(+92) 319 4080233
کالم نگار

سُمن پانڈے(ہندی سے ترجمہ:ریاض الرحمٰن فاروقی)

سُمن پانڈے(ہندی سے ترجمہ:ریاض الرحمٰن فاروقی)

پروفائل | تمام کالمز
2026/09/20
موضوعات
یادوں کا طلسم کدہ
یادوں کا طلسم اس قدر گہرا محض اس لیے نہیں تھا کہ وہ گزرا ہوا کل تھا، بلکہ اس لیے تھا کہ وہ ہمارے وجود اور ہمارے ماضی کا ایک گہرا حصہ تھا۔ اس لیے تھا کہ ہم اس لمحے میں خود موجود تھے، ہم نے اس لمحے کو جیا تھا۔ ہمارے تجربات ہمارے تخیل کو وسعت بخشتے تھے۔ ہم اپنے تصور میں کچھ بھی بن سکتے تھے؛ جس کے سامنے کھڑے ہوتے ہوئے ہمارے پاؤں کانپتے تھے، تخیل کی پرواز میں ہم اس کے کندھے پر اپنا سر رکھ سکتے تھے۔ محض تصور ہی ایک باطنی و انفرادی نجی پن کا احساس بخش دیتا تھا۔

آپ کو لگے گا کہ میں کیسی باتیں کر رہی ہوں۔ کیا محض رومانس ہی ماضی اور اس کے تخیل کی تشکیل کرتا ہے؟ کیا جدوجہد، تجسس اور المیے ہمارے تجربات اور تخیلات کا حصہ نہیں تھے؟ کیا ہم نے اپنی آرزوؤں اور مسلسل کوششوں کے سہارے فتوحات حاصل نہیں کیں؟ کیا ہم نے صبر کی آخری حد تک کسی طویل جدوجہد کا سامنا نہیں کیا؟

اگر یہ سب کچھ ہمارے حقیقی تجربے کا حصہ تھا، تو 80ء کی دہائی کی ان تصاویر کا چلن بدلتی دہائیوں کے بیچ صرف ملبوسات، جوتوں اور طرزِ زندگی کے بدلنے کی سطحی کہانی بن کر کیوں رہ گیا ہے؟ وقت کے ساتھ محض پہناوا اور طرزِ زندگی ہی نہیں بدلتا، بلکہ جملہ آلات، ٹیکنالوجی اور نظام بھی اپنے وجود اور عمل کو بتدریج ارتقا بخشتے ہیں۔

لیکن ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں یادداشت کے لیے تجربے کا ہونا قطعی لازم نہیں رہا۔

جس دور کو ہم نے جیا ہی نہیں، اس کی تصویر بھی اب ہمارے پاس ہو سکتی ہے۔ جس مقام پر ہم نے کبھی قدم نہیں رکھا، وہاں بھی کھڑے ہو کر اپنی موجودگی درج کرا سکتے ہیں۔ جس روپ میں ہم سرے سے ہیں ہی نہیں، اس روپ میں اپنے نام نہاد ماضی کی ایک "یاد" سوشل میڈیا پر ساجھا کی جا سکتی ہے۔

مصنوعی ذہانت نے شبیہ سازی کی اس صلاحیت کو اتنی سہولت سے فراہم کر دیا ہے کہ اب تخلیق کے لیے کسی ماہر فنکار تو کجا، کیمرے اور فوٹوگرافر تک کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ نہ عورت کو سنگھار کی ضرورت ہے، نہ میک اپ آرٹسٹ کی خدمات درکار ہیں، اور نہ ہی کسی فیشن ڈیزائنر کے پاس جا کر لباس خریدنا ہے۔ مصنوعی ذہانت ان لمحات کی تصوع کو بھی، جو کبھی رونما ہی نہیں ہوئے، ایک ٹھوس بصری ثبوت کا روپ دینے لگی ہے۔

کہتے ہیں کہ "ہاتھ کنگن کو آرسی کیا"۔ چنانچہ مصنوعی ذہانت کی اس نمود کا ایک ایسا فریب اور ملمع تیار کیا جا رہا ہے جس نے نہ صرف تخلیق، بلکہ تخیل اور براہِ راست تجربے کے مواقع بھی چھین لیے ہیں۔ ایک ایسا سراب تراشا جا رہا ہے جس سے پورا تخلیقی عمل ہی غائب ہے۔

