(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولانامحمد شاہ نواز فاروقی،مہتمم ومدرس دار العلوم فاروقیہ گوجرانوالہ

مولانامحمد شاہ نواز فاروقی،مہتمم ومدرس دار العلوم فاروقیہ گوجرانوالہ

پروفائل | تمام کالمز
2026/10/15
موضوعات
حسّاس مذہبی ابحاث اور ہمارے رویّے
الحمد للہ وکفیٰ، وسلامٌ علیٰ عبادہ الذین اصطفیٰ، أما بعد!

رسول اللہ ﷺ نے ایک دستہ قبیلۂ جہینہ کی بستی حُرَقات کی طرف بھیجا۔ صبح دم معرکہ ہوا۔ دشمن کا ایک آدمی نیزے کی زد میں آیا تو اس نے ”لا الٰہ الا اللہ“ پڑھ لیا۔ حضرت اسامہ بن زیدؓ نے سمجھا کہ یہ جان بچانے کا حیلہ ہے، اور وارکر دیا۔ لیکن یہ بات دل میں کھٹکتی رہی کہ کیا خبر اس نے کلمہ طیبہ جان بچانے کے لیے نہیں بلکہ سچے دل سے ایمان لانے کے لیے ہی پڑھا ہو۔چنانچہ انہوں نے خود نبی کریم ﷺ سے ذکر کیا۔ آپ ﷺ نے پوچھا: کیا اس نے لا الٰہ الا اللہ پڑھا اور پھر بھی تم نے اسے قتل کر دیا؟ عرض کیا: یا رسول اللہ! اس نے ہتھیار کے ڈر سے پڑھا تھا۔ فرمایا:«أَفَلَا شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِهِ حَتَّى تَعْلَمَ أَقَالَهَا أَمْ لَا؟»

ترجمہ: تم نے اس کا دل چیر کر کیوں نہ دیکھ لیا کہ جان لیتے اس نے دل سے کہا تھا یا نہیں؟

حضرت اسامہؓ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ یہ جملہ اتنی بار دہراتے رہے کہ میں نے تمنا کی، کاش میں آج ہی مسلمان ہوا ہوتا۔

(صحیح مسلم، کتاب الایمان، حدیث 96)

چودہ صدیاں گزر گئیں۔ آج ہمارے ہاتھ میں نیزہ یاتلوار تو نہیں، مگر دلوں اور نیتوں کے فیصلے کرنے کا شوق بھرپور ہے۔ حضرت معاویہؓ کے فضائل میں دو سطریں لکھیے تو ”ناصبی“ کا لقب حاضر ہے؛ حضرت علیؓ کو احق اور افضل کہیے تو ”رافضی“ کا۔ دل چیرنا تو بہت دور کی بات ہے، فیصلہ سنانے والے تحریر کو ڈھنگ سے پڑھنے یا بات کو دھیان سے سننے کا تکلف کرنا بھی گوارا نہیں کرتے۔ بس ایک جملہ پڑھا اور مہر لگا دی۔

کہیں کسی گمنام اکاؤنٹ کی پوسٹ کسی طبقے وجماعت کے سر ڈال دی جاتی ہے، کہیں کسی کی آدھی عبارت اس کا پورا عقیدہ بنا دی جاتی ہے۔ ”ناصبی“ اور ”رافضی“ عقیدے کے سنگین عنوانات ہیں اور لفظ جتنا سنگین ہو، زبان پر لانے سے پہلے اسے اتنا ہی تولنا چاہیے۔ جب یہ جلدبازی کی روش عام ہوجاتی ہے تو صحابہ کرامؓ اور اہلِ بیتِ اطہارؓ سے محبت رکھنے والے ایک دوسرے کو ہی شک کی نظر سے دیکھنے لگتے ہیں اور یہ سنگین الفاظ اتنے سستے ہو جاتے ہیں کہ ان کا وزن ہی جاتا رہتا ہے۔

◆ جلدی کا فتویٰ ◆
ہمارے زمانے نے بات کو پَر لگا دیے ہیں۔ جو جملہ کل تک کسی کتاب کے صفحے یا کسی مجلس کے کونے میں رہتا تھا، وہ آج چند لمحوں میں ہزاروں ہاتھوں سے گزر جاتا ہے اور جتنی تیزی سے بات پہنچتی ہے، اتنی ہی تیزی سے اس پر فیصلہ بھی صادر ہو جاتا ہے۔ پڑھنے، سمجھنے اور پوچھنے کی فرصت کسی کے پاس نہیں؛ فتویٰ دینے کا منصب سب کے پاس ہے۔

اس جلدی نے سب سے گہرا زخم دو لفظوں سے لگایا ہے: ”ناصبی“ اور ”رافضی“۔ دونوں بہت سی جگہوں پر دلیل کے قائم مقام بن گئے ہیں: جس بات کا جواب نہ بَن پڑے، اس پر ان میں سے کوئی ایک لفظ چسپاں کر دیجیے، بحث وہیں ختم۔ بات کے جواب کی بھی کیا ضرورت، اختلافِ رائے پر ذرا سا غصہ آئے تو ہمیشہ کے لیے ”ناصبی“یا ”رافضی“ کا لیبل تھوپ دیجیے۔

