(+92) 319 4080233
کالم نگار

احمد سہیل

احمد سہیل

پروفائل | تمام کالمز
2026/10/14
موضوعات
فحش اور شہوانی ادب : اردو کے فحش ناول نگار وہی وہانوی کا خصوصی مطالعہ
فحش ،شہوانی، شہوت انگیز ادب افسانوی اور حقیقت پر مبنی کہانیوں اور ایروز (پرجوش، رومانوی یا جنسی تعلقات) پر مشتمل ہوتا ہے جس کا مقصد قارئین میں اسی طرح کے جذبات اور بدنی لمسی ارتعاش کو ابھارنا ہوتا ہے جو تصوراتی واہموں یا فینٹسی سے پھرا ہوتا ہے۔ یہ ایروٹیکا سے متصادم ہے، جو خاص طور پر جنسی احساسات پر مرکوز ہے۔ دیگر عام عناصر طنز اورمعاشرتی تنقید ہیں۔ زیادہ ترفحش یا شہوانی، شہوت انگیز ادب میں شہوانی، شہوت انگیز فن {آرٹ} کی خصوصیات ہوتی ہیں، جو متن کی عکاسی کرتی ہیں اوراس کا بیانیہ منفرد ہوتا ہے جس میں جذبات اور شہوت کی موضوعی خود کاریت ہوتی ہے۔

اگرچہ فحش ، شہوانیت اور شہوت انگیز ادب کی ثقافتی ناپسندیدگی ہمیشہ سے موجود رہی ہے، لیکن طباعت کی ایجاد سے پہلے اس کی گردش کو ایک بڑے مسئلے کے طور پر نہیں دیکھا جاتا تھا، کیونکہ انفرادی مخطوطات کی تیاری کے اخراجات امیر اور پڑھے لکھے قارئین کے ایک بہت چھوٹےحلقے تک محدود تقسیم ہوتے تھے۔ 15ویں صدی میں پرنٹنگ کی ایجاد اپنے ساتھ ایک بڑی مارکیٹ اور بڑھتی ہوئی پابندیاں لے کر آئی جس میں سنسر شپ اور فحاشی کی بنیاد پر اشاعت پر قانونی پابندیاں شامل ہیں اس کی وجہ سے اس قسم کے مواد کی تخلیق کاری کا زیادہ تر حصہ خفیہ ہوا کرتا تھا۔ مگر دور حاضر میں فحش اورشہوت نگاری پر سے پردے اٹھا لیے گئے ہیں۔