اس ہفتے کے اس ٹرینڈ میں ایک حیرت انگیز بات یہ بھی ہے کہ ڈیزائن کی دنیا میں رجحانات، موسم اور کلیکشن چند مہینوں میں بدلتے ہیں، جب کہ مصنوعی ذہانت نے کسی ٹرینڈ کی عمر شاید صرف ایک ہفتے تک محدود کر دی ہے۔ اس موجودہ روش کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔

سوشل میڈیا پر اچانک ایسی بے شمار تصویریں دکھائی دینے لگی ہیں جن میں ہر مرد کے گھنے اور لمبے بال ہیں، چوڑا کالر ہے، شوخ اور رنگین ملبوسات ہیں، مجموعی طور پر کسی "ڈسکو ڈانسر" سے متاثر ایک شبیہ۔ دوسری طرف تمام خواتین کے کندھوں تک کٹے ہوئے بال، اونچی کمر والی پتلونیں اور فراک جیسے ملبوسات نظر آتے ہیں۔

کیا 80ء کی دہائی محض سنیما کی پیدا کردہ چند مسحور کن شبیہوں ہی کا نام تھی؟ کیا اس دور میں روایتی مناظر، دستکار، محنت کش، تاجر، اساتذہ، کسان، متوسط طبقے کے خاندان اور ان گنت عام انسان موجود نہیں تھے؟ کیا اس پورے عہد کی شناخت صرف فلمی فیشن تک محدود تھی؟

انتہا تو تب ہوجاتی ہے جب 80ء کی دہائی کے دفاتر میں لیپ ٹاپ تک چمکتا دکھائی دیتا ہے! گویا ٹیکنالوجی نے بھی تاریخ اور اپنے ارتقائی تسلسل کو یکسر پسِ پشت ڈال دیا ہو۔ جیسے کسی دفتر کے تصور میں پرانی میزیں اور فائلوں کے انبار کوئی معنی ہی نہ رکھتے ہوں۔

منظر کو اس قدر پُرکشش اور مصنوعی طور پر "ونٹیج" بنایا جاتا ہے کہ وہ ماضی کے رنگا رنگ دستاویزی سچائیوں سے الگ ہٹ کر ہمارے اجتماعی شعور کا ایک جھوٹا ڈھانچہ کھڑا کرنے لگتا ہے۔

کیا ہم واقعی اپنے ماضی کو یاد کر رہے ہیں، یا مصنوعی ذہانت کی مدد سے اپنے لیے ایک ایسا ماضی گھڑ رہے ہیں جسے ہم نے کبھی جیا ہی نہیں؟

عام طور پر نوسٹالجیا کسی جئے ہوئے تجربے سے وابستہ ہوتا ہے۔ کسی پرانے مکان کی خوشبو، بچپن کے کھلونے، والدین کی پرانی زرد تصویریں، کسی مانوس شہر کی سڑک یا کسی نغمے کی دھن ہمیں اپنے ذاتی تجربے کی دنیا میں واپس لے جاتی ہے۔ مگر مصنوعی ذہانت سے تعمیر شدہ نوسٹالجیا کا یہ نیا روپ اس پورے فطری نظام کو الٹ دیتا ہے۔

یہاں پہلے تصویر نمودار ہوتی ہے، پھر یادداشت اور احساس کا جذبہ جنم لیتا ہے۔

انسان کسی دور کو محض اس لیے یاد نہیں کر رہا کہ اس نے اسے خود برتا ہے؛ بلکہ وہ اس دور کی تیار کردہ بصری زبان دیکھ کر بھی اس سے ایک مصنوعی جذباتی رشتہ استوار کر لیتا ہے۔ یہ لگاؤ ذات شناسی کے بجائے ایک ایسے خوابیدہ منظر کو جنم دے رہا ہے جو اس کے باطن میں کہیں دبا ہوا تھا۔

یعنی حقیقت اور تخیل کے ارتقا سے ہٹ کر اپنی ناآسودہ خواہشات کا ایک جھوٹا سچ، جو لوگوں کے درمیان اپنے وجود کو دلچسپ انداز میں پیش کر کے دوسروں کی تحسین اور داد وصول کرنے کی ایک دانستہ کوشش ہے۔

