(+92) 319 4080233
کالم نگار

ڈاکٹر طاہر اسلام عسکری

ڈاکٹر طاہر اسلام عسکری

پروفائل | تمام کالمز
2026/10/15
موضوعات
فتویٰ بدل جاتا ہے قائل کے بدل جانے سے
مذہبی عصبیت کی ایک مختصر کیس اسٹڈی:
میں اپنے بارے میں لکھی جانے والی تنقیدیں عموماً نقل نہیں کرتا۔ دشنام طرازی، بازاری جملے اور سوشل میڈیا کے تھڑوں پر اچھالے جانے والے آوازے تو اس قابل بھی نہیں کہ آدمی اپنے صفحے کی جگہ ان پر صرف کرے۔ احباب کبھی کبھار سکرین شاٹ بھیج دیتے ہیں، دیکھ لیتا ہوں اور گزر جاتا ہوں۔ آدمی اگر ہر پتھر کا جواب دینے کھڑا ہو جائے تو سفر کیسے کرے گا؟!

لیکن کبھی کوئی واقعہ اپنی ذات سے نکل کر ایک پورے ذہنی رویے کی تصویر بن جائے تو اسے محض ذاتی تلخی سمجھ کر نظر انداز کرنا بھی مناسب نہیں رہتا۔ آج ایسی ہی ایک چھوٹی سی case study پیشِ خدمت ہے۔ چند روز پہلے جناب عبدالعزیز آزاد نے میرے لیے “در فٹے منہ” سے شروع ہونے والی ایک عبارت لکھی اور لطف یہ کہ التفات صرف مجھ تک محدود نہ رکھا، ان لوگوں کو بھی اپنی زبان کی خیرات بانٹ دی جو، ان کے خیال میں، محض میرے کسی “عہدے” کی وجہ سے مجھے منہ لگاتے ہیں۔ زبان ایسی کہ گویا ابھی ابھی کوثر و تسنیم میں دھل کر نکلی ہو!

یہاں اصل مسئلہ یہ دشنام نہیں۔ سوشل میڈیا میں ایسے پھول روز کھلتے ہیں اور شام تک مرجھا جاتے ہیں۔ قابلِ غور بات دوسری ہے۔ جب اسی ذوقِ گفتار کے حامل لوگ مسندِ تدریس و تربیت پر بھی جلوہ افروز ہوں تو سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ ان کے فیض یافتگان کو استاد کی بارگاہ سے کیا ملتا ہو گا؟ خیر، یہ موضوع اپنی جگہ ایک مستقل مضمون چاہتا ہے۔

دل چسپ بات یہ ہے کہ اسی کا ایک نمونہ زیادہ دیر انتظار کیے بغیر سامنے بھی آ گیا۔

ایک واٹس ایپ گروپ میں اس طرزِ کلام کا ذکر چھڑا۔ وہاں ایک اہلِ حدیث درس گاہ کے نوجوان فاضل نے اس دشنام کا ایسا شرعی و اخلاقی جواز دریافت فرمایا کہ ہم ان کی قوتِ اجتہاد کے قائل ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ استدلال کا خلاصہ یہ تھا کہ تم خود ایک جگہ بنو امیہ کے بعض بدبختوں کے الفاظ استعمال کر چکے ہو؛ لہٰذا اگر کسی شخص کو تمھارے “بغضِ بنو امیہ” پر غصہ آئے اور وہ تمھیں “در فٹے منہ” کہہ دے تو تمھیں اس پر ناراض نہیں ہونا چاہیے۔ تم نے ان کو برا کہا، اس نے تمھیں برا کہہ دیا؛ حساب برابر!

اخلاقیات کی یہ نئی فقہ میرے لیے خاصی معلومات افزا تھی۔

یعنی کسی تاریخی عہد کے بعض حکم رانوں کے افعال و کردار پر روایات کی روشنی میں اخلاقی حکم لگانا اور سامنے موجود ایک شخص کو بہ راہِ راست دشنام دینا ایک ہی نوع کا فعل ہو گیا۔ اگر کسی مورخ نے حجاج کو ظالم کہا تو حجاج کا کوئی عقیدت مند اس مورخ کو گالی دے، دونوں برابر۔ اگر کسی عالم نے کسی بادشاہ کو فاسق لکھ دیا تو بادشاہ کا محب اس عالم کو “در فٹے منہ” کہہ دے، معاملہ صاف۔ نقدِ تاریخ اور شخصی دشنام کے درمیان جو چند صدیوں سے فرق سمجھا جاتا رہا ہے، نئی تحقیق کی روشنی میں وہ بھی ختم ہوا!

