(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولاناآصف ظہیر،کوہاٹ

مولاناآصف ظہیر،کوہاٹ

پروفائل | تمام کالمز
2026/10/14
موضوعات
اچھے استاد کی بیس خوبیاں
مدرسے میں استاد کا منصب محض سبق پڑھانے تک محدود نہیں، بلکہ وہ طلبہ کی تعلیم، تربیت، نظم و ضبط اور کردار سازی کا بھی ذمہ دار ہوتا ہے۔ ایک اچھا مدرس اپنی علمی ذمہ داریوں کے ساتھ طلبہ کی اخلاقی تربیت، ادارے کے نظم و ضبط اور تعلیمی ماحول کی بہتری میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ایک ذمہ دار استاد کی متعدد خوبیاں ہوتی ہیں، جن میں سے 20 اہم خوبیاں درج ذیل ہیں:

### 1۔ اپنی کلاس کو اولین ترجیح دینا
ایک اچھے مدرس کی سب سے پہلی اور بنیادی ذمہ داری اس کی اپنی کلاس ہے۔ کلاس کا نظم و ضبط برقرار رکھنا، طلبہ کے اسباق سننا، ہر طالب علم کی منزل کی نگرانی کرنا اور اس کی تعلیمی کیفیت پر نظر رکھنا ایک ذمہ دار استاد کی بنیادی خصوصیات ہیں۔

### 2۔ طلبہ کی حاضری اور تعلیمی ریکارڈ برقرار رکھنا
ہر طالب علم کی حاضری کا باقاعدہ ریکارڈ رکھنا اور اس کی تعلیمی و دینی کارکردگی کی رپورٹ مرتب کرنا استاد کی ذمہ داری ہے۔ اس ریکارڈ کو باقاعدگی سے اپ ڈیٹ کرتے رہنا چاہیے، تاکہ طالب علم کی تعلیمی ترقی یا کمزوری کا بروقت اندازہ لگایا جا سکے۔

### 3۔ کمزور طلبہ کی اصلاح کی کوشش کرنا
ایک ذمہ دار استاد کمزور طالب علم کو نظر انداز کرنے کے بجائے اس کی تعلیمی بہتری کے لیے حتی الامکان کوشش کرتا ہے۔ اگر مسلسل کوشش کے باوجود مطلوبہ بہتری نہ آئے تو بروقت انتظامیہ اور والدین کو آگاہ کرنا بھی اس کی ذمہ داری ہے، تاکہ طالب علم کی اصلاح کے لیے مناسب اقدامات کیے جا سکیں۔

### 4۔ طلبہ کی اخلاقی اور اصلاحی تربیت
استاد کا کام صرف سبق پڑھانا اور سننا نہیں، بلکہ طلبہ کے اخلاق، کردار، آداب اور عادات کی اصلاح کرنا بھی ہے۔ ایک اچھا استاد اپنے عمل اور رویے سے طلبہ کے لیے عملی نمونہ بنتا ہے، کیونکہ طلبہ استاد کی باتوں کے ساتھ ساتھ اس کے کردار سے بھی بہت کچھ سیکھتے ہیں۔

### 5۔ وقت اور مقررہ اوقات کی پابندی
کلاس، اسمبلی، بزم، نصابی و غیر نصابی سرگرمیوں اور مدرسے کے دیگر پروگراموں کے مقررہ اوقات کی پابندی ضروری ہے۔ اگر کسی حقیقی ضرورت کے باعث استاد کو تاخیر ہونے کا امکان ہو تو اسے انتظامیہ یا متعلقہ ساتھی اساتذہ کو بروقت اطلاع دینی چاہیے اور متوقع وقتِ آمد بھی بتانا چاہیے، تاکہ کلاس اور مدرسے کا نظام متاثر نہ ہو۔

### 6۔ نماز کی پابندی اور عملی تربیت
ایک اچھا استاد نماز کے اوقات کی پابندی کرتا ہے اور طلبہ کے سامنے خود عملی نمونہ بنتا ہے۔ وہ فرض نمازوں کے ساتھ ان سے پہلے ادا کی جانے والی سنتوں کا بھی وقت پر اہتمام کرتا ہے، تاکہ طلبہ کو نماز کی پابندی کی تعلیم محض زبانی نہ دی جائے، بلکہ عملی طور پر بھی اس کی تربیت ملے۔

### 7۔ مدرسے کی نصابی و غیر نصابی سرگرمیوں میں تعاون
ایک ذمہ دار استاد صرف اپنی کلاس تک محدود نہیں رہتا، بلکہ اسمبلی، بزم، تربیتی پروگراموں، نصابی سرگرمیوں اور غیر نصابی پروگراموں میں بھی بھرپور تعاون کرتا ہے۔ وہ ادارے کے اجتماعی نظام کا حصہ بن کر اس کی تعلیمی و تربیتی سرگرمیوں کی کامیابی میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔

### 8۔ طلبہ کی حفاظت اور ان کا مکمل خیال رکھنا
طلبہ والدین کی طرف سے مدرسے کی امانت ہوتے ہیں۔ استاد کو ان کی تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کی حفاظت، ضروریات، باہمی تعلقات اور عمومی حالات پر بھی نظر رکھنی چاہیے۔ طلبہ کے کسی اہم مسئلے، پریشانی یا نامناسب صورتِ حال کو نظر انداز کرنے کے بجائے اس کے حل کے لیے مناسب اقدام کرنا چاہیے۔

### 9۔ مدرسے کی اشیاء اور وسائل کی حفاظت
مدرسے کی عمارت، کتابیں، فرنیچر، تعلیمی سامان اور دیگر وسائل امانت ہیں۔ ایک اچھا مدرس خود بھی ان کی حفاظت کرتا ہے اور طلبہ کو بھی ان اشیاء کی قدر کرنے اور انہیں محفوظ رکھنے کی تربیت دیتا ہے۔

### 10۔ مدرسے کے مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دینا
ایک ذمہ دار استاد مدرسے کو محض ملازمت کی جگہ نہیں سمجھتا، بلکہ اسے ایک ذمہ داری اور امانت تصور کرتا ہے۔ جہاں ذاتی سہولت اور ادارے کے اجتماعی مفاد میں فرق ہو، وہاں حتی الامکان ادارے کے مفاد کو ترجیح دینا اس کی ذمہ داری اور احساسِ امانت کی علامت ہے۔

### 11۔ انتظامیہ کے ساتھ تعاون اور مشاورت
ایک ذمہ دار استاد مدرسے کی انتظامیہ اور منتظمین کے ساتھ تعاون کرتا ہے۔ ادارے کی بہتری کے لیے دی جانے والی مناسب ہدایات اور مشوروں کو انا یا ضد کا مسئلہ بنانے کے بجائے نظم و ضبط اور باہمی مشاورت کے ساتھ آگے بڑھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اختلافِ رائے کی صورت میں بھی مناسب اور مہذب انداز اختیار کرتا ہے۔

### 12۔ غیر ضروری چھٹیوں سے اجتناب
استاد کی غیر حاضری براہِ راست ادارے کے نظام اور طلبہ کی تعلیم پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اس لیے غیر ضروری چھٹیوں سے حتی الامکان اجتناب کرنا اور مقررہ تعطیلات و منظور شدہ رخصتوں کے نظام کی پابندی کرنا چاہیے، تاکہ طلبہ کا تعلیمی نقصان نہ ہو اور تدریسی نظام تسلسل کے ساتھ جاری رہے۔

### 13۔ ساتھی اساتذہ کے ساتھ اتحاد اور احترام
تمام اساتذہ ایک ادارے اور ایک مقصد کے لیے کام کرتے ہیں۔ باہمی احترام، اتحاد، اتفاق اور خیرخواہی کو برقرار رکھنا ایک ذمہ دار استاد کی اہم خصوصیت ہے۔ اختلافِ رائے ہو تو اسے مناسب انداز، تحمل اور مشاورت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، تاکہ باہمی تعلقات اور ادارے کا ماحول متاثر نہ ہو۔

### 14۔ دوسرے استاد کی کمزوری طلبہ کے سامنے بیان نہ کرنا
اگر کسی ساتھی استاد میں کوئی کمزوری یا غلطی نظر آئے تو اسے طلبہ کے سامنے بیان کرنا مناسب نہیں۔ اصلاح کی ضرورت ہو تو مناسب وقت اور مناسب انداز میں متعلقہ استاد سے براہِ راست بات کرنی چاہیے، تاکہ اساتذہ کا باہمی احترام بھی قائم رہے اور طلبہ کے دلوں میں اساتذہ کی قدر و منزلت بھی برقرار رہے۔

### 15۔ تنقید کا مقصد اصلاح ہونا چاہیے
انتظامیہ، اساتذہ یا طلبہ کے کسی معاملے میں کمی محسوس ہو تو تنقید برائے تنقید کے بجائے اصلاح کی نیت سے بات کرنی چاہیے۔ تنقید کا انداز ایسا ہونا چاہیے جو مسئلے کے حل میں مدد دے، نہ کہ کسی کی عزت مجروح کرنے، باہمی اختلافات بڑھانے یا ادارے کے ماحول کو خراب کرنے کا سبب بنے۔

