(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولاناآصف ظہیر،کوہاٹ

مولاناآصف ظہیر،کوہاٹ

پروفائل | تمام کالمز
2026/10/14
موضوعات
امتحان دینے کے لیے راہنما اصول
امتحان یقیناً زندگی کے مراحل میں سے ایک کٹھن مرحلہ ہے، لیکن جس طالب علم نے مکمل تیاری کی ہو، وہ خوف کے بجائے مطمئن ہوتا ہے اور اپنی محنت کے نتیجے پر نظر مرکوز رکھتا ہے۔ واقعی ایامِ امتحان بڑے قیمتی ہوتے ہیں، کیونکہ پورے تعلیمی سال کی کارکردگی کا انحصار انہی ایام پر ہوتا ہے۔ذیل میں چند راہنما اصول لکھے جاتے ہیں جن پر عمل کرنے سے ایک طالب علم مکمل تیاری کے ساتھ امتحان میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتا ہے۔

**1۔** امتحان ہال میں داخل ہونے سے پہلے گتہ، فٹ، مارکر، قلم، دوات، وائٹنر، رول نمبر، نقشۂ نشست میں درج نشست نمبر اور رجسٹریشن کارڈ وغیرہ ساتھ رکھنا نہ بھولیں۔

**2۔** پیچیدہ اور مشکل مقامات، نیز حالاتِ مصنف، تعریف، موضوع، غرض و غایت، خصوصیاتِ ابواب اور اوزانِ صفتِ مشبہ جیسے مقامات پرچے کے دن صبح کے وقت یاد کریں، کیونکہ یہ چیزیں جلدی بھول جاتی ہیں۔

**3۔** سوالیہ پرچہ کھولنے سے پہلے دعاؤں کا خوب اہتمام کریں، مثلاً: **رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا، رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي** وغیرہ، درود شریف اور سورۃ **أَلَمْ نَشْرَحْ** پڑھیں۔

**4۔** پرچے سے پہلے امتحان کی مکمل تیاری کریں۔ تمام کتب کا تکرار امتحان سے قبل ہی مکمل کرلیں۔ دورانِ امتحان اہم مقامات کو دوبارہ اطمینان سے دیکھیں، نیز فضولیات اور ضیاعِ وقت سے اجتناب کریں۔

**5۔** امتحانی کتب کی تیاری کے لیے اپنا نظام الاوقات بنائیں۔

**6۔** اساتذہ سے ہر کتاب اور ہر فن کو یاد کرنے کا طریقہ سیکھیں۔

**7۔** عربی سوال حل کرنے کا طریقہ استاد سے سیکھیں، کیونکہ آج کل وفاق کی بعض کتب میں ایک سوال عربی میں حل کرنا لازمی ہوتا ہے۔

**8۔** پرچے سے پہلے مطمئن رہیں اور دل سے خوف نکال دیں۔

**9۔** جو سوال اچھی طرح یاد ہو، اسے پہلے لکھیں، لیکن یاد رکھیں کہ اگر پہلے سوال کے بجائے دوسرا یا تیسرا سوال حل کررہے ہیں تو ’’الجواب عن السؤال الأول‘‘ کے بجائے متعلقہ سوال کا نمبر، مثلاً ’’الجواب عن السؤال الثاني‘‘ یا ’’الجواب عن السؤال الثالث‘‘ لکھیں۔

**10۔** پرچہ شروع ہونے سے پہلے صلاۃ الحاجۃ کا اہتمام کریں۔

**11۔** پرچہ **بسم اللہ الرحمن الرحیم** سے شروع کرنا چاہیے، عملاً بالحدیث۔

**12۔** پرچہ سیاہ رنگ کے قلم سے حل کرنا چاہیے، البتہ عنوانات کے لیے نیلے رنگ کا قلم استعمال کیا جاسکتا ہے۔ سرخ اور زرد روشنائی سے اجتناب کریں۔

**13۔** جواب کے عنوان کے لیے پورے پرچے میں ایک ہی رنگ کا قلم استعمال کریں اور جواب کے عنوان کو دو لکیروں کے درمیان موٹی لکھائی کے ساتھ لکھیں۔

**14۔** پرچے کے دوران لکھائی ایک ہی قلم اور تقریباً ایک ہی رفتار سے کرنی چاہیے، تاکہ نقل یا بے اطمینانی کا شبہ پیدا نہ ہو۔

**15۔** سوالیہ پرچہ غور سے پڑھنے کے بعد ہر سوال کے لیے مناسب وقت مقرر کریں۔ ایسا نہ ہو کہ پہلے سوال کے حل کرنے میں دو تین گھنٹے صرف کردیے جائیں اور باقی سوالات کو جلدی میں سمیٹنا پڑے۔ ایسا کرنا بھی نقل اور بے اطمینانی کا شبہ پیدا کرسکتا ہے۔

