سید نورزمان نقشبندی شاذلی فرماتے ہیں:
ہمارے ہاں باقاعدہ بعض اہلِ علم اپنے طلبہ کی یہ ذہن سازی کرتے ہیں کہ الزامی جواب دینا بالکل جائز اور درست ہے، لیکن اگر بات کافر کی ہو تو الزامی جواب میں بھی کافر ہی کو پیش کیا جائے گا۔اگر ایک طرف اہلِ بیتِ اطہار رضوان اللہ علیہم اجمعین اور دوسری طرف صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہوں تو الزامی جواب کیسے دیں گے؟ یہاں تو دونوں جماعتیں برحق ہیں اور ان کا جنتی ہونا قطعی ہے۔ ان میں سے کسی کو کافر کہنے اور اس طرح کا الزامی جواب دینے کا الزام خود جواب دینے والے ہی کی طرف لوٹے گا۔
اگر کسی نے غلط راستہ اختیار کر رکھا ہے اور وہ غلط بات کہہ رہا ہے تو اہلِ حق کی ذمہ داری ہے کہ جس حق جماعت کا سہارا لے کر وہ مخالف کو غلط کہہ رہا ہے، پہلے اسے اس مقدس جماعت سے جدا کریں اور ثابت کریں کہ اس کا اہلِ بیتِ اطہار رضوان اللہ علیہم اجمعین سے کوئی تعلق نہیں؛ اہلِ بیت بھی ہمارے ہیں۔ اگر وہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی گستاخی اور بے ادبی کر رہا ہے تو جواب میں اہلِ بیتِ اطہار رضوان اللہ علیہم اجمعین کی گستاخی یا بے ادبی نہ کریں۔ اس طرح کا الزامی جواب دینا بالکل جائز نہیں۔
بالفرض! اہلِ علم تو جانتے ہیں کہ آپ مقابل کو الزامی جواب دے رہے ہیں، لیکن عوام کیا جانیں کہ الزامی جواب کیا ہوتا ہے؟ وہ تو آپ کی بات کو حق سمجھتے ہیں۔ اسی قسم کے الزامی جوابات کو کل ہمارا مخالف اٹھا کر لوگوں کو دکھائے گا کہ دیکھو! اہلِ سنت والجماعت والے اہلِ بیتِ اطہار رضوان اللہ علیہم اجمعین کے گستاخ اور بے ادب ہیں۔ یوں روافض سچے اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کرتے ہیں تو جواب میں بعض نادان لوگ سچے اہلِ بیتِ اطہار رضوان اللہ علیہم اجمعین کی گستاخی یا توہین کرتے ہیں۔ اس کی وجہ سے عوام اہلِ علم سے بدظن ہو جاتے ہیں کہ ہمارے علمائے کرام سے بھی گستاخی اور بے ادبی ہوئی ہے۔یاد رکھیں! ہر چیز کا ایک موقع و محل ہوتا ہے اور اس کے فوائد و نقصانات ہوتے ہیں۔ یہاں تو صورتِ حال یہ ہے کہ آن دا ریکارڈ میڈیا کا استعمال کرکے پوری دنیا کے سامنے الزامی جوابات دیے جا رہے ہوتے ہیں۔ یہاں تک سنا گیا کہ ایک صاحب الزامی جواب میں دوسرے سے کہنے لگے: ’’تمہارے علی اس وقت کہاں تھے؟‘‘ یہ خارجی ذہن سازی ہے۔ اس طریقے سے بعض نادان لوگ معاشرے میں متفق علیہ شخصیات کو اس انداز سے پیش کر رہے ہوتے ہیں۔ ایک صاحب نے کہا کہ (معاذ اللہ) یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اجتہادی خطا ہے۔
الزامی جواب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین و گستاخی کر ڈالی، حالاں کہ اہلِ سنت والجماعت سے وابستہ لوگ جزئیات پر نہیں، کلیات پر کھڑے رہے ہیں اور سب کو ساتھ لے کر چلے ہیں۔ ایسا تاثر پیدا کرنا جس سے معاشرے میں تقسیم کاری کا شبہ پیدا ہو، جائز نہیں ہے۔
جیسا کہ قرآنِ کریم میں ایک مقام پر ارشاد ہے:وَلَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللَّهَ عَدْوًا بِغَيْرِ عِلْمٍ ۗ كَذَٰلِكَ زَيَّنَّا لِكُلِّ أُمَّةٍ عَمَلَهُمْ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّهِمْ مَرْجِعُهُمْ فَيُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ۔
ترجمہ: اور (اے مسلمانو!) تم ان کو برا نہ کہو جن کی یہ اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہیں، ورنہ یہ بے علمی اور جہالت سے اللہ کو برا کہیں گے۔ ہم نے اسی طرح ہر قوم کے لیے اس کے عمل کو مزین کر دیا ہے، پھر انہیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے، پھر وہ انہیں خبر دے گا کہ وہ کیا کرتے رہے تھے۔
اگر کافر آپ کے رد میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر تنقید کرے تو آپ اہلِ بیتِ اطہار رضوان اللہ علیہم اجمعین کو پیش نہ کریں، بلکہ پہلے اسے اہلِ بیتِ اطہار رضوان اللہ علیہم اجمعین سے جدا کرکے یہ ثابت کریں کہ دونوں طبقات ہمارے ہیں۔(جواہر خادم الامت، جلد پنجم، صفحہ 125، 126)