(+92) 319 4080233
کالم نگار

ابوالصلاح فاروقی

ابوالصلاح فاروقی

پروفائل | تمام کالمز
2026/10/15
موضوعات
ہر معاملے میں اعتدال کی ضرورت ہے
متنازعہ تحریر کے حوالے سے مولانا اللہ وسایا صاحب حفظہ اللہ ،مولانا عبد الرشید نعمانی صاحب رحمہ اللہ کی کتاب کاحوالہ دے رہے ہیں کہ یہ انہوں نے لکھا ہے، میں نے نہیں لکھا، اوریہ کہ کاتب وحی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی گستاخی کا ہم تصور بھی نہیں کرسکتے، وغیرہ - مولانا عبد الرشید نعمانی صاحب رحمہ اللہ سے 1997کے سال ہم کراچی یونیورسٹی جاکر ملتے رہے، اس وقت وہ کمزور ہوچکے تھے ،نہایت عابد وزاھد اور متواضع عالم تھے، سخت کمزوری کے باوجود ان کو مسجد میں نماز باجماعت کے لئے صف اول میں لایا جاتا تھا, ضعف وپیرانہ سالی کی وجہ سے انہوں نے باقاعدہ مدرسہ میں پڑھانے کا سلسلہ چھوڑ دیا تھا ،بڑے اللہ والے اور نہایت تحقیقی مزاج کے عالم دین تھے،ان سے ہم نے اجازت حدیث بھی لی تھی ، مادرعلمی جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کے قدیم استاذ تھے، استاذمحترم حضرت مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق سکندر صاحب رحمہ اللہ اور ہمارے دیگر اکابر علماء کرام کے بھی استاذ تھے، ان کی مشہور تالیفات میں: "ماتمس الیہ الحاجۃ لمن یطالع سنن ابن ماجۃ" ہے،علوم حدیث میں حد درجہ ماہر تھے، عرصہ دراز تک اصول حدیث پڑھاتے رہے،بعد میں ان کے برادرمحترم حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالحلیم چشتی صاحب رحمہ اللہ بھی ان ہی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں شعبہ تخصص فی الحدیث کے نگران رہے اور جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کے علاوہ جامعۃ الرشید میں بھی دورہ حدیث میں پڑھاتے رہے- (5)-ان تمام تر صلاحیتوں اور اعترافات کے باوجود انسان سے غلطی ہوسکتی ہے،انہوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق کچھ الفاظ ایسے نقل فرمائے ہیں کہ ان سے بادی النظر میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی شان میں بظاہربے ادبی سی مترشح ہوتی ہے- عرض ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ناموس اور عزت وتقدس کی حفاظت ہم سب مسلمانوں کے لئے اہم اور اولین ترجیح ہے،ان کے بارے میں کسی بھی صاحب علم وفضل کی دانستہ یا نادانستہ غلطی کو ہم بڑے ادب واحترام سے رد کرتے ہیں اور اس قسم کی غلطی کو بعض اہل علم کی اجتہادی غلطی سمجھتے ہیں،اس اجتہادی اور علمی غلطی کی وجہ سے ہم اپنے ان اکابر علماء کرام رحمہم اللہ کی شان ،عزت واحترام میں گستاخی کو بھی غلط ،گناہ اور بے ادبی سمجھتے ہیں- (6)-آمدم برسر مطلب: مسلم شریف کی روایت میں ہے کہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ کوایک موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتھا: "تقتلک الفئۃ الباغیۃ" (مشکاۃ المصابیح: ص: 532، باب فی المعجزات ،الفصل الاول ،ط: میزان لاہور-) "یعنی وقت کے امام کی اطاعت سے نکلنے والا فرقہ تجھے قتل کرے گا" - اطاعت سے نکلنے والا فرقہ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھی تھے، جنہوں نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ پر بیعت نہیں کی تھی اور پھر حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی مخالفت میں اٹھ کھڑے ہوئے, حضرت عمار رضی اللہ تعالی عنہ, حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ تھے اور ان مخالفین کے ہاتھوں شہید ہو گئے - اس بارے میں عرض ہے کہ ایک تو اس سے ہمارے زمانہ میں استعمال ہونے والا اردو کا لفظ باغی اور سرکش مراد نہیں ہے بلکہ مراد امام وقت کی اطاعت سے نکلنے والے لوگ ہیں- دوسری بات یہ ہے کہ اگرچہ جمہور کا یہ مسلک ہے کہ اس قضیہ میں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ حق پر تھے اور حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ سے اجتہادی غلطی ہو گئی تھی لیکن یہ مشاجرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا معاملہ ہے جن کے متعلق تمام اہل السنت والجماعۃ کا مسلک "کف لسان" (زبان کو قابو میں رکھنے)کا ہے, حضرت عمر ابن عبدالعزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "تلك دماء