Translation is too فحش ، شہوانی، شہوت انگیز ادب اور فکشن کو دیا جانے والا نام ہے جو جنسی یا جنسی موضوعات سے متعلق ہے، عام طور پر فحش میگزین میں نظر آنے والے افسانوں سے زیادہ ادبی یا سنجیدہ انداز میں اور بعض اوقات طنز یا معاشرتی تنقید کے عناصر بھی شامل ہوتے ہیں۔ اس طرح کے کاموں پر حکومت یا مذہبی حکام کی طرف سے اکثر پابندی عائد کی گئی ہے۔ تاہم، یہ واضح رہے کہ جنسی یا جنسی موضوعات سے متعلق بظاہر غیر افسانوی کاموں میں خیالی عناصر شامل ہو سکتے ہیں۔ ایک شہوانی، شہوت انگیز کتاب کو 'یادداشت' کہنا ایک ادبی آلہ ہے جو اس صنف میں عام ہے۔ ان جیسی وجوہات کی بناء پر جو تخلص دونوں کو عام اور اکثر شیطانی انداز میں ترتیب دیتے ہیں، فکشن اور غیر فکشن کے درمیان حد اکثر بہت پھیلی ہوئی ہوتی ہے۔ شہوانی، شہوت انگیز افسانوں کو 20 ویں اور 21 ویں صدیوں میں خواتین کی جنسی بیداری اور آزادی کے لیے بڑے حصے میں سہرا دیا جاتا ہے۔ پیٹرونیئس آربیٹر کا سیٹریکون (بعد میں فیلینی کی طرف سے ایک فلم بنائی گئی) ایک قدیم رومن ناول ہے، جو جزوی طور پر زندہ رہ گیا ہے، جس میں اینکولپیئس نامی ایک نامرد شخص کی غلط مہم جوئی کو بیان کیا گیا ہے، جس پر دیوتا پریپس نے لعنت بھیجی ہے۔ یہ ناول بے ہودہ اور فحش اقساط سے بھرا ہوا ہے، جس میں جنسی تعلقات، رسم جنسی، اور دیگر شہوانی واقعات شامل ہیں۔ لولیانوس کی فونیشین ٹیل کے کئی ٹکڑوں کی دریافت سے پتہ چلتا ہے کہ قدیم یونان میں پکراسک شہوانی، شہوت انگیز ناول کی ایک صنف بھی موجود تھی۔ دریں اثنا، قدیم یونانی رومانوی ناولوں میں سے کچھ، جیسے ڈیفنس اور کلو، میں بھی جنسی واہمے یا فینٹسی کے عناصر شامل ہیں۔ قرون وسطی کے دور سے، اطالوی Giovanni Boccaccio کی طرف سے Decameron (1953) ہے (پاسولینی کی ایک فلم میں بنائی گئی) جس میں راہبوں کی طرف سے لچری کی کہانیاں اور کنونٹس سے راہباؤں کو بہکانے کی کہانیاں شامل ہیں۔ اس کتاب پر کئی ممالک میں پابندی لگا دی گئی تھی۔ اشاعت کی کاپیاں پانچ صدیوں بعد بھی امریکہ اور برطانیہ میں حکام نے ضبط کر کے تلف کر دی تھیں۔ مثال کے طور پر 1954 اور 1958 کے درمیان انگریز مجسٹریٹوں کی طرف سے کتاب کو تلف کرنے کے آٹھ احکامات صادر ہوئے۔ اسی طرح اردو کے افسانوں کی کتاب " انگارے" پر پابندی لگائی گئی اور اس کو نذر آتش کیا گیا۔

پیٹرونیئس آربیٹر کا سیٹریکون (بعد میں فیلینی کی طرف سے ایک فلم بنائی گئی) ایک قدیم رومن ناول ہے، جو جزوی طور پر زندہ رہ گیا ہے، جس میں اینکولپیئس نامی ایک نامرد شخص کی غلط مہم جوئی کو بیان کیا گیا ہے، جس پر دیوتا پریپس نے لعنت بھیجی ہے۔ یہ ناول بے ہودہ اور فحش اقساط سے بھرا ہوا ہے، جس میں جنسی تعلقات، رسم جنسی، اور دیگر شہوانی واقعات شامل ہیںلولیانوس کی فونیشین ٹیل کے کئی ٹکڑوں کی دریافت سے پتہ چلتا ہے کہ قدیم یونان میں پکراسک شہوانی، شہوت انگیز ناول کی ایک صنف بھی موجود تھی دریں اثنا، قدیم یونانی رومانوی ناولوں میں سے کچھ، جیسے ڈیفنس اور کلو، میں بھی جنسی فنتاسی کے عناصر شامل ہیں۔

فحش ،شہوانی، شہوت انگیز ادب افسانوی اور حقیقت پر مبنی کہانیوں اور ایروز کے اکاؤنٹس پر مشتمل ہوتا ہے - پرجوش، رومانوی یا جنسی تعلقات - جس کا مقصد قارئین میں اسی طرح کے جذبات کو بیدار کرنا ہے، ایروٹیکا کے برعکس، جو خاص طور پر جنسی جذبات پر مرکوز ہے۔ دیگر عام عناصر طنز اور معاشرتی انتقادات ہیں۔ زیادہ تر شہوانی، شہوت انگیز ادب میں شہوانی، شہوت انگیز آرٹ کی خصوصیات ہوتی ہیں، جو متن کی عکاسی کرتی ہیں۔ اس طرح کے مواد کی ثقافتی ناپسندیدگی کے باوجود، شہوانی، شہوت انگیز ادب کی گردش کو طباعت کی ایجاد سے پہلے ایک بڑے مسئلے کے طور پر نہیں دیکھا جاتا تھا، کیونکہ انفرادی مخطوطات کی تیاری کے اخراجات امیر اور پڑھے لکھے قارئین کے بہت چھوٹے گروپ تک محدود تقسیم ہوتے تھے۔ 15ویں صدی میں پرنٹنگ کی ایجاد اپنے ساتھ ایک بڑی مارکیٹ اور بڑھتی ہوئی پابندیاں لے کر آئی جس میں سنسر شپ اور فحاشی کی بنیاد پر اشاعت پر قانونی پابندیاں شامل ہیں۔ اس کی وجہ سے، اس قسم کے مواد کی پیداوار کا زیادہ تر حصہ خفیہ ہو گیا۔

