(+92) 319 4080233
کالم نگار

مفتی سفیان بلند

مفتی سفیان بلند

پروفائل | تمام کالمز
2026/10/15
موضوعات
تنہائی سے قیادت تک کا سفر
زندگی میں کبھی کبھی انسان کوئی ایسا کام شروع کرتا ہے جو لوگوں کی سمجھ سے بالاتر ہوتا ہے۔ وہ ایک خواب دیکھتا ہے، ایک تصور قائم کرتا ہے، ایک سمت متعین کرتا ہے اور ایک ایسے مقصد کے لیے سفر شروع کر دیتا ہے جس کی منزل تو اسے دکھائی دے رہی ہوتی ہے، مگر اردگرد کے لوگوں کو اس کا کوئی واضح نقشہ نظر نہیں آتا۔ ایسے میں بعض اوقات انسان کو غیروں سے زیادہ اپنوں کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ راستے میں رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں، قدم قدم پر حوصلہ شکنی ہوتی ہے اور رفتہ رفتہ ایسی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے کہ اپنے پرائے محسوس ہونے لگتے ہیں، جان پہچان والے اجنبی بن جاتے ہیں اور برسوں کی نشست و برخاست بھی دلوں کی دوری کو ختم نہیں کر پاتی۔

لیکن یاد رکھیے! کبھی کبھی یہی تنہائی انسان کے نکھرنے، سنورنے اور اپنی اصل صلاحیتوں کو پہچاننے کا نقطۂ آغاز ہوتی ہے۔

انسان جب تک دوسروں کی تائید، تحسین اور حوصلہ افزائی کے سہارے چلتا ہے، اسے اپنی قوت کا پورا اندازہ نہیں ہو پاتا۔ لیکن جب یہ سہارے کم ہونے لگتے ہیں، حوصلہ دینے والی آوازیں خاموش ہو جاتی ہیں اور اپنے ہی قدموں کے نشان مٹانے کی کوشش کرتے ہیں، تب انسان کو اپنے اندر جھانکنے، اپنی سمت درست کرنے اور اپنے مقصد کی حقیقت کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔ ایسے حالات محض خواہشات کے لیے جینے والے انسان اور کسی مقصد کے لیے جینے والے انسان کے درمیان فرق واضح کر دیتے ہیں۔ یہیں سے تنہائی سے قیادت کا سفر شروع ہوتا ہے۔

اس مرحلے پر انسان کے سامنے دو راستے ہوتے ہیں:
اوّل: وہ حالات کی تلخیوں سے شکست کھا کر اپنے خوابوں کو دفن کر دے۔

دوم: وہ انہی حالات کو اپنی تربیت کا ذریعہ بنا کر پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر اٹھے۔ جو لوگ دوسرا راستہ اختیار کرتے ہیں، وہ اپنی زندگی کا ایک نیا باب شروع کرتے ہیں۔ وہ اپنی سمت متعین کرتے ہیں، اپنے کام کی حدود طے کرتے ہیں، اپنے وژن کو واضح کرتے ہیں اور پھر لوگوں کی وقتی رائے کے بجائے اپنے مقصد کی روشنی میں فیصلے کرنا سیکھتے ہیں۔

یہ سفر آسان نہیں ہوتا۔ اس میں خاردار تاریں بھی آتی ہیں، موٹے موٹے کانٹے بھی چبھتے ہیں، راستے کے پتھر بھی قدم روکتے ہیں، حالات کے ہچکولے بھی لگتے ہیں اور اپنوں کے طعنے بھی سننے پڑتے ہیں۔ کبھی مخلصی کو نادانی سمجھا جاتا ہے، کبھی اخلاص کو کسی اور نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور کبھی انسان کی خاموش محنت کو اس کی کمزوری تصور کر لیا جاتا ہے۔

لیکن جو شخص اپنے مقصد کی حقانیت، اپنے کام کی ضرورت اور اپنی ذمہ داری کی اہمیت کو سمجھ لیتا ہے، وہ ہر آواز پر اپنا راستہ نہیں بدلتا۔ وہ لوگوں کی آوازوں پر رک نہیں جاتا، بلکہ چلتا رہتا ہے۔ کہیں اپنا جائزہ لینے کے لیے رکتا ہے، کبھی اپنی اصلاح کے لیے جھکتا ہے اور کبھی کسی بڑی پیش رفت کی تیاری کے لیے قدم پیچھے ہٹاتا ہے۔ یوں رفتہ رفتہ اس کے لیے راہیں ہموار ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔

قیادت وہ نہیں جو ہر طرف سے تائید ملنے پر آگے بڑھے؛ اصل قیادت وہ ہے جو آزمائشوں میں بھی اپنے مقصد کی سمت پہچانے رکھے۔

سیرتِ طیبہ کا مطالعہ ہمیں ایک عظیم سبق سکھاتا ہے۔ مکی دور میں رسول اللہ ﷺ کو شدید مخالفت، تکذیب، استہزاء اور طرح طرح کی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ دعوتِ حق کو روکنے کی کوششیں ہوئیں، راستے دشوار بنائے گئے اور اہلِ ایمان کے لیے حالات انتہائی کٹھن ہو گئے۔ لیکن ان حالات میں نہ دعوت کا مقصد بدلا، نہ حق کی طرف بلانے کا سلسلہ رکا اور نہ اصلاحِ انسانیت کی جدوجہد ختم ہوئی۔ اس پورے سفر میں صبر، حکمت، استقامت اور اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسے کا وہ نمونہ سامنے آیا جس نے بعد کے تمام اہلِ دعوت و قیادت کے لیے رہنمائی فراہم کی۔