**16۔** پرچہ حل کرتے ہوئے کٹنگ سے حتی الامکان گریز کریں، کیونکہ اس سے نقل کا قوی شبہ پیدا ہوسکتا ہے۔ لہٰذا پہلے سے خوب سوچ سمجھ کر اور دھیان کے ساتھ پرچہ حل کرنے کی کوشش کریں۔ اگر کٹنگ کی ضرورت پیش آجائے تو غلط جملے کے دونوں جانب بریکٹ کا نشان لگا کر ان کے اوپر کراس (X) کا نشان لگائیں۔

**17۔** پرچے کے دوران جب بھی نبی کریم ﷺ یا کسی دوسرے پیغمبر یا کسی صحابی کا نام آئے تو مناسب انداز میں **صلی اللہ علیہ وسلم، علیہ السلام، رضی اللہ عنہ** وغیرہ مکمل لکھیں اور صرف رموز **ﷺ، ؑ، ؓ** پر اکتفا نہ کریں۔

**18۔** عربی اور اردو رسم الخط، علاماتِ ترقیم اور رموزِ اوقاف کا لحاظ پرچے کے حسن اور نمبرات میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔

**19۔** پرچے کے دوران صرف دو رنگ، یعنی سیاہ اور نیلا، قلم استعمال کرنا چاہیے، تاکہ ممتحن کو محسوس ہو کہ طالب علم کی توجہ پرچہ حل کرنے پر ہے، نہ کہ پرچہ سجانے پر۔

**20۔** جواب اگر تفصیلی ہو تو پہلے جواب کو اجمالاً دو تین سطور میں لکھیں، اس کے بعد اس پر سیر حاصل بحث کریں اور آخر میں ’’الحاصل‘‘ کے عنوان سے پوری بحث کو سمیٹ دیں۔ یہ مضمون نگاری کا بھی نہایت اہم اصول ہے۔

**21۔** سوال کی پوری عبارت نقل کرنے کی ضرورت نہیں، بلکہ سوال کا نمبر دے کر جواب شروع کریں۔

**22۔** سوالیہ پرچہ اپنے پاس محفوظ رکھیں، بصورتِ دیگر اسے مقدس اوراق میں ڈالیں۔

**23۔** اضافی اوراق کو اسٹیپلر کرتے وقت صفحات ترتیب سے رکھیں۔

**24۔** سوال نقل نہ کریں، بلکہ یہ کلمات لکھیں: **الجواب عن السؤال الأول/الثاني، جزو الف/جزو ب**۔

**25۔** رول نمبر احتیاط سے درج کریں۔

**26۔** تابع (اضافی شیٹ) پر رول نمبر نہ لکھیں۔

**27۔** پرچہ حل کرنے کے بعد مکمل پرچہ دوبارہ پڑھیں۔

**28۔** وفاق کے امتحان میں امتحانی مرکز کا نمبر (رقم محل الامتحان) احتیاط سے پُر کریں۔

**29۔** رفِ عمل سب سے آخری صفحے پر لکھیں اور آخر میں اس پر کاٹا لگائیں، جبکہ سوالیہ پرچے یا عام کاغذ پر رفِ عمل لکھنے سے اجتناب کریں۔

**30۔** ’’شکل‘‘ یا ’’تشکیل‘‘ کا مطلب ہے: اعراب لگائیں۔

**31۔** ’’اَعْرِب‘‘ کا مطلب ہے: نحوی ترکیب کریں۔

**32۔** لغوی تحقیق کا مطلب ہے: معنی، باب، مفرد، جمع اور مادہ لکھیں۔

**33۔** صرفی تحقیق کا مطلب ہے: باب، حروفِ اصلی، صیغہ، بحث، ہفت اقسام، شش اقسام اور ترجمہ لکھیں۔

**34۔** نحوی تحقیق کا مطلب یہ ہے کہ مذکورہ اسم ترکیب میں کیا واقع ہے اور یہاں اس پر کون سا اعراب ہے، مثلاً رفع، نصب، جر وغیرہ؛ لفظی یا محلی وغیرہ۔

