(+92) 319 4080233
کالم نگار

نبیلہ ہارون کوثر

نبیلہ ہارون کوثر

پروفائل | تمام کالمز
2026/09/21
موضوعات
ہمارے نوجوانوں کا سب سے بڑا مسئلہ
ہمارے نوجوانوں کا سب سے بڑا مسئلہ صرف بے روزگاری نہیں، نیگیٹیوٹی ہے۔ اور اس نیگیٹیوٹی کا کچھ حصہ واقعی فرسودہ نظام، سفارش، محدود مواقع اور ناانصافیوں سے آتا ہے، لیکن باقی کا بڑا حصہ ہم خود اپنے بچوں کے ذہن میں ڈالتے ہیں۔

ذرا اپنے امتحانی مراکز دیکھ لیجیے۔ بچہ سوال حل نہیں کر پایا تو گھر آ کر ماں باپ کہتے ہیں، “ارے نقل کر لینی تھی، اتنا بھی نہیں کر سکتے تھے؟” بچہ مقابلے کا امتحان دے کر آیا تو سوال ہوتا ہے، “تمہارا کوئی جاننے والا تھا وہاں؟” کسی دوسرے کا بچہ سرکاری نوکری لے لے تو بچوں کے سامنے بڑے فخر سے نہیں، حسرت سے بتایا جاتا ہے، “اس کے ماموں نے لگوا دی، ہمارے بچے کا تو کوئی لگوانے والا ہی نہیں۔” پھر یہی بچہ جب عملی زندگی میں داخل ہوتا ہے تو اسے ہم کہتے ہیں: محنت کرو، اللہ پر توکل کرو، کامیابی ملے گی۔ بھئی، آپ نے پچھلے بیس سال اسے کیا سکھایا ہے؟ کہ محنت سے زیادہ نقل کام آتی ہے، قابلیت سے زیادہ سفارش کام آتی ہے، اور کامیابی کے لیے اپنے کسی “ماموں” کی ضرورت ہوتی ہے!

مجھے واقعی حیرت ہوتی ہے کہ کتنے کم والدین ایسے ہیں جو بچے کے سامنے یہ کہتے ہیں: “بیٹا، راستہ مشکل ہے تو کیا ہوا، تم اپنا کام اچھا کرو، ہنر سیکھو، کوشش جاری رکھو، اللہ بہتر راستہ نکالے گا۔” کتنے والدین بچے کو یہ بتاتے ہیں کہ نوکری نہ ملے تو ہنر کام آئے گا، ایک دروازہ بند ہو تو دوسرا راستہ تلاش کرنا ہے، ناکامی قابلیت کا آخری فیصلہ نہیں ہوتی۔ ہم بچے کو ہر مشکل کے بعد یہ سمجھاتے ہیں کہ تمہاری نہیں، سسٹم کی غلطی ہے؛ تمہاری نہیں، قسمت کی خرابی ہے؛ تمہاری نہیں، فلاں آدمی کی سفارش کم ہے۔ پھر وہ بچہ خود پر یقین کہاں سے لائے؟

اور بات صرف نوکری کی نہیں۔ آپ نے ایسے نوجوان بھی دیکھے ہوں گے جو ایک انٹرویو میں ناکام ہو کر مہینوں گھر بیٹھ جاتے ہیں، ایک کاروباری کوشش ناکام ہو تو کہتے ہیں “پاکستان میں کچھ نہیں ہو سکتا”، ایک امتحان خراب ہو جائے تو پوری زندگی کو ناکام سمجھ لیتے ہیں۔ دوسری طرف دنیا بھر کی کامیاب کہانیاں دیکھ لیجیے؛ اکثر کامیابی سیدھی لکیر میں نہیں آتی۔ بار بار کوشش، ناکامی، سمت کی تبدیلی اور مسلسل سیکھنے سے آتی ہے۔ نوجوان کو صرف یہ بتانا کافی نہیں کہ دنیا خراب ہے؛ اسے یہ بھی سکھانا پڑتا ہے کہ خراب حالات میں اپنے لیے جگہ کیسے بنانی ہے۔

ہمارے بچوں کو نظام کی خرابیوں سے آنکھیں بند نہیں کروانی چاہئیں، لیکن انہیں یہ بھی نہیں سکھانا چاہیے کہ ان کی پوری زندگی کسی سفارش، رشتہ داری یا قسمت کے رحم و کرم پر ہے۔ بچے کے سامنے باپ اگر ہر وقت کہے “میرا تو کوئی جاننے والا نہیں”، اور ماں ہر کامیاب شخص کی کامیابی کا راز “سفارش” بتائے، تو پھر وہ بچہ محنت سے پہلے کنکشن تلاش کرے گا۔ ہمیں اپنی اگلی نسل کو ایک اور چیز دینی ہوگی: اپنے آپ پر یقین اور اللہ پر توکل۔ کیونکہ جس بچے کو یہ یقین ہو کہ میں سیکھ سکتا ہوں، دوبارہ اٹھ سکتا ہوں، راستہ بدل سکتا ہوں اور اللہ میرے لیے بہتر راستہ کھول سکتا ہے، اسے دنیا کی ہر مشکل شکست نہیں دیتی۔

کالم نگار : نبیلہ ہارون کوثر
| | |
49