(+92) 319 4080233
کالم نگار

زیدالحسن

زیدالحسن

پروفائل | تمام کالمز
2026/10/14
موضوعات
کیاواقعی نمبر معنی نہیں رکھتے؟
ہمارے ہاں اکثر ایک جملہ بڑی آسانی سے کہہ دیا جاتا ہے:"نمبر معنی نہیں رکھتے"یہ بات آدھا سچ ہے۔

اگر آپ کا راستہ میڈیسن، انجینئرنگ، آرٹیفیشل انٹیلیجنس، ڈیٹا سائنس، میتھمیٹکس، یا CSS / FPSC / ISSB جیسے مسابقتی امتحانات ہیں، تو وہاں نمبر اور میرٹ معنی رکھتے ہیں۔ یہ ایک فلٹر ہے، اس سے انکار ممکن نہیں۔لیکن اگر آپ کا راستہ ان سے ہٹ کر ہے تو تصویر بالکل بدل جاتی ہے۔

آج دنیا میں بے شمار ایسے کیریئرز ہیں جہاں ایک ڈاکٹر یا انجینئر سے زیادہ عزت، اثر اور آمدنی ممکن ہے:مینجمنٹ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، وکالت، سائیکالوجی، سوشیالوجی، سیلز، بینکنگ، انڈیپینڈنٹ کنسلٹنسی، ایڈوانس فارمنگ، انٹرپرینیورشپ، کنٹینٹ کری ایشن، پروفیشنل شیف، فیشن ڈیزائننگ، وائلڈ لائف فوٹوگرافی، اے/او لیول ٹیوشنز، سٹاک مارکیٹ، ٹریڈنگ اور کرپٹو جیسی فیلڈز۔ ان میں آپ کی ڈگری نہیں، آپ کی سکل بکتی ہے۔

ہمارا اصل المیہ کم نمبر نہیں، کیریئر کونسلنگ کا نہ ہونا ہے۔ ہم ہر بچے کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکتے ہیں۔ہارورڈ یونیورسٹی کے ماہرِ نفسیات ہاورڈ گارڈنر نے 1983 میں اپنی کتاب _Frames of Mind_ میں 8 طرح کی ذہانتوں (Multiple Intelligences) کا نظریہ پیش کیا۔ ان کے مطابق ذہانت صرف ریاضی اور زبان تک محدود نہیں، بلکہ موسیقی، جسمانی حرکت، سماجی تعلق، اندرونی بصیرت، فطرت سے جڑاؤ اور بصری ذہانت بھی ذہانت ہی کی اقسام ہیں۔ ہم اسی ایک ذہانت کو نمبروں سے ناپتے ہیں اور باقی سات کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔

مالیاتی تعلیم کے معروف مصنف رابرٹ کیوساکی نے اپنی کتاب "Why A Students Work for C Students " میں لکھا ہے کہ سکول میں سب سے زیادہ نمبر لینے والے (A-Grade) اکثر بہترین نوکری ڈھونڈتے ہیں، جبکہ اوسط نمبر لینے والے (C-Grade) کاروبار، سسٹم اور ٹیمیں بناتے ہیں اور A-Grade والوں کو نوکری دیتے ہیں۔ اس لیے والدین کو چاہیے کہ وہ صرف رپورٹ کارڈ نہیں، بچے کا اصل رجحان دیکھیں۔

ذرا سوچیے:
اگر اے آر رحمان کو زبردستی ڈاکٹر بنا دیا جاتا، شعیب اختر کو تھانیدار، ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کو صرف ایئرفورس کا ایک ناکام امیدوار رہنے دیا جاتا، عابدہ پروین کو پروفیسر اور عمیرہ احمد کو نرس بنا دیا جاتا تو کیا یہ فطری لگتا؟ ان سب نے ڈاکٹر انجینئر بننے کی دوڑ میں شامل ہونے کے بجائے اپنی فطری صلاحیت کو پہچانا اور اسے نکھارا، تبھی وہ امر ہوئے۔

اس لیے اصول سادہ ہے:
ڈاکٹر اور انجینئر اسے بننے دیں جس کا رجحان، محنت اور نمبر اس فیلڈ کے قریب ہیں۔ اگر کوئی طالب علم 1200 میں سے 1180 لے رہا ہے تو وہ اپنی منزل کے قریب ہے۔ اور اگر کوئی بمشکل فرسٹ ڈویژن لے رہا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کے راستے بند ہو گئے، اس کا مطلب ہے کہ اس کے لیے قدرت نے لا محدود اور مختلف راستے رکھے ہیں۔

حتی کہ معذوری، غربت اور ناکامی بھی کبھی راستے کی دیوار نہیں بنی:
دنیا کا سب سے بڑا رزمیہ _Paradise Lost_ لکھنے والا ملٹن نابینا تھا۔ دنیا کی لافانی دھنیں تخلیق کرنے والا بیتھوون بہرا تھا۔ تھامس ایڈیسن کو اس کے استاد نے کند ذہن کہا اور وہ ہزار تجربات میں ناکام ہوا۔ ہیلن کیلر جو نہ دیکھ سکتی تھی نہ سن سکتی تھی، اس نے ہارورڈ سے ڈگری لی اور دنیا کی بہترین مصنفہ بنی۔ کیا تاریخ ان کے نام مٹا سکتی ہے؟

کالم نگار : زیدالحسن
| | |
87