اگر کسی نے حضرت علی وحسنین رضی اللہ عنہم کے فضائل میں مبالغہ کردیا تو اسے ”رافضی“ کا خطاب مل گیا۔

دوسری طرف کسی نے حضرت معاویہؓ کے فضائل بیان کیے اور مشاجرات میں حضرت علی کو ”احق“ اور حضرت معاویہ کو ”حق“ پر کہہ دیا یا ازواج مطہرات کو آیتِ تطہیر کا مصداق قرار دیا اور اہل بیت نبوت میں شامل نہ کرنے کا شکوہ کیا تو اس کے حصے میں ”ناصبی“ کا لقب آگیا۔

اس سے بڑھ کر حضرت معاویہؓ کی شان میں گستاخی کے جملوں پر مشتمل کسی کتاب کی عبارت پر سوال اٹھا دیا یا کسی بزرگ کے انداز سے اختلاف کی جرأت کی تو بھی اسے ناصبیت کا ”شرف“ حاصل ہوگیا۔

الزام لگانا آسان ہے اور دلیل دینا محنت مانگتا ہے؛ جہاں محنت سے جی چرایا جائے، وہاں الزام ہی سب سے سستا ہتھیار ٹھہرتا ہے۔

اس جلدی کی جڑ میں اکثر غصہ ہوتا ہے۔ کسی بات سے دل دکھا تو اس دکھ نے فتوے کا لباس پہن لیا۔ ناراضی انسانی کیفیت ہے، اس پر ملامت نہیں؛ مگر فتویٰ ایک شرعی امانت ہے۔ ناراضی کو فتوے کی زبان مل جائے تو نہ ناراضی کم ہوتی ہے، نہ فتوے کا وقار باقی رہتا ہے۔

کسی بھی عبارت پر گفتگو کے تین درجے ہیں اور ہر درجے کا بوجھ الگ ہے۔ عبارت کو مُوہِم یا نامناسب کہنا اور اس کی وضاحت مانگنا ہر قاری کا حق ہے۔ کسی مؤقف کو غلط ثابت کرنا دلیل چاہتا ہے۔ اور کسی شخص کی مذہبی نسبت طے کرنا کہ وہ ناصبی ہے یا رافضی، اس کے متعلقہ ثابت شدہ اقوال، ان کے مکمل سیاق وسباق، اس کی اپنی وضاحت اور اہلِ علم کی رائے کا محتاج ہے۔ مگر ہمارے ہاں اکثر پہلی سیڑھی سے سیدھا تیسری سیڑھی پر چھلانگ لگا دی جاتی ہے۔ اعتراض جملے پر ہو تو گفتگو بھی جملے پر ہی رہنی چاہیے؛ اسے ایمان کے کٹہرے تک لے جانا کمان سے تیر چھوڑنا ہے، جو پھر کبھی واپس نہیں آتا۔

قرآنِ کریم نے اس جلدی کا علاج ایک لفظ میں بتا دیا: ﴿فَتَبَيَّنُوا﴾، یعنی تحقیق کر لو (الحجرات: 6)؛ نبی کریم ﷺ نے بھی سنی سنائی بات آگے بڑھانے والے کے بارے میں فرمایا:«كَفَى بِالْمَرْءِ كَذِبًا أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ» یعنی آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ ہر سنی ہوئی بات آگے بیان کر دے۔ (مقدمہ صحیح مسلم، حدیث 5)

اور سورت الحجرات ہی میں ﴿وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ﴾ (الحجرات: 11) فرما کر ایک دوسرے کو برے القاب دینے کا دروازہ بھی بند کر دیا۔

ارشاد نبوی ہے:«لَا يَرْمِي رَجُلٌ رَجُلًا بِالْفُسُوقِ، وَلَا يَرْمِيهِ بِالْكُفْرِ، إِلَّا ارْتَدَّتْ عَلَيْهِ، إِنْ لَمْ يَكُنْ صَاحِبُهُ كَذَلِكَ»(صحیح بخاری، کتاب الادب، حدیث 6045)

جو بھی شخص کسی دوسرے پر فسق کا الزام لگاتا اور اس پر کفر کا الزام لگاتا ہے، وہ الزام اسی کی طرف لوٹ آتا ہے اگر اس کا ساتھی ویسا (فاسق یا کافر) نہ ہو۔

اس ارشاد کا سبق یہ ہے کہ بے بنیاد الزام کا بوجھ الزام لگانے والے کے سر پر ہی پڑتا ہے۔ ہمارے اکابر نے تکفیر کے باب میں یہاں تک احتیاط سکھائی کہ: ” جو شخص اپنا اسلام ظاہر کرے، اس کے کفر کی پوری تحقیق سے پہلے اسے کافر کہنا ناجائز اور وبالِ عظیم ہے“ (مفتی محمد شفیعؒ، جواہر الفقہ، ج 1، ص 107)

فقہائے احناف کا ضابطہ ہے کہ جس مسلمان کی بات کو اچھے معنیٰ پر محمول کرنا ممکن ہو، اس کی تکفیر کا فتویٰ نہیں دیا جائے گا۔ (البحر الرائق، ج 5، ص 135)

