(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولاناسمیع اللہ عزیز

مولاناسمیع اللہ عزیز

پروفائل | تمام کالمز
2026/10/14
موضوعات
عربی زبان کا فروغ ،مگر کیسے؟
پاکستان میں عربی زبان کے فروغ کی بات ہوتی ہے تو عموماً ذہن میں کسی عربی اکیڈمی، مدرسے، جامعہ یا زبان سکھانے والے ادارے کا تصور آتا ہے، جہاں طلبہ داخلہ لیتے ہیں، اساتذہ پڑھاتے ہیں، نصاب مکمل ہوتا ہے اور تعلیمی سرگرمیاں اپنے مقررہ دائرے میں جاری رہتی ہیں۔ بلاشبہ یہ ادارے ہماری علمی زندگی کا قیمتی سرمایہ ہیں، لیکن ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا عربی زبان کے فروغ کی ذمہ داری صرف انہی اداروں تک محدود ہے؟ کیا اساتذہ، معلمات، مدارس، جامعات، محققین اور عربی زبان سے محبت رکھنے والے افراد کی انفرادی کوششوں کو باہم مربوط کرکے ایک بڑی اجتماعی قوت میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا؟

انہی سوالات کے پس منظر میں **مجمع اللغة العربية بباكستان** کے تصور اور اس کی اہمیت کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

ایک ادارہ نہیں، مشترکہ علمی پلیٹ فارم:
مجمع اللغة العربية بباكستان کا تصور کسی روایتی اکیڈمی، مدرسے یا جامعہ کا متبادل بننا نہیں، بلکہ ان سب کو ایک مشترکہ مقصد کے لیے قریب لانا ہے۔ اس کا مقصد کسی ادارے سے طلبہ لے کر اپنے ہاں جمع کرنا، کسی مدرسے کے نظام کی جگہ اپنا نظام قائم کرنا یا اساتذہ کی موجودہ ذمہ داریوں میں مزید بوجھ ڈالنا نہیں، بلکہ ان کے کام کو زیادہ مؤثر، بامقصد اور نتیجہ خیز بنانے میں تعاون کرنا ہے۔

یہ ایک ایسا علمی پلیٹ فارم ہے جو عربی زبان کی خدمت کرنے والے افراد اور اداروں کو جوڑنے، ان کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے، تجربات کے تبادلے، حوصلہ افزائی اور مشترکہ علمی ترقی کے مواقع فراہم کرنے کی دعوت دیتا ہے۔

دوسرے لفظوں میں، مجمع کا مقصد صرف خود کام کرنا نہیں، بلکہ دوسروں کے لیے بھی کام کرنا آسان بنانا ہے؛ صرف اپنی سرگرمیاں بڑھانا نہیں، بلکہ عربی کی خدمت کرنے والوں کی مجموعی قوت میں اضافہ کرنا ہے۔

عربی تدریس سے زندہ عربی ماحول تک:
ہمارے مدارس میں برسوں عربی پڑھائی جاتی ہے۔ طلبہ صرف و نحو، ترجمہ، تفسیر، حدیث اور فقہ کی کتابوں سے استفادہ کرتے ہیں، اساتذہ علمی محنت کرتے ہیں اور ادارے اپنی استطاعت کے مطابق تعلیم کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں۔ اس کے باوجود ایک معروف تعلیمی مسئلہ یہ ہے کہ بہت سے طلبہ طویل عرصے تک عربی کی کتابیں پڑھنے کے بعد بھی عربی میں گفتگو کرنے، اپنے علمی مطالعے کو زبان کے عملی استعمال میں تبدیل کرنے اور روزمرہ کے حالات میں عربی اظہار کرنے میں دشواری محسوس کرتے ہیں۔

اس مسئلے کا حل محض نصاب میں اضافے، مزید مضامین شامل کرنے یا پہلے سے مصروف اساتذہ پر نئی ذمہ داریاں ڈالنے میں نہیں، بلکہ موجودہ علمی سرمائے سے بہتر استفادے اور عربی کے عملی استعمال کا ماحول پیدا کرنے میں ہے۔

