(+92) 319 4080233
کالم نگار

مفتی نواب سراج

مفتی نواب سراج

پروفائل | تمام کالمز
2026/10/14
موضوعات
مجددین یا منہجِ سلف سے انحراف؟
محترم پیر مصطفیٰ کمال صاحب!
آپ کی تحریر میں امام ابن تیمیہؒ، شاہ ولی اللہ دہلویؒ اور پروفیسرمودودیؒ کو ایک ہی صف میں کھڑا کرکے یہ تاثر دیا گیا ہے کہ ان تینوں کی مخالفت دراصل روایتی علماء کی علمی اجارہ داری، تقلیدِ جامد اور مذہبی اقتدار کے تحفظ کی کوشش تھی۔ بظاہر یہ ایک پُراثر بیانیہ ہے، لیکن علمی تحقیق کا معیار محض کسی بیانیے کی پُرکشش ترتیب، جذباتی اپیل یا چند تاریخی مماثلتیں نہیں، بلکہ ہر شخصیت کے افکار کا مستقل مطالعہ، اس کے دلائل کا تجزیہ اور مخالفین کے اعتراضات کا غیر جانب دارانہ جائزہ ہے۔

اس تحریر کا بنیادی مغالطہ یہ ہے کہ تین مختلف شخصیات، تین مختلف تاریخی ادوار اور تین مختلف نوعیت کے علمی اختلافات کو ایک ہی کہانی میں پرو دیا گیا ہے؛ پھر اس کہانی کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کرلیا گیا ہے کہ چونکہ ان شخصیات کی مخالفت ہوئی، لہٰذا ان کے افکار بھی حق پر تھے اور ان کے مخالفین لازماً تنگ نظر، مقلدِ جامد اور اقتدار کے محافظ تھے۔

حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ کسی عالم کی مخالفت اس کے حق ہونے کی دلیل نہیں، جس طرح کسی عالم کی شہرت، اس کے پیروکاروں کی کثرت یا اس کی قید و بند بھی اس کے ہر علمی موقف کی صحت کی ضمانت نہیں۔ حق و باطل کا فیصلہ تاریخی مظلومیت کے تاثر سے نہیں، دلیل و برہان سے ہوتا ہے۔

آئیے ! اس مضمون کے بنیادی دعوووں کا اصولی جائزہ لیتے ہیں:
1۔ پہلا مغالطہ: ہر مخالفِ روایت کو مجدد اور ہر مخالف کو جامد مقلد سمجھ لینا:
مضمون نگار لکھتے ہیں کہ ان تینوں شخصیات کی مخالفت کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے صدیوں سے چلے آنے والے طریقوں کو چیلنج کیا۔ یہ دعویٰ تاریخی حقیقت کا ایک جزوی بیان ہے، لیکن اسے ان کی تمام مخالفتوں کی جامع توجیہ قرار دینا علمی مغالطہ ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا ہر مروجہ طریقے کو چیلنج کرنا اصلاح ہے؟ کیا ہر قدیم علمی روایت غلط ہے؟ اور کیا ہر شخص جو قرآن و سنت کی طرف رجوع کا دعویٰ کرے، لازماً قرآن و سنت کا درست فہم بھی رکھتا ہے؟

اگر محض قدیم طریقوں سے اختلاف کرنا حقانیت کا معیار ہے تو پھر ہر دور کے متجددین، منکرین حدیث، باطنی تاویل پسندوں اور دین کی نئی تعبیرات پیش کرنے والوں کو بھی مجدد تسلیم کرنا پڑے گا۔ آخر وہ بھی تو یہی دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے مروجہ مذہبی تصورات کو چیلنج کیا ہے!

