(+92) 319 4080233
کالم نگار

تحقیق: ارتضیٰ طارق

تحقیق: ارتضیٰ طارق

پروفائل | تمام کالمز
2026/10/15
موضوعات
دومروجہ گالیوں کی تاریخ
ہماری روزمرہ زبان میں بعض الفاظ ایسے ہیں جنہیں آج ہم گالی سمجھتے ہیں، لیکن اگر ان کی تاریخ اور اصل معنی تلاش کیے جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ کبھی یہ الفاظ محض شناخت، پیشے یا سماجی کردار کی علامت تھے۔ ’’کنجر‘‘ اور ’’دلال‘‘ بھی ایسے ہی دو الفاظ ہیں جنہوں نے وقت کے ساتھ اپنے اصل مفہوم سے بہت مختلف معنی اختیار کر لیے۔

’’کنجر‘‘ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ لفظ سنسکرت کے ’’کانن جر‘‘ سے نکلا ہے، جس کے معنی جنگل میں رہنے والے کے ہیں۔ یہ ان قبائل کے لیے استعمال ہوتا تھا جو گنگا اور جمنا کے کناروں پر آباد تھے۔ یہ قبائل ایک جگہ مستقل قیام نہیں کرتے تھے بلکہ ایک مقام سے دوسرے مقام کی طرف منتقل ہوتے رہتے تھے۔ یوں ان کا طرزِ زندگی خانہ بدوش قبائل سے مشابہ تھا اور ’’کنجر‘‘ بنیادی طور پر ان کی شناخت کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔اردو ادب میں بھی یہ لفظ اپنی اسی تاریخی معنویت کے ساتھ ملتا ہے۔ میر تقی میر جیسے بڑے شاعر نے اپنے ایک شعر میں اس لفظ کو استعمال کیا ہے:

’’میر جی اس طرح سے آتے ہیں

جیسے کنجر کہیں کو جاتے ہیں‘‘

یہاں ظاہر ہے کہ میر تقی میر کسی کو گالی نہیں دے رہے بلکہ ’’کنجر‘‘ کا لفظ اس کے اصل مفہوم یعنی ایک خانہ بدوش یا نقل مکانی کرنے والے گروہ کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

وقت کے ساتھ ان قبائل کے بعض افراد اپنی روزی روٹی کے لیے ناچ گانے اور موسیقی سے وابستہ ہونے لگے۔ وہ مختلف ساز بجاتے، گاتے اور لوگوں کی تفریح کا سامان کرتے تھے۔ اس کے بدلے میں لوگ انہیں کچھ دے دلا دیتے اور اسی طرح ان کا گزر بسر ہوتا تھا۔ رفتہ رفتہ ’’کنجر‘‘ کا لفظ اس طبقے کے لیے بھی استعمال ہونے لگا جس کا بنیادی پیشہ ناچ گانا اور موسیقی بن گیا تھا۔ یوں ایک تاریخی اور قبائلی شناخت کا لفظ بتدریج ایک مخصوص پیشے سے منسلک ہوا اور پھر معاشرتی رویوں کے باعث گالی کے طور پر استعمال ہونے لگا۔

اسی طرح ’’دلال‘‘ بھی اپنی اصل میں کوئی گالی نہیں بلکہ ایک باقاعدہ پیشے اور کردار کو ظاہر کرنے والا لفظ تھا۔ یہ عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی راستہ دکھانے والے، رہنمائی کرنے والے یا کسی معاملے میں واسطہ بننے والے کے ہیں۔

جب عرب تاجر ہندوستان آئے تو وہ یہاں کی مقامی زبانوں، بازاروں اور تجارتی راستوں سے پوری طرح واقف نہیں تھے۔ ایسے میں مقامی لوگ ان کی رہنمائی کرتے، انہیں منڈیوں تک پہنچاتے اور تجارت میں مدد فراہم کرتے تھے۔ اس خدمت کے عوض عرب تاجر انہیں کمیشن دیتے تھے اور ایسے افراد کو ’’دلال‘‘ کہا جاتا تھا۔ دوسرے لفظوں میں دلال بنیادی طور پر ایک کمیشن ایجنٹ یا بیچنے والے اور خریدار کے درمیان واسطہ بننے والا شخص تھا۔

آج بھی عرب دنیا میں کاروباری معاملات میں بروکرز اور بعض تجارتی واسطہ کاروں کے لیے ’’دلال‘‘ کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔ یعنی لفظ کے بنیادی مفہوم میں آج بھی واسطہ کار یا کمیشن ایجنٹ کا تصور موجود ہے۔ لیکن ہمارے معاشرے میں اس لفظ کا مفہوم بھی وقت کے ساتھ تبدیل ہوتا گیا۔ جب وہ افراد جو عورتوں کی جنسی خرید و فروخت کے کاروبار سے وابستہ تھے، گاہک تلاش کرنے اور سودے کروانے کے لیے واسطہ بننے لگے تو ان کے لیے بھی ’’دلال‘‘ کا لفظ استعمال ہونے لگا۔ رفتہ رفتہ یہ لفظ اس قدر منفی مفہوم سے وابستہ ہو گیا کہ آج ہماری زبان میں ’’دلال‘‘ ایک انتہائی تحقیر آمیز اور غلیظ گالی کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔

یہ دونوں الفاظ اس بات کی دلچسپ مثال ہیں کہ زبان صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ انسانی تاریخ، معاشرتی رویوں اور تہذیبی تبدیلیوں کا آئینہ بھی ہے۔ ایک لفظ جو کبھی کسی قبیلے کی شناخت تھا اور دوسرا جو ایک پیشہ ور واسطہ کار کے لیے استعمال ہوتا تھا، وقت کے ساتھ اپنے اصل معنی سے دور ہوتے گئے اور معاشرے نے انہیں گالیوں میں تبدیل کر دیا۔

شاید الفاظ کے سفر کی یہی سب سے دلچسپ بات ہے کہ ان کے معنی ہمیشہ لغت میں نہیں بدلتے، کبھی معاشرہ خود ان کے معنی بدل دیتا ہے۔

مأخَذ

یہ کالم نگار کی ذاتی تحقیق ہے اس سے کسی کااتفاق ضروری نہیں!

کالم نگار : تحقیق: ارتضیٰ طارق
| | |
46