وہی وہانوی کی فحش اور شہوت انگیر ناول نگاری :
اردو میں جب بھی فحش، شہوانی اد ب کی بات ھوتی ہے تو اس حوالے سے سب سے زیادہ ذکر وہی وہانوی کی فحش اور شہوت انگیز ناولوں کا ہوتا ہے۔ چالیس سے ستر کی دہائی تک اردو اس قدر کھلم کھلا شہوت انگیز اور فحش اور ڈرامائی جنسی حیوانیت پر لکھی ہوئی وہی وہانوی کی ناولز کو بہت مقبولیت حاصل ہوئی اوران ناولز پر ہندوستان اور پاکستان اس پر کوئی قانونی قدغن بھی نہیں لگائی گئی۔ { یہ کیسا ظلم ہے کہ منٹو کے افسانوں پر فحاشی کا مقدمہ چلا، پریم چند کے افسانوں اور " انگارے" کو نذر آتش کیا گیا} اور اردو کا قاری کوان فحش ناولز کا چسکہ بڑھتا گیا۔ وہی وہانونی کی اکثر ناولوں کا پس منظر ۱۹۴۷ کی بر صغیر کی تقسیم اور بالخصوص پنجاب کے فسادات اور خوریزی کے پس منظر میں جارہانہ اور حیوانی جبریہ جنسی عمل کی منظر کشی کی ھے۔ ان ناولز میں انسانی جسم کےمستور اعضا کا ذکر گندی زبان میں بیاں کیا جاتا تھا۔ جسکو عام طور پر شریف اور مہذّب لوگ عام بول چال میں استعمال نہیں کرتے۔ وہی وہانوی کی ان ناولز میں قاری کے لیے جنسی اذیت میں ایک سحر انگیر جمال اور انبساط کا سامان بھی ہوتا تھا۔ یہ ناولین کھلے طور پر فروخت اور تقسیم نہِیں ھوتی تھیں ۔ ان ناولوں کو " زیر زمین"ھی فروخت کیا جاتا رہا۔ کہا جاتا ھے سعادت حسن منٹ وہی وہانوی کی ناولیں بڑے ذوق و شوق سے پڑھا کرتے تھے۔ منٹو نے وہی وہانوی کی فحش اور شہوانی ناولز سے متاثر ہو کر اپنی فحش اور شہوانی اسلوب کو کریہہ اور گندے لہجے کو دھو دھلاکر مہذّب لہجے میں پیش کیا۔ کچھ لوگوں کا خیال ھے کہ وہی وہانوی کے خالق سعادت حسن منٹو تھے جب ان کو شرفاء ، قدامت پسند جننیوں نے گندہ فحش اور غلیظ ادیب قرار دینے کر بعد راندہ درگاہ کیا پھر انھوں نے ادب کے بازار میں پس پردہ رہتے ہوئے وہی وہانوی تخلیق کیا۔ ان کی وفات کے بعد اس نام کے پیچھے بہت سے چہرے بدلتے رہے لیکن منٹو جیسی بات کہاں تھی۔ ان کی جلد ھوا نکل گئی ان کا نام اب کسی کویاد بھی نہیں ھے۔ ادھر وہی وہانوی سے متاثر ھوکر ماہر القادری نے کتاب " انگڑائی"{جنسی تصویر: اور دوسرے افسانے، ۱۹۴۳، لاہور} لکھی۔ اسی زمانے میں وہی وہانوی کا نام نسیم انہونوی سےبھی جوڑا گیا اور کہا گیا کہ یہی وہی وہانوی کا دوسرا نام ہے اور یہ انکشاف بھی ہوا کی وہی وہانوی کے نام سے یہ فحش اور اوباش ناولیں شوکت تھانوی لکھا کرتے تھے۔ جب اردو میں اس گندے اور فحش ادب کو شہرت ہوئی اور مقبول ھوا تو علی عباس حسینی نے سنجیدگی سے اس کا نوٹس لیا اور ان فحش ناولز کے توڈ کے طور پر ابن صفی کو جاسوسی ناولیں لکھنے پر اکسایا۔ حسینی صاحب ایک چھاپے خانے کے مالک بھی تھے۔ انھوں نے ابن صفی کے ساتھ ملکر الہ آباد میں " نگہت پبلی کیشنز" کے نام سے ایک اشاعتی ادارہ قائم کیا۔ مجھے یاد پڑتا ھے۔ کی ستر /۷۰ کی دہائی میں کراچی سے شائع ہونے والے "عالمی ڈائجسٹ" میں زاہدہ حنا کا وہی وہانوی سے لیا گیا ہوا مصاحبہ/ انٹرویو چھپا تھا۔ اس انٹرویو میں وہی وہانوی کی تصویر بھی تھی مگر اس میں ان کا چہرہ نہیں دکھایا گیا تھا۔ جو پیچھے سے کحینچی گئی تھی۔ وہی وہانوی کی ناولوں کو اردو کا " کوک شاستر" بھی کہا گیا۔