جب فتویٰ کے باب میں اتنی احتیاط ضروری ہے تو ”ناصبیت“ اور ”رافضیت“ جیسے سخت الزامات رافضی اور ناصبی کی صحیح تعریف جانے بغیر اور جس پر فتویٰ لگایا جارہا ہے اس پر ان اصطلاحات کی شرائط کو پرکھے بغیر فتویٰ کیسے لگایا جاسکتاہے؟

◆ ناصبی کون، رافضی کون اور یزیدی کون؟ ◆
جن لفظوں کو اتنی بے دردی سے برتا جا رہا ہے، ان کا اصل مفہوم معلوم ہو جائے تو آدھی بحث وہیں سمٹ جائے۔ لغت اور عقیدے کی کتابوں میں ناصبی وہ ہے جو حضرت علیؓ اور اہلِ بیتِ اطہارؓ سے بغض کو دین بنا لے اور اپنے قول یا عمل سے انہیں ایذا دے (لسان العرب، مادہ نصب، ج 1، ص 762؛ ابن تیمیہ، العقیدۃ الواسطیہ، مجموع الفتاویٰ، ج 3، ص 154)؛ اور اہل علم نے اس کی یہ علامات بتائی ہیں کہ وہ ”حضرت علیؓ کو خلیفۂ راشد کی بجائے غاصب اور حضرت حسینؓ کو شہید کی بجائے باغی کہتا ہے۔“ (جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن، فتویٰ نمبر 144307100358)

اس پیمانے پر رکھ کر دیکھیے تو حضرت معاویہؓ کی مدح، ان کا دفاع، یا ان کے گستاخی پر مشتمل کسی عبارت پر سوال اٹھانا، ان میں سے کوئی چیز ناصبیت کے دائرے میں نہیں آتی۔ ناصبیت حضرت علیؓ کے خلاف دل کا بغض ہے؛ حضرت معاویہؓ کی محبت ناصبیت نہیں۔

دوسری طرف رافضی کا لفظ بھی اپنی حد رکھتا ہے اور یہ حد بھی عقیدہ ہی طے کرتا ہے۔ یہ نام اس وقت پڑا جب حضرت زید بن علیؒ کے ساتھیوں نے ان سے شیخینؓ کے بارے میں رائے مانگی، انہوں نے دونوں کی تعریف فرمائ، اور وہ لوگ انہیں چھوڑ کر چلے گئے؛ تب سے شیخینؓ کی امامت کو رد کرنے والے ”رافضی“ کہلائے۔ (اشعری، مقالات الاسلامیین، ص 16؛ ابن کثیر، البدایہ والنہایہ، ج 13، ص 106 تا 107) امام احمد بن حنبلؒ کے بقول رافضی وہ ہے جو حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کو برا بھلا کہے۔ (الخلال، کتاب السنۃ، ج 3، ص 492، رقم 777)

اس پیمانے پر رکھ کر دیکھیے تو حضرت علیؓ کے فضائل کا بیان، مشاجرات میں انہیں اَحق ماننا، ان میں سے کوئی چیز رافضیت کے دائرے میں نہیں آتی۔ حضرت علیؓ کو حضرت معاویہؓ سے افضل کہنا تو اہلِ سنت کا اجماعی عقیدہ ہے (ابن تیمیہ، منہاج السنۃ، ج 4، ص 396) اسے رافضیت کہنا خود اہلِ سنت کو رافضی کہنا ہے۔ رافضیت شیخینؓ کے خلاف دل کا بغض ہے؛ حضرت علیؓ کی محبت کا نام نہیں۔

اسی طرح لفظِ ”یزیدیت“ ہماری مناظرانہ زبان کا عرفی لفظ ہے، جس سے وہ رویّہ مراد لیا جاتا ہے جو یزید کی مدح کو شعار بنائے اور حضرت حسینؓ کو باغی اور ان کے اِقدام کو ناحق ٹھہرائے۔ اکابرِ دیوبند کا مسلک اس باب میں واضح ہے: حضرت حسینؓ حق پر تھےاور یزید کی مدح سرائی سے احتراز کیا جائے اور اس پر لعنت کے معاملے میں ’سکوت‘ احتیاط ہے۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل، ج 1، ص 400، 403 تا 406؛ مکتوباتِ امام ربانی، دفتر اول، مکتوب 251؛ فتاویٰ رشیدیہ کامل، ج 1، ص 300، 347)

جو شخص ان اکابر کی طرح سکوت اختیار کرے، اسے یزیدی کہنا گویا انہی اکابر پر یہ لقب چسپاں کرنا ہے۔

اب آپ ہی انصاف فرمائیے کہ جو شخص حضرت معاویہؓ کے فضائل بیان کرے، ان کے متعلق کسی دل شکن بات پر اظہارِ اختلاف کرے اسے کس دل سے یزیدی کہہ دیا جاتا ہے؟

یہ تینوں لفظ عقیدے کے عنوان ہیں؛ ان کا فیصلہ عقیدے سے ہی ہوگا، لہجے کی تلخی، جماعتی وابستگی یا ایک مبہم جملے سے نہیں اور یہ تینوں ایک ہی ترازو کے پلڑے ہیں۔ جس احتیاط سے ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں ”رافضی“ نہ کہا جائے، اسی احتیاط کا حق دوسرے کو بھی ہے کہ اسے ”ناصبی“ نہ کہا جائے۔