قرآن مجید کی تعبیرات، احادیثِ نبویہ، عربی کتب کے جملوں اور کلاسیکی عربی اسالیب کو تدریس، گفتگو، سوال و جواب اور روزمرہ کے تعلیمی ماحول سے جوڑا جائے۔ طلبہ کو عربی میں سوال کرنے، پڑھے ہوئے جملوں کو گفتگو میں استعمال کرنے اور اپنی علمی سرگرمیوں میں عربی کو محض ترجمے کا ذریعہ نہیں، بلکہ اظہار کا وسیلہ بنانے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔

یہی وہ میدان ہے جہاں مجمع کا تصور ایک نئی معنویت اختیار کرتا ہے۔

البيئة العربية الحية: زندہ عربی ماحول کی تشکیل:
مجمع اللغة العربية بباكستان کا بنیادی تصور **البيئة العربية الحية**، یعنی زندہ عربی ماحول کی تشکیل ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ مدارس پر کوئی نیا نصاب مسلط کیا جائے، کسی اضافی مضمون کو لازمی قرار دیا جائے یا ہر ادارے کے لیے الگ استاد مقرر کرنے کی شرط رکھی جائے۔ مقصد یہ ہے کہ جہاں عربی پہلے سے پڑھائی جا رہی ہے، وہاں اس کے عملی استعمال کے مواقع بھی پیدا ہوں۔

طالب علم استاد سے عربی میں سوال کرنے کی کوشش کرے، کتاب کے متن سے عربی سوالات بنائے، پڑھے ہوئے جملوں کو گفتگو میں استعمال کرے اور کلاس میں مناسب عربی تعبیرات اختیار کرے۔ اس طرح موجودہ تعلیمی نظام کے اندر ہی عملی تبدیلی کی راہیں پیدا ہو سکتی ہیں۔

یہ تبدیلی کسی ایک دن کے اعلان سے نہیں، بلکہ مسلسل مشق، باہمی تعاون، رہنمائی اور حوصلہ افزائی سے آئے گی۔

استاد اور معلمہ: تبدیلی کے بنیادی محرک:
اس کام میں استاد اور معلمہ بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ کوئی بھی زبان اس وقت زندہ تعلیمی حقیقت بنتی ہے جب اسے پڑھانے والے افراد خود اس کے عملی استعمال کے طریقوں سے واقف ہوں، طلبہ کی رہنمائی کر سکیں اور محدود وسائل میں بھی مناسب تعلیمی ماحول پیدا کرنے کے قابل ہوں۔

مجمع کی ذمہ داری ہے کہ اساتذہ اور معلمات کو ایسے مواقع فراہم کیے جائیں جہاں وہ اپنے تجربات بانٹ سکیں، عملی طریقے سیکھ سکیں، ایک دوسرے کے کام سے فائدہ اٹھا سکیں اور اپنی تدریسی کوششوں کے بارے میں حوصلہ افزا رہنمائی حاصل کریں۔

استاد کو یہ احساس نہیں ہونا چاہیے کہ وہ اکیلا کام کر رہا ہے، معلمہ کو یہ محسوس نہیں ہونا چاہیے کہ اس کی محنت کسی کی نظر میں نہیں، اور کسی مدرسے کے ذمہ دار کو یہ نہیں لگنا چاہیے کہ عربی کے فروغ کے لیے اسے ہر مسئلے کا حل تنہا تلاش کرنا ہے۔

جب اہلِ علم ایک دوسرے کی طاقت بن جاتے ہیں تو محدود وسائل کے باوجود بڑے کام ممکن ہو جاتے ہیں۔

تربیتی نشستیں، ورکشاپس اور تجربات کا تبادلہ:
اسی مقصد کے لیے مجمع کی سرگرمیوں میں تربیتی نشستوں، ورکشاپس، علمی و عملی مشقوں، تعلیمی سرگرمیوں کی نمائشوں، تجربات کے تبادلے اور عربی کے عملی استعمال کو فروغ دینے والے پروگراموں کی اہمیت ہے۔

