ڈاکٹر عمر عبداللہ المقبل لکھتے ہیں:
یہ کوئی خیالی یا تراشیدہ کہانی نہیں کہ اس کی سندیں کتبِ رجال میں تلاش کی جائیں۔ یہ ایک ایسا واقعہ ہے جو میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔
یہ ایک نیک، عبادت گزار بزرگ کا قصہ ہے۔ روضۃ الحسو میں، جہاں میں تقریباً 1412ھ سے 1422ھ تک خطبۂ جمعہ دیا کرتا تھا، ان سے قریب دس برس تعلق رہا۔ اس تحریر سے پانچ برس پہلے ان کا انتقال ہوا؛ ان کی عمر نوے برس سے متجاوز تھی۔ اپنے قبیلے میں وجاہت کے اعتبار سے بھی سربرآوردہ تھے اور دین داری کے اعتبار سے بھی۔ میں انھیں ایسا ہی سمجھتا ہوں؛ اللہ کے حضور کسی کی پاکیزگی کا دعویٰ نہیں کرتا۔
ایسے بزرگ کم ہی ملتے ہیں۔ اپنے قبیلے میں تو وہ ایک نادر وجود تھے۔ ان عبادت گزاروں کی یادگار، جن کے احوال ہم سنا کرتے تھے اور گزشتہ صدی کے لوگوں میں سے جن کی کچھ مثالیں ہمیں دیکھنے کو بھی ملی تھیں۔
میں نے بہت کم لوگوں کو ان کی طرح کثرت سے قرآن پڑھتے دیکھا ہے۔ باقاعدہ طالبِ علم نہ تھے، البتہ علم اور اہلِ صلاح سے محبت رکھتے تھے۔ اپنے عمل میں اہلِ علم کے احوال سے بڑی مناسبت رکھتے تھے۔ ہر تین دن میں قرآن مجید ختم کرتے۔ بلند آواز سے تلاوت ان کا معمول تھا۔ پڑھتے تو آواز کی گونج ایسی ہوتی کہ کبھی مسجد کے احاطے میں داخل ہونے والا بھی سن لیتا۔
قسم کھا کر کہتے، اور میرے گمان میں سچ ہی کہتے تھے، کہ ان کی محبوب ترین مجلس وہ ہوتی ہے جس میں داعیانِ دین یا طلبۂ علم ان کے پاس آ بیٹھیں۔ وہ مجلس ان کے لیے گویا شادی کی خوشی ہوتی۔ جو بھی انھیں دیکھتا، ان کے چہرے سے یہ کیفیت پہچان لیتا۔ مسرت چہرے پر جھلکتی اور بشاشت ان کے پورے سراپے سے پھوٹ پڑتی۔
آنکھیں بہت جلد بھر آتیں۔ انھیں رلانا ہو تو کسی نیک بندے کا حال سنا دیجیے، جنت کی نعمتوں کا ذکر چھیڑ دیجیے، دوزخ کے عذاب کی بات کر دیجیے یا ہمارے نبی محمد ﷺ اور آپ کے صحابۂ کرام کی سیرت سنانے لگ جائیے۔
زندگی کے آخری حصے میں کئی آزمائشوں سے گزرے۔ اہلیہ تقریباً پچیس برس پہلے وفات پا چکی تھیں۔ وفات سے چند برس پہلے ایسے درد لاحق ہو گئے تھے جو انھیں زیادہ دیر سونے نہ دیتے۔ مگر سب سے کڑی مصیبت یہ تھی کہ آنکھوں میں موتیا اتر آیا۔ رفتہ رفتہ اس نے ایسا پردہ ڈال دیا کہ کتابِ الٰہی پڑھنا دشوار ہو گیا۔
اسی حالت میں ایک روز ان کی خدمت میں حاضر ہوا۔ وہ رو پڑے؛ ایسا روئے کہ مجھے بھی رلا دیا۔
میں نے پوچھا: ’’ابو عبداللہ! کیا ہوا؟‘‘
بولے: ’’آنکھوں میں موتیا اتر آیا ہے۔ اب قرآن نہیں پڑھ سکتا!‘‘
اپنی عام بول چال میں کہے ہوئے ان لفظوں میں کیسی تڑپ تھی، کیسا دکھ تھا!
