(+92) 319 4080233
کالم نگار

جنید اشفاق اٹکی

جنید اشفاق اٹکی

پروفائل | تمام کالمز
2026/09/22
موضوعات
دریائے سندھ کے کنارے مدفون بزرگ
شیخ یحی اٹکی رحمہ اللہ تعالیٰ کے مزار پر :
24 ربیع الاول 1448ھ مطابق 7 ستمبر 2026ء کو شیخ یحی اٹکی رحمہ اللّٰہ تعالیٰ کے مزار پر پہلی بار حاضری ہوئی، آپ کا مزار اٹک پل پار کرتے ہی دریائے سندھ کے کنارے واقع ہے۔بچپن سے یہی دیکھا اور سنا تھا کہ ان کے مزار پر مخصوص تاریخوں میں میلہ لگتا ہے ، طرح طرح کی بدعات ہوتی ہیں ، اس لیے ذہن میں جو خاکہ بچپن سے بیٹھا ہوا تھا ، اس کے اثرات کے باعث کبھی اس طرف رخ نہ ہو سکا ، اور نہ ہی کبھی اس طرف توجہ ہوئی کہ ان کے حالات کی کھوج لگائی جائے کہ یہ کون بزرگ ہیں۔ پھر ایک صاحبِ نسبت بزرگ کی زبان سے شیخ یحی اٹکی رحمہ اللہ تعالیٰ کا وہ تعارف سنا ، جو پہلی بار ان کے مزار تک بھی لے گیا اور ان کے حالات کی جستجو بھی عطا کر گیا۔

ہر غم سے غمِ یار کے پہلو نکل آئے :
قطع نظر وہ غیر شرعی امور ، جو ناواقفین کی طرف سے ان کے مزار پر ہوتے ہیں ( یہ امور ان بزرگوں کی تعلیمات کے بھی خلاف ہیں ، ان امور پر نکیر کرنا بھی ضروری ہے اور ان کی شناعت و قباحت اپنی جگہ درست ہے ، ان سے بچنا بھی عین ان بزرگوں کی تعلیمات کا حصہ ہے ، لیکن اس وقت یہ موضوعِ سخن نہیں ہے۔ ) ، موضوع سخن یہ ہے کہ خود ان (شیخ یحی اٹکی رحمہ اللہ) کی سیرت و شخصیت دستیاب معلومات کی روشنی میں دینی و تاریخی اہمیت کی حامل ہے۔

دستیاب معلومات کی روشنی میں ان کا مختصر تعارف یوں ہے کہ شیخ مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے مشہور خلفاء میں ایک نام شیخ آدم بنوری رحمہ اللہ تعالیٰ کا بھی آتا ہے۔ پھر ان کے ایک خلیفہ مجاز شیخ سعدی بلخاری لاہوری ہیں۔ ہمارے ممدوح شیخ یحی اٹکی ، شیخ سعدی بلخاری لاہوری رحمہ اللہ کے خلیفہ مجاز ہیں۔ تاریخ میں انہیں "شیخ یحی اٹکی" کے نام سے جانا جاتا ہے۔

حضرت مجدد الف ثانی رحمہ اللہ تعالیٰ (المتوفی 1034ھ) کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے ، " علماء ہند کا شاندار ماضی" حصہ اول کھولیں تو مولانا سید محمد میاں صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ ابتدا ہی حضرت مجدد الف ثانی رحمہ اللہ تعالیٰ کے تذکرے سے فرماتے ہیں اور تفصیل سے دسیوں صفحات میں ان کا اور ان کے متعلقین کا تذکرہ فرماتے چلے جاتے ہیں۔ حضرت مولانا شاہ عبد الغنی مجددی محدث دہلوی مہاجر مدنی نے شیخ مجدد الف ثانی کی شان میں چند اشعار نظم فرمائے تھے ، یہ اشعار بھی اسی کتاب میں حضرت مجدد رحمہ اللہ تعالیٰ کی وفات کے تذکرے کے موقع پر موجود ہیں۔ شروع کے دو اشعار بطور نمونہ ملاحظہ فرمائیں :