◆ ایک دل، دو محبتیں ◆
اہلِ سنت کے دل میں حضرت علی المرتضیٰؓ کی محبت کسی ردِ عمل کا نام نہیں، بلکہ ایمان کا حصہ ہے۔ خیبر کے دن نبی کریمﷺ نے جھنڈا اس شخص کو دینے کا اعلان فرمایا جو «يُحِبُّ اللهَ وَرَسُولَهُ، وَيُحِبُّهُ اللهُ وَرَسُولُهُ»یعنی جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کے رسول اس سے محبت کرتے ہیں ۔ (صحیح بخاری، حدیث 3009؛ صحیح مسلم، حدیث 2406)

اور وہ حضرت علیؓ تھے۔ اسی طرح حضورﷺ نے حضرت علیؓ سے محبت کرنے والوں کو مومن اور بغض رکھنے والوں کو منافق قرار دیا۔ (صحیح مسلم، کتاب الایمان، حدیث 78)

جس دل میں حضرت علیؓ کی محبت بستی ہے اسی دل میں حضرت معاویہؓ کا ادب بھی بستا ہے۔ وہ رسول اللہﷺ کے صحابہ، برادرِ نسبتی اور کاتب ہیں (صحیح مسلم، حدیث 2501)

حضرت عبداللہ بن عباسؓ، جو مشاجرات میں حضرت علیؓ کے ساتھ تھے، انہیں ”فقیہ“ کہتے تھے۔ (صحیح بخاری، حدیث 3764، 3765) جب نواسۂ رسول حضرت حسنؓ نے ان سے صلح فرمائی تو نبی کریم ﷺ کی وہ بشارت پوری ہوئی کہ اللہ ان کے ذریعے «فِئَتَيْنِ عَظِيمَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ» یعنی مسلمانوں کی دو عظیم جماعتوں میں صلح کرائے گا۔ (صحیح بخاری، کتاب الصلح، حدیث 2704)

دار العلوم دیوبند کے ایک فتوے میں یہ دونوں سچائیاں ایک جملے میں سمٹ آئی ہیں:”حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کیا۔۔۔ کوئی بھی صحابی حضرات خلفائے اربعہ رضی اللہ عنہم اجمعین کے مقام و مرتبہ کا نہیں لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سب سے کم مرتبہ کے صحابی کا اللہ کے یہاں وہ مقام و مرتبہ ہے کہ بعد کا بڑے سے بڑا ولی بھی وہاں تک نہیں پہنچ سکتا۔“ (دار العلوم دیوبند، فتویٰ نمبر 1081)

حضرت مفتی محمد شفیع ؒ نے اس پر امت کا اجماع نقل کیا ہے کہ مشاجرات میں دونوں فریق کی تعظیم واجب ہے اور کسی کو برا کہنا ناجائز (مفتی محمد شفیعؒ، مقامِ صحابہ، ص 73) اور حضرت مجدد الف ثانیؒ نے ایک ہی مکتوب میں دونوں طرف کے لیے سبق رکھ دیا ہے۔ پڑھنے والا اہلِ علم کی اصطلاحات کو سمجھے اور لکھنے والا یاد رکھے کہ:”استقامت والے حضرات ایسے الفاظ سے اجتناب کرتے ہیں جن سے مقصود کے خلاف وہم پیدا ہوتا ہو“۔ (مکتوباتِ امام ربانی، دفتر اول، مکتوب 251)

ازواجِ مطہراتؓ سمیت اہلِ بیتِ اطہارؓ کی محبت بھی اسی دل کا حصہ ہے؛ کسی کے غلو کے ردِ عمل میں اس محبت میں کمی کرنا بھی اعتدال سے ہٹ جانا ہے۔ (جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن، فتویٰ نمبر 144301200191) اس اعتدال کی سب سے روشن مثال وہ حضرات ہیں جو خود مشاجرات کے میدان میں تھے۔ حضرت علیؓ سے منقول ہے کہ آپؓ نے حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ کے بارے میں فرمایا: مجھے امید ہے کہ میں، طلحہ اور زبیر ان لوگوں میں ہوں گے جن کے بارے میں اللہ نے فرمایا: ﴿وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِم مِّنْ غِلٍّ إِخْوَانًا﴾۔ (البیہقی، السنن الکبریٰ، ج 8، ص 173)

دوسری طرف ایک مرتبہ حضرت معاویہؓ سے کسی نے سوال کیا کہ: اے معاویہؓ! آپ افضل ہیں یا حضرت علیؓ افضل ہیں؟ تو حضرت معاویہؓ نے جواب دیا کہ:علیؓ کے قدم بھی آلِ ابی سفیانؓ سے افضل ہیں۔ (الناہیہ عن طعن معاویہ، ص 60)

