(+92) 319 4080233
کالم نگار

مفتی محمدوجہ اللہ قادری

مفتی محمدوجہ اللہ قادری

پروفائل | تمام کالمز
2026/10/15
موضوعات
داڑھی کا مسئلہ
داڑھی مشت بھر سے کم رکھنے والے کے پیچھے نماز حرام یا واجب الاعادہ نہیں، بلکہ اس کے پیچھے پڑھی گئی نماز ادا ہو جائے گی، بشرطیکہ وہ کلین شیو نہ ہو۔

یہ بحث ان لوگوں کے لیے، جن کا ذوقِ تحقیق ہے، انتہائی اہم ہے، تاکہ انہیں اصولِ حدیث اور اصولِ فقہ کی اصطلاحات کا بھی علم ہو اور ان کے اندر مزید ذوق و شوق پیدا ہو۔

یاد رہے کہ یہاں تین سوالات ہیں:

پہلا یہ کہ داڑھی کی لمبائی کی کم از کم مقدار ازروئے قرآن و سنت کیا ہے؟

دوسرا یہ کہ اگر کسی شخص کی داڑھی مشت بھر سے کم ہو تو کیا اس کے پیچھے نماز ادا ہو جائے گی؟

اور تیسرا، کیا مشت بھر سے کم داڑھی رکھنے والا شخص فاسق و فاجر ہے؟

آئیے اس کا مطالعہ کرتے ہیں۔

داڑھی کو عربی میں ’’لحیہ‘‘ کہتے ہیں۔ ائمۂ لغت نے اس کی تعریف یوں کی ہے کہ رخساروں اور ٹھوڑی کے بالوں کو ’’لحیہ‘‘ کہتے ہیں۔

ابن منظور، لسان العرب، 15: 243، بیروت: دار صادر۔الزبیدی، تاج العروس، 39: 442، دار الہدایہ۔ابراہیم مصطفیٰ، المعجم الوسیط، 2: 820، دار الدعوۃ۔محمد یعقوب، القاموس المحیط، 2: 1714، بیروت: مؤسسۃ الرسالہ

لہٰذا ٹھوڑی کے بال بھی داڑھی کا حصہ ہیں، اس لیے پیمائش کرتے ہوئے ان بالوں کو بھی داڑھی میں شامل کیا جائے گا۔

علی بن سلطان محمد القاری حنفی رحمہ اللہ، شرح مسند ابی حنیفہ میں لکھتے ہیں کہ داڑھی کو طولاً و عرضاً کم کرنے کے باوجود مستحب مقدار، یعنی قبضہ بھر چھوڑنا بہتر ہے۔ ان کے مطابق یہ داڑھی کو بالکل چھوڑ دینے یا اسے منڈوانے اور جڑ سے کاٹ دینے، دونوں مذموم انتہاؤں کے درمیان درمیانی حد ہے۔

ملا علی قاری، شرح مسند ابی حنیفہ: 423، 424، بیروت، لبنان: دار الکتب العلمیۃ

واجب کی تعریف یہ ہے کہ شریعت میں کسی فعل کے لیے لازمی حکم موجود ہو۔ لہٰذا داڑھی کی مقدار کو قبضہ بھر واجب ثابت کرنے کے لیے حکمِ شرعی کی نوعیت اور اس کے دلائل کو سمجھنا ضروری ہے۔

احادیثِ مبارکہ میں حضرت عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ، اپنے والد اور اپنے دادا کے واسطے سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ اپنی داڑھی مبارک کی لمبائی اور چوڑائی میں سے کچھ کم کیا کرتے تھے۔

ترمذی، السنن، 5: 94، رقم: 2762، بیروت: دار إحیاء التراث العربی

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مشرکین کی مخالفت کرو، مونچھیں باریک کرو اور داڑھیاں بڑھاؤ۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما جب حج یا عمرہ کرتے تو اپنی داڑھی کو مٹھی میں پکڑتے اور جو حصہ مٹھی سے زائد ہوتا، اسے کاٹ دیتے۔

بخاری، الصحیح، 5: 2209، رقم: 5553، بیروت، لبنان: دار ابن کثیر الیمامہ

مروان بن سالم مقفع رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ اپنی داڑھی کو مٹھی میں پکڑتے اور جو حصہ مٹھی سے زائد ہوتا، اسے کاٹ دیتے تھے۔

