(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولانامختارالمصطفیٰ

مولانامختارالمصطفیٰ

پروفائل | تمام کالمز
2026/09/22
موضوعات
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ
حالیہ سفرِ مسجدِ اقصیٰ میں جب اس مقدس سرزمین پر چلنے کا شرف ملا تو بار بار یہ احساس دل کو چھوتا رہا کہ ہم صرف پتھروں، گلیوں اور قدیم دیواروں کے درمیان نہیں چل رہے… یہ وہ سرزمین ہے جہاں اصحابِ رسول ﷺ کے قدم بھی پڑے، جہاں انہوں نے قرآن پڑھایا، دین کی خدمت کی اور اپنی زندگیاں امت کی رہنمائی میں گزار دیں۔

انہی عظیم ہستیوں میں ایک نام سیدنا عبادہ بن صامت انصاری رضی اللہ عنہ کا ہے۔

آپؓ ان خوش نصیب انصار میں سے تھے جنہوں نے بیعتِ عقبہ میں رسول اللہ ﷺ کے دستِ مبارک پر بیعت کی۔ آپؓ اہلِ بدر میں سے تھے اور عہدِ نبوی ﷺ کے عظیم مجاہد، معلمِ قرآن اور جلیل القدر صحابی تھے۔پھر وقت نے ایک عجیب منظر دیکھا…مدینۂ منورہ میں رسول اللہ ﷺ کی صحبت پانے والا یہ صحابی، عہدِ فاروقی میں سرزمینِ شام و فلسطین کی طرف روانہ ہوا۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے آپؓ کو قاضی اور معلم بنا کر بھیجا۔ تاریخی مصادر کے مطابق آپؓ نے فلسطین میں منصبِ قضا سنبھالا اور آپ کو فلسطین/بیت المقدس کے اولین مسلم قاضیوں میں، بلکہ متعدد مصادر میں پہلا قاضی قرار دیا گیا ہے۔ آپؓ یہاں لوگوں کو قرآنِ کریم اور دین کی تعلیم بھی دیتے رہے۔

ذرا تصور کیجیے…وہ زبان جس نے رسول اللہ ﷺ کی باتیں سنیں، اسی زبان سے اس ارضِ مقدس میں قرآن پڑھایا جا رہا تھا۔وہ آنکھیں جنہوں نے چہرۂ مصطفیٰ ﷺ دیکھا تھا، انہی آنکھوں نے بیت المقدس کو دیکھا۔وہ قدم جو مدینہ کی گلیوں میں حضور ﷺ کے ساتھ چلے تھے، انہی قدموں کے نشان فلسطین کی سرزمین نے بھی اپنے سینے پر محفوظ کیے۔

آج صدیوں بعد جب ہم مسجدِ اقصیٰ کے صحن میں کھڑے ہوتے ہیں تو شاید ہمارے قدموں کے نیچے صرف زمین نہیں ہوتی—ایک پوری تاریخ ہوتی ہے۔یہاں انبیاء علیہم السلام کی یادیں ہیں۔یہاں صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی خدمتِ دین کی خوشبو ہے اور اسی مقدس سرزمین سے سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی زندگی کا ایک عظیم باب وابستہ ہے۔

کتنی عجیب کیفیت تھی کہ حالیہ سفر میں اقصیٰ کی دیواروں کو دیکھتے ہوئے دل بار بار کہتا تھا:ہم آج یہاں مسافر بن کر آئے ہیں…مگر ہمارے اسلاف یہاں قرآن کے چراغ جلانے آئے تھے۔

سیدنا عبادہؓ نے صرف فلسطین میں قیام نہیں کیا؛ انہوں نے یہاں علم، عدل اور قرآن کی امانت پہنچائی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا نام تاریخِ بیت المقدس کے ابتدائی اسلامی دور میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔

اے اللہ!جس طرح تو نے اپنے محبوب ﷺ کے صحابہ کو اس مقدس سرزمین کی خدمت کا شرف عطا فرمایا، مسجدِ اقصیٰ کی حفاظت فرما، اہلِ فلسطین پر اپنا خصوصی کرم فرما، ان کے خوف کو امن میں بدل دے اور ہمیں بار بار اس مقدس سرزمین کی باادب حاضری نصیب فرما۔

کالم نگار : مولانامختارالمصطفیٰ
| | |
87