جو حضرات تلوار لے کر آمنے سامنے ہوئے تھے، وہ بھی مقابل جماعت کے متعلق دل میں احترام رکھتے تھے؛ ہم چودہ صدیاں دور بیٹھ کر، ایک ہی مسلک کے لوگ بلاتحقیق ایک دوسرے پر ناصبیت اور رافضیت کا الزام کس دل سے لگا دیتے ہیں؟

◆ حق اور احق ◆
نبی کریم ﷺ کے ارشادات میں لفظوں کے انتخاب کی بھی رہنمائی ہے۔ آپ ﷺ نے امت کے اس نازک موڑ کی خبر دی جب مسلمانوں کی دو جماعتیں آمنے سامنے ہونے والی تھیں، مگر انہیں ”حق اور باطل“ کے دو خانوں میں تقسیم نہیں فرمایا بلکہ فرمایا کہ اس افتراق کے وقت ایک گروہ دین سے نکل جائے گا اور اسے وہ جماعت قتل کرے گی جو «أَوْلَى الطَّائِفَتَيْنِ بِالْحَقِّ» ہوگی؛ اور ایک روایت میں ہے: «أَدْنَى الطَّائِفَتَيْنِ إِلَى الْحَقِّ»یعنی اقرب الی الحق ہوگی۔ (صحیح مسلم، کتاب الزکاۃ، حدیث 1065) ایک جماعت کو حق سے ”زیادہ قریب“ کہنے میں ہی یہ اشارہ موجود ہے کہ دوسری جماعت بھی حق کے دائرے سے باہر نہیں ہوگی؛ فرق قرب کے ”درجے“ کا تھا، ”سمت“ کا نہیں۔ قرآنِ کریم ایسی جماعتوں کو پہلے ہی ایمان والوں میں شمار کر چکا تھا: ﴿وَإِن طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا﴾ (الحجرات: 9)۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ کی نظر بھی اسی لفظ پر ٹھہری اور انہوں نے حدیث کا مفہوم ان الفاظ میں کھول دیا:«فَهٰذَا الْحَدِيثُ الصَّحِيحُ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ كِلْتَا الطَّائِفَتَيْنِ الْمُقْتَتِلَتَيْنِ - عَلِيٌّ وَأَصْحَابُهُ وَمُعَاوِيَةُ وَأَصْحَابُهُ - عَلَى حَقٍّ، وَأَنَّ عَلِيًّا وَأَصْحَابَهُ كَانُوا أَقْرَبَ إِلَى الْحَقِّ مِنْ مُعَاوِيَةَ وَأَصْحَابِهِ »

(ابن تیمیہ، مجموع الفتاویٰ، ج 4، ص 467)

ترجمہ: یہ صحیح حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ لڑنے والی دونوں جماعتیں، حضرت علیؓ اور ان کے ساتھی اور حضرت معاویہؓ اور ان کے ساتھی، حق پر تھیں اور حضرت علیؓ اور ان کے ساتھی حضرت معاویہؓ اور ان کے ساتھیوں کی نسبت حق کے زیادہ قریب تھے۔

حضرت علیؓ کا قولِ فیصل ہے:
وَالظَّاهِرُ أَنَّ رَبَّنَا وَاحِد وَنَبِيَّنَا وَاحِد وَدَعْوَتَنَا فِي الْإِسْلَامِ وَاحِدَة وَلَا نَسْتَزِيْدُهُمْ فِي الْإِيْمَـانِ باللهِ وَالتَّصْدِيْقِ بِرَسُوْلِه ﷺ وَلَا يَسْتَزِيْدُوْنَنَا، اَلْأَمْرُ وَاحِد إِلَّا مَا اخْتَلَفْنَا فِيْهِ مِنْ دَمِ عُثْمَانَ وَنَحْنُ مِنْهُ بَرَاء

اور ظاہر ہے کہ ہمارا اور انکا رب بھی ایک ہے اور ہمارا اور ان کا نبی بھی ایک ہے۔ اسلام میں ہماری اور ان کی دعوت بھی ایک ہے۔ نہ ہم اللہ پر ایمان لانے اور رسول اللہ کی تصدیق کرنے میں ان سے زیادہ ہیں اور نہ وہ ہم سے زیادہ ہیں۔ ہمارا اور ان (حضرت معاویہؓ) کا معاملہ ایک ہے۔ صرف خونِ عثمانؓ کے معاملہ میں ہمارا اور ان کا اختلاف ہوا ہے۔ حالانکہ ہم اس سے بری اور پاک صاف ہیں۔

حضرت حسنؓ کی صلح کی بشارت میں بھی دونوں کو ”مسلمانوں کی دو عظیم جماعتیں“ فرمایا گیا اور یہی بات ہمارے اکابر کی زبان پر رواں رہی۔ میرے ذی قدر استاد امام اہلِ سنت حضرت مولانا عبدالستار تونسویؒ لکھتے ہیں: ”فریقین اجتہاد کی وجہ سے اہلِ حق تھے جو رضائے الٰہی اور حق کی طلب کے لیے میدان میں آئے تھے۔ ایک اقرب الی الحق تھا، دوسرا مجتہدِ مخطی تھا، جو شرعاً معذور وماجور تھا۔“ (مولانا عبدالستار تونسویؒ، مسئلہ خلافت و ملوکیت کی تحقیق و توضیح، ص 75)