ابو داؤد، السنن، 2: 306، رقم: 2357، دار الفکر۔حاکم، المستدرک علی الصحیحین، 1: 584، رقم: 1536، دار الکتب العلمیۃ، بیروت

حضرت سماک بن یزید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنے چہرے کے قریب سے داڑھی کے بال کاٹتے تھے۔

ابن ابی شیبہ، المصنف، 5: 225، رقم: 25480، مکتبۃ الرشد، الریاض

حضرت ابو زرعہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اپنی داڑھی کو مٹھی میں پکڑتے اور مٹھی سے زائد داڑھی کو کاٹ دیتے تھے۔

ابن ابی شیبہ، المصنف، 5: 225، رقم: 25481

اگر امام صحیح العقیدہ ہو، یعنی انبیائے کرام، صحابۂ کرام، اہلِ بیتِ اطہار اور اولیاء و صالحین کی گستاخی نہ کرتا ہو، اگرچہ گناہ گار ہی ہو، تو اس کے پیچھے نماز ادا ہو جاتی ہے۔

حدیثِ پاک میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: فرض نماز ہر مسلمان کے پیچھے لازم ہے، خواہ وہ نیک ہو یا بدکار، اگرچہ کبیرہ گناہوں کا مرتکب ہو۔

ابو داؤد، السنن، 1: 162، رقم: 594، دار الفکر

ایک اور روایت میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم پر جہاد ہر امیر کے ساتھ لازم ہے، خواہ وہ نیک ہو یا بدکار اور کبیرہ گناہ کا مرتکب ہو۔ اسی طرح ہر مسلمان کے پیچھے نماز پڑھنا لازم ہے، خواہ وہ نیک ہو یا بدکار اور کبیرہ گناہوں کا مرتکب ہو۔ اسی طرح ہر مسلمان کی نمازِ جنازہ ادا کرنا لازم ہے، خواہ وہ نیک ہو یا بدکار اور کبیرہ گناہوں کا مرتکب ہو۔

ابو داؤد، السنن، 3: 18، رقم: 2533۔بیہقی، السنن الکبریٰ، 3: 121، رقم: 5083، مکتبۃ دار الباز، مکہ المکرمہ

امام علاء الدین ابو بکر بن مسعود الکاسانی حنفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہر عاقل مسلمان کی امامت درست ہے، یہاں تک کہ غلام، دیہاتی، نابینا، ولد الزنا اور فاسق کی امامت بھی عام علماء کے نزدیک صحیح ہے۔

کاسانی، بدائع الصنائع، 1: 156، بیروت: دار الکتاب العربی

امام بخاری رحمہ اللہ نے نقل کیا ہے کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ محصور تھے۔ اس موقع پر ایک شخص نے ان سے عرض کیا کہ آپ مسلمانوں کے متفقہ امام ہیں، لیکن ہمیں ایک فتنہ پرور شخص نماز پڑھاتا ہے اور ہمیں اس کے پیچھے نماز پڑھنے میں تردد ہوتا ہے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نماز لوگوں کے اعمال میں سب سے بہترین عمل ہے۔ جب لوگ نیک عمل کریں تو تم بھی ان کے ساتھ نیک عمل کرو اور جب وہ برائی کریں تو ان کی برائی سے الگ رہو۔

بخاری، الصحیح، 1: 246، رقم: 663

یہاں یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ داڑھی بڑھانے کے حکم سے متعلق احادیث، ان کے فقہی مفہوم اور مقدارِ داڑھی کے تعین کے حوالے سے فقہاء کے درمیان تفصیلی بحث موجود ہے۔ اس لیے مسئلے کو محض ایک جزوی روایت یا ایک فقہی عبارت کی بنیاد پر حتمی انداز میں بیان کرنے کے بجائے تمام متعلقہ نصوص اور فقہی آراء کو سامنے رکھنا چاہیے۔

مأخَذ

تمام حوالہ جات مضمون میں متعلقہ عبارات کے ساتھ درج کردیے گئے ہیں۔

کالم نگار : مفتی محمدوجہ اللہ قادری
| | |
93