اے خاک پاک روضہ عبیری و عنبری

کہ اہل جہاں زبوئے تو مدہوش گشتہ اند

ساقی فشاند بر تو خوش آ بے کہ اہل دہر

عاقل بہ پشت آمدہ مخمور رفتہ اند

مزید تفصیل ہم طلبہ یوں سمجھ سکتے ہیں کہ ہمارے اکابر علماءِ دیوبند کے شجرہ طریقت پر نگاہ ڈالیں تو مدار اسانیدِ طریقت حضرت حاجی امداد مہاجر مکی رحمہ اللہ کی شخصیت نظر آتی ہے۔ پھر آپ کے واسطے سے یہ سلسلہ اوپر کے مشائخ تک پہنچتا ہے۔ آپ کی شخصیت تصوف کے چاروں سلاسل (چشتیہ قادریہ سہروردیہ نقشبندیہ) کا سنگم کہلاتی ہے ۔

مثلاً سیدی حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہم کی سندِ طریقت کا ایک سلسلہ درج ذیل ہے۔

آپ نے حضرت شیخ عبد الحی عارفی قدس سرہ سے خلافت حاصل فرمائی ، انہوں نے حضرت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب سے ، انہوں نے حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی سے ، انہوں نے حضرت شیخ نور محمد علوی جھنجھانوی سے ، انہوں نے حضرت شیخ سید احمد بریلوی سے ، انہوں حضرت شیخ شاہ عبد العزیز محدث دہلوی سے ، انہوں نے حضرت شیخ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی سے ، انہوں نے حضرت شیخ شاہ عبد الرحیم دہلوی سے انہوں نے حضرت شیخ سید عبد اللہ واسطی سے ، انہوں نے حضرت شیخ سید آدم بنوری مہاجر مدنی سے اور انہوں نے حضرت مجدد الف ثانی احمد سرہندی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین سے خلافت حاصل فرمائی۔ یعنی حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہم کی سندِ طریقت کے ایک سلسلے میں دس واسطوں سے آپ کی سند شیخ مجدد الف ثانی رحمہ تک پہنچتی ہے۔

حضرت مجدد الف ثانی رحمہ کے خلیفہ مجاز حضرت سید آدم بنوری رحمہ تھے ، پھر حضرت آدم بنوری رحمہ اللہ کے کئی سارے خلفاء تھے۔ مشہور خلیفہ مجاز سید عبد اللہ واسطی ہیں۔۔۔۔ انہی عبد اللہ واسطی رحمہ اللہ تعالیٰ کے سلسلے میں نیچے جا کر اکابر علماءِ دیوبند کا نام بھی آتا ہے۔

لیکن حضرت آدم بنوری رحمہ کے ایک اور خلیفہ مجاز بھی تھے ، جن کا نام شیخ سعدی بلخاری لاہوری رحمۃ اللہ علیہ ہے ، ان کا مزار لاہور میں واقع ہے۔ بظاہر انہی کے نام سے "سعدی پارک" کا نام رکھا گیا ہے۔ شیخ یحی اٹکی ، شیخ سعدی بلخاری رحمہ اللہ کے خلیفہ مجاز ہیں۔ یعنی شیخ یحی اٹکی کے اور حضرت مجدد الف ثانی رحمھم اللہ کے درمیان صرف دو واسطے (شیخ سعدی بلخاری لاہوری اور شیخ آدم بنوری رحمھما اللہ تعالیٰ) ہیں۔ اس سے شیخ یحی اٹکی رحمہ اللہ تعالیٰ کے مقامِ رفیع کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

شیخ یحی اٹکی کے آباء و اجداد کا تعلق ثمرقند و بخارا سے تھا ، ولادت 1041ھ اور وفات 1132ھ میں ہوئی۔ مزار دریائے سندھ کے کنارے واقع ہے۔

اللہ تعالیٰ ان بزرگوں کی قبور منور فرمائے ، ان کی تعلیمات کو عام فرمائے ، ان کے مزارات کو ہر قسم کی خرافات سے محفوظ فرمائے ، جس طرح خود یہ بزرگ متبع سنت تھے ، خدا کرے کہ ان سے محبت رکھنے والوں کو بھی یہ ذوق نصیب ہو ، اللہ تعالیٰ ہمیں ان بزرگوں کی زندگی سے سیکھنے کے جو اصل اسباق ہیں ، ان کو سیکھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یا رب العالمین!

کالم نگار : جنید اشفاق اٹکی
| | |
58