(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولانامفتی محمدسلیم معاویہ

مولانامفتی محمدسلیم معاویہ

پروفائل | تمام کالمز
2026/10/14
موضوعات
صحابہ کرامؓ، اکابر اور تاریخی روایات: علمی دیانت کا تقاضا
حالیہ دنوں ’’احتسابِ ناصبیت‘‘ کے عنوان سے مولانا اللہ صاحب کی مرتب کردہ ایک ضخیم کتاب منظرِ عام پر آئی ہے، جس میں سابقہ متعدد کتابوں اور تحریروں کو جمع کرکے بارہ جلدوں کی صورت میں شائع کیا گیا ہے۔ اس کتاب کے عنوان، مندرجات اور اس کے مقصد پر اہلِ علم اپنی اپنی آرا رکھتے ہیں، لیکن ایک مثبت، خیرخواہانہ اور علمی تنقید کے طور پر چند بنیادی سوالات ضرور سامنے آنے چاہییں۔ یہ سوال کسی شخصیت کی تنقیص کے لیے نہیں بلکہ علمی دیانت، ادبِ صحابہؓ اور امت کی اجتماعیت کے تحفظ کے لیے ہیں۔

سب سے بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص مختلف سابقہ کتابوں کو جمع کرکے ایک ضخیم مجموعہ مرتب کرتا ہے، ان میں موجود مواد کو انتخاب کے ساتھ ایک جگہ لاتا ہے، اسے ابواب و جلدوں کی صورت دیتا ہے، اس کا عنوان متعین کرتا ہے اور پھر اسے کسی پلیٹ فارم سے شائع کرتا ہے تو کیا اس کی ذمہ داری صرف اس قدر رہ جاتی ہے کہ وہ یہ کہہ دے کہ ’’یہ میں نے نہیں لکھا، یہ تو فلاں بزرگ یا فلاں مصنف کی کتاب ہے، میں نے تو صرف اسے جمع کیا ہے‘‘؟ یقیناً محض نقل اور تصنیف میں فرق ہے، لیکن جب مختلف مواد کو شعوری طور پر جمع کرکے، منتخب کرکے، مرتب کرکے اور بارہ جلدوں کی صورت میں عوام و خواص کے سامنے پیش کیا جائے تو مرتب بھی اس انتخاب اور اشاعت کی ذمہ داری سے بالکل بری الذمہ نہیں ہوسکتا۔ آپ نے مواد کو صرف الماری میں نہیں رکھا، بلکہ اسے جمع کیا، مرتب کیا، شائع کیا اور قارئین کے سامنے ایک خاص عنوان اور خاص تناظر کے ساتھ پیش کیا۔ لہٰذا اگر اس مجموعے کے کسی حصے پر علمی اعتراض اٹھتا ہے تو محض ’’میں نے نہیں لکھا، فلاں نے لکھا تھا‘‘ کہہ کر بنیادی سوال سے فرار اختیار کرنا کافی نہیں۔

یہاں اصل اصول بہت سادہ ہے: نقل کرنا بذاتِ خود کسی بات کی صحت کی ضمانت نہیں۔ اگر کوئی روایت کمزور ہے تو اسے کسی بڑے عالم کی کتاب میں موجود ہونے سے صحت حاصل نہیں ہوجاتی، اور اگر کسی تاریخی واقعے کی تعبیر محلِ نظر ہے تو اسے جمع کرکے بارہ جلدوں میں شائع کردینے سے وہ عقیدے یا منہج کی قطعی دلیل نہیں بن جاتی۔ کتاب کی ضخامت دلیل کی قوت کا معیار نہیں، جلدوں کی تعداد تاریخی روایت کو صحیح نہیں بناتی اور کسی بڑے نام کی نسبت کسی قول کو قرآن و سنت کا درجہ نہیں دے دیتی۔

یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں اپنے علمی رویے کا غیر جانب دارانہ احتساب کرنا چاہیے۔ اگر کسی بزرگ شخصیت کے دفاع میں یہ دلیل پیش کی جائے کہ ’’انہوں نے اپنی طرف سے کچھ نہیں کہا، انہوں نے تو فلاں مؤرخ، فلاں محدث یا فلاں کتاب سے نقل کیا ہے‘‘ تو پھر یہی اصول ہر شخص کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔ اگر کوئی شخص ہمارے مکتبِ فکر سے باہر ہے اور وہ بھی سابقہ تاریخی کتابوں سے روایات نقل کرتا ہے، تو صرف یہ کہہ دینا کہ ’’اس نے تو خود سے نہیں لکھا‘‘ اس کے لیے بھی کافی ہونا چاہیے۔ لیکن اگر اس کے نقل کردہ مواد میں صحابہ کرامؓ کے بارے میں ایسی تعبیرات موجود ہوں جنہیں ہم اہلِ سنت کے منہج کے خلاف سمجھتے ہیں تو ہم اس کے پورے مجموعۂ استدلال کا علمی جائزہ لیتے ہیں، اس کی غلط تعبیرات کی تردید کرتے ہیں اور اس کے رد میں مستقل کتب بھی لکھی جاتی ہیں۔

یہاں مولانا مودودی کی کتاب ’’خلافت و ملوکیت‘‘ کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ اس کتاب میں تاریخی مصادر اور سابقہ کتابوں سے متعدد روایات و واقعات نقل کیے گئے ہیں۔ اگر اصول یہ ہے کہ ’’مصنف نے اپنی طرف سے نہیں لکھا، صرف سابقہ کتابوں سے نقل کیا ہے‘‘ تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کتاب کے بعض مندرجات پر اہلِ علم نے اعتراض کیوں کیا اور اس کے رد میں مستقل کتابیں کیوں لکھی گئیں؟ اس کا جواب یہی ہوسکتا ہے کہ محض کسی سابقہ کتاب سے نقل کردینا کسی موقف کو لازماً درست نہیں بنا دیتا۔ اصل بحث یہ ہوتی ہے کہ کیا نقل کیا گیا؟ کس روایت کو منتخب کیا گیا؟ اسے کس سیاق میں پیش کیا گیا؟ اس سے کیا نتیجہ اخذ کیا گیا؟ اور کیا وہ نتیجہ قرآن و سنت اور اہلِ سنت کے مسلمہ اصولوں سے ہم آہنگ ہے؟

اگر یہ اصول مودودی صاحب کے لیے درست ہے تو پھر یہی اصول ہمارے اپنے اکابر کے لیے بھی درست ہونا چاہیے۔ اگر مودودی صاحب سابقہ تاریخی مواد جمع کرکے کوئی ایسی تعبیر سامنے لاتے ہیں جس میں ہمیں صحابہ کرامؓ کے بارے میں تنقیص یا نامناسب تعبیر محسوس ہوتی ہے تو ہم صرف یہ کہہ کر خاموش نہیں ہوجاتے کہ ’’انہوں نے تو فلاں تاریخی کتاب سے نقل کیا تھا‘‘ بلکہ ہم کہتے ہیں کہ یہ تعبیر درست نہیں، یہ نتیجہ قابلِ قبول نہیں اور اسے اہلِ سنت کے منہج کی روشنی میں رد کیا جانا چاہیے۔ تو پھر یہی علمی دیانت اپنے اکابر کے بارے میں بھی کیوں نہیں؟

یہاں ایک بات پوری وضاحت کے ساتھ کہنے کی ضرورت ہے کہ کسی بزرگ کی عظمت، اس کے ہر قول کی صحت کی ضمانت نہیں۔ ہمارے اکابر ہمارے محسن ہیں، ان کی علمی خدمات، دینی جدوجہد اور امت کے لیے ان کی قربانیاں اپنی جگہ قابلِ احترام ہیں۔ ہم ان کے ادب، احترام اور حسنِ ظن کے قائل ہیں۔ لیکن اہلِ سنت کے نزدیک عصمت صرف انبیائے کرام علیہم السلام کے لیے ہے۔ کسی غیر نبی کی ذات خواہ کتنی ہی عظیم ہو، اس کے کسی قول پر علمی نقد کا دروازہ بند نہیں ہوجاتا۔

