(+92) 319 4080233
کالم نگار

راجہ سعدخان

راجہ سعدخان

پروفائل | تمام کالمز
2026/09/22
موضوعات
مصنوعی ذہانت ایک نعمت یا عفریت ؟
آرٹیفیشل انٹیلیجنس بے شمار پیشے ختم کرنے جا رہی ہے، لیکن دنیا بھر کی سیاسی قیادت اس خطرے سے ویسے ہی نظریں چرا رہی ہے جیسے موسمیاتی تبدیلی کے معاملے پر کرتی رہی ہے- بلکہ شاید اس سے بھی زیادہ بے حسی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ یہ صنعتی انقلاب کی طرح نہیں ہوگا جہاں پرانے پیشے ختم ہونے کے ساتھ ساتھ نئے روزگار بھی پیدا ہو جائیں گے۔ اس بار معاملہ مختلف ہے: دولت چند ہاتھوں میں سمٹ جائے گی، مشینیں انسانی محنت کی جگہ لے لیں گی، اور محنت کش طبقہ بے روزگاری کی دلدل میں دھنس جائے گا-

دنیا کے امیر طبقے کو اس بات کی خوشی ہے کہ انہیں مزدوروں اور ٹریڈ یونینز کے مطالبات سے جان چھوٹ جائے گی، اور سارا منافع ان کے ہاتھ میں رہے گا۔ لیکن جو سوال شاید ہی کسی نے سوچا ہو وہ یہ ہے کہ جب دنیا کی اکثریت بے روزگار ہو جائے گی، تو وہ اشیاء خریدے گا کون؟ کارخانے مال تو بناتے رہیں گے، لیکن اگر خریدار ہی نہ رہے تو یہ معیشت کس طرح چلے گی؟

یہ مسئلہ محض نظری نہیں، بلکہ اس کے عملی نتائج تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ کچھ سنگین مثالیں دیکھیں:

• خودکار ٹرانسپورٹ:
لاکھوں ٹرک ڈرائیور اور ٹیکسی ڈرائیور بے روزگار ہو جائیں گے، جبکہ اوبر اور دیگر کمپنیاں بغیر ڈرائیور کے گاڑیاں چلائیں گی۔ امریکہ اور یورپ میں ٹرک ڈرائیوروں کی ایک بڑی تعداد ہے، جن کا روزگار ایک دہائی کے اندر ختم ہو سکتا ہے۔

• بینکنگ سیکٹر:
اے آئی پہلے ہی مالیاتی اداروں میں بڑے پیمانے پر ملازمتیں ختم کر رہی ہے۔ آج جو کام سینکڑوں لوگ کرتے ہیں، وہ خودکار الگورتھمز سنبھال رہے ہیں۔

• صنعتی پیداوار:
فیکٹریوں میں روبوٹس اور اے آئی سے چلنے والے سسٹمز انسانی مزدوری کی جگہ لے رہے ہیں۔ چین، جاپان، اور یورپ میں پہلے ہی روبوٹس بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ میں داخل ہو چکے ہیں۔

• تعلیم:
اے آئی سے چلنے والے آن لائن سسٹمز روایتی تدریس کو چیلنج کر رہے ہیں، جس سے لاکھوں اساتذہ کا مستقبل غیر یقینی ہو سکتا ہے۔

لیکن سب سے بڑا مسئلہ یہ ہوگا کہ جب کروڑوں لوگ بے روزگار ہو کر سڑکوں پر آ جائیں گے، اور دوسری طرف شاپنگ مالز، فیکٹریاں، اور بیکریاں خودکار نظام کے تحت بھرپور پیداوار کر رہی ہوں گی، تو وہ مال خریدنے والا آخر کون ہوگا؟ کیا ارب پتی افراد اپنی مصنوعات خود خریدیں گے؟ یا پھر دنیا ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو جائے گی جہاں غریب طبقہ صرف زندہ رہنے کے لیے بھی جدوجہد کرے گا جبکہ دولت مند طبقہ روبوٹس کے ذریعے اپنی الگ دنیا بسا لے گا؟

یورپ اور امریکہ کو شاید اس بحران کا اندازہ ہی نہیں، لیکن جب اچانک ایک صبح لوگ گھر کے کرائے کی عدم ادائیگی پر بےدخل ہوں گے، جب سڑکوں پر بھوکے کروڑوں انسان ہوں گے اور بیکریوں میں روٹیاں تیار پڑی ہوں گی لیکن خریدنے والا کوئی نہ ہوگا، تب شاید یہ احساس ہو کہ اے آئی کا انقلاب صرف ٹیکنالوجی کی ترقی نہیں، بلکہ ایک سماجی تباہی بھی لا سکتا ہے۔ سوال یہ ہے: کیا یہ سب کچھ چند کارپوریٹ ادارے اور دولت مند طبقہ کنٹرول کر سکے گا، یا پھر تاریخ ایک بار پھر انقلاب کا دروازہ کھٹکھٹائے گی؟

کالم نگار : راجہ سعدخان
| | |
73