(+92) 319 4080233
کالم نگار

حافظ شاکرقاسمی

حافظ شاکرقاسمی

پروفائل | تمام کالمز
2026/09/20
موضوعات
دلہا دلہن بہن بھائی نکلے۔
شادی کی رات آئی، بارات بھی پہنچ گئی، مگر لڑکی کو اگلی ہی صبح واپس اپنے میکے بھیج دیا گیا؛ کیونکہ دلہا دلہن بہن بھائی نکلے۔

ہو رہی ہے نا حیرت۔۔۔؟

چلیں، پوری تفصیل بتائے دیتا ہوں۔

پچھلے دنوں عاطف کی منگنی ہوئی اور منگنی میں نکاح کی رسم بھی ہو گئی۔ کزن ہیں دونوں، سو بات ہوتی رہی دونوں کی، اور پھر کچھ عرصے بعد شادی کی تاریخ پکی کر دی گئی۔ دونوں طرف تیاریاں چل رہی ہیں، دونوں طرف خوشیاں منائی جا رہی ہیں۔۔۔ مگر یہ خوشیاں چند لمحوں کی تھیں۔ بھلا گناہ کے کام پر خوشی کیسے؟ اور پھر وہ گناہ جس سے نسلیں تباہ و برباد ہو جائیں۔۔۔پھر وہ دن آیا، بارات آئی، دلہن کو عاطف کے گھر لایا گیا۔ عاطف سمیت اس کی ساری فیملی بدستور خوشیاں منانے میں ابھی لگی ہوئی تھی۔

رات کے قریب ہوتے ہی دلہن روتے روتے بے ہوش ہو گئی۔ سب نے سمجھا، شاید والدین کو چھوڑنا، اپنا گھر بار چھوڑنا صدمہ بن رہا ہے۔

ڈاکٹر کے پاس لے کر گئے۔ بچی کو عاطف، عاطف کی بہن اور عاطف کے بڑے بھائی کے ساتھ چیک اپ کروایا گیا۔ بی پی بالکل لو تھا۔ میڈیسن دی گئی۔ کچھ دیر میں بچی کو ہوش آیا، مگر پھر سے پہلے سے بھی زیادہ رونا شروع کر دیا۔ ڈاکٹر سمیت ہر بندہ رونے سے منع کر رہا تھا، مگر یہاں تو ماجرا ہی کچھ اور نکلا۔۔۔ہچکیوں میں بچی نے ڈاکٹرز، عاطف کے بڑے بھائی اور باقی عملے کو روم سے نکلنے کو کہا۔ عاطف، اس کی بہن اور دلہن روم میں رہ گئے۔

دلہن نے عاطف کو لرزتی آواز میں کہا:"میں تمہاری منکوحہ نہیں بن سکتی، کیونکہ شرعی اعتبار سے میں تمہاری رضاعی بہن ہوں۔"

یہ بات بظاہر انتہائی آسان لگ رہی ہے، مگر سوچیں، ایک شخص جس کے ساتھ کچھ لمحے قبل تک احساسات اور جذبات ایک ایسے رشتے کے ہوں جس کو بیوی کہا جاتا ہے، اگلے ہی لمحے اس سے بہن کا رشتہ نکل آئے۔۔۔ قیامت ڈھانے والا منظر تھا یہ۔مگر عاطف نے حوصلے اور ہمت سے کام لیا، ساری بات تسلی سے سنی۔

بچی نے بتایا کہ رخصتی سے پہلے گھر میں اس کی والدہ، جو کہ عاطف کی پھوپھو ہیں، ان کے منہ سے ایک بات نکلی، مگر مجبور کرنے پر بتایا اور مجھے سختی سے منع کر دیا کہ اس بات کا کسی کو پتا نہ چلے۔ پورے خاندان میں ہنسی مذاق بن کر رہ جائیں گے۔

اماں کے منہ سے نکل گیا کہ مجھے یقین نہیں آ رہا کہ عاطف کی والدہ اس بات کو کیسے بھول گئی ہیں۔