یہ نکتہ اٹھاتے ہوئے مجھے مشہور امریکی آرٹسٹ اینڈی وارہول (Andy Warhol) یاد آتے ہیں، جنہوں نے اشتہارات اور بازپیداوار (Reproduction) کو ہی اپنے فن کا وسیلہ بنایا تھا۔ ان کا تاریخی قول ہے:’"مستقبل میں ہر شخص پندرہ منٹ کے لیے عالمی شہرت حاصل کرے گا۔"

آج مصنوعی ذہانت اور سوشل میڈیا کے دور میں یہ محض پیش گوئی نہیں بلکہ روزمرہ کی حقیقت معلوم ہوتی ہے۔ ہر فرد چند لمحوں کی نمائش اور توجہ حاصل کر سکتا ہے۔ مصنوعی ذہانت اس نمائش کو ایک اور سہولت دیتی ہے: اب ہمیں محض دکھائی نہیں دینا، بلکہ اپنے لیے وہ پرکشش بصری پیکر بھی خود تیار کرنا ہے جس میں ہم خود کو دیکھنا اور دکھانا چاہتے ہیں۔

اس لیے مصنوعی ذہانت کا یہ چلن صرف آسانی اور تفریح ہی پیدا نہیں کر رہا، بلکہ یہ انسان کو اپنی اصل حقیقت قبول کرنے سے دور لے جا رہا ہے۔ یہ اپنے اندرونی تصور کے مطابق خود کو پیش کرنے اور ایک بناوٹی اور کھوکھلی تہذیب کے فروغ کا ذریعہ بن رہا ہے؛ جس میں نہ کوئی ذاتی تجربہ ہے، نہ سچا تخیل اور نہ ہی حیرت کا احساس؛ بلکہ مصنوعی پن کی ایک خاموش منظوری ہے۔

یہاں ایک اور بات واضح ہوتی ہے کہ مصنوعی ذہانت ایک 'عمل سے عاری فیصلہ' ہے۔ اس ٹرینڈ کی تقلید کرنے والا خود بھی بے خبر ہوتا ہے کہ اس کی شبیہ کیسی بن کر سامنے آئے گی۔ اب تصویر بننے کے لیے اصل تجربے کا انتظار لازم نہیں رہا؛ تجربے سے پیشتر ہی اس کا عکس تیار کیا جا سکتا ہے۔ اور جب وہ شبیہ بار بار دیکھی، شیئر کی اور دہرائی جاتی ہے، تو وہ آہستہ آہستہ ذاتی تخیل سے نکل کر ایک اجتماعی مفروضے کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا تخلیق محض ایک تصویر بناتی ہے یا تصویر آہستہ آہستہ ایک گمراہ کن متھ (Myth) تراشنے لگتی ہے؟ یہ متھ ظاہری کثرت تو پیدا کر دے گا، مگر انسانی تنوع کی انفرادیت کو مٹا کر ایک ہی سانچے میں ڈھال دے گا۔ ہم نجی شناخت اور رنگارنگی کے برعکس، مختلف چہروں والے ایک ہی پرچے کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔

مجھے اس بات پر بھی شدید حیرت ہوتی ہے کہ ماضی میں اشتہار بازی کی اجارہ داری کے خلاف کتنی سماجی تحریکیں چلی تھیں۔ فیئر اینڈ لولی کے اشتہار میں گورے پن کی برتری کا بائیکاٹ ہوا؛ فیشن کی دنیا میں جسم سے متعلق تحقیر آمیز رویے یا جسمانی تضحیک کے خلاف آوازیں اٹھیں؛ جلد کے رنگ اور خوبصورتی کی ازسرِ نو تعریفوں پر گہرے مباحث ہوئے۔ کاسمیٹکس اور فیشن کی مخصوص تنگ نظری کے مقابلے میں سب کو سمو لینے والی 'شمولیت' کا نظریہ عام کرنے کی کوشش کی گئی۔ لیکن نہ چاہتے ہوئے اور جانے بغیر بھی انسان معاشرے کے اس تنوع کو دوبارہ ایک ایسی یکسانیت میں جھونک رہا ہے جو صنعتی عہد کے بدترین مسائل میں سے رہی ہے۔ اور المیہ یہ ہے کہ ہم اس ماضی کی یاد میں مگن ہیں جو کبھی ہمارا تھا ہی نہیں۔