ماہانہ **معارض النشاطات التعليمية** جیسے تصورات اس بات کی مثال ہیں کہ تعلیمی سرگرمیوں کو صرف کلاس روم تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں دوسروں کے سامنے پیش کیا جائے، ان کے نتائج کا جائزہ لیا جائے اور دیگر افراد کو ان سے سیکھنے کا موقع فراہم کیا جائے۔

جب ایک استاد اپنی کلاس میں کوئی کامیاب طریقہ اختیار کرتا ہے تو اس کا تجربہ صرف اسی کلاس تک محدود کیوں رہے؟ جب کوئی معلمہ طلبہ کو عربی میں اظہار کی مشق کرواتی ہے تو اس کی محنت دوسرے اساتذہ کے لیے بھی رہنمائی کیوں نہ بنے؟ اور جب کسی ادارے میں عربی کے استعمال کا ماحول پیدا ہوتا ہے تو دوسرے اداروں کو اس تجربے سے فائدہ اٹھانے کا موقع کیوں نہ دیا جائے؟

مجمع اسی اشتراک، تعاون اور تبادلے کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتا ہے۔

سفراء اللغة العربية: خدمت کے پیغام کو عام کرنا:
مجمع کا ایک اہم پہلو **سفراء اللغة العربية**، یعنی عربی زبان کے سفیروں کا تصور بھی ہے۔ سفیر کا کردار محض کسی نام یا عنوان کو اپنے ساتھ وابستہ کرنا نہیں، بلکہ اپنے ادارے، علاقے یا حلقۂ احباب میں عربی کی خدمت کا پیغام پہنچانا، لوگوں کو مناسب سرگرمیوں سے جوڑنا اور عملی کام کے لیے تعاون پیدا کرنا ہے۔

اسی طرح عملی پروگراموں میں شریک افراد کو محض سامع یا ناظر نہیں رہنا چاہیے، بلکہ اپنی صلاحیت کے مطابق سرگرمیوں میں حصہ لینا، تعلیمی تجربات مرتب کرنا، اپنے کام کا ریکارڈ رکھنا اور دوسروں کے لیے قابلِ استفادہ نمونے تیار کرنا چاہیے۔

یوں ایک فرد کی محنت دوسرے افراد کے لیے فائدہ مند بن سکتی ہے اور ایک علاقے میں پیدا ہونے والا تجربہ دوسرے علاقوں تک پہنچ سکتا ہے۔ یہ طرزِ عمل افراد کو ایک دوسرے کا حریف بنانے کے بجائے ایک دوسرے کا معاون بناتا ہے۔

برنامج الامتياز العملي في اللغة العربية: نظری علم سے عملی مہارت تک:
اسی سلسلے میں مجمع کا عملی پروگرام **برنامج الامتياز العملي في اللغة العربية** ایک اہم سمت کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس پروگرام کا تصور صرف نظری معلومات فراہم کرنا نہیں، بلکہ عربی کے عملی استعمال، گفتگو، تدریس، تقریر، علمی کام، تحقیق، میڈیا اور اشاعتی سرگرمیوں میں صلاحیتیں پیدا کرنا ہے۔

پروگرام کی منصوبہ بندی میں پچیس عملی میدانوں اور زبان کی چار بنیادی مہارتوں، یعنی سماعت، گفتگو، مطالعہ اور تحریر، کو ترقی دینے پر توجہ رکھی گئی ہے۔

اس کا بنیادی مزاج عملی تربیت ہے، تاکہ شریک افراد صرف یہ نہ جانیں کہ عربی کیسے پڑھائی جا سکتی ہے، بلکہ خود عملی طور پر کام کرنے، اپنی کارکردگی کا جائزہ لینے اور دوسروں کو بھی فائدہ پہنچانے کے قابل بنیں۔

