(+92) 319 4080233
کالم نگار
2026/10/15
موضوعات
کس کس کے ہیں پھر ایسے رشتے دار؟
2006ء میں جب ہم جوائنٹ فیملی سسٹم سے الگ ہوئے تو چچی، تائی سب ہمارے سخت خلاف ہوگئے۔ ان کو فرنٹ والا پورشن ملا اور ہمیں سزا کے طور پر پیچھے بھیج دیا گیا۔

بجلی کا بل آتا تو چھپا دیا جاتا۔ تین ماہ بعد میٹر کاٹنے والے آتے تو پتا چلتا کہ بل پہاڑ بن چکا ہے۔ پھر ترلے منتیں کرکے جان چھڑاتے۔ ????

کسی کی شادی کا کارڈ آتا تو تائی محترمہ کارڈ واپس بھجوا دیتیں اور ہماری طرف سے پیغام بھی ساتھ ہوتا:"ہمیں آپ سے کوئی واسطہ نہیں رکھنا!"

خط پتر آتا تو وہ بھی پہلے پورا پڑھا جاتا، پھر دوبارہ پیک کرکے ہمارے حوالے کیا جاتا۔ ????

گھر کے سب لوگ ان حرکتوں سے تنگ تھے، لیکن سارا الزام ہمارے سر تھا، کیونکہ آخر اس غلامانہ جوائنٹ فیملی سسٹم کو توڑا ہی ہم نے تھا! اب ظاہر ہے، مسئلہ ہم نے پیدا کیا تھا تو حل بھی ہمیں ہی کرنا تھا۔ ????

ہم شروع سے دادا جان کے بہت قریب تھے۔ بڑے پوتے ہونے کی وجہ سے اکثر ان کے ساتھ لاہور آتے جاتے تھے۔ دادا جان کی لاہور میں کچھ پراپرٹی تھی، جسے انہوں نے زندگی میں ہی بیچ کر اپنی اولاد میں تقسیم کردیا تھا۔دادا جان کی وفات کے بعد بھی لاہور والوں سے میرا تعلق قائم رہا۔

ایک دفعہ لاہور گیا تو گاڑی میں بیٹھے بیٹھے ایک شرارتی خیال آیا۔ لاہور پہنچ کر دادا جان کے ایک فرضی دوست کی طرف سے اپنے نام ایک خط لکھا:"فوراً لاہور پہنچو۔ دادا جان کی ایک دکان ہے جس کا کسی کو پتا نہیں۔ اسے بیچنا ہے۔ مال روڈ پر دکانوں کے ریٹ اب لاکھوں سے بڑھ گئے ہیں۔"خط پوسٹ کیا اور تیسرے دن واپس گاؤں آگیا۔ ????

اگلے ہی دن تایا جان بوسکی کا سوٹ پہن کر اپنے سالے صاحب کو ساتھ لے کر لاہور روانہ ہوگئے۔

دو دن بعد واپس آئے تو اگلے ہفتے بڑے چاچو اپنے ایک دوست کے ساتھ لاہور پہنچ گئے۔ پٹوار خانہ، تحصیل، رجسٹری آفس… جہاں کہیں ممکن تھا، دادا جان کی فرضی دکان تلاش کرتے رہے۔

ایک مہینہ لاہور کے چکر لگانے کے بعد جب نہ دکان ملی، نہ دادا جان کا دوست، تو فیصلہ ہوا:"خط احمد کو دے دو، پھر اس کا پیچھا کرو۔ لاہور کب جاتا ہے، کس سے ملتا ہے، کہاں جاتا ہے… دکان کا پتا چل جائے گا۔" خط مجھے دے دیا گیا اور میری باقاعدہ ریکی شروع ہوگئی۔ ????

میں سبزی لینے شہر جاتا تو چاچو پیچھے۔ڈیزل لینے پمپ جاتا تو تایا پیچھے۔بھائی کی فیس جمع کروانے جاتا تو تائے کا سالا پیچھے۔مجھے لگا یہ لوگ رشتے دار کم اور RAW کے ایجنٹ زیادہ بن چکے ہیں۔ ????

پھر میں نے بھی کھیل شروع کردیا۔کبھی بلاوجہ کلف لگے کپڑے پہن کر شہر نکلتا، کبھی سڑک کنارے ریڑھی والے سے شربت پیتا اور دو گھنٹے وہیں بیٹھا رہتا۔ وہ دور کھڑے اندازے لگاتے رہتے: "اب پتا نہیں لاہور کی بس پکڑنے والا ہے!" ????

آخر ایک دن مجھے ان پر ترس آگیا۔ کزن کو بتایا:"کل میرے بھائی کو اسکول ساتھ لے جانا، میں فجر کے وقت لاہور جارہا ہوں۔"اگلی صبح پانچ بجے پکی سڑک پر پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں… تایا جان اور چاچو گرمی میں چادر کی بکل مارے، منہ چھپائے کھڑے ہیں۔ ????

