تربیت بھی ضروری ہیں۔

بچوں کی نفسیات اور نبوی شفقت:
نبی کریم ﷺ بچوں کی جذباتی ضروریات سے بخوبی واقف تھے۔ آپ ﷺ انہیں نادان سمجھ کر نظر انداز نہیں فرماتے تھے، بلکہ ان سے محبت و شفقت کا معاملہ کرتے، انہیں گود میں اٹھاتے اور چومتے تھے۔

ایک مرتبہ آپ ﷺ نے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو چوما تو اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”میرے دس بچے ہیں، میں نے ان میں سے کسی کو نہیں چوما۔“ آپ ﷺ نے فرمایا:*”مَنْ لَا يَرْحَمُ لَا يُرْحَمُ“*

”جو رحم نہیں کرتا، اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔“ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

یہ شفقت بچے میں تحفظ کا احساس اور خود اعتمادی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ماہرِ نفسیات جان بالبی (John Bowlby) کے نظریۂ وابستگی (Attachment Theory) کے مطابق والدین اور بچوں کے درمیان محبت اور مضبوط جذباتی تعلق (Secure Attachment) بچے کی ذہنی صحت، خود اعتمادی اور مستقبل کے تعلقات کی تشکیل میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

تدریج اور حکمت: قدم بہ قدم سکھانا:
کسی بات یا اصلاح کو یک بارگی مسلط کرنے کے بجائے مرحلہ وار سکھانا نبوی حکمت کا ایک اہم اصول ہے۔ قرآنِ کریم کا تدریجاً نازل ہونا اس کی نمایاں مثال ہے۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے منقول ہے کہ پہلے انہیں ایمان اور عقیدے کی تعلیم دی گئی، پھر جب ایمان دلوں میں راسخ ہوگیا تو قرآنِ کریم کے احکام سکھائے گئے، جن پر عمل کرنا ان کے لیے آسان ہوگیا۔

نبوی اسلوبِ تعلیم میں بنیادی اور آسان امور سے آگے بڑھ کر مشکل اور پیچیدہ امور کی طرف رہنمائی کی جاتی تھی۔ جدید تعلیمی نفسیات میں اس اصول کو اسکیفولڈنگ (Scaffolding) کہا جاتا ہے، یعنی متعلم کو اس کی موجودہ استعداد اور علمی سطح سے اگلے مرحلے تک پہنچانے کے لیے بتدریج مدد فراہم کرنا۔

سوال و جواب: تجسس اور فکر کی بیداری:
رسول اللہ ﷺ کا ایک مؤثر طریقۂ تعلیم یہ تھا کہ بعض اوقات بات شروع کرنے سے پہلے حاضرین سے سوال فرماتے۔ اس کا مقصد محض امتحان لینا نہیں ہوتا تھا، بلکہ ان کی توجہ حاصل کرنا اور سوچنے سمجھنے کا شوق پیدا کرنا بھی ہوتا تھا۔

قرآنِ کریم میں بھی یہ اسلوب ملتا ہے۔ چنانچہ اہلِ ایمان کو متوجہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا:*”کیا میں تمہیں ایسی تجارت بتاؤں جو تمہیں دردناک عذاب سے نجات دے؟“* (سورۃ الصف)

حدیثِ مبارکہ میں آپ ﷺ نے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے پوچھا: ”کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے؟“ صحابہؓ نے عرض کیا کہ ہمارے نزدیک مفلس وہ ہے جس کے پاس درہم اور سامان نہ ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میری امت کا حقیقی مفلس وہ شخص ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکوٰۃ لے کر آئے گا، لیکن اس نے کسی کو گالی دی ہوگی، کسی پر تہمت لگائی ہوگی یا کسی کا مال ناحق کھایا ہوگا۔ (صحیح مسلم)

یہ طریقۂ تعلیم طالب علم میں تنقیدی سوچ (Critical Thinking) پیدا کرنے اور اسے سیکھنے کے عمل میں فعال طور پر شریک کرنے (Active Learning) میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

مثالیں اور تشبیہات: گہری بات کو آسان بنانا:
مشکل اور معنوی باتوں کو سمجھانے کے لیے نبی کریم ﷺ روزمرہ زندگی سے محسوس مثالیں بیان فرماتے تھے۔ چنانچہ پانچ نمازوں کی اہمیت سمجھانے کے لیے آپ ﷺ نے مثال دی کہ اگر کسی شخص کے دروازے پر نہر بہتی ہو اور وہ روزانہ اس میں پانچ مرتبہ غسل کرے تو کیا اس کے جسم پر میل باقی رہے گا؟ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ پانچ نمازوں کی مثال بھی یہی ہے؛ اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