لہٰذا اگر کسی بزرگ شخصیت سے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ یا کسی دوسرے صحابی کے بارے میں ایسی تعبیر منقول ہو جو قرآن و سنت کے اصول، ادبِ صحابہؓ اور اہلِ سنت کے عقائد کے خلاف ہو تو ہمیں اس شخصیت کا دفاع کرنے کے بجائے اس مخصوص قول سے اختلاف کرنا چاہیے۔ ادب کے ساتھ کہنا چاہیے کہ یہ ہمارے بزرگ کا قول ہوسکتا ہے، لیکن ہم اسے درست نہیں سمجھتے۔ یہی علمی دیانت ہے۔ بزرگ کی پوری شخصیت کو رد کرنا بھی درست نہیں اور ان کی ہر بات کا دفاع کرنا بھی ضروری نہیں۔

حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا معاملہ اس سے بھی زیادہ حساس ہے۔ صحابہ کرامؓ کے فضائل اور ان کے مقام کے لیے ہمیں بعد کے مؤرخین کے متنازع بیانات کے محتاج ہونے کی ضرورت نہیں۔ قرآن مجید نے صحابہ کرامؓ کے بارے میں واضح نصوص بیان فرمائی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا کہ اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔ رسول اللہ ﷺ نے بھی صحابہ کرامؓ کے مقام و فضیلت کو واضح فرمایا اور امت کو ان کے بارے میں ادب و احتیاط کی تعلیم دی۔

جب صحابہ کرامؓ کے بارے میں قرآن و سنت کے واضح اصول موجود ہیں تو پھر کسی کمزور تاریخی روایت کو بنیاد بنا کر صحابہ کرامؓ کے باہمی تقابل کا بازار گرم کرنا آخر کیوں ضروری ہے؟ کیا ہم چودہ سو سال بعد بیٹھ کر ان مقدس ہستیوں کے درمیان جج بن سکتے ہیں؟ کیا ہمیں کسی نے یہ منصب دیا ہے کہ ہم صحابہ کرامؓ کے باہمی معاملات کا آخری فیصلہ سنائیں؟ وہ ہم سے بہتر زمانے کے لوگ تھے، رسول اللہ ﷺ کی صحبت سے فیض یافتہ تھے، ان کے حالات، ان کے اجتہادات اور ان کے عہد کے پیچیدہ حالات ہم سے کہیں زیادہ قریب تھے۔ ہم آج تاریخی روایات کے منتشر ٹکڑوں کو جمع کرکے اپنے آپ کو اس پورے معاملے کا حتمی منصف سمجھنے لگیں تو یہ علمی احتیاط کے بجائے کم ظرفی اور کم علمی کا مظہر بن سکتا ہے۔

اہلِ سنت والجماعت کا اصول بھی واضح ہے۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ، پھر حضرت عمر فاروقؓ، پھر حضرت عثمان غنیؓ اور پھر حضرت علی المرتضیٰؓ خلفائے راشدین ہیں اور فضیلت کی معروف ترتیب بھی یہی ہے۔ حضرت علیؓ کی فضیلت، ان کا مقام، ان کی خلافت اور ان کی اہلِ بیت میں عظیم حیثیت اپنی جگہ مسلم ہے۔ ان کی فضیلت ثابت کرنے کے لیے کسی دوسرے صحابی کو مجروح کرنے کی ضرورت نہیں۔خصوصاً حضرت علیؓ اور حضرت امیر معاویہؓ کے حوالے سے گفتگو کرتے وقت انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے۔ حضرت علیؓ خلیفۂ راشد اور جلیل القدر صحابی ہیں، اور حضرت امیر معاویہؓ بھی صحابیِ رسول ﷺ ہیں۔ دونوں کو ایک دوسرے کے مقابل لاکر آج کے دور میں ایسا مقدمہ قائم کرنا جس میں ہم خود مدعی بھی ہوں، وکیل بھی اور جج بھی، علمی احتیاط کے خلاف ہے۔ ایک انتہائی نازک معاملے کو غیر ضروری طور پر عوامی انداز میں تبدیل کردیتا بہت زیادتی ہے۔