اصل سوال یہ نہیں کہ کس نے روایت کو چیلنج کیا، بلکہ یہ ہے کہ کس نے کس روایت کو، کس دلیل سے، کس اصول کے تحت اور کس حد تک چیلنج کیا؟سوال یہ ہے کہ کیا ہر مروجہ طریقے کو چیلنج کرنا اصلاح ہے؟ کیا ہر قدیم علمی روایت غلط ہے؟ اور کیا ہر شخص جو قرآن و سنت کی طرف رجوع کا دعویٰ کرے، لازماً قرآن و سنت کا درست فہم بھی رکھتا ہے؟اگر محض قدیم طریقوں سے اختلاف کرنا حقانیت کا معیار ہے تو پھر ہر دور کے متجددین، منکرین حدیث، باطنی تاویل پسندوں اور دین کی نئی تعبیرات پیش کرنے والوں کو بھی مجدد تسلیم کرنا پڑے گا۔ آخر وہ بھی تو یہی دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے مروجہ مذہبی تصورات کو چیلنج کیا ہے!اصل سوال یہ نہیں کہ کس نے روایت کو چیلنج کیا، بلکہ یہ ہے کہ کس نے کس روایت کو، کس دلیل سے، کس اصول کے تحت اور کس حد تک چیلنج کیا؟

اہل سنت کے نزدیک تقلیدِ جامد قابلِ دفاع نہیں، لیکن اس کے مقابلے میں فقہی اصولوں، علومِ حدیث، اصولِ تفسیر، اجماعِ امت اور سلف صالحین کے علمی ورثے کو نظرانداز کرکے براہِ راست نصوص سے من مانے نتائج اخذ کرنا بھی کوئی علمی فضیلت نہیں۔سلف صالحین کے منہج کی پیروی اور آباء و اجداد کی اندھی تقلید دو مختلف چیزیں ہیں۔ پہلی علمی التزام ہے، دوسری غیر مشروط وابستگی۔ ان دونوں کو ایک قرار دینا علمی دیانت کے خلاف ہے۔

2۔ امام ابن تیمیہؒ، شاہ ولی اللہؒ اور پروفیسرمودودیؒ: کیا واقعی تینوں ایک ہی منہج کے نمائندے ہیں؟

یہ اس مضمون کا سب سے بنیادی اور فیصلہ کن سوال ہے۔

امام ابن تیمیہؒ، شاہ ولی اللہ دہلویؒ اور پروفیسرمودودی تینوں کے علمی و فکری مناہج میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔ انہیں صرف مخالفت، تنقید یا کسی نہ کسی نوع کی اصلاحی دعوت کی بنیاد پر ایک ہی فکری جماعت قرار نہیں دیا جاسکتا۔

امام ابن تیمیہؒ قرآن، سنت، آثارِ سلف اور اپنے فہم کے مطابق شرعی دلائل کی طرف رجوع پر زور دیتے تھے۔ وہ خود کو سلف کے منہج کا پیرو سمجھتے تھے اور عقل و نقل کے تعارض کے تصور پر مفصل علمی بحث کرتے تھے۔ ان کی فکر سے اختلاف ممکن ہے، لیکن انہیں محض مروجہ مذہبی ڈھانچے کو چیلنج کرنے والا ایک جدید طرز کا مصلح بنا دینا ان کے علمی پس منظر کو محدود کردیتا ہے۔ شاہ ولی اللہ دہلویؒ ایک بلند پایہ محدث، فقیہ، اصولی اور حکیم تھے۔ وہ قرآن و حدیث، فقہی روایت، اجتہاد، احکام کی حکمتوں اور امت کے علمی ورثے کے درمیان ربط قائم کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ ان کا فارسی ترجمۂ قرآن اس بات کی مثال ہے کہ علمی روایت کے اندر رہتے ہوئے بھی اصلاح اور تجدید کی گنجائش موجود ہوتی ہے۔ ان کے ترجمے کے علمی و سماجی اثرات پر جدید تحقیق بھی موجود ہے۔ مودودیؒ نے اسلام کی سیاسی، اجتماعی اور تہذیبی تعبیر پر خاص زور دیا اور جدید سیاسی اصطلاحات میں اسلامی نظام کی وضاحت کی۔ ان کی یہ کاوش اپنی جگہ ایک مستقل علمی مطالعے کی متقاضی ہے؛ لیکن ان کے تمام تفسیری، کلامی، تاریخی اور سیاسی افکار کو ابن تیمیہؒ اور شاہ ولی اللہؒ کے منہج کا تسلسل قرار دینا، محض مماثلتوں سے نتیجہ اخذ کرنا ہے۔

یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا کسی شخصیت کا چند مقامات پر سلف کی طرف رجوع کرنا اس بات کے لیے کافی ہے کہ اس کے تمام افکار کو منہجِ سلف کے مطابق تسلیم کرلیا جائے؟

ہرگز نہیں!