اس طرح مجمع کی سرگرمیاں کسی ایک کورس یا چند نشستوں تک محدود نہیں رہتیں، بلکہ ایک ایسے علمی و عملی ماحول کی طرف پیش قدمی کرتی ہیں جس میں افراد اپنی صلاحیتوں کو مسلسل بہتر بنا سکیں۔

تنوع کا احترام اور مشترکہ مقاصد:
یہاں ایک بات واضح رہنی چاہیے کہ مجمع کا مقصد ہر شخص کو ایک ہی طریقے پر چلانا نہیں۔ ہر مدرسے کے حالات الگ ہیں، ہر جامعہ کی ضروریات مختلف ہیں، ہر استاد کا تجربہ اپنی نوعیت رکھتا ہے اور ہر علاقے کے وسائل یکساں نہیں ہوتے۔

کامیاب تعاون وہی ہے جو ان اختلافات کو سمجھتے ہوئے مشترکہ مقاصد کے لیے کام کرے۔ مجمع کو ایسا پلیٹ فارم بننا چاہیے جہاں کوئی ادارہ اپنے تجربات پیش کر سکے، کوئی استاد رہنمائی حاصل کر سکے، کوئی معلمہ اپنی تدریسی سرگرمیوں میں بہتری لا سکے، کوئی محقق اپنے کام کو دوسروں تک پہنچا سکے اور کوئی نوجوان عربی کی خدمت کے لیے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کا راستہ تلاش کر سکے۔

یہاں ہر شخص صرف لینے والا نہ ہو، بلکہ اپنی استطاعت کے مطابق دینے والا بھی بنے۔

انفرادی کوششوں سے اجتماعی تحریک تک:
مجمع اللغة العربية بباكستان کو صرف ایک ادارے کی حیثیت سے دیکھنا اس کے تصور کو محدود کر دینا ہوگا۔ اسے ایک مشترکہ علمی تحریک کے طور پر سمجھنے کی ضرورت ہے، جس میں مدارس، جامعات، اسکولوں، معاہد، اساتذہ، معلمات، علماء، محققین، طلبہ اور عربی سے محبت رکھنے والے تمام افراد اپنے اپنے دائرے میں حصہ لے سکتے ہیں۔

کوئی تربیت کے ذریعے تعاون کرے، کوئی اپنے تدریسی تجربات پیش کرے، کوئی علمی مواد تیار کرے، کوئی عملی سرگرمیوں میں شریک ہو، کوئی اپنے ادارے میں عربی کے استعمال کے مواقع پیدا کرے اور کوئی اس پیغام کو مزید لوگوں تک پہنچائے۔

اس کام کی کامیابی صرف اس بات سے نہیں ناپی جانی چاہیے کہ مجمع نے کتنی نشستیں منعقد کیں یا کتنے افراد اس سے وابستہ ہوئے، بلکہ یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ کتنے اساتذہ کی عملی صلاحیت میں بہتری آئی، کتنے طلبہ کو عربی استعمال کرنے کے مواقع ملے، کتنے اداروں میں زندہ عربی ماحول کے لیے کوشش شروع ہوئی اور کتنے افراد نے اپنی صلاحیت دوسروں کے فائدے کے لیے استعمال کرنا شروع کی۔

من باكستان إلى العالم: پاکستان سے دنیا تک:
مجمع کا پیغام پاکستان کی سرحدوں تک محدود نہیں۔ اس کی دعوت ہے: **من باكستان إلى العالم — پاکستان سے دنیا تک۔**ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان میں عربی زبان کی خدمت کرنے والے افراد اور ادارے ایک دوسرے سے مربوط ہوں، اپنے تجربات سے فائدہ اٹھائیں اور دنیا بھر میں عربی کے فروغ کے لیے کام کرنے والوں کے ساتھ علمی تعاون کے دروازے کھولیں۔