سو ”حق اور اَحق“ کی تعبیر کسی کی ذہنی اختراع نہیں۔ اس کی بنیاد حدیث کے الفاظ اور حضرت علیؓ کے فرمان میں موجود ہےاور ہمارے بزرگ اسے برتتے آئے ہیں۔ ایسی تعبیر کو جمہور اور اکابرِ دیوبند کے خلاف ٹھہرا کر ایک جملے میں رد کر دینا اسی عجلت کی ایک صورت ہے جس کا شکوہ اوپر گزرا۔

ہمارے بعض اکابر نے یہی حقیقت دوسرے پیرائے میں بیان کی ہے کہ حضرت علیؓ حق پر تھے اور دوسری جانب اجتہادی خطا تھی۔ مراد وہی ہے؛ اجتہادی خطا بھی شریعت پر عمل ہی کی ایک صورت ہے جس پر اجر ملتا ہے۔ مگر لفظ صرف معنی نہیں اٹھاتے، اپنا سایہ بھی ساتھ لاتے ہیں۔

”حق ایک طرف“ کی تعبیر کا سایہ دوسری طرف پڑتا ہے تو عام قاری کے ذہن میں وہاں ”باطل“ کا لفظ ابھر آتا ہے، کہنے والے نے کہا ہو یا نہ کہا ہو۔

اس کے مقابلے میں ”احق“ کا لفظ یہ سایہ پڑنے ہی نہیں دیتا۔

حضرت مجدد الف ثانیؒ نے اسی باریکی کی طرف اشارہ کیا تھا کہ ”اربابِ استقامت ان الفاظ سے بچتے ہیں جن سے مقصود کے خلاف وہم پیدا ہو۔“

منزل دونوں کی ایک تھی: رضائے الٰہی۔ دونوں قافلے اسی کی طرف رواں تھے اور حضرت علی المرتضیٰؓ کا قافلہ منزل سے قریب تر تھا۔ اس تعبیر میں حضرت علیؓ کی فضیلت اور ان کے مؤقف کی ترجیح بھی پوری آ جاتی ہے اور حضرت معاویہؓ کا دامن بھی ”باطل“ اور ”ناحق“ کے داغ سے پاک رہتا ہے۔

◆ ایک ترازو ◆
جو اصول دوسروں کے لیے بنایا جائے، وہی اپنوں پر بھی لاگو ہونا ضروری ہے، ورنہ یہ ساری گفتگو ادھوری رہے گی۔ سید ابوالاعلیٰ مودودی صاحب کی کتاب ”خلافت و ملوکیت“ پر اہلِ علم کا بنیادی اعتراض یہ تھا کہ تاریخ کی کتابوں سے صحابہ کرامؓ کے بارے میں ایسی روایات یک طرفہ جمع کی گئیں جن کی سند پر کلام ہو چکا تھا، یا جن کے جوابات اور توجیہات اہلِ علم کر چکے تھے اور انہیں ان جوابات کے بغیر، ظاہری مفہوم کے ساتھ عام قاری کے سامنے رکھ دیا گیا۔ شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب نے ”حضرت معاویہؓ اور تاریخی حقائق“ میں یہی گرفت فرمائی کہ محض یک طرفہ روایات جمع کر دینے سے حقیقت سامنے نہیں آتی، جب تک یہ نہ بتایا جائے کہ مخالف روایات کو چھوڑ کر انہیں کیوں اختیار کیا گیا۔ (مفتی محمد تقی عثمانی، حضرت معاویہؓ اور تاریخی حقائق)

جبکہ مودودی صاحب کا اپنا مؤقف یہ تھا کہ انہوں نے معتبر مؤرخین پر اعتماد کیا ہے اور قاضی ابوبکر ابن العربیؒ اور ابن تیمیہؒ جیسے حضرات کی کتابوں کو انہوں نے ”وکیلِ صفائی“ کی تحریریں سمجھ کر چھوڑدیا۔

اسی طرح انجینئر محمد علی مرزا کے رسالے ”واقعۂ کربلا کا حقیقی پس منظر“ کے جو جوابات لکھے گئے، ان میں بھی بنیادی نکتہ یہی تھا کہ حضرت معاویہؓ کے بارے میں روایات منتخب کر کے ان کے ظاہری ترجمے کے ساتھ پیش کی گئیں اور ان پر اہلِ علم کی توضیحات نظرانداز کر دی گئیں۔ (دیکھیے: ماہنامہ دار العلوم دیوبند، ربیع الثانی تا جمادی الاولیٰ 1443ھ)

اگر یہ طرزِ عمل ان حضرات کے لیے قابلِ اعتراض ہے تو جو بھی اسے اختیار کرے، قابلِ اعتراض ہے؛ خواہ اس کا عقیدہ ہمارے نزدیک بالکل درست ہو اور اس کی خدمات ہماری سر آنکھوں پر ہوں۔ کسی معتبر کتاب سے نقل کرنا نقل کرنے والے کو انتخاب اور پیش کش کی ذمہ داری سے فارغ نہیں کرتا۔ اگر ”ہم نے تو صرف نقل کیا ہے“ کا عذر اپنوں کے لیے قبول ہے تو یہی عذر دوسروں کے حق میں بھی سننا پڑے گا۔ یہاں موازنہ شخصیات کا نہیں، طریقۂ کار کا ہے۔ درست عقیدہ غلط طریقۂ کار کو درست نہیں بنا دیتا اور طریقۂ کار کی غلطی سے لازماً عقیدے کا فساد ثابت نہیں ہوتا۔ ترازو ایک ہو تو وزن شخصیت دیکھ کر نہیں بدلتا۔