گروپ میں بعض قابلِ احترام شخصیات موجود تھیں۔ سو، مناسب نہ محسوس ہوا کہ مجلس کو اسی علمی ارتفاع پر زیادہ دیر قائم رکھا جائے، اس لیے گفت گو نجی پیغام میں منتقل ہو گئی۔ وہاں خیال آیا کہ مسئلہ بنو امیہ سے محبت کا ہے، تاریخ کا ہے یا کچھ اور؟ کیوں نہ ذرا میزان کو آزمایا جائے۔

ہم نے ایک عبارت قائل کا نام بتائے بغیر ان کے سامنے رکھ دی:

> “خلفاے راشدین کے بعد اہل بیت کے خلاف خارجی اور ناصبی گروہ بنے؛ صحابۂ کرام رضی اللّٰہ عنھم کے خلاف خوارج اور روافض نے اودھم مچایا اور بنو امیہ کے اکثر امراء نے خزانے بھرنے کی فکر کی....!”

جواب آیا:“غیر متفق؛ بنو امیہ کا مجموعی چہرہ وہ نہیں ہے جو آپ نے پیش کیا ہے۔”

بہت خوب!

اب دوسری عبارت ان کی خدمت میں پیش کی گئی جو پہلی سے کہیں زیادہ صریح تھی:

> “جب سے حضراتِ شیعہ اور امرائے بنو امیہ نے خلافت کو خاندانی اور موروثی قرار دیا، عامۃ المسلمین کا یہ حق خاندانی میراث تصور کیا جانے لگا۔ اس وقت سے اس کی افادی حیثیت قریباً ناپید ہوگئی۔ اموی خلفا میں یزید بن معاویہ، ولید بن یزید، حجاج بن یوسف جیسے مستبد اور غیر شورائی امرا تختِ خلافت کی زینت بنے؛ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی راہیں مسدود ہوگئیں۔

> تعجب ہے کہ اس میراث اور خاندانی خصوصیت کی حد تک حضراتِ شیعہ اور بنو امیہ کا ایک ہی مسلک ہے۔ فرق صرف اس قدر ہے کہ بنو امیہ اسے اپنا حق تصور کرتے ہیں اور حضراتِ شیعہ اسے خاندانِ نبوت کا مخصوص حق سمجھتے ہیں؛ بنیادی طور پر دونوں متفق ہیں۔ عامۃ المسلمین کا یہ حق تسلیم کرنے کے لیے کوئی بھی تیار نہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جن لوگوں نے خاندانی اثر اور مادی قوت کی بنا پر اسے قبضے میں کیا، ان کی نظر میں مسلمانوں کی کوئی عزت نہ تھی بل کہ اہلِ حق ان کی نظر میں ہمیشہ حقیر رہے؛ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے، غالباً اس پر تاریخی شواہد کی ضرورت نہیں۔”

اس بار ناقد نے تحقیق کا مرحلہ بھی مختصر کر دیا:“یہ فضول تجزیہ ہے؛ بے کار۔”

اب ذرا پردہ اٹھائیے:
پہلی “غیر متفق” والی عبارت مولانا *ارشاد الحق اثری حفظہ اللّٰہ* کی تھی۔

اور وہ “فضول” اور “بے کار” تجزیہ محدث *محمد اسماعیل سلفی رحمہ اللّٰہ (م 1387ھ/1968ء)* کا تھا۔

یہاں مجھے ان دونوں بزرگوں کے ہر لفظ کا دفاع مقصود نہیں۔ ممکن ہے کوئی ان سے علمی اختلاف رکھتا ہو، ضرور رکھے۔ مولانا اثری ہوں یا مولانا سلفی، کسی کی بات دلیل سے ماورا نہیں۔ سوال بالکل دوسرا ہے: اگر یہی عبارت میرے نام سے آپ کو غلط، متعصبانہ، “فضول” اور “بے کار” دکھائی دیتی ہے تو کسی محبوب بزرگ کا نام نیچے لکھ دینے سے اس کے الفاظ میں کون سی کیمیائی تبدیلی واقع ہوجاتی ہے؟!