عربی صرف ایک مضمون نہیں؛ یہ قرآن مجید کی زبان، سنتِ نبویہ کے فہم کا اہم وسیلہ، اسلامی علمی روایت کا بنیادی حصہ اور مختلف معاشروں کے درمیان علمی و تہذیبی رابطے کا ذریعہ ہے۔ اس زبان کی خدمت کے لیے انفرادی محنت بھی ضروری ہے اور اجتماعی تعاون بھی۔

جب مختلف ادارے ایک دوسرے کی کامیابی کو اپنی کامیابی سمجھنے لگیں، اساتذہ ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھیں اور عربی کے فروغ کی کوششیں مشترکہ مقصد کے تحت مربوط ہوں تو انفرادی کوششوں کے اثرات کئی گنا بڑھ سکتے ہیں۔

ایک دوسرے کی قوت بنیں:
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم یہ نہ پوچھیں کہ عربی کے فروغ کے لیے کون سا نیا ادارہ قائم کیا جائے، بلکہ یہ بھی سوچیں کہ پہلے سے کام کرنے والے اداروں کو کس طرح زیادہ مؤثر بنایا جائے۔ یہ نہ دیکھیں کہ کس کے پاس کتنے وسائل ہیں، بلکہ یہ بھی دیکھیں کہ موجودہ وسائل کو باہمی تعاون سے کس طرح بہتر طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

عربی کی خدمت صرف بڑے اداروں یا ممتاز شخصیات کا کام نہیں، بلکہ ہر استاد، ہر معلمہ، ہر طالب علم اور ہر مخلص فرد اس سفر میں اپنا حصہ ڈال سکتا ہے۔ کسی کی چھوٹی سی تدریسی کوشش، کسی کا ایک مفید تجربہ، کسی کی حوصلہ افزائی یا کسی کی رہنمائی دوسرے افراد کے لیے بڑی تبدیلی کا سبب بن سکتی ہے۔

ہم مدارس، جامعات، اسکولوں، معاہد، اساتذہ، معلمات، علماء، محققین اور عربی سے محبت رکھنے والے تمام افراد کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ مجمع اللغة العربية بباكستان کے اس تصور کو سمجھیں، اس سے رابطہ قائم کریں اور اپنے تجربات و صلاحیتوں کے ساتھ اس علمی سفر میں شریک ہوں۔

ہمارا مقصد کسی کے موجودہ کام کی جگہ لینا نہیں، بلکہ اس کے کام کو تقویت دینا ہے؛ کسی کو پیچھے چھوڑنا نہیں، بلکہ سب کو آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنا ہے؛ اور عربی کی خدمت کو کسی ایک مرکز تک محدود کرنا نہیں، بلکہ اسے مختلف اداروں، علاقوں اور معاشروں میں پھیلانے کے لیے باہمی تعاون کی فضا پیدا کرنا ہے۔

ہمیں صرف عربی پڑھانے والے ادارے نہیں، عربی کی خدمت کرنے والوں کو جوڑنے والی تحریک بھی درکار ہے۔ ایسا پلیٹ فارم جو استاد کو طاقت دے، معلمہ کو حوصلہ دے، طالب علم کو عملی راستہ دکھائے، ادارے کو رہنمائی فراہم کرے اور ہر مخلص فرد کو یہ احساس دلائے کہ وہ عربی زبان کے فروغ میں اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔مجمع اللغة العربية بباكستان اسی مشترکہ جدوجہد کی دعوت ہے۔ آئیے، اپنی اپنی جگہ کام کرتے ہوئے ایک دوسرے کی قوت بنیں، زندہ عربی ماحول کی تشکیل میں شریک ہوں اور پاکستان سے دنیا تک عربی کی خدمت کا یہ پیغام پہنچائیں۔

مأخَذ

**مجمع اللغة العربية بباكستان:** https://majmalap.quranfamilyclub.net/ **قرآن فیملی کلب:** https://www.quranfamilyclub.net/ **رابطہ:** 03076652006

کالم نگار : مولاناسمیع اللہ عزیز
| | |
53