کسی شخص کی اصلاحی خدمات کا اعتراف، اس کے تمام علمی نتائج کی توثیق نہیں ہوتا۔ اسی طرح کسی شخصیت کے بعض افکار سے اختلاف اس کی تمام خدمات کا انکار بھی نہیں ہوتا۔ 3۔ دوسرا مغالطہ: ہر علمی اعتراض کو گستاخی کا الزام قرار دینا:
مضمون میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان تینوں شخصیات کے خلاف بے ادبی اور گستاخی کا ہتھیار استعمال کیا گیا، حالاں کہ اصل اختلاف علمی تھا۔

یہاں دو الگ سوالات کو خلط ملط کردیا گیا ہے۔پہلا سوال یہ ہے کہ کیا کسی عالم کے خلاف بے بنیاد الزام لگانا، اس کی نیت پر حملہ کرنا یا عوامی جذبات بھڑکانا درست ہے؟ یقیناً نہیں۔دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا کسی عالم کی تحریر، تعبیر، استدلال یا کسی مقدس شخصیت کے متعلق اس کے بیان پر علمی اعتراض کرنا بھی محض بے ادبی ہے؟ ہرگز نہیں۔

اگر کسی عالم کی عبارت پر علمی اشکال ہو تو اس کی تحقیق ضروری ہے۔ اگر عبارت کا مفہوم واضح ہو تو اسی پر گفتگو کی جائے، اور اگر اس میں متعدد احتمالات ہوں تو قرائن کی روشنی میں اس کی مراد متعین کی جائے۔ نہ بے جا الزام لگانا درست ہے، نہ علمی تنقید کو جذباتی نعروں کے ذریعے روکنا۔مودودیؒ کی بعض تحریروں، بالخصوص انبیائے کرام علیہم السلام اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے متعلق بعض تعبیرات پر جو اعتراضات کیے گئے، ان کا جائزہ متعلقہ اصل عبارت، سیاق و سباق اور علمی اصولوں کے تحت ہونا چاہیے۔ یہ کہنا کافی نہیں کہ اعتراض کرنے والے روایتی علماء تھے، لہٰذا اعتراض باطل تھا۔ اسی طرح یہ بھی درست نہیں کہ کسی عبارت پر اعتراض ہوگیا، لہٰذا مصنف لازماً گستاخ تھا۔

عبارت کا علمی محاسبہ، مصنف کی شخصیت پر حملے سے الگ چیز ہے۔
یہی اصول امام ابن تیمیہؒ اور شاہ ولی اللہؒ کے معاملے میں بھی ملحوظ رہنا چاہیے۔ ان کے خلاف لگائے گئے ہر الزام کو درست تسلیم کرنا غلط ہے، لیکن ہر الزام کو صرف اس بنا پر باطل قرار دینا کہ وہ کسی معروف مصلح کے خلاف لگایا گیا تھا، یہ بھی علمی انصاف نہیں۔

4۔ تیسرا مغالطہ: فتووں کی موجودگی کو حقانیت کی دلیل بنا دینا:
مضمون نگار نے ان شخصیات کے خلاف فتووں اور مخالفت کو اس انداز میں پیش کیا ہے جیسے یہ واقعات ان کے حق پر ہونے کی واضح شہادت ہوں۔حالاں کہ کسی شخص کے خلاف فتویٰ صادر ہونا بذاتِ خود نہ اس کے باطل ہونے کی دلیل ہے، نہ اس کے حق ہونے کی۔فتویٰ ایک علمی حکم ہے، جس کی صحت کا انحصار اس کے دلائل، موضوع، محلِ اطلاق اور شرعی اصولوں پر ہے۔ کسی فتویٰ میں غلطی ہوسکتی ہے؛ اس کے برعکس کسی شخص کی مقبولیت یا مظلومیت سے اس کے نظریے کی صحت بھی ثابت نہیں ہوتی۔