یہاں محض ایک فریب کی بنیاد پر تصویر کے ذریعے سبقت لے جانے کی وہ اندھی دوڑ جاری ہے جس میں نہ سچا تجربہ ہے اور نہ ہی کسی عہد کی مکمل اور شفاف سچائی۔ سنیما اور فیشن تو پہلے بھی ایک خیالی پردہ تھے جو حقیقت سے دور ہوتے تھے، لیکن وہاں اداکار کے پاس اپنی اداکاری اور کرشمائی شخصیت کا ایک ٹھوس تجربہ موجود تھا۔ اس کے پیچھے انسانی محنت تھی، جسم تھا، مشق تھی، اسٹیج تھا، کیمرہ تھا اور ایک ارتقائی عمل تھا۔ مگر اب مصنوعی ذہانت کے اس دور میں اداکار کی زندگی بھی محض تمناؤں اور تصویروں کو کسی نئے روپ میں بدل ڈالنے کے ایک بے جان تصور میں تبدیل ہو جائے گی۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب یادداشت سچے تجربے سے آزاد ہو کر گھڑی جائے گی، شہرت پلک جھپکتے ہی ہاتھ آ جائے گی اور سچ جیسا نظر آنے والا ایک فرضی جہان تراش لیا جائے گا، تب اس دور میں سچائی کی قیمت کیا رہ جائے گی؟

یہ 'تجربے سے عاری یادداشت' محض کوئی تکنیکی تبدیلی نہیں ہے، بلکہ یہ بصری ثقافت کی اصل روح میں واقع ہونے والی تبدیلی ہے۔

پہلے تصاویر تاریخی واقعات کی یادداشت اور سچی گواہ ہوا کرتی تھیں۔ اب تصاویر میکانکی باز پیداوار اور اس کے پیدا کردہ بحران کے تناظر میں خود کیمرے اور فوٹوگرافر کے وجود کو چیلنج کرتی دکھائی دیتی ہیں۔

والٹر بینجامن نے میکانکی باز پیداوار کے دور میں کسی شاہکار کے باطنی ہالے، اس کی اصلیت اور تاریخی سند پر کھل کر بحث کی تھی۔ ان کے مطابق کسی بھی شے کی اصلیت اور صداقت اس کی تاریخ اور اس کے منفرد وجود سے جڑی ہوتی ہے، جب کہ میکانکی نقل اس انفرادیت اور تاریخی سند کو کمزور کر دیتی ہے۔ فوٹوگرافی نے اسی زوال کو مہمیز دی تھی، لیکن مصنوعی ذہانت کی بنائی ہوئی شبیہ تو اس سے بھی کہیں آگے نکل جاتی ہے۔ وہ تو اس واقعے کے وقوع پذیر ہونے کے امکان کو ہی سرے سے ختم کر دیتی ہے جس کی تصویر تخلیق کی جا رہی ہے۔

رولاں بارتھ تصویر کھنچواتے وقت اپنے سامنے آنے اور خود کو تصویر میں تبدیل کرنے کے نفسیاتی عمل کی بات کرتے ہیں۔ چنانچہ تصویر محض ایک چہرہ نہیں بلکہ اس لمحے کی موجودگی کا سچا ثبوت تھی۔

مصنوعی ذہانت اس تعلق کو پلٹ کر رکھ دیتی ہے۔ اب یہ اے آئی تصویر یہ نہیں کہتی کہ "یہ تھا"؛ بلکہ وہ کہتی ہے کہ "اگر ایسا ہوتا تو شاید ایسا دکھائی دیتا۔" یعنی بارتھ کے جو 'واقع ہو چکا ہے' کا تصور بدل کر 'جو ہو سکتا تھا' کی جانب ایک خطرناک ثقافتی تبدیلی بن چکا ہے۔

سوسن سونٹاگ نے فوٹوگرافی کو دنیا کا محض کوئی شفاف ریکارڈ تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا۔ ان کے نزدیک تصویر کشی دنیا کے ساتھ ایک خاص تعلق قائم کرنے اور اسے بصیرت کی طرح برتنے کا وسیلہ ہے۔ تصویر ایک ثبوت معلوم ہوتی ہے جو ہمیں یقین دلا سکتی ہے کہ جو دکھائی دے رہا ہے وہ واقعتاً موجود تھا۔ ساتھ ہی تصویر اپنے انتخاب، حد بندی اور جمالیاتی زاویوں کے ذریعے سچائی کی تشریح کرتی ہے۔

فوٹوگرافر جہاں یہ سوال اٹھاتا تھا کہ "میں حقیقت میں سے کیا دکھاؤں؟"