### 16۔ طلبہ کو مدرسے کے ساتھ جوڑ کر رکھنا
ایک ذمہ دار استاد طلبہ کے دلوں میں مدرسے، قرآن مجید، اساتذہ اور دینی ماحول کی محبت پیدا کرتا ہے۔ وہ طلبہ کو ادارے کے نظم و ضبط کا احترام سکھاتا ہے اور ان کی ایسی تربیت کرتا ہے کہ وہ مدرسے کے ساتھ مثبت تعلق برقرار رکھیں اور اس کی علمی و تربیتی سرگرمیوں میں دلچسپی لیں۔

### 17۔ مالی معاملات میں دیانت اور شفافیت
مدرسے کے مالی معاملات انتہائی حساس نوعیت کے ہوتے ہیں۔ استاد کو غیر ضروری مالی معاملات میں مداخلت سے گریز کرنا چاہیے اور اگر اسے کوئی مالی ذمہ داری سونپی جائے تو اسے مکمل دیانت، امانت اور شفافیت کے ساتھ ادا کرنا چاہیے۔ مالی معاملات میں ذاتی مفاد، بے احتیاطی اور غیر واضح طرزِ عمل سے اجتناب ضروری ہے۔

### 18۔ ادارے کے راز اور امانت کی حفاظت
ادارے کے اندرونی معاملات، انتظامی گفتگو اور دیگر حساس معلومات امانت ہوتی ہیں۔ ایک ذمہ دار استاد انہیں غیر متعلقہ افراد تک پہنچانے یا بلاجواز افشا کرنے سے گریز کرتا ہے۔ اختلاف یا ناراضی کی صورت میں بھی ادارے کی امانت، رازداری اور وقار کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

### 19۔ ادارہ چھوڑنے کے بعد بھی اس کی عزت کا خیال رکھنا
اگر کوئی استاد کسی وجہ سے ادارہ چھوڑ دے تو اس کے بعد بھی سابق ادارے کی عزت اور وقار کا خیال رکھنا چاہیے۔ ذاتی اختلافات اپنی جگہ، لیکن ان کی بنیاد پر ادارے کی بدنامی، غیر ضروری طور پر اندرونی معلومات افشا کرنا یا طلبہ کے درمیان ادارے کے خلاف منفی ماحول پیدا کرنا مناسب نہیں۔ ایک باوقار استاد اختلاف کے باوجود اخلاقی حدود اور امانت کے تقاضوں کو ملحوظ رکھتا ہے۔

### 20۔ اپنا کردار طلبہ کے لیے عملی نمونہ بنانا
یہ ایک اچھے استاد کی اہم ترین خصوصیات میں سے ہے۔ استاد کا اخلاق، گفتگو، نماز کی پابندی، وقت کی پابندی، ساتھیوں کے ساتھ رویہ، انتظامیہ سے معاملہ کرنے کا انداز، دیانت، صبر اور تحمل—یہ سب طلبہ کی نگاہ میں ہوتے ہیں اور وہ ان سے سیکھتے ہیں۔اس لیے ایک ذمہ دار استاد کو ہمیشہ یہ کوشش کرنی چاہیے کہ اس کا کردار طلبہ کے لیے ایک مؤثر تربیتی کتاب بن جائے۔ اس کی شخصیت، قول و فعل اور روزمرہ کا طرزِ عمل طلبہ کو اچھا انسان بننے اور اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کرنے کی ترغیب دے۔

ایک ذمہ دار استاد وہ ہے جو صرف یہ نہ دیکھے کہ اسے کیا کرنا ہے، بلکہ یہ بھی سوچے کہ اس کے طرزِ عمل سے طلبہ اور ادارے کو کیا فائدہ پہنچ رہا ہے۔اپنی کلاس سے لے کر پورے ادارے تک، اپنی حاضری سے لے کر اپنے کردار تک، اور اپنے وقت سے لے کر اپنی امانت تک، ہر معاملے میں احساسِ ذمہ داری ہی ایک استاد کو حقیقی معنوں میں ذمہ دار مدرس بناتا ہے۔استاد کا منصب ایک عظیم امانت ہے۔ اس امانت کا حق ادا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ علم کے ساتھ عمل، تدریس کے ساتھ تربیت اور اپنے حقوق کے ساتھ فرائض کا بھی خیال رکھے۔اللہ تعالیٰ اسکولوں، مکاتب اور مدارس کے تمام اساتذہ کو اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کرنے، طلبہ کے لیے بہترین عملی نمونہ بننے اور نئی نسل کی علمی و اخلاقی تربیت کا حق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین!

کالم نگار : مولاناآصف ظہیر،کوہاٹ
| | |
98     1