امام ابن تیمیہؒ کے خلاف واقعی مختلف ادوار میں عدالتی و مذہبی کارروائیاں ہوئیں اور انہیں متعدد مرتبہ قید کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن ان کارروائیوں کے اسباب میں ان کے عقائد، بعض فقہی آرا، قبور کی زیارت سے متعلق ان کے موقف اور اس زمانے کے مذہبی و سیاسی تنازعات جیسے مختلف امور شامل تھے۔ ان تمام واقعات کو صرف ایک ہی سبب، یعنی روایتی علماء کی علمی اجارہ داری، کا نتیجہ قرار دینا تاریخی پیچیدگی کو نظرانداز کرنا ہے۔ امام ابن تیمیہؒ کے خلاف واقعی مختلف ادوار میں عدالتی و مذہبی کارروائیاں ہوئیں اور انہیں متعدد مرتبہ قید کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن ان کارروائیوں کے اسباب میں ان کے عقائد، بعض فقہی آرا، قبور کی زیارت سے متعلق ان کے موقف اور اس زمانے کے مذہبی و سیاسی تنازعات جیسے مختلف امور شامل تھے۔ ان تمام واقعات کو صرف ایک ہی سبب، یعنی روایتی علماء کی علمی اجارہ داری، کا نتیجہ قرار دینا تاریخی پیچیدگی کو نظرانداز کرنا ہے۔ اسی طرح شاہ ولی اللہؒ کے فارسی ترجمۂ قرآن کی مخالفت کے تاریخی پہلو پر تحقیق کی جاسکتی ہے، لیکن ان کے خلاف قتل کے فتووں جیسے سنگین دعووں کے لیے اصل تاریخی مآخذ، قائلین کے نام، عبارت اور سند پیش کرنا ضروری ہے۔ محض یہ لکھ دینا کہ علماء نے ان کے قتل تک کے فتوے دیے، تحقیق کا متبادل نہیں۔

جو شخص تاریخ کو دلیل بناتا ہے، اس پر لازم ہے کہ تاریخ کے دعووں کو بھی دلیل سے ثابت کرے۔

5۔مودودیؒ کی سزائے موت: تاریخی واقعے سے غیر ثابت شدہ نتیجہ اخذ کرنا:
مضمون میں مولانا مودودیؒ کو فوجی عدالت سے سزائے موت سنائے جانے کا ذکر کیا گیا ہے، اور پھر یہ تاثر دیا گیا ہے کہ اس کے پس منظر میں روایتی مذہبی حلقوں کی خاموش حمایت یا اکساوا شامل تھا۔

یہاں دو الگ باتیں ہیں:
مودودیؒ کو 1953ء کے فسادات کے پس منظر میں فوجی عدالت سے سزائے موت سنائی گئی تھی۔اس فیصلے کے پیچھے روایتی علماء کی سازش یا ان کی خاموش حمایت کارفرما تھی۔

پہلی بات ایک تاریخی واقعے سے متعلق ہے، جب کہ دوسری بات ایک علّی دعویٰ ہے جس کے لیے الگ اور واضح شواہد درکار ہیں۔ ایک واقعے کا وقوع دوسرے دعوے کو خودبخود ثابت نہیں کردیتا۔ اگر یہ کہا جائے کہ پروفیسر مودودیؒ کے خلاف بعض علماء کے نظریاتی اختلافات اور سیاسی ماحول نے ان کی مخالفت میں کردار ادا کیا، تو اس دعوے کی نوعیت اور شواہد پر بحث ہوسکتی ہے۔ لیکن یہ کہنا کہ ان کی سزائے موت کے پس منظر میں لازماً روایتی علماء کی خاموش حمایت یا اکساوا شامل تھا، بغیر مستند شہادت کے محض قیاس ہے۔

کسی تاریخی واقعے کے اسباب معلوم کرنے کے لیے واقعات کی ترتیب، متعلقہ دستاویزات، عدالتی کارروائی، سیاسی فیصلوں اور مختلف فریقوں کے کردار کا جائزہ ضروری ہے۔تاریخی ظلم کی مذمت اپنی جگہ، لیکن ظلم کی مذمت کے لیے غیر ثابت شدہ سازشی بیانیہ گھڑنا ضروری نہیں۔