میری خواہش تھی تمہاری شادی عاطف سے ہو، مگر مجھے یقین نہیں آ رہا تھا کہ یہ شادی ہو پائے گی؛ کیونکہ بچپن میں کئی دفعہ عاطف کو میں نے دودھ پلایا ہے، اور اس بات کا علم عاطف کی دادی اماں کو تھا، اور کئی مرتبہ عاطف کی والدہ کے سامنے بھی عاطف کو دودھ پلا چکی ہیں۔ مگر اس اہم شرعی پہلو کی طرف بے دھیانی اور غفلت برتی گئی۔

یہی وہ بات ہے جو مجھے سکون نہیں آ رہا۔ اماں نے منع بھی کیا تھا، مگر میرا دل نہیں مان رہا۔ اس بات کو، بے شک کچھ بھی ہو جائے، میں یہ جرم نہیں کر سکتی۔ لوگوں کی باتوں کے ڈر سے میں اپنے رب کی مجرم نہیں بننا چاہتی۔

عاطف کی سگی بہن چیخی اور چلائی:"تم لوگوں کو یہ سب ڈرامہ آج ہی کیوں یاد آیا؟"

بچی نے قسم کھا کر کہا کہ اگر مجھے ذرا سی بھی خبر ہوتی تو میں ہرگز یہ گھٹیا کام نہ کرتی۔ آج انکار کر سکتی ہوں تو پہلے بھی کروا سکتی تھی، اگر علم ہوتا۔ بس اماں کے سختی سے منع کرنے نے ڈرا دیا تھا۔ لوگوں کے طعنے، باتیں، یہی سب اماں نے ذہن میں ڈال دیا تھا۔

عاطف نے بچی کو تسلی دی۔ بہت بڑے جگر چاہیے تھے جس کے لیے، اور یقین دلایا:"اگر یہ حقیقت ہے تو جیسے یہ میری بہن ہے، ویسے تم بھی ہو۔ میں شریعت کی پوری پاسداری کروں گا۔"عاطف گھر گیا، والدہ سے اپنی پوچھا۔ انہیں سارا ماجرا بتایا، اور پھر عاطف کی والدہ کے اقرار کرنے پر کہ ہاں، مجھے یاد آیا، دو ایک دفعہ بچپن میں تمہاری پھوپھو تمہیں روتے ہوئے دیکھ کر دودھ پلا چکی ہیں۔۔۔اور یہاں سے پھر وہ ہوا جو ایک بڑے ظرف والا، شریعت پسند، خدا کا ایک نیک بندہ ہی کر سکتا ہے۔

عاطف گاڑی میں بیٹھا اور اپنی کزن، جو کہ رضاعی بہن نکلی، اسے ساتھ لیا اور پھوپھو کی دہلیز پر جا پہنچا، جس سے ابھی کچھ دیر قبل بارات اٹھی تھی۔

بچی کے سر پر ہاتھ رکھا اور اپنی پھوپھو کو بس اتنا کہہ کر دہلیز سے ہی لوٹ آیا:"میری اس بہن کی وجہ سے میں آپ کو معاف کر رہا ہوں، ورنہ آپ جان بوجھ کر اس جرم کو کروا رہی تھیں، معافی کے قابل نہیں ہیں آپ۔"

اور ساتھ اس بچی سے مخاطب ہو کر بولا:"پریشان نہ ہوں، اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک پاکیزہ رشتے میں جوڑا ہے اور غلیظ گناہ سے بچایا ہے۔ میں اپنی سگی بہنوں جتنا خیال رکھوں گا آپ کا۔"

اور لوٹ آیا ۔۔۔میرے پاس اس شخص کی نیک دلی کے بارے میں لکھنے کو واقعی الفاظ نہیں ہیں۔

یار! آج کے اس دور میں ایسے بھی فرشتہ صفت لوگ زندہ ہیں کیا؟رشک آ گیا، واللہ!سلامت رہو شہزادے! اللہ تمہیں اس وسعتِ ظرفی اور نیک دلی کا بھرپور اجر دے، آمین ثم آمین، یا رب العالمین!

مأخَذ

سوشل میڈیا سے انتخاب

کالم نگار : حافظ شاکرقاسمی
| | |
54