ایک مجموعی تصویر:
اسلامی تاریخ میں فتنۂ خوارج ایک انتہائی خطرناک اور متشدد فتنہ رہا ہے، جس نے ہمیشہ شعائرِ اسلام کو ڈھال بنا کر مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھائے۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی پیش گوئیوں میں خوارج کی ظاہری، باطنی، فکری اور عملی علامات کو اتنی تفصیل سے بیان فرما دیا ہے کہ ہر دور کے مسلمان ان کی مجموعی تصویر کو آسانی سے پہچان سکیں۔اگر ہم احادیثِ مبارکہ کا گہرائی سے مطالعہ کریں، تو اس فتنے کا آغاز ان کی فکری ناپختگی اور عمر کی کمی سے ہوتا ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:• أَحْدَاثُ الْأَسْنَانِ: ’’وہ کم سن لڑکے ہوں گے۔‘‘ (بخاری: 6531، مسلم: 1066)
اور چونکہ ان کی عمریں کم ہوں گی، اس لیے وہ جذباتی اور دانشوری سے محروم ہوں گے، جیسا کہ حدیث میں ہے:• سُفَهَاءُ الْأَحْلَامِ: ’’دماغی طور پر ناپختہ ہوں گے۔‘‘ (بخاری: 6531، مسلم: 1066)
اپنی اسی ذہنی ناپختگی کو چھپانے اور لوگوں کو متاثر کرنے کے لیے، یہ گروہ ایک خاص جسمانی وضع قطع اور ظاہری حلیہ اپنائے گا، جس کی علامتیں یہ ہیں:
• سِیمَا ھُمُ التَّحْلِیْقُ: ’’وہ سر منڈواتے یعنی ٹنڈ کرواتے ہوں گے۔‘‘ (بخاری، کتاب التوحید)
• كَثُّ اللِّحْيَةِ: ’’گھنی ڈاڑھی رکھیں گے۔‘‘ (بخاری: 4094، مسلم: 1064)
• مُشَمَّرُ الْإِزَارِ: ’’بہت اونچا تہ بند باندھنے والے ہوں گے۔‘‘ (بخاری: 4094، مسلم: 1064)
جغرافیائی اور تاریخی اعتبار سے یہ فتنہ کسی ایک خطے یا وقت تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ اس کا آغاز اور تسلسل دجال کے آنے تک جاری رہے گا۔ آپ ﷺ نے ان کے خروج کے بارے میں پیش گوئی فرمائی:
• يخرُجُ نَاسٌ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ: ’’یہ خارجی لوگ (حرمین شریفین سے) مشرق کی جانب سے نکلیں گے۔‘‘ (بخاری: 7123)
اور یہ سلسلہ تاریخ کے مختلف ادوار میں رنگ بدل بدل کر سامنے آتا رہے گا:
• لَا يَزَالُونَ يَخْرُجُونَ حَتَّى يَخْرُجَ آخِرُهُمْ مَعَ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ: ’’یہ ہمیشہ نکلتے رہیں گے یہاں تک کہ ان کا آخری گروہ دجال کے ساتھ نکلے گا۔‘‘ (نسائی: 4103)
اس فتنے کا سب سے بڑا دھوکہ ان کی کثرتِ عبادت اور ظاہری زہد ہوگا، جو دیکھنے والوں کو ششدر کر دے گا۔ ان کی عبادت کا یہ حال ہوگا کہ:• يَحْقِرُ أَحَدُكُمْ صَلَاتَهُ مَعَ صَلَاتِهِمْ، وَصِيَامَهُ مَعَ صِيَامِهِمْ: ’’تم میں سے ہر ایک ان کی نمازوں کے مقابلے میں اپنی نمازوں کو حقیر جانے گا اور ان کے روزوں کے مقابلہ میں اپنے روزوں کو حقیر جانے گا۔‘‘ (بخاری: 6534، مسلم: 1064)