6۔ چوتھا مغالطہ: عقل و اجتہاد کی بات کرنے والے ہر شخص کو درست تعبیر کا حامل سمجھنا مضمون میں امام ابن تیمیہؒ، شاہ ولی اللہؒ اور مودودیؒ کے افکار کو عقل، اجتہاد اور تجدید کی ایک مشترک تحریک کے طور پر پیش کیا گیا ہے، اور پھر یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ ان کی مخالفت دراصل عقل اور تحقیق کی مخالفت تھی۔یہ استدلال بھی درست نہیں۔

اہل سنت عقل کی نفی نہیں کرتے، بلکہ عقل کو اس کے صحیح دائرۂ کار میں استعمال کرنے کے قائل ہیں۔ اجتہاد کی اہمیت تسلیم کرتے ہیں، لیکن ہر اجتہاد کو صحیح نہیں سمجھتے۔ حکمتِ شریعت کی تحقیق کی حمایت کرتے ہیں، لیکن کسی حکم کی حکمت بیان کرنے اور اس کی شرعی دلالت تبدیل کردینے میں فرق کرتے ہیں۔

یہ فرق سمجھنا ضروری ہے کہ عقل دلیل کو سمجھنے اور اس سے استنباط کرنے کا ذریعہ ہے، جب کہ شرعی حکم کی صحت کا فیصلہ محض کسی شخص کی عقلی پسند یا جدید فکری ترجیحات سے نہیں کیا جاسکتا۔امام ابن تیمیہؒ نے عقل و نقل کے تعارض پر بحث کی، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کے نام پر پیش کی جانے والی ہر تعبیر درست ہے۔ شاہ ولی اللہؒ نے احکام کی حکمتوں پر گفتگو کی، لیکن اس سے ہر حکمت پسندانہ تاویل کی توثیق نہیں ہوتی۔پروفیسر مودودیؒ نے اسلام کی سیاسی تعبیر پیش کی، لیکن اس سے ان کی ہر سیاسی یا تفسیری تعبیر لازماً منہجِ سلف کے مطابق نہیں ہوجاتی۔

لہٰذا اصل سوال یہ نہیں کہ ان شخصیات نے عقل استعمال کی یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ انہوں نے عقل کو نصوص، آثار، اصولِ استنباط اور مسلمہ علمی ضوابط کے ساتھ کس طرح مربوط کیا؟لہٰذا اصل سوال یہ نہیں کہ ان شخصیات نے عقل استعمال کی یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ انہوں نے عقل کو نصوص، آثار، اصولِ استنباط اور مسلمہ علمی ضوابط کے ساتھ کس طرح مربوط کیا؟اگر کسی تعبیر میں نص کے ظاہر، سیاق، احادیثِ صحیحہ یا فہمِ سلف سے اختلاف ہو تو اس پر علمی اعتراض کا جواب دلیل سے دینا ہوگا، محض یہ کہہ کر نہیں کہ مخالفین عقل سے دشمنی رکھتے ہیں۔

7۔ سب سے بڑا مغالطہ: روایتی علماء کو ایک ہی مفاداتی طبقہ قرار دینا:
مضمون کی پوری عمارت ایک غیر ثابت شدہ مفروضے پر قائم ہے: روایتی علماء ایک متحد طبقہ ہیں، جو اپنی اجارہ داری بچانے کے لیے ہر مصلح کی مخالفت کرتا ہے۔کیا واقعی علمی تاریخ اتنی سادہ ہے؟

روایتی علماء کے درمیان بھی اختلافات رہے ہیں۔ ان میں مجتہدین، محدثین، فقہاء، متکلمین، مفسرین اور مختلف علمی رجحانات کے حامل اہل علم شامل رہے ہیں۔ کسی مسئلے میں ایک عالم نے کسی مصلح کی مخالفت کی، دوسرے نے اس کی تائید کی، اور تیسرے نے بعض امور میں اتفاق اور بعض میں اختلاف کیا۔ ایسے متنوع علمی ماحول کو ایک سازشی مفاداتی طبقے میں تبدیل کردینا تاریخ کے ساتھ ناانصافی ہے۔خود شاہ ولی اللہؒ کی علمی شخصیت اس بات کی مثال ہے کہ فقہی و حدیثی روایت سے وابستگی اور اصلاحی فکر ایک دوسرے کی ضد نہیں۔ امام ابن تیمیہؒ کی علمی زندگی بھی اس بات کی شہادت ہے کہ اختلافات صرف اجارہ داری اور اقتدار تک محدود نہیں تھے، بلکہ ان میں عقائد، فقہ، اصول، مذہبی رسوم اور تعبیرِ نصوص کے حقیقی اختلافات بھی شامل تھے۔یہ ممکن ہے کہ کسی دور میں بعض علماء نے تعصب کا مظاہرہ کیا ہو، بعض نے سیاسی قوت کا غلط استعمال کیا ہو اور بعض نے کسی مصلح کے ساتھ ناانصافی کی ہو۔ لیکن اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ تمام روایتی علماء کا محرک ایک ہی تھا۔کسی گروہ کے بعض افراد کی غلطی کو پورے علمی طبقے کی مستقل روش قرار دینا وہی تعمیم ہے جس سے خود علمی تحقیق کو بچانا چاہیے۔

8۔ اصل علمی معیار: دعوے نہیں، دلائل:
اب ذرا اس مضمون کے دعوے کو اس کے اپنے معیار پر پرکھتے ہیں۔اگر کوئی شخص یہ کہے کہ اس نے دین کو روایتی گرد و غبار سے پاک کیا ہے، تو اسے بتانا ہوگا کہ وہ گرد و غبار کیا تھا، اس کے خلاف دلیل کیا ہے اور اس کی پیش کردہ تعبیر قرآن و سنت کے مسلّم اصولوں کے مطابق کیسے ہے۔اگر کوئی شخص یہ کہے کہ اس پر مخالفت محض اس کی اصلاحی دعوت کی وجہ سے ہوئی، تو اسے ثابت کرنا ہوگا کہ اس کے خلاف پیش کیے گئے علمی اعتراضات بے بنیاد تھے۔اگر کوئی شخص یہ کہے کہ روایتی علماء نے اس کی مخالفت صرف اپنے اقتدار کے تحفظ کے لیے کی، تو اسے مخالفین کی نیت کے متعلق تاریخی شواہد پیش کرنا ہوں گے۔اگر کوئی شخص یہ کہے کہ روایتی علماء نے اس کی مخالفت صرف اپنے اقتدار کے تحفظ کے لیے کی، تو اسے مخالفین کی نیت کے متعلق تاریخی شواہد پیش کرنا ہوں گے۔اور اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرے کہ ابن تیمیہؒ، شاہ ولی اللہؒ اور مودودیؒ ایک ہی منہج کے نمائندے تھے، تو اسے ان کے اصولِ تفسیر، اصولِ حدیث، عقائد، فقہی مناہج اور سیاسی تصورات کا تقابلی تجزیہ پیش کرنا ہوگا۔

محض چند مماثلتیں گنوا دینا ان میں فکری وحدت ثابت نہیں کرتا۔

یہاں ایک اہم اصول یاد رکھیے:
کسی نظریے کی مخالفت اس نظریے کی تردید نہیں، اور کسی نظریے کی مخالفت کا ناجائز ہونا اس نظریے کی صحت کا ثبوت نہیں۔کسی عالم کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہو تو اس کی مذمت کیجیے، لیکن اس ناانصافی کو اس کے ہر قول کی تصحیح کا ذریعہ نہ بنائیے۔

مودودیؒ کے بارے میں اصل بحث کہاں ہونی چاہیے؟
یہاں آکر مضمون کا سب سے اہم پہلو سامنے آتا ہے۔مودودیؒ کی علمی خدمات، دعوتی جدوجہد، اسلامی نظام کے تصور اور جدید سیاسی فکر کے ساتھ مکالمے کی اہمیت سے انکار کیے بغیر بھی ان کی بعض تفسیری، تاریخی، کلامی اور سیاسی تعبیرات پر سنجیدہ علمی تنقید کی جاسکتی ہے۔مودودیؒ کی علمی خدمات، دعوتی جدوجہد، اسلامی نظام کے تصور اور جدید سیاسی فکر کے ساتھ مکالمے کی اہمیت سے انکار کیے بغیر بھی ان کی بعض تفسیری، تاریخی، کلامی اور سیاسی تعبیرات پر سنجیدہ علمی تنقید کی جاسکتی ہے۔ان کی تفسیر کا جائزہ لیتے وقت یہ سوالات بنیادی اہمیت رکھتے ہیں:

کیا ان کی ہر تفسیری تعبیر قرآن کے سیاق و سباق، صحیح احادیث اور فہمِ سلف کے مطابق ہے؟

کیا بعض مقامات پر سیاسی و اجتماعی تصورِ دین نے آیات کی تفسیر میں غیر معمولی غلبہ حاصل کیا ہے؟

کیا انبیائے کرام علیہم السلام اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے متعلق بعض تعبیرات علمی احتیاط، مقام و مرتبے کے لحاظ اور مسلمہ تفسیری اصولوں کے عین مطابق ہیں؟

کیا ہر اختلاف کو محض زبان و بیان کا مسئلہ قرار دے کر اس کے حقیقی علمی پہلو کو نظرانداز کیا جاسکتا ہے؟

کیا کسی مفسر کی دعوتی مقبولیت اس کی تفسیر کے ہر نتیجے کو علمی تنقید سے بالاتر کردیتی ہے؟

یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب اصل عبارات، مستند حوالوں، تفسیری اصولوں اور مضبوط دلائل کی روشنی میں دیا جانا چاہیے۔

یہ کہنا کہ نام نہاد مولانا مودودیؒ پر تنقید کرنے والے روایتی علماء تھے، لہٰذا ان کی تنقید کی بنیاد محض تقلیدِ جامد تھی، ان سوالات سے فرار کے مترادف ہے۔

اور دوسری طرف، اگر کوئی شخص مودودیؒ کی کسی عبارت پر اعتراض کرے تو اس کے لیے بھی ضروری ہے کہ اصل عبارت نقل کرے، سیاق و سباق واضح کرے، صحیح مفہوم متعین کرے اور اپنے اعتراض کو دلیل سے ثابت کرے۔ محض کسی معروف شخصیت کے خلاف ہونا علمی فضیلت نہیں۔

پس اصول ایک ہی ہے: نہ شخصیات کی عقیدت میں علمی محاسبہ ترک کیا جائے، نہ مخالفت کے جوش میں علمی انصاف کو پامال کیا جائے۔

10۔ فیصلہ کن سوال: منہجِ سلف کی نمائندگی کا معیار کیا ہے؟
مضمون کا اختتام اس دعوے پر ہوتا ہے کہ جب بھی کوئی شخص تقلیدِ جامد توڑ کر براہِ راست قرآن و سنت سے رہنمائی لینے کی بات کرتا ہے تو مروجہ مذہبی طبقہ اسے اپنے اقتدار کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔

یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے:
کیا قرآن و سنت کی طرف رجوع کا دعویٰ ہی منہجِ سلف کی نمائندگی کے لیے کافی ہے، یا اس رجوع کے لیے بھی علمی اصول، شرعی ضوابط اور فہمِ سلف کی پابندی ضروری ہے؟اگر صرف قرآن و سنت کا نام لینا کافی ہے تو پھر ہر متجدد، ہر تاویل پسند اور ہر منکرِ حدیث اپنے نظریے کو منہجِ سلف قرار دے سکتا ہے۔ ہر شخص دعویٰ کرے گا کہ اس نے براہِ راست قرآن سے رہنمائی لی ہے، اور اپنے مخالفین کو روایتی علماء، جامد مقلدین اور اجارہ داری کے محافظ کہہ کر رد کردے گا۔لیکن علمی دنیا میں دعوے معیار نہیں ہوتے؛ معیار دلیل ہوتی ہے۔

اہل سنت کے علمی منہج میں قرآن و سنت کے ساتھ آثارِ سلف، اجماع، اصولِ استنباط، علومِ حدیث اور معتبر علمی روایت کی اہمیت ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر قدیم قول درست ہے یا ہر مجتہد خطا سے محفوظ ہے۔ مطلب صرف یہ ہے کہ شرعی نصوص کی تعبیر ایک باقاعدہ علمی عمل ہے، جسے محض ذاتی فہم یا جدید فکری ترجیحات کے حوالے نہیں کیا جاسکتا۔چنانچہ کسی عالم کا منہجِ سلف سے انحراف ثابت کرنا ہو تو اس کی مخصوص عبارت، اس کے اصول اور اس کے استدلال کا جائزہ لیجیے؛ اور کسی عالم پر منہجِ سلف کی مخالفت کا الزام رد کرنا ہو تو اس کے دلائل پیش کیجیے۔ نہ مخالفت کا ہونا انحراف کی دلیل ہے، نہ مخالفت کا ہونا حقانیت کی سند۔