اس اسلوب کو ایلن پیویو (Allan Paivio) کے نظریۂ دوہری رمز بندی (Dual Coding Theory) سے سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ اس نظریے کے مطابق جب معلومات کو لفظی بیان کے ساتھ بصری یا محسوس مثالوں سے بھی مربوط کیا جائے تو ان کے فہم اور یادداشت میں بہتری آسکتی ہے۔

غلطی پر مشفقانہ اصلاح:
بچوں سے غلطی ہونا فطری امر ہے۔ نبوی اسلوبِ تربیت میں انہیں سب کے سامنے شرمندہ کرنے، چیخنے چلّانے یا جسمانی سزا دینے کے بجائے نرمی سے رہنمائی کرنے اور ان کی عزتِ نفس کا خیال رکھنے کو اہمیت حاصل ہے۔

حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہما کم سنی میں کھانے کے آداب سے پوری طرح واقف نہیں تھے، اس لیے کھاتے ہوئے برتن میں مختلف اطراف سے ہاتھ بڑھاتے تھے۔ نبی کریم ﷺ نے انہیں ڈانٹنے یا جھڑکنے کے بجائے محبت سے فرمایا:*”يَا غُلَامُ، سَمِّ اللَّهَ، وَكُلْ بِيَمِينِكَ، وَكُلْ مِمَّا يَلِيكَ“*

”بیٹے! اللہ کا نام لو، دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے سامنے سے کھاؤ۔“ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہما نے اس نصیحت کو یاد رکھا اور بعد میں اسے بیان بھی کیا۔ یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ نرم اور مختصر انداز میں کی جانے والی اصلاح بچے کے ذہن پر گہرا اثر چھوڑ سکتی ہے۔

تعلیم کے ساتھ مفید سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی:
بچے کی ہمہ جہت شخصیت سازی صرف پڑھائی سے نہیں ہوتی، بلکہ اس کے لیے مفید مشاغل، دلچسپیوں اور صلاحیتوں کی قدر افزائی بھی ضروری ہے۔حضرت انس رضی اللہ عنہ کے چھوٹے بھائی کے پاس ایک پالتو چڑیا تھی۔ نبی کریم ﷺ جب ان کے گھر تشریف لاتے تو شفقت سے دریافت فرماتے:*”يَا أَبَا عُمَيْرٍ، مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ؟“*

”اے ابو عمیر! تمہاری چڑیا کا کیا حال ہے؟“ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

یہ مختصر سا جملہ بھی بچوں کے ساتھ آپ ﷺ کی محبت، ان کی دلچسپیوں کے احترام اور ان سے مانوس ہونے کے انداز کو ظاہر کرتا ہے۔

جدید ماہرین بھی سیکھنے کے لیے محفوظ اور حوصلہ افزا ماحول کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔ جین نیلسن (Jane Nelsen) مثبت نظم و ضبط (Positive Discipline) کی حامی ہیں، جب کہ ایمی ایڈمنڈسن (Amy Edmondson) نے نفسیاتی تحفظ (Psychological Safety) کی اہمیت کو نمایاں کیا ہے۔ ایسا ماحول، جہاں بچہ خوف اور تذلیل کے بغیر اپنی بات کہہ سکے، سوال کرسکے اور غلطی سے سیکھ سکے، اس کی خود اعتمادی اور سیکھنے کے عمل کے لیے معاون ہوتا ہے۔

عملی نمونہ: کہنے سے پہلے کر کے دکھانا:
نبی کریم ﷺ محض زبانی نصیحت نہیں فرماتے تھے، بلکہ خود عمل کرکے دکھاتے تھے۔ قرآنِ کریم نے آپ ﷺ کی ذاتِ گرامی کو بہترین نمونہ قرار دیا ہے:*﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾(سورۃ الاحزاب: 21)*

”یقیناً تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی ذات میں بہترین نمونہ ہے۔“

نماز کی تعلیم میں بھی آپ ﷺ نے زبانی ہدایات کے ساتھ اپنے عمل کی پیروی کا حکم دیا:*”صَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي“*

”نماز اس طرح پڑھو جیسے تم مجھے نماز پڑھتے دیکھتے ہو۔“ (صحیح بخاری)