• يَتَعَمَّقُونَ وَيَتَشَدَّدُونَ فِي الْعِبَادَةِ: ’’وہ عبادت اور دین میں بہت متشدد اور انتہا پسند ہوں گے۔‘‘ (ابویعلیٰ: 90، عبد الرزاق: 18673)
لیکن اس شدید ظاہری عبادت کے باوجود، ان کا باطن ایمان کی روح سے بالکل خالی ہوگا:
• لَا يُجَاوِزُ إِيمَانُهُمْ حَنَاجِرَهُمْ: ’’ایمان ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔‘‘ (بخاری: 6531، مسلم: 1066)
• لَا تُجَاوِزُ صَلَاتُهُمْ تَرَاقِيَهُمْ: ’’نماز ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گی۔‘‘ (مسلم: 1066)
دلوں میں ایمان نہ ہونے کی وجہ سے، ان کی تلاوتِ قرآن اور فکری گمراہی مسلمانوں کے لیے فتنۂ تکفیر (کافر قرار دینے) کا سبب بن جائے گا۔ وہ لوگوں کو متاثر کرنے کے لیے خوبصورت تلاوت کریں گے:
• يَقْرَئُونَ الْقُرْآنَ لَيْسَ قِرَاءَتُكُمْ إِلَى قِرَاءَتِهِمْ بِشَيْءٍ: ’’وہ قرآن مجید کی ایسے تلاوت کریں گے کہ ان کی تلاوتِ قرآن کے سامنے تمہیں اپنی تلاوت کی کوئی حیثیت دکھائی نہ دے گی۔‘‘ (مسلم: 1066)
لیکن اس تلاوت کا مقصد ہدایت نہیں ہوگا:
• يَقْرَئُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حُلُوقَهُمْ: ’’ان کی تلاوت ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔‘‘ (بخاری: 6532، مسلم: 1064)
وہ اپنی گمراہی میں اتنے اندھے ہوں گے کہ ہر قرآنی آیت کو اپنے حق میں سمجھیں گے، حالانکہ وہ ان کے خلاف ہوگی:
• يَقْرَئُونَ الْقُرْآنَ يَحْسَبُونَ أَنَّهُ لَهُمْ، وَهُوَ عَلَيْهِمْ: ’’وہ یہ سمجھ کر قرآن پڑھیں گے کہ اس کے احکام ان کے حق میں ہیں لیکن درحقیقت وہ قرآن ان کے خلاف حجت ہوگا۔‘‘ (مسلم: 1066)
وہ بظاہر لوگوں کو اللہ کی کتاب کی طرف بلائیں گے، مگر ان کا قرآن سے کوئی حقیقی تعلق نہیں ہوگا:
• يَدْعُونَ إِلَى كِتَابِ اللهِ وَلَيْسُوا مِنْهُ فِي شَيْءٍ: ’’وہ لوگوں کو کتاب اللہ کی طرف بلائیں گے لیکن قرآن کے ساتھ ان کا تعلق کوئی نہیں ہوگا۔‘‘ (ابو داؤد: 4765)
اس فکری کجی کا سب سے ہولناک نتیجہ یہ نکلے گا کہ وہ قرآنی آیات کا غلط استعمال کر کے مسلمانوں کا خون حلال کریں گے، جیسا کہ جلیل القدر صحابی حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ان کی سوچ کا پردہ چاک کرتے ہوئے فرمایا:• يَنْطَلِقُونَ إِلَى آيَاتٍ نَزَلَتْ فِي الْكُفَّارِ فَيَجْعَلُوهَا عَلَى الْمُؤْمِنِينَ: ’’وہ کفار کے حق میں نازل ہونے والی آیات کا اطلاق مسلمانوں پر کریں گے۔ اس طرح وہ دوسرے مسلمانوں کو گمراہ، کافر اور مشرک قرار دیں گے تاکہ ان کا ناجائز قتل کر سکیں۔‘‘ (بخاری: 2539)
چنانچہ، ان تمام گمراہیوں کے نتیجے میں ان کا دین سے اخراج اور ان کا عبرت ناک انجام بالکل واضح ہو جاتا ہے۔ وہ اسلام سے اتنی تیزی سے دور نکل جائیں گے کہ واپسی ممکن نہ ہوگی:
• يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ: ’’وہ دین سے یوں خارج ہو چکے ہوں گے جیسے تیر شکار سے خارج ہو جاتا ہے۔‘‘ (بخاری: 6531، مسلم: 1066)
ان کے اس ظلم و ستم کی وجہ سے، جو مسلمان ان کے ہاتھوں شہید ہوگا وہ خوش نصیب ہے:
• خَيْرُ قَتْلَى مَنْ قَتَلُوهُ: ’’وہ شخص بہترین مقتول (شہید) ہوگا جسے وہ قتل کر دیں گے۔‘‘ (ترمذی: 3000)
جبکہ وہ خود اپنی بدترین تکفیری سوچ کی وجہ سے کائنات کی بدترین مخلوق بن جائیں گے:
• شَرُّ قَتْلَى تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ: ’’وہ آسمان کے نیچے بدترین مقتول ہوں گے۔‘‘ (ترمذی: 3000)
• إlnَّهُمْ كِلَابُ النَّارِ: ’’بے شک وہ (خوارج) جہنم کے کتے ہوں گے۔‘‘ (ترمذی: 3000)
یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امت کو ان کے شر سے پاک کرنے والوں کے لیے عظیم بشارت دیتے ہوئے فرمایا:• الْأَجْرُ الْعَظِيمُ لِمَنْ قَتَلَهُمْ: ’’ان کے قتل کرنے والے کو اجرِ عظیم ملے گا۔‘‘ (مسلم: 1066)
حاصل کلام:
لبِّ لباب یہ ہے کہ یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ فتنۂ خوارج کی یہ تمام علاماتِ قاہرہ اور احادیثِ مبارکہ دراصل مابعد کے زمانوں کے لیے ایک ابدی رہنما ضابطہ ہیں۔
یہ معرکۃ الآراء ارشاداتِ نبویؐ ہمیں اس فکری کجی اور فریبِ نظر سے بچاتے ہیں جہاں محض ظاہری زہد، طویل داڑھیوں کی نمائش، صوم و صلاۃ کی کثرت اور قراءتِ قرآن کی شیرینی کو معیارِ حق سمجھ لیا جاتا ہے۔ رسولِ عربی ﷺ کا اصل مقصد امت کو اس فکری مغالطے سے نکالنا تھا کہ دینِ اسلام محض چند بے روح شعائر اور ظاہری وضع قطع کا نام نہیں، بلکہ اس کی اصل روح فکرِ مستقیم، اعتدال پسندی، اور مسلمانوں کے جان، مال اور آبرو کی حرمت و سلامتی میں پنہاں ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی علمِ راسخ اور فہمِ دین سے عاری دل و دماغ متشدد جذبات کی رو میں بہہ جاتے ہیں، تو وہ کلامِ الٰہی کی ابدی آیات کو اپنے نفسانی و سیاسی مقاصد کے لیے تختۂ مشق بنا لیتے ہیں۔ خوارج کا اصل المیہ یہی تھا کہ انہوں نے فہمِ سلف سے ناطہ توڑ کر تکفیرِ مسلمین کو اپنا شعار بنایا اور رحمتِ الٰہی کے وسیع دامن کو اپنی تنگ نظری کی بھینٹ چڑھا دیا۔
چنانچہ، ہر دور کے اہل ایمان، ائمہ اور علماءِ حق کے لیے یہ ناگزیر ہے کہ وہ نبوی بصیرت کے ان مائیکرو اسکوپک اشارات کی روشنی میں فتنۂ انتہا پسندی کے فکری خدوخال کو پہچانیں، تاکہ شعائرِ اسلام کا لبادہ اوڑھ کر ملتِ اسلامیہ کی اساس پر شب خون مارنے والے ان عناصرِ بد کا تدارک کیا جا سکے اور اسلام کے حقیقی چہرے یعنی امن، علم اور رحمتِ عالمینؐ کے پیغام کو دنیا کے سامنے سربلند رکھا جائے ۔