(+92) 319 4080233
کالم نگار

(مدیر:مجلہ صفدر)

(مدیر:مجلہ صفدر)

پروفائل | تمام کالمز
2026/10/07
موضوعات
احتساب ِناصبیّت کے متعلق مجلہ ’’صفدر‘‘ کا موقف
(۱)…ہم الحمدللہ اہل السنۃ والجماعۃ(سنی مسلمان) ہیں، ہمارے لیے اصل معیار قرآن و سنت ہیں، اور قرآن و سنت نے صحابہ و اہل بیت کو ’’معیارِ حق‘‘ قرار دیا ہے، لہٰذا صحابہ و اہل بیت قرآن وسنت کی عملی صورت ہیں۔ گویا جوکچھ قرآن و سنت ہے وہی کچھ صحابہ و اہل بیت ہیں اور جو کچھ صحابہ و اہل بیت ہیں وہی کچھ قرآن و سنت ہے.

(۲)…دَورِ اول کے خوش نصیب مسلمانوں(حضرات تابعین) نے تو صحابہ و اہل بیت کو خود دیکھا؍ سنا، لہٰذا اُن کو براہِ راست قرآن و سنت کی عملی تصاویر دیکھنے کی سعادت مل گئی۔ مگر بعد کے لوگ جنہوں نے صحابہ و اہل بیت کو نہیں دیکھا، اُن کے‘ صحابہ و اہل بیت تک پہنچنے کے لیے بھی کوئی یقینی معیار ہونا چاہیے، چنانچہ قرآن و سنت نے یہ معیار بھی مقرر کردیا اور وہ ہے’’جمہور اہل السنۃ والجماعۃ‘‘۔ گویا قرآن و سنت تک پہنچنے کے لیے معیار صحابہ و اہل بیت ہیں اور صحابہ و اہل بیت تک پہنچنے کے لیے معیار’’ اُمت کا سوادِ اَعظم‘‘ ہے۔ جیسے قرآن و سنت اور صحابہ و اہل بیت کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہوسکتا ایسے ہی اُمت کے سوادِ اَعظم اور صحابہ و اہل بیت کے درمیان کوئی مخالفت نہیں ہوسکتی۔ جو صحابہ و اہل بیت کے عقائد و افکار ہیں وہی جمہور اہل سنت کے نظریات ہیں اور جو جمہور اہل سنت کے خیالات ہیں وہی صحابہ و اہل بیت کی تعلیمات ہیں۔(یادرہے کہ جمہور سے مراد مروجہ فرنگی جمہوریت نہیں کہ بس افراد کی گنتی دیکھی جائے، بلکہ ہرزمانے کی :[۱]-صحیح العقیدہ [۲]-متبع سنت [۳]-مسلمہ علمی شخصیات، کی اکثریت مراد ہے۔)

(۳)…برصغیر میں قرآن و سنت، صحابہ و اہل بیت اور اہل سنت کے سوادِ اعظم کے صحیح ترجمان جمہور اکابر اہل سنت دیوبند ہیں۔ خصوصا ًمولانا محمد قاسم نانوتوی، مولانا رشیداحمد گنگوہی، مولانا محمود حسن ، مولانا خلیل احمد سہارنپوری، مولانا اشرف علی تھانوی، مولانا حسین احمد مدنی، مولانا قاری محمد طیب اور ماضی قریب میں مولانا قاضی مظہر حسین، مولانا محمد سرفرازخان صفدر، مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید رحمہم اللہ!

(۴)… ’’احتساب ِ ناصبیت‘‘ نامی مجموعہ اکابر اہل سنت کی تحریرات پر مشتمل ہے ، جس میں مذکور اَفکار و خیالات قرآن و سنت، صحابہ و اہل بیت اور جمہور اہل سنت کے مطابق ہیں۔ (چند ایک عبارات جو جمہور سے ہٹی ہوئی ہیں، اُن کی تردید کتاب میں اُسی مقام پر[حاشیہ میں] یا دوسری جگہ موجود ہے۔)اُسلوب ِ تحریر اور اندازِ بیان ہر مزاج کا مختلف ہوتا ہے، لیکن ضروری نہیں کہ جو اندازِ بیان ہمیں اپنے خیال کے مطابق نامناسب لگے وہ واقعی نامناسب بھی ہو!خصوصاً جب وہ حد ِ جواز میں ہو۔ لہٰذا محض اُسلوب ِ تحریر کی وجہ سے کسی کو ناقد، بے ادب اور گستاخ قرار دینا غلط ہے۔(البتہ عوام الناس کی خاطر بعض دیگر مقامات پر وضاحتی حواشی کا مطالبہ درست ہوسکتا ہے۔)

جب ’’احتساب ِ ناصبیت‘‘ میں درج اَفکار قرآن و سنت ، صحابہ و اہل بیت اور اُمت کے سوادِ اعظم کے عین مطابق ہیں تو نتیجہ یہ ہوگا کہ اگر یہ سب ٹھیک ہیں تو احتساب ِ ناصبیت نامی مجموعہ میں درج اَفکار بھی ٹھیک ہیں، اور جن لوگوں کے نزدیک احتساب ِ ناصبیت میں درج اَفکار درست نہیں تو گویا اُن کے نزدیک پوری اُمت ہی غلط ہے.

