(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولانامحمد احمدحافظ

مولانامحمد احمدحافظ

پروفائل | تمام کالمز
2026/10/15
موضوعات
قلم کی حرمت اور اہلِ علم کی ذمہ داری
عالِم کا قلم جب حرکت میں آتا ہے تو اس کی سیاہی صرف کاغذ کے دامن پر نہیں بکھرتی، بلکہ ذہنوں کی تشکیل کرتی، عقیدتوں کے دھارے موڑتی اور نسلوں کے فکری رویّوں پر اپنے نقوش ثبت کرتی ہے۔

عالِم کے لکھے ہوئے الفاظ محض الفاظ نہیں ہوتے؛ وہ افکار کی بنیاد بنتے، رویّوں کو جنم دیتے اور کبھی دلوں کو جوڑنے، تو کبھی دلوں کو توڑنے کا سبب بھی بن جاتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اہلِ علم کی تحریریں محض احترام ہی نہیں، احتساب کی بھی مستحق ٹھہرتی ہیں۔

اس لیے کسی صاحبِ علم کی فکر سے اختلاف کرنا یا اس کی تحریر، تصنیف یا تالیف پر سوال اٹھانا بے ادبی نہیں، بشرطیکہ اس کا محرک تعصّب اور عناد نہ ہو، بلکہ طلبِ حق ہو، اور اس کا اسلوب طعن و تشنیع، تضحیک و تذلیل پر مبنی نہ ہو، بلکہ تہذیب و شائستگی کا آئینہ دار ہو۔

علم کی حقیقی توقیر یہ نہیں کہ اس کے حاملین کی ہر بات کو حرفِ آخر سمجھ لیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ ان کے افکار کو دلیل کی کسوٹی پر پرکھا جائے۔ کیونکہ علم کی حرمت سوال سے مجروح نہیں ہوتی؛ وہ اس وقت مجروح ہوتی ہے جب تحقیق کی جگہ عقیدت، دلیل کی جگہ شخصیت اور حق کی تلاش کی جگہ اندھی تقلید لے لیتی ہے۔

جب عالِم اور محقق کا قلم طنز و تشنیع اور دوسروں کی تذلیل و تحقیر سے آلودہ ہو جاتا ہے تو علم کی روشنی تعصّب کی گرد میں دھندلانے لگتی ہے، تحقیق کی سنجیدگی ذاتی عناد کی نذر ہو جاتی ہے اور استدلال کی جگہ تمسخر لے لیتا ہے۔ پھر الفاظ حقیقت کی نقاب کشائی کے بجائے مخالف کی تضحیک کا وسیلہ بن جاتے ہیں، اختلافِ رائے، اختلافِ ذات میں ڈھل جاتا ہے اور علمی مباحثے نفسانی کشمکش کا منظر پیش کرنے لگتے ہیں۔

عالِم کا منصب محض معلومات کا انبار جمع کرنا نہیں، بلکہ حقائق کو دیانت داری سے پیش کرنا، اختلاف میں بھی تہذیب کا دامن تھامے رکھنا اور اپنے قلم کو انصاف کا ترجمان بنانا ہے۔ محقق کی عظمت اس میں نہیں کہ وہ اپنے مخالف کو کس قدر بے وقعت ثابت کر سکتا ہے، بلکہ اس میں ہے کہ وہ مخالف کے موقف کی کمزوری کو بھی علمی وقار، اخلاقی شائستگی اور مدلل استدلال کے ساتھ واضح کرے۔

کیونکہ جب قلم علم سے زیادہ کینے، دلیل سے زیادہ طنز اور اصلاح سے زیادہ تضحیک کا نمائندہ بن جائے تو لکھنے والا اپنی علمی حیثیت کو خود مجروح کرتا ہے۔ اس کے الفاظ وقتی طور پر داد و تحسین سمیٹ سکتے ہیں، مگر تاریخ کے میزان پر ان کی قدر و قیمت طنز کی کاٹ سے نہیں، بلکہ علمی دیانت، فکری بصیرت اور اخلاقی بلندی سے متعین ہوتی ہے۔

یاد رکھیے! قلم کی اصل قوت کسی کو نیچا دکھانے میں نہیں، بلکہ حق کو بلند کرنے میں ہے؛ اور علم کی حقیقی عظمت مخالف کو رسوا کرنے میں نہیں، بلکہ اختلاف کے باوجود انصاف کرنے میں ہے۔

کالم نگار : مولانامحمد احمدحافظ
| | |
36