ماہرِ نفسیات البرٹ بندورا (Albert Bandura) کا مشاہداتی تعلیم (Observational Learning) کا نظریہ بھی اس بات کو واضح کرتا ہے کہ بچے دوسروں کو دیکھ کر بہت کچھ سیکھتے ہیں۔ والدین اور اساتذہ جب خود اپنی تعلیمات پر عمل کرتے ہیں تو ان کی بات زیادہ مؤثر ہوتی ہے اور بچوں میں بھی عمل کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔

ہر بچے کی انفرادی استعداد اور مزاج کا احترام:
ہر بچے کی ذہنی استعداد، مزاج اور صلاحیتیں مختلف ہوتی ہیں۔ نبی کریم ﷺ افراد کی صورتِ حال اور ضرورت کے مطابق رہنمائی فرماتے تھے۔ کسی کو نماز کی پابندی کی تاکید فرماتے، کسی کو والدین کی خدمت کی ترغیب دیتے اور ایک شخص کو بار بار نصیحت فرمائی:*”لَا تَغْضَبْ“*

”غصہ نہ کرو۔“ (صحیح بخاری)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تربیت میں مخاطب کی ضرورت، مزاج اور صورتِ حال کا لحاظ رکھنا اہم ہے۔

کامیاب نظامِ تعلیم کا ایک اہم اصول یہ ہے کہ ہر طالب علم کی استعداد کو پہچانا جائے اور اس کے مطابق تدریسی طریقہ اختیار کیا جائے۔ ہاورڈ گارڈنر (Howard Gardner) کا نظریۂ متعدد ذہانتیں (Multiple Intelligences Theory) بھی انسانی صلاحیتوں کے تنوع کو سمجھنے کی ایک جدید کوشش ہے۔

عصرِ حاضر کے اساتذہ اور والدین کے لیے رہنمائی:
آج جب بچے شدید ذہنی دباؤ اور مسابقت کی فضا میں پرورش پا رہے ہیں، نبوی طریقۂ تعلیم و تربیت ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔ اساتذہ اور والدین کو چاہیے کہ ڈانٹ ڈپٹ اور جسمانی یا نفسیاتی تشدد کے بجائے محبت، حوصلہ افزائی، حکمت اور اپنے عملی نمونے سے تربیت کریں۔ گھر اور اسکول کا ماحول ایسا ہونا چاہیے جہاں بچے بلا خوف سوال کرسکیں اور اپنی رائے کا اظہار کرسکیں۔

قرآنِ کریم نے نبی کریم ﷺ کی نرم گفتاری اور خوش اخلاقی کو اللہ تعالیٰ کی رحمت کا مظہر قرار دیا ہے اور سخت مزاجی کو لوگوں کے منتشر ہوجانے کا سبب بتایا ہے:*﴿فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ لِنْتَ لَهُمْ ۖ وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ﴾*

”اللہ کی رحمت ہی سے آپ ان کے لیے نرم دل ہوئے، اور اگر آپ سخت مزاج اور سخت دل ہوتے تو یہ لوگ آپ کے گرد سے منتشر ہوجاتے۔“ (آلِ عمران: 159)

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:*”إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَبْعَثْنِي مُعَنِّتًا وَلَا مُتَعَنِّتًا، وَلَكِنْ بَعَثَنِي مُعَلِّمًا مُيَسِّرًا“*

”اللہ تعالیٰ نے مجھے سختی کرنے والا اور مشقت میں ڈالنے والا بنا کر نہیں بھیجا، بلکہ مجھے معلم اور آسانی پیدا کرنے والا بنا کر بھیجا ہے۔“ (صحیح مسلم)

تعلیم و تربیت کا مؤثر ماحول وہ ہے جس میں محبت، احترام، حکمت اور رہنمائی کو بنیادی اہمیت حاصل ہو۔ جب استاد اور والدین بچے کی عزتِ نفس کا خیال رکھتے ہوئے اس کی اصلاح کرتے ہیں تو اس کی شخصیت کی مثبت نشوونما کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ یہی نبوی منہج کا ایک اہم سبق ہے کہ تعلیم کا مقصد صرف معلومات کی منتقلی نہیں، بلکہ انسان کی فکر، کردار اور عمل کی اصلاح بھی ہے۔

کالم نگار : مولانا محمد طیب حنیف میمن(لیکچرار، بحریہ کالج، کارساز | فاضل و متخصص، جامعہ علومِ اسلامیہ، بنوری ٹاؤن)
| | |
68