ایک زمانے مِیں وہی وہانوی کی ان ناولوں کو ایسی مقبولت اور تجارتی کامیابی نصیب ہوئی جو اردو کی کسی کتاب یا رسالے کو کم ہی ملی۔ اس زمانے میں رہائشی محلوں میں تجارتی بنیادوں پر لائبریاں قاَئم تھیں۔ جیاں ایک کتاب ایک "آنہ" ادا کرکے ایک دن کے لیے مل جایا کرتی تھی اور وہی وہانوی کی ناول کا ایک دن کا کرایہ ایک روپئے ہوا کرتا تھا۔ یوں بھی ھوتا تھا کہ اس ناول کو حاصل کرکے بھائی لوگ اسے چار چار آنے پر مزید آگے دو دو گھنٹے پر کرائے پر دے دیا کرتے تھے۔ انٹرنیٹ کے آنے کے بعد ان ناولوں کی طلب نے دم توڈدیا۔ کیونکہ اب کمپوٹر پر وہی وہانوی کی ناولوں جیسی فحش کہانیاں پڑھنے کی باآسانی مل جاتی ہیں۔ مگر اب نئی نسل کو وہی وہانوی کا نام نہیں معلوم، اب وہ اردو میں قصہ پارینہ بن چکے ہیں۔

وہی وہانوی نے پچاس سے زائد ناول لکھے ہیں جن میں سے کچھ کے نام یہ ہیں :

ننگا شکاری، اوئی اوئی، جنسی محبت، جوانی کا انتقام، مستانی جاسوسہ، اور آگ بجھ گی، جولی، روزی، شیلا، کنواے جذبات، رنگیلا داکٹر، عیاش ڈاکٹر، رات کے شہزادے، کئی حرامزادے، رنگیلی ماں رنگیلا بیٹا، اٹھتی جوانی، تڑپتی جوانی، بہکی جوانی، زیبی، توبہ توبہ جوانی، مجبور جوانی، عیاش نازنین، آورہ پھول، کچے پھول، ننگی عورت، چالو لڑکی، لاجو، تاجو، مستانی، مستانی، کیفے گرل، عصمت فروش، مجبور جوانی، جب جوانی آئی، جب لٹ گئی جوانی، جوانی کا طوفان، جوانی کے مزے، میرا نام ہے جوانی، بے چین لڑکی، جنم جنم کی پیاسی، بھیگی شلوار، ننگا بدن، گرم جوانیاں، جنسی جوانیان بے قرار جوانیاں، الھڑ جوانیاں، کوک شاستری لڑکیاں، حسن کا چور، رات کے شہزادے۔ ننگا بدن، بھیگی شلوار