بس آئی، ہم الگ الگ بیٹھ گئے۔ساڑھے آٹھ بجے لاہور یادگار پہنچے۔ میں بس کی اگلی کھڑکی سے نیچے اترا تو چاچو اور تایا بھی اتر آئے۔ بس چلنے لگی تو میں پچھلے دروازے سے دوبارہ بس میں بیٹھ گیا۔ ????????

اب بزرگ حضرات بھاگے، رکشہ پکڑا اور بس کے پیچھے لگ گئے۔آگے بس اسٹینڈ آیا، جہاں بس خالی ہونی تھی۔ میں بھی نیچے اتر گیا۔ دونوں ایجنٹ حضرات رکشے میں چھپ کر مجھ پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ ????

ہم پیدل مینارِ پاکستان کی طرف چل پڑے۔ کبھی سانپ اور نیولے کی لڑائی دیکھنے رک جاتے، کبھی کسی حکیم صاحب کی دوائیوں کی تقریر سننے کھڑے ہوجاتے۔دو گھنٹے بعد ناشتہ کیا، داتا دربار گئے، پھر لکشمی چوک کی گلیوں اور سڑکوں کی سیر کرتے ہوئے مغرب کے بعد رکشہ لیا اور پنجاب یونیورسٹی کے ہاسٹل میں دوست کے پاس جاکر رات گزار دی۔اب اللہ جانے تایا جان اور چاچو نے وہ رات کہاں گزاری۔ ????

اگلے دن بارہ بجے اٹھے، ناشتہ کیا، کچھ گھومے، ایک اور خط اپنے نام پوسٹ کیا اور چار بجے والی لاری پکڑ کر واپس گاؤں آگئے۔ہم سے تقریباً دو گھنٹے بعد بزرگ حضرات بھی ناکام و نامراد واپس آگئے۔ ????

تیسرے دن میرا دوسرا خط پہنچا۔اس بار خبر تھی کہ دادا جان کا کسی بینک میں ایک بڑا فکسڈ ڈپازٹ ہے، جو کسی وارث کو مل سکتا ہے۔بس پھر کیا تھا! دوبارہ لاہور بلایا گیا۔اس دفعہ میں لاہور کے تقریباً دس بینکوں میں قرضوں اور اکاؤنٹس سے متعلق معلومات لینے پھرتا رہا اور چاچو بینکوں کے نام لکھتے رہے۔پھر چاچو صاحب دو دن تک انہی بینکوں میں دادا جان کی فرضی کروڑوں کی رقم تلاش کرتے رہے۔ ????

اس بار وہ گاؤں سے ٹیکسی کروا کر گئے تھے۔ٹیکسی والا میرے دوست دیمے کا والد تھا۔ چند دن بعد دیمے نے مجھے کہا:"سنا ہے آج کل کروڑوں کے چکر میں ہو؟ چاچو سے چھپا کر کیا گیم کھیل رہے ہو؟ تمہیں اکیلے نہیں کھانے دیں گے۔ بہت تپے ہوئے ہیں تم پر!" ????????

مجھے لگا اب مذاق کہیں میری جان ہی نہ لے لے۔ سو میں نے نئے خط پھاڑنے کا فیصلہ کیا۔لیکن ساتھ ہی ایک مستقل حل بھی نکال لیا۔گیٹ کے باہر اپنے نام کی نیم پلیٹ لگوائی اور اسی کے اوپر ڈور بیل لگوا دی۔ واپڈا والوں کی منت کرکے کہا کہ بل دینے سے پہلے بیل ضرور بجایا کریں۔اس کے بعد ہماری زندگی آسان ہوگئی۔ ????

لیکن چاچو اور تایا تقریباً دو سال تک اس فرضی دکان اور فرضی فکسڈ رقم کی تلاش میں رہے۔اس واقعے کو تقریباً پندرہ سال گزر گئے۔چند دن پہلے ایک رشتہ دار خاتون نے تائی سے پوچھا:"احمد کا وہاں باہر کوئی اچھا کام ہے کیا؟"

تائی نے فوراً جواب دیا:"ہمارا ہی حق مار کر بھاگا ہوا ہے! دادا کو چونا لگاتا رہا، ہمیں بتائے بغیر ہمارا حصہ کھا گیا۔ حرام کے پیسے ہیں، جتنا بھی کمائے حرام ہی ہے!" ????????????

میں نے سوچا…کچھ رشتے دار آپ سے محبت نہیں کرتے، بس آپ کے پاس کیا ہے، یہ جاننے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔اور اگر انہیں کچھ نہ ملے تو کم از کم ایک کہانی ضرور بنا لیتے ہیں۔ ????

کس کس کے ہیں پھر ایسے رشتے دار؟

مأخَذ

سوشل میڈیا سے انتخاب

کالم نگار : احمد
| | |
66