وہیں مصنوعی ذہانت اب یہ پوچھتی ہے: "آپ کون سی حقیقت دیکھنا چاہتے ہیں؟"

یہیں سے تخلیق، تجربے اور عمل کے مابین رشتہ مزید ٹوٹتا چلا جاتا ہے۔

یہاں اَروِنگ گاف مین کا سماجی زندگی کی نمائش کا وہ نظریہ کھل کر سامنے آتا ہے جہاں انسان مختلف سماجی حالات میں اپنے تشخص کو پیش کرتا ہے۔ سوشل میڈیا اس پیشکش کو مزید مستحکم بناتا چلا جاتا ہے۔ ہم اپنی زندگی کے چند چنندہ لمحات دنیا کے سامنے رکھتے ہیں، لیکن مصنوعی ذہانت کے اشتراک سے تو اب یہ طے کرنا بھی انسان کے اختیار میں آ گیا ہے کہ وہ محض کیا دکھانا نہیں چاہتا، بلکہ وہ کیسا نظر آنا چاہتا ہے۔ یہیں سے گے دیبورد کے شاہکار "دی سوسائٹی آف دی اسپیکٹیک" یعنی تماشائی سماج کا تصور ابھرتا ہے۔ ان کے مطابق یہ تماشا محض تصویروں کا کوئی ڈھیر نہیں ہے، بلکہ تصویروں کے ذریعے انسانوں کے مابین استوار ہونے والا ایک نیا سماجی تعلق ہے۔ چنانچہ مصنوعی ذہانت کا یہ دور دراصل 'تجربے سے عاری نوسٹالجیا کا ایک بصری تماشا' بن چکا ہے۔ اور 80ء کی دہائی کی یہ یاد بھی ایک انتخابی نوسٹالجیا ہے؛ ایک ایسا خود ساختہ ماضی جو اس پورے عہد کو ایک پرفریب جاذبیت میں بدل دیتا ہے۔

مصنوعی ذہانت کے بارے میں ایک اور اہم ترین بات یہ ہے کہ وہ تاریخ کو زمانی ترتیب کے اعتبار سے نہیں، بلکہ بصری مطابقت کے بل بوتے پر تشکیل دیتی ہے۔ وہ ایک ایسے منظر کا فریب گھڑتی ہے جسے دیکھ کر گمان ہوتا ہے کہ 80ء کی دہائی محض کسی ایک طبقے، ایک اسٹائل یا ایک مخصوص لائف اسٹائل کی دہائی تھی۔ اور اس بڑے پیمانے پر تصویر کشی ایک ایسی دنیا کو جنم دیتی ہے جسے "سیاق و سباق کے بغیر مماثلت" کہا جا سکتا ہے؛ یعنی تجربہ مفقود، مگر یاد موجود؛ شے غائب، مگر تصویر حاضر؛ واقعہ ندارد، مگر تاریخی عکس قائم!

یہی تجربے سے محروم تہذیب ہے۔

یہی عمل اور ریاضت سے عاری تخلیق ہے۔

فن اور دستکاری ہمیشہ ایک جیتے جاگتے عمل اور سفر کے محور پر جنم لیتے ہیں؛ جہاں دیکھنا، سیکھنا، محسوس کرنا، جمع کرنا، قبول کرنا، رد کرنا اور کامیابی و ناکامی کے پیچ و خم میں سے گزر کر جو تخلیقی سکھ فنکار کو میسر آتا ہے، وہی اس کا اصل سرمایہ ہوتا ہے۔

عمل اور ریاضت کے اس روحانی سکھ کو مصنوعی ذہانت کی ان شبیہوں نے اگر مکمل ختم نہیں کیا، تو بہت حد تک گھٹا ضرور دیا ہے۔ صرف ایک پرامپٹ، یعنی ایک بٹن دبایا اور حکم کی تعمیل حاضر! اس فوری تعمیل کے پسِ پردہ جس چیز کی سب سے بڑی غیر موجودگی ہے، وہ ہے تخلیقی عمل اور اس سے پیدا ہونے والا سچا انسانی تجربہ۔

