(+92) 319 4080233
کالم نگار

مفتی عبدالوہاب سلطان ڈیروی

مفتی عبدالوہاب سلطان ڈیروی

پروفائل | تمام کالمز
2026/10/15
موضوعات
نکھار
میرے بہت ہی پیارے استاذ محترم شیخ رشید اشرف سیفی رحمہ اللہ تعالیٰ نے ایک موقع پر مجھ سے اپنے مخصوص انداز میں فرمایا تھا ، "دیکھو، حضرت (مولانا محمد تقی عثمانی صاحب) کی عربی تحریر کیسی کمال ہوتی ہے، الفاظ عام فہم ہوتے ہیں، مگر چناؤ ایسا نپا تلا ہوتا ہے کہ اصل بات نِکھر کر سامنے آجاتی ہے، "۔۔ پھر تکملہ فتح الملہم میں حضرت کے علمی فکری مباحث کی مثال دی تھی۔

یہ ضابطہ کی طالب علمی کے دوران انہوں نے بندہ کی کسی عربی تحریر یا تقریر پر بطورِ اصلاح فرمائی تھی ۔

آج جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں حضرت شیخ الاسلام صاحب کی برجستہ عربی تقریر سن کر یہ جملے یاد آئے۔

گزشتہ نصف صدی سے حضرت شیخ الاسلام صاحب عالمِ عربی کے علمی اسٹیج پر جس دھج اور جس شان کے ساتھ جلوے بکھیر رہے ہیں، اللہ کرے کہ یہ شان قائم رہے سدا بہار رہے۔ صحت کے ساتھ عافیتوں کے ساتھ ۔۔ عربی میں برجستہ تقریر ہو، ارتجال اور عفویت کے باوصف ایسی مربوط بھی ہو،

مزید برآں موضوع کے حدود اربعہ کے اندر ہو،

قرآن وحدیث کے نصوص ایسے بر محل جَڑگئے ہوں،

عام فہم مگر فصیح الفاظ کا ایسا نپا تلا چناؤ ہو کہ بات نکھر کر سامنے آجاتی ہو، وقار اور متانت اور گفتگو میں ٹہراؤ ان سب پر مستزاد، تعریف وتوصیف میں واقعیت اور اعتدال کا دامن تھاما گیا ہو۔۔۔ اس عمر میں ایسی گفتگو کرنا کسی کرامت سے کم نہیں، ماشاءاللہ ولاحول ولاقوۃ الا باللہ!

تصنع سے بری ہے حسن ذاتی

قبائے گل میں گل بوٹا کہاں ہے

دور شباب کی خطابی جولانیوں کی بات ہی الگ ہے، یمن کے جامعۃ الایمان اور مصر کے المجلس الاعلی للشئون الاسلامیہ وغیرہ میں عہد شباب کے عربی خطبات و محاضرات کا اپنا ہی آہنگ ہوتا تھا ! مولانا حکیم اختر صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ تب حضرت کو پاکستان کا "علی میاں" فرماتے تھے، اب تو عالم عربی کے آسمان علم وفضل پر کمندیں ڈال چکے، یعنی رسمی مؤتمرات واجتماعات تک ہی آپ کے تگ و تاز محدود نہیں رہے، بلکہ بتقاضائے مصروفیت وکِبر سنّی ایسی بیشتر مؤتمرات سے کریمانہ اعتذار ہی فرماتے ہوں گے، اب پالیسی سازی اور معیار سازی کے صف اول کے اداروں کے میرِ کارواں بن گئے ہیں، آپ کا کہا لکھا ان اداروں کے ذریعے بڑے بڑے کارپوریٹس کے لئے سند بن جاتا ہے۔ ذلک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء ۔!

کالم نگار : مفتی عبدالوہاب سلطان ڈیروی
| | |
52