اگر کسی بزرگ نے حضرت امیر معاویہؓ کے بارے میں ’’باغی‘‘، ’’خطا پر‘‘ یا کوئی دوسری سخت تعبیر استعمال کی ہے تو ہمارے لیے یہ ضروری نہیں کہ صرف نسبتِ بزرگ کی وجہ سے اس تعبیر کا دفاع کریں۔ ہم صاف اور مؤدبانہ انداز میں کہہ سکتے ہیں کہ یہ تعبیر ہمارے نزدیک درست نہیں، یہ ان کی ایک تاریخی رائے یا اجتہادی تعبیر تھی، ہم اسے قبول نہیں کرتے۔ اس طرح ہم اپنے بزرگ کے احترام کو بھی برقرار رکھتے ہیں اور صحابیِ رسول ﷺ کے ادب کو بھی محفوظ رکھتے ہیں۔

یہی انصاف کا اصول ہے۔ اگر مودودی صاحب کی کسی تحریر میں صحابہ کرامؓ کے بارے میں ہمیں کوئی نامناسب تعبیر نظر آتی ہے تو ہم اسے غلط کہتے ہیں؛ اگر کسی دوسرے مصنف نے ایسی بات لکھی ہے تو ہم اس پر تنقید کرتے ہیں؛ تو پھر اگر ہمارے اپنے کسی بزرگ سے ایسی تعبیر منقول ہو تو ہمیں اسی علمی معیار کے مطابق اس سے بھی اختلاف کرنا چاہیے۔ اپنے اور غیر کے لیے الگ الگ پیمانے رکھنا علمی دیانت نہیں۔

رہی بات یزید کی تو اسے صحابہ کرامؓ کے مباحث کے ساتھ خلط نہیں کرنا چاہیے۔ یزید صحابی نہیں تھا، اس لیے اس کے بارے میں گفتگو کا دائرہ بھی صحابہ کرامؓ کے دائرے سے الگ ہے۔ اہلِ علم نے اس کے بارے میں مختلف تفصیلات بیان کی ہیں، اس لیے اس مسئلے کو بھی جذباتی انداز کے بجائے احتیاط اور علمی دیانت کے ساتھ بیان کرنا چاہیے۔ نہ اسے صحابہ کرامؓ کے برابر رکھا جائے اور نہ اس کے معاملے کو صحابہ کے باہمی فضائل و مناقب کا معیار بنایا جائے۔ جس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے، اسے اللہ کے سپرد کرنا اور امت کو غیر ضروری نزاع سے بچانا زیادہ محتاط طرزِ عمل ہے۔

اب سوال آتا ہے کہ ’’ناصبیت‘‘ کے عنوان سے اتنی بڑی بحث کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اہلِ بیت اطہار سے محبت اور ان کے حقوق کا دفاع یقیناً اہلِ سنت کے عقیدے کا حصہ ہے۔ حضرت علیؓ اور اہلِ بیت کی محبت کے لیے کسی نئے فرقہ وارانہ عنوان کی ضرورت نہیں۔ اسی طرح صحابہ کرامؓ کا ادب بھی اہلِ سنت کے عقیدے کا بنیادی حصہ ہے۔ اگر کسی اصطلاح یا تاریخی بحث کے ذریعے ان دونوں اصولوں کو باہم متصادم بنا دیا جائے تو یہ امت کے لیے مفید نہیں ہوگا۔

خصوصاً ختمِ نبوت کا پلیٹ فارم ایک وسیع اجتماعی پلیٹ فارم ہے۔ اس کی قوت ہی یہ ہے کہ مختلف مکاتبِ فکر کے مسلمان ایک بڑے مشترکہ مقصد پر جمع ہوتے ہیں۔ ایسے پلیٹ فارم پر داخلی تاریخی اور مسلکی اختلافات کو مرکزی موضوع بناتے وقت یہ ضرور دیکھنا چاہیے کہ اس سے اجتماعیت مضبوط ہوگی یا کمزور۔ ہر علمی موضوع اپنی جگہ قابلِ بحث ہوسکتا ہے، مگر ہر موضوع کے لیے ہر پلیٹ فارم موزوں نہیں ہوتا۔ ختمِ نبوت جیسے مشترکہ مقصد کے پلیٹ فارم پر ایسی بحث چھیڑنا جس سے مسلمانوں کے مختلف حلقوں کے درمیان نئی خلیج پیدا ہونے کا اندیشہ ہو، اس پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے۔

