(+92) 319 4080233
کالم نگار

قمرنقیب

قمرنقیب

پروفائل | تمام کالمز
2026/09/22
موضوعات
عبادات کوکردارسے الگ نہ سمجھو
ایک شخص لاکھوں روپے کا مقروض ہے، دکان دار اس کے گھر کے چکر لگا رہا ہے، مزدور اپنی اجرت مانگ رہا ہے، ملازم کئی مہینوں کی تنخواہ کے لیے پریشان ہے، لیکن صاحب رمضان میں عمرے کا پروگرام بنا رہے ہیں. کسی کے گھر کا چولہا آپ کے قرض کی وجہ سے ٹھنڈا ہے اور آپ مسجد میں افطار کے بڑے بڑے دسترخوان لگا رہے ہیں.

کسی غریب مزدور نے آپ کے گھر کی تعمیر میں اینٹیں اٹھائی ہیں، دن بھر دھوپ میں کام کیا ہے اور آپ نے اس کی مزدوری روک رکھی ہے. شام کو وہ اپنے بچوں کے لیے آٹا خریدنے کے پیسے مانگتا ہے اور آپ اسے کہتے ہیں، "بس چند دن اور انتظار کرو"

پھر آپ اسی پیسے سے قربانی کا جانور خریدتے ہیں۔یہ کیسی دین داری ہے؟

ایک طرف آپ کے گھر میں بکرے کی قربانی ہو رہی ہے، دوسری طرف مزدور کے گھر میں بچوں کے لیے دودھ نہیں۔ایک شخص اپنے ڈرائیور کو تین ماہ کی تنخواہ نہیں دیتا لیکن ہر سال مذہبی سفر پر لاکھوں روپے خرچ کرتا ہے. ایک مالک اپنے ملازم سے بارہ بارہ گھنٹے کام لیتا ہے، اوور ٹائم نہیں دیتا، چھٹی کے پیسے نہیں دیتا، پھر جمعہ کے دن پہلی صف میں کھڑا ہوتا ہے. ایک تاجر گاہک کو ناقص مال دیتا ہے، وزن میں کمی کرتا ہے، جھوٹ بول کر چیز بیچتا ہے، ٹیکس چوری کرتا ہے، ملازم کی تنخواہ دباتا ہے، لیکن رمضان آتے ہی بڑے بڑے خیراتی اشتہار لگاتا ہے. ایک شخص بینک، دوستوں، رشتہ داروں اور کاروباری شراکت داروں کا مقروض ہے، مگر سوشل میڈیا پر اپنی سخاوت کی تصویریں لگاتا ہے.۔

پاکستان میں کتنے لوگ ایسے ہیں جو مسجد کی تعمیر کے لیے لاکھوں روپے دے دیتے ہیں مگر اپنے گھر میں کام کرنے والی کی تنخواہ کئی ماہ روک لیتے ہیں. کتنے لوگ مدرسے کو چندہ دیتے ہیں لیکن اپنے ملازم کے بچوں کی فیس نہیں دیتے۔کتنے لوگ یتیم خانے میں راشن پہنچاتے ہیں لیکن اپنے بھائی کے قرض کی واپسی کو سالوں سے ٹالتے رہتے ہیں. کتنے لوگ عمرے کی تصویریں فیس بک پر لگاتے ہیں لیکن جس دوست سے کاروبار شروع کرنے کے لیے قرض لیا تھا، اُس کا فون نہیں اٹھاتے. کتنے لوگ رمضان میں سینکڑوں لوگوں کو افطار کرواتے ہیں مگر اپنے ملازمین کو وقت پر تنخواہ نہیں دیتے.۔

اگر ایک باپ صبح سویرے اٹھ کر حلال روزی کمانے نکلتا ہے، دھوپ، سردی اور بارش برداشت کرتا ہے، اپنے بچوں کے لیے روٹی کماتا ہے، اپنی بیوی اور والدین کی ضروریات پوری کرتا ہے، تو اسے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ وہ عبادت سے دور ہے کیونکہ وہ مسجد میں زیادہ وقت نہیں گزار رہا. اپنے کام کو ایمانداری سے کرنا بھی اخلاقی ذمہ داری ہے.

دکان میں ملاوٹ بھی کرنی ہے، جھوٹ بھی بولنا ہے، ناپ تول میں کمی بھی کرنی ہے، مزدور کی مزدوری بھی روکنی ہے، ٹیکس بھی بچانا ہے، قرض بھی واپس نہیں کرنا، پھر چند رکعتیں پڑھ کر یہ سمجھنا ہے کہ حساب برابر ہو گیا.

حساب کیسے برابر ہو گیا؟؟
پاکستان میں ایک عام مزدور کے لیے پانچ ہزار، دس ہزار یا بیس ہزار روپے معمولی رقم نہیں. یہی اس کے بچوں کا دودھ ہے۔ یہی گھر کا راشن ہے. یہی بجلی کا بل ہے۔ یہی بچے کی اسکول فیس ہے۔ یہی بیمار ماں کی دوا ہے. آپ کے لیے شاید ایک چھوٹی رقم ہو، لیکن دوسرے انسان کے لیے پوری زندگی کا مسئلہ ہوسکتی ہے.

اس لیے اگر آپ کسی کے ملازم ہیں تو اپنا کام ایمانداری سے کریں

اگر آپ مالک ہیں تو ملازم کی اجرت وقت پر دیں

اگر آپ دکاندار ہیں تو صحیح مال اور صحیح وزن دیں

اگر آپ ڈاکٹر ہیں تو مریض کی مجبوری کو کاروبار نہ بنائیں.

اگر آپ وکیل ہیں تو غریب موکل کی بے بسی سے فائدہ نہ اٹھائیں

اگر آپ استاد ہیں تو طالب علم کو ذلیل نہ کریں

اگر آپ ٹھیکیدار ہیں تو مزدور کی مزدوری نہ روکیں

اگر آپ سیاست دان ہیں تو عوام کے پیسے کو اپنی جاگیر نہ سمجھیں

اگر آپ سرکاری افسر ہیں تو فائل چلانے کے لیے رشوت نہ مانگیں

اگر آپ تاجر ہیں تو ذخیرہ اندوزی کرکے لوگوں کی مجبوری کو منافع میں تبدیل نہ کریں

اگر آپ نے کسی دوست سے قرض لیا ہے تو اسے بھول نہ جائیں

اور اگر واقعی واپس کرنے کی استطاعت نہیں تو کم از کم سچ بولیں. فون بند کرکے، گھر بدل کر، نمبر تبدیل کرکے اور جھوٹے وعدے کرکے انسان قرض سے آزاد نہیں ہوتا، صرف اپنے کردار سے محروم ہوتا ہے. مسئلہ نماز، روزہ، حج، عمرہ یا صدقہ نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم عبادت کو کردار سے الگ کیوں سمجھتے ہیں؟

کالم نگار : قمرنقیب
| | |
94