جس طرح اعتراض کرنے والے پر تحقیق لازم ہے، اسی طرح جس کی عبارت یا اشاعت سوال کی زد میں آئی ہو، اس پر بھی وضاحت لازم ہے۔ جب کسی بات پر سوال اٹھے اور اس کا جواب صاحبِ معاملہ کے پاس موجود ہو تو سوشل میڈیا کی گرد بیٹھنے کا انتظار کیوں کیا جائے؟ خاموشی سے یہ گرد بیٹھتی نہیں اور بھی اونچی اڑتی ہے؛ جو خلا صاحبِ معاملہ کی وضاحت سے بھرنا تھا، اسے افواہیں اور الزامات بھرنے لگتے ہیں۔ اگر اب تلافی کے جذبے سے فضائلِ صحابہؓ پر تقریریں ہو رہی ہیں تو یہ جذبہ قابلِ قدر ہے؛ مگر عمومی فضائل کا بیان اس متعین سوال کا جواب نہیں بنتا جو کسی متعین عبارت پر اٹھا ہو۔ دو سطروں کی ایک صاف تحریر کہ فلاں تعبیر سے یہ مراد ہے اور یہ مراد نہیں، یا فلاں تعبیر ہمارے نظریات کا حصہ نہیں ہیں، اس آگ پر پانی کا کام کر سکتی ہے جسے گھنٹوں کی تقریریں نہیں بجھا سکتیں۔

اسی ترازو میں اپنے رویّے بھی تولیے۔ کسی نے کہا ’کوّا کان لے گیا‘ اور ہم کان ٹٹولنے کی بجائے کوّے کے پیچھے دوڑ پڑے۔ کسی گمنام اکاؤنٹ کی پوسٹ آئی، کوئی تراشا ہوا اسکرین شاٹ نظر سے گزرا اور ہم نے اسے کسی جماعت کے کھاتے میں ڈال دیا۔ ایسی گمنام تحریروں میں کبھی صریح گستاخی بھی ہوتی ہے اور اسے کسی خطرے کی دلیل کے طور پر پیش بھی کیا جاتا ہے۔ خطرہ اپنی جگہ حقیقی سہی؛ لیکن جب تک لکھنے والے کی شناخت معلوم نہ ہو، نہ ایسی تحریر کسی حلقے کے سر ڈالی جا سکتی ہے اور نہ وہ کسی دوسری تحریر کی بے احتیاطی کا جواز بن سکتی ہے۔ کسی تحریر کی نسبت مصدقہ ہو تو اسے اہلِ علم کے سامنے لایا جائے؛ ہر تحریر اپنے معیار پر پرکھی جائے گی۔

اسی طرح محبّت کے نعرے بھی جانچ سے مستثنیٰ نہیں۔ حبِ اہلِ بیت، دفاعِ صحابہ اور خدمتِ دین محترم نسبتیں ہیں، مگر کسی تحریر کا ان نسبتوں سے وابستہ ہونا اسے دلیل اور سیاق وسباق کی جانچ سے آزاد نہیں کرتا۔ غلط بات کی نشاندہی کیجیے، مگر لکھنے والے کی پوشیدہ نیت کا فیصلہ نہ کیجیے اور کسی کے غلط استعمال کی وجہ سے اصل محبت سے دستبردار بھی نہ ہو جائیے۔ روافض کے غلو کو دیکھ کر حضرت علیؓ کے فضائل بیان کرنے سے ہچکچانا اور نواصب کے غلو کو دیکھ کر حضرت معاویہؓ کے ذکر سے کترانا، ایک ہی بیماری کی دو شکلیں ہیں۔

تاریخ کی روایات کے ساتھ بھی یہی انصاف چاہیے۔ کسی تاریخی کتاب میں روایت کا موجود ہونا اس کی صحت کی ضمانت نہیں اور کسی صحیح خبر کو محض ناپسندیدگی کی بنا پر رد بھی نہیں کیا جا سکتا؛ دونوں صورتوں میں فیصلہ تحقیق سے ہوگا۔ جب کہ تاریخی روایات میں بہت سی تحریفات کی نشاندہی بھی خود اہل علم نے فرمائی ہے۔

ان رویّوں کا نقصان یہ ہے کہ ہماری توانائیاں ایک دوسرے کے خلاف خرچ ہو رہی ہیں۔ حضرت مفتی محمد شفیع ؒ نے امام العصر حضرت علامہ انور شاہ کشمیریؒ کا یہ اعتراف نقل کیا ہے کہ ہماری عمر کا اور ہماری تقریروں کا خلاصہ یہ رہا کہ دوسرے مسلکوں پر حنفیت کی ترجیح قائم کر دیں اور جو صحیح اسلام کی دعوت تھی، جس پر پوری امّت متفق ہے، وہ لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل ہو رہی ہے۔ (مفتی محمد شفیعؒ، وحدتِ امت، ص 13 تا 14) شاہ صاحبؒ یہ بات مسلکوں کے فرق پر فرما رہے تھے؛ ہم تو ایک ہی مسلک سے تعلق رکھنے والے بھائی ہیں پھر بھی ایک ہی گھر میں القاب کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ علامہ اقبالؒ نے کہا تھا:

فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں

کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں؟

◆ فیصلے سے پہلے ◆
اعتدال کسی وعظ کا نام نہیں، چند سوالوں کی عادت کا نام ہے جو ہر شخص کسی عبارت کو آگے بڑھانے یا کسی پر حکم لگانے سے پہلے خود سے پوچھ سکتا ہے:

1۔ یہ عبارت کس کی ہے اور اس کا اصل ماخذ کیا ہے؟

2۔ مکمل عبارت اور اس کا سیاق وسباق کیا ہے؟

3۔ کیا یہ عبارت نقل کرنے کے لائق بھی ہے یا نہیں؟

4۔ یہ لکھنے والے کا اپنا مؤقف ہے، کسی کا اقتباس ہے، یا مخالف کی بات نقل ہوئی ہے؟

5۔ کیا مجھے وضاحت درکار ہے، یا علمی سوال اٹھانا ہے، یا کسی کی مذہبی شناخت کا فیصلہ کرنا ہے؟ اور فیصلہ کرنا ہے تو کیا میں اس کا اہل بھی ہوں یا نہیں؟

جن سوالوں کے جواب نہ ملیں، وہاں فتویٰ بازی اور الزام تراشی سے رک جائیے اور وضاحت مانگیئے۔ یہ مطالبہ دونوں طرف کے لیے ہے: اعتراض کرنے والا نسبت اور سیاق وسباق کی تحقیق کرے اور لکھنے اور شائع کرنے والا یہ دیکھے کہ جو بات وہ نقل کر رہا ہے وہ نقل کے لائق بھی ہے یا نہیں؟ پھر نقل کرنے میں یہ احتیاط ملحوظ رکھے کہ اپنے حوالے درست رکھے، غلط فہمی پیدا کرنے والی عبارت کی وضاحت اسی مقام پر دے اور غلطی ثابت ہو تو اصلاح میں عار نہ سمجھے۔

اس عادت کو عام کرنے کے لیے تین گزارشات پیش خدمت ہیں:

▪️ علمائے کرام سے گزارش ہے کہ کسی متعین شخص یا جماعت کے لیے ”ناصبی“، ”رافضی“ یا ”یزیدی“ کا لفظ اس وقت تک استعمال نہ کریں جب تک اس کے متعلقہ اقوال کی تحقیق نہ ہو جائے۔ مبہم عبارت ہو تو پہلے لکھنے والے سے اس کی مراد معلوم کی جائے اور جواب آنے تک نسبت نہ پھیلائی جائے۔

▪️ مدارس اور دینی اداروں سے گزارش ہے کہ مشاجراتِ صحابہؓ، فضائلِ اہلِ بیتؓ اور فِرَق و اصطلاحات کی تعلیم اسی اعتدال کے ساتھ دی جائے جو ہمارے اکابر کا امتیاز رہا ہے۔ طلبہ کو باقاعدہ سکھایا جائے کہ اصطلاح کا علمی معنیٰ اور روزمرہ معنیٰ ـــ اقتباس اور مصنف کا مؤقف ـــ تاریخی روایت اور اعتقادی حکم ـــ قول کا حکم اور قائل کا حکم الگ الگ چیزیں ہیں۔

▪️ سوشل میڈیا کے گروپ منتظمین، مدیران اور ناشرین سے گزارش ہے کہ اصل ماخذ کے بغیر کوئی بھی چیز نشر نہ کریں اور اگر کسی کی طرف غلط بات منسوب ہو کر پھیل جائے تو اسی حلقے میں، اصل پیغام کے ساتھ اس کی نمایاں تصحیح کریں۔

حضرت اسامہؓ کے ہاتھ میں نیزہ تھا اور سامنے ایک اجنبی؛ پھر بھی نبی کریم ﷺ نے ان سے بار بار پوچھا: «أَفَلَا شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِهِ؟» آج جبکہ ہمارے ہاتھ میں قلم ہے اور سامنے ہمارے اپنے بھائی؛ یہ سوال ہم سے کہیں زیادہ پوچھے جانے کا حق رکھتا ہے۔ حضرت علیؓ کی محبت اور حضرت معاویہؓ کا ادب ایک ہی دل میں رہیں اور اس دل کی حفاظت یوں ہو کہ ہم خبر کو جانچیں، عبارت پوری پڑھیں اور کسی کے بارے میں وہی بات کہیں جس کی دلیل ہمارے پاس ہو۔﴿رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَآ إِنَّكَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ﴾ (الحشر: 10)

کالم نگار : مولانامحمد شاہ نواز فاروقی،مہتمم ومدرس دار العلوم فاروقیہ گوجرانوالہ
| | |
83