لفظ تو وہی ہیں؛ مفہوم بھی وہی۔ تاریخ بھی وہی؛ بنو امیہ بھی وہی۔صرف قائل بدل گیا ہے۔اور یہی اصل قصہ ہے۔عبارت نہیں، آدمی پڑھیے!

یہ تجربہ میرے لیے نیا بھی نہیں تھا۔ دو تین برس پہلے محدث محمد اسماعیل سلفی رحمہ اللّٰہ کی یہی عبارت میں نے ایک واٹس ایپ گروپ میں نام کے بغیر پیش کردی تھی۔ ایک نوخیز مناظر اور ایک دینی تنظیم سے وابستہ صاحب دونوں یکایک شمشیر بہ کف ہوگئے۔ فیصلہ ہوا کہ یہ تو “رافضیت کی ترجمانی” ہے۔ عبارت میری سمجھی گئی تھی، اس لیے رفض بھی صاف دکھائی دے رہا تھا۔

کچھ دیر بعد عرض کیا: حضرات! یہ بندۂ عاجز کی نہیں، مولانا محمد اسماعیل سلفی کی تحریر ہے۔

پھر چراغوں میں روشنی رہی؛ رفض دفعتاً غائب ہوگیا۔

ایک طرف سکوت چھا گیا؛ دوسری طرف ایک صاحب نے قدرے حوصلہ کرکے ایسا اصول بیان کیا جسے ہمارے مذہبی مباحث کی پوری ہرمینیات کا دیباچہ بنایا جا سکتا ہے: بات کا مفہوم اس اعتبار سے بھی متعین ہوگا کہ اسے کہنے والا کون ہے!

سبحان اللّٰہ!:
یعنی پہلے مصنف کا شناختی کارڈ دیکھیے، پھر عبارت کا مفہوم متعین کیجیے۔ اگر لکھنے والا “اپنا” ہے تو کلام کے محامل تلاش ہوں گے، سیاق دیکھا جائے گا، سباق پوچھا جائے گا، حسنِ ظن سے کام لیا جائے گا، مجمل کو مفصل کی روشنی میں پڑھا جائے گا اور اگر ضرورت پڑی تو لغت کی تہیں بھی کھودی جائیں گی۔ لیکن وہی عبارت کسی ایسے شخص کے قلم سے نکل آئے جس کا نام پہلے سے طبیعت پر گراں ہے تو نہ سیاق کی ضرورت، نہ سباق کی؛ نہ تاویل، نہ رعایت۔ لفظ سامنے آیا اور فردِ جرم تیار!

اپنے آدمی کی سخت ترین عبارت بھی “اجتہادی تعبیر” ہے۔

مخالف کا نرم ترین جملہ بھی “خبثِ باطن” کی دلیل۔

اپنے بزرگ نے کہا تو “تاریخی تجزیہ”۔

دوسرے نے کہا تو “رافضیت”۔

اپنے نے لکھا تو “سیاق سمجھیں!”

مخالف نے لکھا تو “الفاظ تو دیکھیں!”

یہ علمی نقد نہیں، نفسیاتی وفاداریوں کا نظام ہے۔

مسلک سے محبت یا میزان کی تبدیلی؟:
مسلک سے وابستگی کوئی جرم نہیں۔ اپنے علما سے محبت بھی انسانی اور فطری چیز ہے۔ آدمی اپنے اساتذہ اور اکابر سے حسنِ ظن رکھتا ہے، ان کے مجموعی علمی کام کو سامنے رکھ کر کسی مجمل کلام کو سمجھتا ہے۔ خرابی وہاں پیدا ہوتی ہے جہاں یہی رعایت حق نہیں بل کہ رشتہ طے کرنے لگے۔ ایک ہی اصول اپنے لیے اور دوسرا مخالف کے لیے ہو تو یہ حسنِ ظن نہیں، جانب داری ہے۔ قرآن نے انصاف کا معیار اس سے کہیں زیادہ کڑا رکھا ہے:وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلٰى أَلَّا تَعْدِلُوا ۚ اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى( المائدہ، 5)

کسی قوم کی دشمنی تمھیں اس بات پر آمادہ نہ کردے کہ انصاف چھوڑ بیٹھو؛ انصاف کرو، یہی تقویٰ سے زیادہ قریب ہے۔