(۵)… قاطع قادیانیت مولانا اللہ وسایاصاحب سے ہمیں اُن تمام چیزوں میں اختلاف ہے، جن میں وہ جمہور اُمت خصوصاً اس میدان کے ماہرین کی اکثریت سے الگ رائے یا عمل اختیار کیے ہوئے ہیں، مثلاً: [۱]-عقیدہ اِمامت کو ختم نبوت کے منافی سمجھنے کو غلط قرار دینا۔

[۲]-بعض اہل تشیع (جیسے اسماعیل گوجروی) کے نام کے ساتھ جگہ جگہ ’’ؒ‘‘ کا نشان لگانا۔وغیرہ

اور ہم اسے شائع بھی کرچکے ہیں، لیکن ’’احتساب ِ ناصبیت‘‘ کی حد تک چونکہ مولانا اللہ وسایا صاحب اُمت کے سوادِ اعظم بلکہ اجماع کے ساتھ کھڑے ہیں، اِس لیے اِس معاملے میں اُن سے اختلاف کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے.

(۶)…مولانا اللہ وسایا صاحب نے ’’احتساب ِناصبیت‘‘ میں تعارفی کلمات کے سوا کچھ نہیں لکھا، لہٰذا دیگر حضرات کی تحریرات نشان زد کرکے صاحب ِ تحریر کا نام لیے بغیر صرف مولانا اللہ وسایا صاحب کا نام لینا دیانت و انصاف کے خلاف ہے اور ناقدین کی اخلاقی جرأت کو بھی خوب واضح کر رہا ہے.

(۷)…حضرت نانوتویؒ کی جس عبارت پر اعتراض کیا جارہا ہے، علامہ خالد محمود ؒ اُس کا جواب برسوں پہلے ’’معیارِ صحابیت‘‘ میںدے چکے ہیں اور مولانا ضیاء الرحمن فاروقی شہیدؒ مولانا اعظم طارق شہیدؒ اس پر مطمئن ہیں. (۸)…باغی، خاطی، جائر وغیرہ الفاظ پر اعتراض کی حقیقت مجلہ صفدر کے تازہ شمارہ کے اِداریہ میں ملاحظہ فرمائیں، خلاصہ یہ ہے کہ بعض جگہ اِن الفاظ کا اصطلاحی معنی اور بعض جگہ ظاہری صورت مراد ہے مشہور معنی مراد نہیں، جیسا کہ قرآن میں انبیاء کی طرف منسوب الفاظ: عصیان، ظلم، غوی اور ضل وغیرہ کا مشہور معنی مراد نہیں ہے.

(۹)…نیز یہ الفاظ سیدنا معاوؓیہ کی پوری زندگی یا آخری وقت کے اعتبار سے نہیں بلکہ اُن کی ۵۳؍ سالہ اسلامی زندگی کے صرف دَورِ مرتضوی والے پانچ سال کے اعتبار سے ہیں ۔ اور صلح حسنؓ کے بعد ان الفاظ کی نسبت بھی ختم ہے۔ اور یہ الفاظ محمود عباسی، مولانا اسحاق سندیلوی، ابوریحان مولانا عبدالغفور سیالکوٹی، عظیم الدین صدیقی اور قاضی طاہر ہاشمی کے جواب میں لکھے گئے جنہوں نے دَورِ مرتضوی میں سیدنا علیؓ کو نعوذباللہ ناکارہ و ناکام اور سیدنا معاوؓیہ کو درست ، اَحق بالخلافہ یا قیادت کے زیادہ قابل باورکرایا۔ تو مجبوراً اُنہیں بتایا گیا کہ احادیث ِ مبارکہ میں اور اُن کی تشریح میں جمہور اُمت کے ہاں حضرت معاوؓیہ کے لیے یہ یہ الفاظ (اصطلاحی یا ظاہری معنی میں)استعمال ہوئے ہیں۔ لہٰذا سیدنا علی ؓ کے مقابل اُن کو درست یا زیادہ قابل کہنا مسلک ِ اہل سنت کے خلاف ہے.

*فرمانِ قائد اہل سنتؒ:* اگر کوئی حضرت علیؓ کوحضرت ابوبکرؓ سے زیادہ قیادت کے قابل کہے تو ہم حضرت ابوبکرؓ کا دِفاع کریں گے، لیکن حضرت علیؓ کا شرعی مقام مد نظر رکھیں گے۔ اِسی طرح اگر کوئی سیدنا معاوؓیہ کو سیدنا علیؓ سے زیادہ قابل و حق دار کہے تو ہم سیدنا علیؓ کا دفاع کریں گے لیکن سیدنا معاوؓیہ کی عظمت و شان کا پورا خیال رکھیں گے.

(۱۰)…’’احتسابِ ناصبیت ‘‘کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے والے تین قسم کے لوگ ہیں:

[۱]-ناصبی یا ناصبی اثرات سے متأثر لوگ۔

[۲]-شرعی و علمی اصطلاحات سے ناواقف سادہ لوگ۔

[۳]-مولانا اللہ وسایا سے کسی بھی وجہ سے اختلاف رکھنے والے لوگ!

گزارش یہ ہے کہ: اپنا غصہ مولانا اللہ وسایا کے بجائے اکابر اہل سنت اور مسلک ِ اہل سنت پر نکالنے سے پرہیز کیجیے! واللہ المؤفق!

کالم نگار : (مدیر:مجلہ صفدر)
| | |
289