اس پوری بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ ہمیں تین اصولوں کو کبھی نہیں بھولنا چاہیے: پہلا، صحابہ کرامؓ کا مقام قرآن و سنت سے متعین ہوگا، کمزور تاریخی روایات سے نہیں۔ دوسرا، اکابر کا احترام لازم ہے مگر ان کے ہر قول کا دفاع لازم نہیں۔ تیسرا، علمی معیار اپنے اور غیر کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔

اگر کوئی بزرگ صحیح بات کہتے ہیں تو ہم ان کی بات کو دلیل کی بنیاد پر قبول کریں گے؛ اگر کسی بزرگ سے خطا ہوجاتی ہے تو ادب کے ساتھ اس خطا کی نشاندہی کریں گے۔ اگر مخالف کوئی درست بات کہتا ہے تو صرف مخالفت کی وجہ سے اسے رد نہیں کریں گے، اور اگر اپنے حلقے کا کوئی شخص غلط بات کہتا ہے تو صرف اپنائیت کی وجہ سے اس کا دفاع نہیں کریں گے۔ یہی علمی انصاف ہے، یہی دیانت ہے اور یہی اہلِ علم کا وقار ہے۔

ہمیں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے درمیان چودہ سو سال بعد بیٹھ کر جج بننے کی ضرورت نہیں۔ وہ اللہ کے بندے تھے، رسول اللہ ﷺ کے صحابہ تھے، ان کے حالات کا پورا علم اللہ تعالیٰ کو تھا اور ہے۔ ہمیں ان کے فضائل بیان کرنے چاہییں، ان سے محبت رکھنی چاہیے، ان کے لیے خیر و رضوان کی دعا کرنی چاہیے اور جہاں تاریخی اختلافات کا ذکر ہو وہاں ادب، احتیاط اور انصاف کو ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہیے۔

اکابر ہمارے سر کا تاج ہیں، مگر قرآن و سنت ہمارے لیے میزان ہیں۔ تاریخی روایات ہمارے لیے تحقیق کا موضوع ہیں، عقیدے کا مستقل سرچشمہ نہیں۔ اور صحابہ کرامؓ ہماری معاصر گروہی کشمکش کے کردار نہیں کہ ہم انہیں ایک دوسرے کے مقابل لاکر آج فیصلے سناتے پھریں۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم دوسروں کے احتساب سے پہلے اپنے منہج کا احتساب کریں۔ اگر ہم واقعی صحابہ کرامؓ کے دفاع کے علمبردار ہیں تو پھر دفاعِ صحابہؓ کا تقاضا یہ بھی ہے کہ خواہ کوئی کتنا ہی بڑا عالم، بزرگ یا اکابر کی جماعت سے تعلق رکھنے والا شخص ہو، اگر اس کی کوئی تعبیر صحابہ کرامؓ کے مقام و ادب کے خلاف ہو تو ہم اس مخصوص تعبیر کو دلیل، ادب اور انصاف کے ساتھ رد کریں۔ شخصیت کا احترام اپنی جگہ، مگر حق کا معیار شخصیت نہیں؛ حق کا معیار قرآن و سنت ہے۔

اور شاید یہی وہ اصول ہے جو ’’احتسابِ ناصبیت‘‘ جیسی تحریروں اور اس کے گرد ہونے والی پوری بحث کو زیادہ سنجیدہ، متوازن اور مفید سمت دے سکتا ہے: ہم ناصبیت کا احتساب ضرور کریں، مگر ساتھ ہی اپنے اندر موجود شخصیت پرستی، غیر منصفانہ دفاع اور دوہرے علمی معیار کا بھی احتساب کریں؛ کیونکہ صحابہ کرامؓ کا دفاع اپنے حلقے میں ہونے والی ہر نامناسب بات کو نامناسب کہنے کی جرأت کا نام بھی ہے۔

کالم نگار : مولانامفتی محمدسلیم معاویہ
| | |
233