مگر ہمارا مسئلہ بعض اوقات دشمنی سے بھی پہلے شروع ہوجاتا ہے۔ ہم عبارت پڑھتے ہوئے یہ نہیں پوچھتے کہ کیا کہا گیا ہے؟ پہلے یہ معلوم کرتے ہیں کہ کس نے کہا ہے؟نام پسند آیا تو معنی سنور گئے۔نام ناپسند ہوا تو عبارت بگڑ گئی۔یہاں آدمی حق کا تابع نہیں رہتا، حق آدمی کا تابع بن جاتا ہے۔اور جب یہ بیماری مذہبی ذہن میں در آئے تو زیادہ خطرناک اس لیے ہوجاتی ہے کہ اسے محض پسند و ناپسند نہیں کہا جاتا، اس پر “دفاعِ مسلک”، “حمیتِ سلف”، “غیرتِ دینی” اور نہ جانے کتنے مقدس عنوانات کا غلاف چڑھ جاتا ہے۔ آدمی اپنے غصے کو دیانت سمجھنے لگتا ہے اور اپنی جانب داری کو وفاداری۔

بنو امیہ یہاں موضوع ہی نہیں!:
اس پوری گزارش سے یہ نہ سمجھا جائے کہ میں یہاں بنو امیہ کی مجموعی تاریخ پر کوئی فیصلہ صادر کر رہا ہوں۔ ان کے عہد میں عدل بھی ہے، ظلم بھی؛ صالحین بھی ہیں، فساق بھی؛ فتوحات بھی ہیں، سیاسی المیے بھی۔ یہ سب اپنی جگہ تاریخی تحقیق کے موضوعات ہیں۔ نہ بنو امیہ کے ہر فرد کی مذمت علمی دیانت ہے، نہ ہر اموی حکم ران کے دفاع کو دیانت کا تقاضا بنایا جا سکتا ہے۔میرا موضوع اس وقت بنو امیہ نہیں، ہم ہیں۔میں صرف اتنا پوچھ رہا ہوں کہ اگر ایک عبارت نام چھپا کر پڑھنے پر “رافضیت” ہے اور نام ظاہر ہونے پر ہمارے اکابر کا “اجتہاد”، تو خرابی عبارت میں تھی یا ہماری آنکھ میں؟!

اگر ایک تجزیہ میرے نام سے “فضول” ہے اور محمد اسماعیل سلفی کے نام سے قابلِ تاویل، تو علمی معیار کہاں گیا؟اگر اپنے بزرگ کو ہم وہ رعایت دیتے ہیں جو مخالف کو دینے پر تیار نہیں تو مسئلہ تاریخ کا نہیں، اخلاق کا ہے۔اور اگر کسی شخص سے اختلاف ہمیں اس مقام تک لے آئے کہ اس کی ہر بات پہلے جرم سمجھی جائے اور بعد میں سنی جائے تو ہم تحقیق نہیں کر رہے، اپنے تعصبات کے لیے شواہد اکٹھے کر رہے ہیں۔اصل تشویش گالی نہیں۔اسی لیے مجھے عبدالعزیز آزاد صاحب کے “در فٹے منہ” سے اتنی پریشانی نہیں۔ ایک شخص نے غصے میں سخت زبان استعمال کی، یہ اسی کے نامۂ اعمال اور ذوقِ کلام کا مسئلہ ہے۔ زیادہ تشویش ناک منظر تب سامنے آیا جب اس زبان کے لیے مذہبی استدلال فراہم کرنے والے بھی نکل آئے۔گالی دینے والا ایک آدمی ہوتا ہے، گالی کو شرعی اصول فراہم کرنے والا ایک ذہن ہوتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ بات عبدالعزیز آزاد سے شروع ضرور ہوئی لیکن ان پر ختم نہیں ہوتی۔ اصل سوال اس ذہنی تربیت کا ہے جس میں اختلاف پہلے عداوت بنتا ہے، عداوت اخلاقی رعایتیں ختم کرتی ہے، پھر ہر سختی “دفاعِ حق” اور ہر دشنام “غیرت” قرار پانے لگتا ہے۔ اس کے بعد قول کی قدر اس کے وزن سے نہیں، قائل کے نام سے متعین ہوتی ہے۔تب ہمارے پاس میزان تو رہتا ہے مگر اس کے دونوں پلڑوں کے باٹ الگ الگ ہوتے ہیں۔ایک اپنے لیے۔ایک دوسروں کے لیے۔پھر تعجب کیسا کہ ہمارے مذہبی مباحث میں روشنی سے زیادہ تپش محسوس ہوتی ہے!

کالم نگار : ڈاکٹر طاہر اسلام عسکری
| | |
31