(+92) 319 4080233
کالم نگار

امام عطاءاللہ خان

امام عطاءاللہ خان

پروفائل | تمام کالمز
2026/10/15
موضوعات
احتساب ناصبیت کا قضیہ تمام
“احتساب ناصبیت” کے متنازع رسائل اور عبارات کا قضیہ، جو گذشتہ دو ہفتوں سے جاری تھا بالآخر دو روز قبل اکابر علماء کرام کا متفقہ فیصلہ آنے کے بعد اختتام پذیر ہوا۔

اکابرین کے فیصلہ کے مطابق، جن مصنفین نے صحابہ کرام سے متعلق جو غیر محتاط اور غیر معتدل عبارات لکھی ہیں، وہ ان کا انفرادی عمل ہے، اہل سنت والجماعت کا موقف نہیں، اور ظاہر ہے کہ جو اہل سنت والجماعت کا موقف نہیں ہے وہ دیوبندی مکتب فکر کا موقف بھی نہیں، فیصلہ میں یہ بھی واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ اس قسم کے مواد کو اکٹھا کر کے شائع کرنا نہ تو مناسب تھا اور نہ ہی اس کی کوئی ضرورت تھی۔

اس فیصلہ کے آنے کے بعد دونوں جانب کے علماء نے تائید کی، مولانا اللہ وسایا صاحب نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے لیٹر پیڈ پر بشاشت قلبی کے ساتھ اکابرین کے فیصلہ کی تائید لکھ کر شائع کی، دوسری طرف مولانا حبیب الرحمان درخواستی صاحب اور مفتی عبد الواحد قریشی صاحب نے نہ صرف فیصلہ کی تائید کی، بلکہ اس پر خوشی کا اظہار کیا اور اہل دیوبند کو مبارک باد بھی پیش کی۔

اس فیصلے سے دو بڑے فائدے ہوئے:
پہلا فائدہ : اکابرین کے متفقہ فیصلہ یہ واضح ہو گیا کہ "احتسابِ ناصبیت" کے بعض رسائل میں صحابہ کرام اور خاص طور پر حضرت معاویہ رض کی شان اقدس کے خلاف جو عبارات نقل کی گئی ہیں، وہ ان مصنفین کی ذاتی رائے ہے، اہل سنت والجماعت کا موقف نہیں ہے، اور ہمیں امید ہے کہ آئندہ ان رسائل کو شائع بھی نہیں کیا جائے گا۔

دوسرا فائدہ : یہ ہوا کہ اللہ نہ کرے آئندہ اگر کبھی حضرات صحابہ کرام کی جماعت میں سے کسی بھی صحابی کی شان اقدس کے خلاف اس قسم کی عبارت دوبارہ سامنے آئے (چاہے لکھنے والا کوئی بھی ہو)، تو وہ اہل سنت والجماعت اور دیوبند کا موقف نہیں ہوگا اور اسے رد کر دیا جائے گا۔

البتہ کچھ لوگ جو اکابر کے متفقہ فیصلہ سے قبل کھل کر احتساب ناصبیت کی متنازع عبارات کا دفاع کر رہے تھے وہ اب اس متفقہ فیصلہ کی تائید نہیں کر رہے ہیں، اور بعض تو ایسے خاموش ہو گئے ہیں جیسے ان کو سانپ سونگھ گیا ہو، بھئ؛ کم ازکم مولانا اللہ وسایا صاحب والا تائیدی بیان ہی اپنی وال سے شئیر کردو، بہر حال ایسے چند افراد جن کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ان کے ماننے یا نہ ماننے سے دیوبندیت کو کوئ فرق نہیں پڑتا۔ اکابرین کے اس متفقہ فیصلہ سے اللہ تعالیٰ نے یہ خیر نکالا کہ صحابہ کرام اور اہل بیت عظام کی شان اقدس کے خلاف ہر قسم کی عبارات کا ہمیشہ کے لئے سد باب ہوگیا،

باقی فیصلہ کی اس بات کو بسر وچشم قبول کرنا چاہیے کہ اس قسم کے نزاع کی صورت میں سب و شتم کا میدان گرم کرنا کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں، اور الحمد للہ میں اپنی ذات کے حد تک یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ میں نے جب بھی کسی مسئلہ پر اختلاف کیا ہے ہمیشہ ادب کے دائرے میں رہ کر کیا ہے، میرے نزدیک ایک دلیل سو گالیوں سے زیادہ وزن رکھتی ہے۔

اللہ تعالیٰ اکابرین علماء دیوبند کو زندہ و سلامت رکھے اور ان کے فیض کو عام فرمائے۔ آمین!

کالم نگار : امام عطاءاللہ خان
| | |
108