آخری بات:محترم پیر مصطفیٰ کمال صاحب!
آپ کی تحریر میں جن تاریخی شخصیات کا ذکر کیا گیا ہے، ان میں سے ہر ایک کی اپنی علمی خدمات، اپنی انفرادیت اور اپنا تاریخی پس منظر ہے۔ ان کی مخالفت کے بعض واقعات میں واقعی مماثلتیں تلاش کی جاسکتی ہیں، لیکن مماثلتوں سے یہ نتیجہ نکالنا کہ ان سب کی مخالفت کا بنیادی سبب روایتی علماء کی تنگ نظری اور علمی اجارہ داری تھی، ایک غیر ثابت شدہ تعمیم ہے۔

امام ابن تیمیہؒ کی علمی حیثیت اپنی جگہ، شاہ ولی اللہؒ کی تجدیدی خدمات اپنی جگہ، اور نام نہادمولانا مودودیؒ کی دعوتی و فکری کاوشیں اپنی جگہ۔ ان سب کے علمی محاسن کا اعتراف کرتے ہوئے بھی ان کے افکار کا تنقیدی جائزہ لیا جاسکتا ہے۔ کسی کی مخالفت کو اس کی حقانیت کی سند بنانا اور کسی کے ناقدین کو اجتماعی طور پر مفاد پرست قرار دینا علمی دیانت کا تقاضا نہیں۔

امام ابن تیمیہؒ کی علمی حیثیت اپنی جگہ، شاہ ولی اللہؒ کی تجدیدی خدمات اپنی جگہ، اور مولانا مودودیؒ کی دعوتی و فکری کاوشیں اپنی جگہ۔ ان سب کے علمی محاسن کا اعتراف کرتے ہوئے بھی ان کے افکار کا تنقیدی جائزہ لیا جاسکتا ہے۔ کسی کی مخالفت کو اس کی حقانیت کی سند بنانا اور کسی کے ناقدین کو اجتماعی طور پر مفاد پرست قرار دینا علمی دیانت کا تقاضا نہیں۔

اصل مسئلہ یہ نہیں کہ کس نے روایت کو چیلنج کیا، بلکہ یہ ہے کہ کس نے دلیل کے ساتھ کیا چیلنج کیا۔ اصل معیار یہ نہیں کہ کس کے خلاف فتوے لگے، بلکہ یہ ہے کہ اس کے افکار قرآن و سنت، فہمِ سلف اور مسلمہ علمی اصولوں کے مطابق کہاں تک درست ہیں۔

اگر کوئی شخص واقعی دین کی تجدید کرتا ہے تو اس کی تجدید کا ثبوت اس کے مخالفین کی فہرست نہیں، اس کے دلائل کی قوت ہوتی ہے۔ اور اگر کسی شخص کی فکر میں علمی لغزشیں ہوں تو اس کے ساتھ ہونے والی ناانصافی ان لغزشوں کو درست نہیں بنا دیتی۔

یہی وہ اصولی فرق ہے جو حقیقی تجدید اور محض تجدید کے دعوے میں امتیاز پیدا کرتا ہے۔

تاریخ سے سبق ضرور لیجیے، لیکن تاریخ کو اپنے پسندیدہ نظریے کی وکالت کے لیے استعمال نہ کیجیے۔ شخصیات کا احترام کیجیے، مگر علمی معیار کو شخصیات کے تابع نہ بنائیے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ منہجِ سلف کی نسبت کا فیصلہ نعروں سے نہیں، دلائل سے کیجیے.

مأخَذ

یہ ایک جوابی تحریر ہے،کالم نگار کے نقطہ نظر سے ادارے کااتفاق ضروری نہیں۔کوئی صاحب جواب الجواب لکھنا چاہیں گے تو اسے بھی شائع کردیا جائے گا۔

کالم نگار : مفتی نواب سراج
| | |
54