طهر الله منها سيوفنا فلا نلوث بها السنتنا" - ترجمہ: یہ ایسے خون ہیں کہ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمارے ہاتھوں کوان سے محفوظ کیا ہے تو ہم پر فرض ہے کہ ہم اپنے مسلمان بھائیوں کے درمیان ہونے والی اس خونریزی سے اپنی زبانوں کو بھی محفوظ رکھیں- بحوالہ حاشیہ مشکاۃ المصابیح- (حوالہ بالا)- ایک گھر میں سگے بھائیوں کا بھی اختلاف ہوتا ہے لیکن اختلاف کے باوجود دشمنی نہیں ہواکرتی- نیزملا علی قاری رحمہ اللہ نے اسی حدیث کے تحت یہ بات بھی نقل کی ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ اس میں تاویل کرتے تھے کہ الباغیۃ کا مطلب ہے، "الطالبۃ دم عثمان " کہ ہم حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خون کے بدلہ کو طلب کرنے والے ہیں- نیز شارح بخاری علامہ کرمانی رحمہ اللہ نے"الباغیۃ کا مطلب ،الجماعۃ المخطئۃ" "غلطی کرنے والی جماعت "بھی نقل فرمایا ہے- آگر چہ استاذ محترم حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب حفظہ اللہ کے ذکر کردہ مولانا عبد الرشید نعمانی صاحب رحمہ اللہ کے حوالے کے علاوہ ان سے قبل بھی کئ اہل علم نے اس حدیث شریف کے ظاہر کو دیکھتے ہوئے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو لغوی معنی یا کسی تاویلی معنی کی وجہ سے حدیث کے ظاہری الفاظ کو دیکھتے ہوئے باغی کا لفظ ضرور کہاہے- ایک بات یہ بھی ہے کہ ہمارے اساتذہ کرام رحمہم اللہ کے استاذ حضرت مولانا محمد نافع رحمہ اللہ اپنی کتاب میں تحریر فرماتے ہیں : "حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے ساتھ مصالحت اور بیعت کے بعد حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تمام اہل اسلام کے لئے ایک صحیح اور مسلم خلیفہ منتخب ہو گئے تھے، اندریں حالات یعنی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے خلیفہ برحق اور امام صادق منتخب ہونے کے بعد ان کے حق میں طاغی اور باغی ہونے کا قول کرنا حقیقت واقعہ کے خلاف ہے اور اس دور کے تمام صحابہ کرام اور تمام ہاشمی حضرات کے متفقہ فیصلے کی تغلیط ہے، خلاصہ کلام یہ کہ مذکورہ صلح و مصالحت کے بعد حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ نہ باغی ہیں،نہ طاغی ہیں،نہ فاسق ہیں،نہ جائر ہیں،نہ ظالم ہیں, بلکہ اہل اسلام کے لئے برحق خلیفۃ المسلمین اور امیر المومنین اور امام صادق ہیں- (سیرت سیدنا علی المرتضی کرم اللہ وجہہ- ص:364 تا 386 ،ط: لاہور )- (7)- یہاں تک تو بات باغی کے لفظ کی تھی فقط- لیکن حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے نام کے ساتھ باغی کے لفظ کے بعد جائر بمعنی ظالم کالفظ کسی معتبر صاحب علم نے ذکر نہیں کیا ہے الامنقولا عن صاحب الھدایۃ رحمہ اللہ- (اگرچہ کچھ حضرات سلطان جائر کے لفظ کی بھی توجیہ کرتے ہیں لیکن وہ توجیہ کچھ بعید اور کمزور سی معلوم ہوتی ہے-)- (8)-درس نظامی میں پڑھائی جانے والی فقہ کی مشہور کتاب ھدایہ میں صاحب ھدایہ رحمہ اللہ نے فرمایا ہے: "ثم یجوز التقلد من السلطان الجائر کمایجوز من العادل لان الصحابۃ تقلدوا من معاویۃ والحق کان بید علی فی نوبتہ"- الھدایۃ:ص:142,جلد 3,کتاب ادب القاضی, ط:رحمانیہ لاہور - ترجمہ: "اور پھر ظالم بادشاہ کی طرف سے عہدہ قضاء قبول کرنا جائز ہے جیسے عادل بادشاہ کی طرف سے جائز ہے، اس لئے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے عھدہ قضا قبول کیاہے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی باری میں حق خلافت حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں تھا"- صاحب ھدایہ کے اس حوالے کے بارے میں عرض ہے کہ صاحب ھدایہ رحمہ اللہ سے جہاں کچھ دیگر مسامحات ہوئے ہیں، وہاں ان میں ایک تسامح حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے لئے جائر (ظالم ) کے لفظ کااستعمال بھی ہے- (اس طرح کے مسامحات کسی بھی عالم دین سے ہواکرتے ہیں،ان کے علاوہ کئ علماء کرام بلکہ بعض محققین علماء کرام کے مسامحات اور زلات کتابوں میں مذکور ہیں)- صاحب ھدایہ کے اس تسامح کے بارے میں بطور تایید صرف یہ ایک مختصر حوالہ پیش خدمت ہے: مدرس دارالعلوم دیوبند حضرت مولانا جمیل احمد سکروڈھوی رحمہ اللہ ہدایہ کی شرح میں فرماتے ہیں: " خادم کے نزدیک حضرت معاویہ ابن ابی سفیان رضی اللہ تعالی عنہ کو سلطان جائر کی نظیر میں پیش کرنا صاحب ہدایہ رحمہ اللہ کے لئے کسی طرح مناسب نہیں، زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کا حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی مخالفت کرنا اجتہادی خطا تھی اور مجتہد کی خطا معاف ہی نہیں بلکہ اس پر ایک اجر بھی ملتا ہے، پس جس خطا کو معاف کر دیا گیا ہو بلکہ اس پر اجر بھی ملتا ہو اس کی وجہ سے جائر اور ظالم کے الفاظ استعمال کرنا صاحب ہدایہ جیسے عظیم المرتبت اور صاحب ورع حضرات کے لئے زیب نہیں دیتا- -- امام ترمذی رحمہ اللہ مناقب حضرت معاویہ ابن ابی سفیان میں حضرت عبدالرحمن ابن ابی عمیرہ رحمہ اللہ کی روایت نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا, اے اللہ تو اسے ہدایت والا اور ہدایت پانے والا بنا اور اس کے ذریعے لوگوں کو ہدایت دے --- چونکہ صاحب ھدایہ بھی ہمارے بزرگ ہیں ،صاحب علم و فضل ہیں ورع و تقوی کے مالک ہیں, اس لئے یہی کہا جاتا ہے کہ یہ سبقت قلم کا نتیجہ ہے، اور مصنفین اور مؤلفین سے اس طرح کی بھول چوک بعید از قیاس بھی نہیں ہے"- اشرف الھدایہ: ص: 254, جلد نہم ،ط: دارالاشاعت ،2005- (9-)- نیزاہلِ بیت رضوان اللہ علیہم اجمعین کی محبت، عظمت، فضیلت اور شرافت اپنی جگہ مسلم ہے۔ ہمیں ان فضائل کا ہرگز انکار نہیں۔ لیکن خلفائے راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین، خصوصاً حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ،حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی قربانیاں بھی کچھ کم نہیں۔ قرآن، حدیث اور تاریخ ان کے فضائل و مناقب سے بھری پڑی ہے, بعض لوگ صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی محبت میں اہلِ بیت رضوان اللہ علیہم اجمعین کی شان میں تنقیص کے مرتکب ہو جاتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ اہلِ بیت رضوان اللہ علیہم اجمعین کی محبت میں بعض صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر تنقید شروع کر دیتے ہیں۔ یہ دونوں طرزِ عمل درست نہیں۔ اہلِ بیت اور صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، سب ہماری آنکھوں کے تارے ہیں اور سب کی قربانیاں ہمارے لئے مشعلِ راہ ہیں۔" خلاصۂ کلام یہ ہے کہ شریعتِ مطہرہ ہر معاملے میں اعتدال، توازن اور انصاف کا درس دیتی ہے۔ افراط و تفریط سے بچنا اور تمام مقدس ہستیوں کے حقوق و مراتب کا لحاظ رکھنا ہی اہلِ سنت کا معتدل اور منصفانہ طرزِ فکر ہے۔ ہم سب کو چاہیئے کہ قرآن و سنت کی تمام واضح نصوص کو سامنے رکھتے ہوئے اعتدال کا راستہ اختیار کریں۔ (10)-چونکہ معاملہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ناموس اور تقدس کا ہے اس لئے اس میں سوچ سمجھ کر رائے وغیرہ قائم کرنے کی ضرورت ہے - مستقبل میں پوری تحقیق اور ذمہ داری سے اس طرح کی تحریرات کو لکھنے یا منقول تحریرات کو آگے پیش کرنے سے پہلے ان کو عمیق نظر سے دیکھ کر آگے شائع کرنے کی ضرورت ہے - صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین قرآنی شخصیات ہیں ،تاریخی نہیں- (11)-مزید یہ کہ اہل علم میں اس طرح کی بعض کمی بیشی کی وجہ سے کسی کو برا بھلا کہنا اور ایک دوسرے کی پگڑیاں اچھالنا، سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کی تضحیک کرنا، محض کسی ایک غلطی کی وجہ سے کسی عالم دین کی زندگی بھر کی صلاحیتوں اورخدمات کا انکار کرکے ان پر پانی پھیردینا ،جذبات میں مزید دوسرے اکابر علماء کرام رحمہم اللہ کی غلطیاں کرید کرید کر نکالنا ،کم از کم اہل علم اور مذھبی طبقے کے لئے مناسب نہیں،بلکہ اسلامی اصولوں کے خلاف ہے - کسی بھی معاملے کو دبانا چاہیئے نہ کہ مزید بڑھانا اورعوام کے دلوں میں مزید شکوک وشبہات پیدا کرنا- اگر واقعی علمی اختلاف کرنا بھی ہے تو ادب واحترام کے دائرہ میں رکھ کر کیا جائے - (12)-اللہ تعالیٰ ہمیں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے نقش قدم پر چلنے اور ان کے متعلق زبان وقلم کو قابو میں رکھنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہر معاملے میں اعتدال پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے - آمین ثم آمین -

کالم نگار : ابوالصلاح فاروقی
| | |
231