طائف کا واقعہ ہمارے لیے تربیت کے بہت سے اسباق رکھتا ہے۔ جب رسول اللہ ﷺ دعوتِ حق کے لیے طائف تشریف لے گئے تو وہاں آپ ﷺ کو نہ صرف انکار کا سامنا کرنا پڑا، بلکہ اذیتیں بھی دی گئیں۔ بظاہر حالات انتہائی ناموافق تھے، مگر اس موقع پر بھی آپ ﷺ کی نگاہ اپنے مشن، انسانیت کی ہدایت اور مستقبل کی امید پر تھی۔ آپ ﷺ نے بدلے اور انتقام کے بجائے ہدایت کی امید کو ترجیح دی۔ طائف کے اس واقعے میں آپ ﷺ کا صبر، استقامت اور لوگوں کی ہدایت کی امید ہمارے لیے عظیم نمونہ ہے۔ (صحیح البخاری، حدیث: 3231)

اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ بلند مقصد رکھنے والا انسان وقتی ردِعمل کا اسیر نہیں ہوتا۔ وہ اپنے اخلاق، اپنی ذمہ داری اور اپنے مقصد کی عظمت کو حالات کے تابع نہیں کرتا۔

اسی طرح ہجرتِ مدینہ کا واقعہ بھی ہمیں سکھاتا ہے کہ مقصد سے وفاداری کا مطلب ایک ہی صورتِ حال پر اصرار کرنا نہیں، بلکہ حکمت کے ساتھ راستہ بدلنا بھی ہے۔ جب مکہ میں دعوت کے لیے حالات انتہائی دشوار ہو گئے تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہجرت کا مرحلہ آیا۔ ایک نئی سرزمین، نئے حالات اور نئی ذمہ داریوں کے درمیان ایک ایسا معاشرہ تشکیل پایا جس نے تاریخ کا رخ بدل دیا۔ گویا کبھی منزل تک پہنچنے کے لیے راستہ بدلنا پڑتا ہے، لیکن راستہ بدلنے اور مقصد چھوڑ دینے میں بڑا فرق ہے۔

یہی فرق وژن رکھنے والے اور محض جذبات کے زیرِ اثر چلنے والے انسان میں ہوتا ہے۔ وژن رکھنے والا شخص اپنی منزل کو پہچانتا ہے، اپنے وسائل کا جائزہ لیتا ہے، حالات سے سیکھتا ہے اور اپنی حکمتِ عملی میں ضرورت کے مطابق تبدیلی لاتا ہے، مگر اپنے بنیادی اصولوں اور جائز مقصد سے بے اعتنائی نہیں کرتا۔ وہ تنقید سے اپنی اصلاح بھی کرتا ہے اور مخالفت کے ماحول میں اپنی سمت بھی محفوظ رکھتا ہے۔

زندگی میں بڑے کام کرنے کے لیے صرف بڑا خواب کافی نہیں ہوتا۔ اس کے لیے اخلاص، صبر، مسلسل جدوجہد، استقامت، واضح سمت، درست حکمتِ عملی اور اپنی اصلاح کی آمادگی بھی ضروری ہوتی ہے۔ جو انسان ان اوصاف کو اپنے اندر پیدا کر لیتا ہے، وہ مشکلات سے گزرتے ہوئے صرف آگے ہی نہیں بڑھتا، بلکہ ان سے سیکھتا بھی ہے۔ وقت کے ساتھ اس کی سوچ میں پختگی آتی ہے، فیصلوں میں سنجیدگی پیدا ہوتی ہے اور اس کے کام میں وہ گہرائی پیدا ہونے لگتی ہے جو محض دعوؤں اور نعروں سے حاصل نہیں ہوتی۔

پھر ایک وقت آتا ہے کہ انسان کا کام خود اس کی پہچان بننے لگتا ہے۔ اس کی محنت کے نتائج سامنے آتے ہیں، اس کا تصور ایک عملی صورت اختیار کرتا ہے اور اس کا مشن دوسروں کے لیے بھی راستے کھولنے لگتا ہے۔ اس کی کامیابی صرف اس کی ذات تک محدود نہیں رہتی، بلکہ دوسروں کے لیے امید، حوصلے اور آگے بڑھنے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ یوں وہ امید کی کرن اور کامیابی کی نوید بن جاتا ہے۔

اگر آپ کسی مقصد کے لیے کام کر رہے ہیں اور اس وقت تنہائی، مخالفت یا بے اعتنائی کا سامنا ہے تو اپنے مقصد کا سنجیدگی سے جائزہ لیجیے، اپنی نیت درست رکھیے، اپنی خامیوں کی اصلاح کیجیے اور اپنی رفتار مستقل رکھیے۔ لوگوں کی داد کو اپنی کامیابی کا واحد معیار نہ بنائیے اور ان کی مخالفت کو اپنی ناکامی کا حتمی فیصلہ بھی نہ سمجھیے۔ آپ کی اصل ذمہ داری یہ ہے کہ اپنے حصے کا کام دیانت داری سے انجام دیں، اپنے رب سے تعلق مضبوط رکھیں اور اپنی صلاحیتوں کو محض ذاتی نام و نمود کے بجائے کسی بڑے اور نفع بخش مقصد کے لیے استعمال کریں۔

یاد رکھیے! تنہائی ہمیشہ بے بسی نہیں ہوتی، مخالفت ہمیشہ اختتام نہیں ہوتی، دشوار راستے ہمیشہ ناکامی کی طرف نہیں لے جاتے اور بند گلی کی طرف دھکیلا جانا ہمیشہ رسوائی نہیں ہوتا؛ بشرطیکہ انسان اپنی حقیقت پہچانے، اپنی سمت درست کرے اور دوسروں کے لیے نفع بخش بننے کی کوشش جاری رکھے۔

کالم نگار : مفتی سفیان بلند
| | |
47     1