میری ذاتی خود کلامی کی تجرید :
جب بھی اردو کے ناقدین اور محققین اردو کے فجش اور شہوانی ادب پر بات کرتے ہیں تو ان پر خوف طاری ہوتا ہے۔ وہ سچ نہیں لکھ پاتے اور اس کا اظہار دم توڈ دیتا ہے اور سطحی اور کھوحلی باتیں کرکے ادھر ادھر ہو جاتے ہیں۔، اور ہم اس کے بارے میں سچائی سے جواب دیتے ہیں کہ ہم کیا کرتے ہیں کہ ہمیں فحش نگاری کا مطالعہ کیوں کرنا چاہیے۔ لیکن ہمیں فحش اور شہوانی ادب کے حوالے سے سوال کرنے چاہیے اور اس کر مہذّب لہجے کا مکالمہ اور مخاطبہ ہونا چاہیے۔ ادب کو فحش اور شہوانی نکات اور تصورات کو فلسفہ، قانونی یا سیاسی نظریہ یا تھیوری، فلم تھیوری، فرائڈ، مارکسی ، وجودی، لایعنی، جدیدی، ساختیاتی مابعد جدیدیت اور نئی تخلیق کاری یا جدید ثقافت کے تمام شعبوں میں سے ہم مطالعہ کر سکتے ہیں، اور ہمیں کرنا چاہیے۔ اور یہ سوالات بھی کھڑے ہو جاتے ہیں کہ ہم فحش نگاری کا انتخاب کیوں کریں؟ کیا افہام و تفہیم کو آگے بڑھانے کے ہمارے غیر سنجیدہ استدلال کے پیچھے کوئی لغو بات چھپی ہوئی ہے؟ ۔ اگر ہم فلکیاتی طبیعیات کے ماہر ہوتے، تو آپ ہم سے یہ توقع کریں گے کہ ہم سب کچھ جان لیں گے، یا طبیعیات، ہمارے شعبے، ہمارے شعبے کی تاریخ، اور شاید سائنس کے فلسفے کے بارے میں ہر چیز کے بالکل قریب ہوں گے۔ درحقیقت، آپ ہمارے موقف پر اعتبار نہیں کریں گے اگر یہ ظاہر کیا جائے کہ ہم اپنے شعبے کے بارے میں دوسروں کے مقابلے میں کافی زیادہ نہیں جانتے ہیں۔ اگر ہم جنگ اور عوامی پالیسی کے ماہر تھے، تو آپ بین الاقوامی قانون، معاہدوں، کنونشنز کے ساتھ ساتھ جنگ اور جنگ کی تاریخ کے بارے میں بہت زیادہ علم کی توقع کریں گے۔ آپ کو یہ بالکل بھی عجیب یا پریشان کن نہیں لگے گا کہ ہم جنگی مظالم اور تشدد کے حوالے سےقرائن{ کنونشنز} سے واقف تھے۔ لیکن اگر ہم فحش نگاری کا مطالعہ کرتے ہیں، تو بہت کچھ جاننے سے شک پیدا ہوتا ہے، اور سوال کے اصل معنی کی طرف واپس آجاتے ہیں: کیا سطح کے نیچے کوئی ٹیڑھی چیز چھپی ہوئی ہے؟ سوال کا ایک اور مطلب یہ ہے کہ فحش اور شہوت انگیزی کا مطالعہ اس معنی میں کیوں کیا جائے کہ ایسی چیز کا مطالعہ کیوں کیا جائے جس میں کوئی فرق نہیں پڑتا؟ فحش کو بے ضرر سمجھا جاتا ہے۔

کالم نگار : احمد سہیل
| | |
92