**35۔** عربی کو عربی رسم الخط اور اردو کو اردو رسم الخط میں لکھیں۔

**36۔** ’’سلیس ترجمہ کریں‘‘ کا مطلب ہے کہ بامحاورہ ترجمہ کریں۔

**37۔** پرچے کے دائیں، بائیں یا آخر میں سرخ لکیر سے تجاوز نہ کریں، البتہ 1، 2، 3 نمبر وغیرہ لکھ سکتے ہیں۔

**38۔** پرچے کے درمیان یا آخر میں اپنا نام، شناخت یا کوڈ وغیرہ لکھنے سے پرہیز کریں۔

**39۔** آخر میں **تَمَّتْ بِالْخَيْرِ** یا کوئی مناسب جملہ لکھیں۔

**40۔** ہمارے ہاں مدرسے کے امتحان میں تمام سوالات حل کرنا لازمی ہیں، جبکہ وفاق کے ہر سوال کے دو اجزا (الف، ب) میں سے صرف ایک جزو حل کرنا لازمی ہے۔

**41۔** وفاق یا مدرسے کے سابقہ پرچوں کا مطالعہ بھی آپ کے لیے معاون ہوسکتا ہے۔

**42۔** **کُرَّاسَۃُ الأَجْوِبَۃِ** مکمل پُر کرنے کا طریقہ سیکھ لیں۔

**43۔** اردو اور عربی املاء کی غلطی سے اجتناب کریں، نیز اصطلاح اور قاعدے کے ساتھ مثال ضرور لکھیں۔

**44۔** لفظی اور بامحاورہ ترجمے میں فرق سمجھ لیں۔ مثلاً **ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْرًا** میں ’’مارا زید نے عمرو کو‘‘ لفظی ترجمہ ہے، جبکہ ’’زید نے عمرو کو مارا‘‘ بامحاورہ ترجمہ ہے۔

**45۔** بعض دفعہ ’’غلط اور صحیح‘‘ کی نشاندہی کا سوال ہوتا ہے۔ وہاں سوال نقل کرکے غلط کے لیے (X) اور صحیح کے لیے (✓) کا نشان لگائیں۔

**46۔** حسنِ افتتاح، حسنِ خط، حسنِ تعبیر اور حسنِ خاتمہ، حسنِ نمبرات کا سبب بن سکتے ہیں۔

**47۔** درست عربی زبان میں پرچہ حل کرنے سے پانچ نمبر کا اضافہ ہوسکتا ہے۔

**48۔** نگران عملے کے ساتھ ادب سے پیش آئیں۔

**49۔** جواب میں کئی امور ہوں تو انہیں 1، 2، 3 یا الف، ب، ج یا مناسب علامتوں کے ذریعے الگ الگ لکھیں۔

**50۔** پرچے کے دوران نقل اور آپس میں گفتگو سے مکمل اجتناب کریں۔

**51۔** عنوان کے لیے الگ مارکر استعمال کریں۔

**52۔** سوالات میں چند امور مطلوب ہوں تو انہیں نمبر وار لکھیں، مثلاً:**الأمور المطلوبة:**

مطلوب اول، مطلوب ثانی، تشکیل العبارۃ، ترجمۃ العبارۃ، توضیح العبارۃ، بیان المراد بقولہ، بیان الاختلاف مع الأدلہ، تحقیق الکلمات المخطوطۃ لغۃً، صرفاً، نحواً وغیرہ۔

**53۔** امتحان گاہ میں وقت سے پہلے جانے کی عادت بنائیں۔ جاتے وقت **بِسْمِ اللّٰهِ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللّٰهِ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ** پڑھیں۔

**54۔** دورانِ امتحان اپنی غذا، چھ گھنٹے آرام اور صحت کا خاص خیال رکھیں۔

**55۔** بار بار سوال پوچھنے سے پرہیز کریں۔

**56۔** امتحان ہال میں موبائل فون لے جانا منع ہے۔

**57۔** وفاقی درجات میں حفظِ احادیث کا سوال لازمی ہوتا ہے، جس میں سند کے بغیر صرف آخری راویِ حدیث، متنِ حدیث مع اعراب اور ترجمہ داخل ہوتا ہے۔

**58۔** امتحان کے دنوں میں کم کھانا چاہیے، کیونکہ بھوک بھی ایک طاقت ہے اور زیادہ کھانا سستی کا باعث بنتا ہے۔

**59۔** نئے سوال سے پہلے دو لائنیں چھوڑیں، لیکن سوال اور جواب کے درمیان خالی لائن نہ چھوڑیں۔

**60۔** دورانِ امتحان قرآنِ مجید اور کیلکولیٹر سے استفادہ ممنوع ہے۔

### اہم ہدایت:
پرچہ حل کرنے کے بعد اس پر تبصرہ نہ کریں، بلکہ تھوڑی دیر آرام کریں۔ امتحان کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوکر امتحان میں ممتاز نمبرات کے حصول کے لیے دعاؤں کا اہتمام کریں۔

کالم نگار : مولاناآصف ظہیر،کوہاٹ
| | |
103     1