گویا ہم ایک ایسی معیشت میں داخل ہو چکے ہیں جو اس خیال کو پروان چڑھاتی ہے کہ تخلیق محض متھ بناتی ہے۔ اور جب تخلیق اس قدر سستی، فوری اور عمل کے بغیر ہو جائے تو فریب اور جھوٹے مفروضے بھی اتنی ہی تیز رفتاری سے جنم لینے لگتے ہیں۔ پھر وہی فریب بار بار اسکرین پر نمودار ہوتا ہے، دہرایا جاتا ہے، شیئر کیا جاتا ہے اور رفتہ رفتہ اجتماعی شعور کا مستقل حصہ بن جاتا ہے۔

یہیں یووال نوح ہراری کا استدلال اس مقالے کو ایک فیصلہ کن نتیجے کی طرف لے جاتا ہے کہ سچ مہنگا ہوتا ہے۔ سچ کو ثابت اور قائم کرنا انتہائی مہنگا عمل ہے۔ اس کے لیے شواہد اکٹھے کرنے پڑتے ہیں، حقائق کی جانچ کرنی پڑتی ہے، اپنا وقت اور وسائل جھونکنے پڑتے ہیں۔ اس کے برعکس خیالی اور من گھڑت دنیا کو من چاہے انداز میں تراشا جا سکتا ہے۔ اسے آسان، دلکش، مربوط اور بار بار دہرائے جانے کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔

سچ بسا اوقات پیچیدہ، کڑوا اور دل دہلا دینے والا ہوتا ہے۔ جبکہ جھوٹ اور خیالی دنیا کو باآسانی خوبصورت اور پرکشش بنایا جا سکتا ہے۔اور آج مصنوعی ذہانت نے اس جھوٹ اور سراب کو بنانے کا خرچ اور بھی سستا کر دیا ہے۔

سچ سست رو ہے۔

سچ پیچیدہ ہے۔

سچ سیاق و سباق کا محتاج ہے۔

سچ شواہد اور ثبوتوں پر کھڑا ہوتا ہے۔

جبکہ متھ اور خیالی دنیا انتہائی سستی بکتی ہے۔

یہاں لفظ "متھ" سے مراد صرف سادہ سا جھوٹ نہیں، بلکہ وہ مہیب طاقت ہے جو اپنے گھڑے ہوئے معانی کو عام اور فطری بنا کر پیش کر دیتی ہے۔ چنانچہ مصنوعی ذہانت کا اصل المیہ صرف یہ نہیں ہے کہ وہ 1980ء کی دہائی کا محض ایک مخصوص رخ دکھا رہی ہے؛ اس سے کہیں زیادہ سنگین خطرہ یہ ہے کہ وہ اس منتخب شدہ روپ کو اتنی کثرت سے دکھا سکتی ہے کہ وہ ہمیں اس دور کی فطری اور مکمل سچائی معلوم ہونے لگے۔ یعنی اس کی سب سے خطرناک اور زبوں حال کمزوری یہ ہے کہ اصل تاریخ کا وسیع تنوع غائب ہو کر محض ایک روایتی اور فرسودہ جمالیاتی فریم میں تبدیل ہوتا جا رہا ہے۔

اور شاید یہی وجہ ہے کہ آج ہمیں مصنوعی ذہانت کی بنائی ہوئی ان تصاویر سے محض یہ نہیں پوچھنا چاہیے کہ "کیا یہ تصویر حقیقی ہے؟"

بلکہ اب ہمیں خود سے یہ بنیادی سوالات بھی پوچھنے ہوں گے کہ "کیا یہ یاد حقیقی ہے؟"

"کیا یہ تجربہ حقیقی تھا؟"

"اور کیا یہ ماضی واقعی ہمارا اپنا تھا؟"

کیونکہ اب ہمارے سامنے صرف شبیہ بنانے کی ٹیکنالوجی نہیں آئی، بلکہ ہمارے سامنے یادداشت گھڑنے کی ٹیکنالوجی بھی آ چکی ہے۔ اور جب یادداشت سچے تجربے سے کٹ جائے، تخلیق اپنے ریاضت بھرے عمل سے محروم ہو جائے، شہرت چند لمحوں کی نمائش بن کر رہ جائے اور جھوٹے مفروضوں کو تراشنا اتنا سستا ہو جائے، تب شاید اس دنیا میں سب سے نایاب، سب سے کٹھن اور سب سے مہنگی شے اگر کوئی باقی رہ جاتی ہے... تو وہ صرف اور صرف "سچ" ہے۔

مأخَذ

سوشل میڈیا سے انتخاب

کالم نگار : سُمن پانڈے(ہندی سے ترجمہ:ریاض الرحمٰن فاروقی)
| | |
74