پھر کہنے لگے:’’اللہ کی قسم، ابو عبداللہ! اس دنیا میں اس قرآن کے سوا میرے پاس ہے ہی کیا جو میرا دل بہلائے! اب اگر میری نظر ہی جاتی رہی تو میں اس دنیا میں کیا کروں گا؟‘‘
کہتے جاتے تھے اور آنسو داڑھی پر ٹپکتے جاتے تھے۔
میں نے عرض کیا: ’’ابو عبداللہ! خوش ہو جائیے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے: بندہ جب بیمار ہو جائے یا سفر میں ہو تو اس کے لیے وہی عمل لکھا جاتا ہے جو وہ صحت اور اقامت کی حالت میں کیا کرتا تھا۔‘‘
یہ حدیث حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے صحیح بخاری میں مروی ہے۔ آنکھوں کے اس عارضے نے آپ کو تلاوت سے روک دیا ہے، لیکن ان شاء اللہ اس کا اجر آپ کو ملتا رہے گا۔ رسول اللہ ﷺ کے وعدے پر بھروسا رکھیے!
انھوں نے میری بات کاٹ دی۔ آواز رندھی ہوئی تھی اور سچے دل سے نکلے ہوئے لفظ گرم آنسوؤں میں بھیگ رہے تھے:’’مگر مجھے تو چند ہی پارے یاد ہیں، جو بہت پہلے شیخ ابن سالم رحمہ اللہ کے پاس یاد کیے تھے۔ میں تو قرآن ختم کرنا چاہتا ہوں۔ کیا معلوم کب مر جاؤں!‘‘
میں نے کہا: ’’ابو عبداللہ! اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ آپ کی بینائی بحال فرما دے؛ اچھی امید رکھیے۔‘‘
قارئین! آپ سے سچ کہتا ہوں، یہ بات کہتے ہوئے میرے دل میں پختہ یقین نہ تھا۔ مجھے اللہ کی قدرت میں شک نہ تھا، حاشا! اس لمحے میرے اپنے ایمان اور یقین کی کمزوری تھی۔ عام تجربہ یہی تھا کہ آنکھوں پر ایسا پردہ پڑ جائے تو بینائی کی واپسی مشکل ہوتی ہے۔
میں ان کے پاس سے اٹھ آیا۔ وہ آہستہ آہستہ یہ کلمات دہرا رہے تھے:**إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ۔**
کچھ مدت گزری، ایک مہینہ تھا یا اس سے زیادہ، اب یاد نہیں۔ حسبِ معمول جمعے کے خطبے کے بعد ان کے پاس گیا تو دیکھا کہ چہرہ خوشی سے دمک رہا ہے۔ مجھے دیکھتے ہی بے تابی سے خوش خبری سنانے لگے:’’ابو عبداللہ! خوش خبری سنو، خوش خبری! میری آنکھوں کی دھند چھٹ گئی۔ اللہ نے میری دعا قبول کر لی!‘‘
یہ کہتے ہوئے ان کی خوشی ایسی تھی جیسے دنیا بھر کے خزانے ان کے سامنے رکھ دیے گئے ہوں!
اس لمحے میرے دل پر جو کچھ گزرا، اسے اب لفظوں میں بیان نہیں کر سکتا۔
اس بندۂ موحد کے یقین کی قوت پر حیران ہوں یا اس کی دعا قبول ہونے پر، جیسے حضرت ابراہیم خلیل علیہ السلام کی اہلیہ کو تعجب ہوا تھا؟ یا اپنے ایمان اور یقین کی کمزوری پر روؤں؟
اس بندۂ موحد اور اس ایک واقعے نے مجھے وہ سبق دیے جو بعض اہلِ علم کی کتابوں سے اور بعض ان علما سے بھی نہ مل سکے جن کے علم سے میں نے فائدہ اٹھایا تھا۔ اللہ ان سب پر رحم فرمائے۔
میں پورے دل سے ان کی خوشی میں شریک ہو گیا۔ ان سے میری محبت ایسی ہی تھی جیسی ایک بیٹے کو اپنے باپ سے ہوتی ہے۔اس کے بعد بھی عبادت اور طاعت میں ان کی محنت کا یہی حال رہا، یہاں تک کہ اپنے رب سے جا ملے۔
اللہ اس عبادت گزار، سچے بزرگ، ابو عبداللہ عبدالرحمن بن جمیعان بن ضاوی الشتیلی المطیری پر رحم فرمائے، اور اپنی رحمت سے مجھے، انھیں اور آپ سب کو فردوسِ اعلیٰ میں جمع فرمائے۔اور اللہ اس بندے پر بھی رحم فرمائے جو کہے: آمین!