(+92) 319 4080233
کالم نگار

ولی اللہ، طالبِ علم شعبہ ابلاغِ عامہ

ولی اللہ، طالبِ علم شعبہ ابلاغِ عامہ

پروفائل | تمام کالمز
2026/09/22
موضوعات
تاریخ کوتاریخ سمجھ کر پڑھیں
بعض لوگ قرآن کو سمجھنے کے بجائے تاریخ کو قرآن کی جگہ رکھ دیتے ہیں، حالانکہ تاریخ اور قرآن ایک چیز نہیں۔ تاریخ انسانی کا مرتب کردہ علم ہے جس میں روایات، واقعات، راویوں اور انسانی فہم کا دخل ہوتا ہے، جبکہ قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔

یہاں یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ اسلامی تاریخ کی تدوین کا آغاز صرف تیسری صدی ہجری میں نہیں ہوا۔ ابتدائی دور ہی سے احادیث، سیرت، مغازی اور تاریخی روایات نقل ہوتی رہی ہیں، اگرچہ بڑی باقاعدہ تصانیف بعد کے ادوار میں سامنے آئیں۔ اس لیے اصل بحث تاریخ کی نفی نہیں بلکہ تاریخ اور وحی کے مقام و مرتبے میں فرق کرنا ہے۔

اسی تناظر میں، میرے خیال میں چار بنیادی موضوعات کو سمجھنا ضروری ہے:

توحید

رسالت

ختمِ نبوت

صحابۂ کرامؓ

توحید اسلام کی بنیاد ہے۔ اللہ تعالیٰ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں، وہ سب کچھ سنتا ہے اور سب کچھ دیکھتا ہے، اس کے علم سے کوئی چیز باہر نہیں۔

ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات کو قرآن و سنت کے مطابق مانا جائے۔ ہر غیبی حقیقت کو انسانی عقل کے پیمانے پر پرکھنا ضروری نہیں، عقل اللہ کی عطا ہے مگر عقل کی اپنی حدود بھی ہیں۔ اس لیے جہاں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی قطعی خبر موجود ہو، وہاں مسلمان کا رویہ اعتراض نہیں بلکہ ایمان اور تسلیم کا ہونا چاہیے۔

دوسرا بنیادی عقیدہ رسالت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت کے لیے انبیاء و رسل بھیجے۔ انبیاء علیہم السلام اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندے اور اس کے پیغام کے امین تھے۔ اہلِ سنت کے عقیدے کے مطابق انبیاء علیہم السلام اللہ تعالیٰ کی حفاظت و نگرانی میں ہوتے ہیں اور ان سے ایسے گناہ صادر نہیں ہوتے جو ان کی نبوت اور منصبِ رسالت کے منافی ہوں۔ ہمیں انبیاء کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے ادب، احتیاط اور قرآن و سنت کی حدود کو سامنے رکھنا چاہیے۔

تیسرا بنیادی عقیدہ ختمِ نبوت ہے۔ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد کسی نئے نبی کی آمد نہیں ہوگی۔ قرآنِ کریم نے آپ ﷺ کو خاتم النبیین قرار دیا ہے اور احادیثِ مبارکہ میں بھی آپ ﷺ کے بعد نبوت کے اختتام کو واضح کیا گیا ہے۔ یہ مسلمان کے بنیادی عقائد میں سے ہے، لہٰذا ختمِ نبوت کے معاملے میں الفاظ کے ساتھ کھیلنے، مفہوم کو بدلنے یا کسی نئی تعبیر کے ذریعے عقیدے کو مشکوک بنانے کی کوئی گنجائش نہیں۔

چوتھا اہم موضوع صحابۂ کرامؓ ہیں۔ یہ وہ عظیم جماعت ہے جس نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا، آپ ﷺ پر ایمان لائی، آپ ﷺ کی صحبت اختیار کی اور دین کو ہم تک پہنچانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے منقول ایک معروف روایت میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دلوں کو دیکھا تو محمد ﷺ کے دل کو بہترین پایا اور انہیں اپنی رسالت کے لیے منتخب فرمایا۔ پھر آپ ﷺ کے بعد صحابۂ کرامؓ کے دلوں کو بہترین پایا اور انہیں اپنے نبی ﷺ کے ساتھی اور دین کے مددگار بنایا۔

یہی وجہ ہے کہ صحابۂ کرامؓ ہمارے لیے محض تاریخی شخصیات نہیں بلکہ رسول اللہ ﷺ کے تربیت یافتہ اور دین کے اولین حاملین ہیں۔ اگر ہم یہ سمجھنا چاہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دین کو کیسے سمجھایا اور صحابہؓ نے اسے کیسے جیا، تو ہمیں ان کے کردار، قربانی، اخلاص اور عمل کو دیکھنا ہوگا۔

یہاں ایک بہت اہم سوال پیدا ہوتا ہے: اگر رسول اللہ ﷺ کے قریب رہنے والے، آپ ﷺ سے براہِ راست دین سیکھنے والے اور آپ ﷺ کی تربیت پانے والے صحابہؓ ہی دین کے اولین مخاطب اور حامل تھے، تو کیا بعد کے زمانوں کے انسان ان سب کو محض اپنی عقل اور متاخر تاریخی تعبیرات کی بنیاد پر کٹہرے میں کھڑا کر سکتے ہیں؟

اہلِ سنت کے نزدیک صحابۂ کرامؓ کی مجموعی عدالت و دیانت مسلّم ہے۔ ان کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے ادب، احتیاط اور حسنِ ظن ضروری ہے۔ قرآنِ کریم ہمیں صحابۂ کرامؓ کے ایمان اور اتباع کی طرف متوجہ کرتا ہے:

فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ مَا آمَنْتُمْ بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوْا(البقرہ: 137)

یعنی: "اگر وہ اسی طرح ایمان لائیں جس طرح تم ایمان لائے ہو تو یقیناً وہ ہدایت پا گئے"

یہاں "تم" سے مراد صحابۂ کرامؓ ہیں، کیونکہ قرآن کے اولین مخاطبین اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایمان لانے والی جماعت یہی تھی۔ اسی لیے صحابہؓ ہمارے لیے ایک عظیم عملی نمونہ ہیں۔

یہ بات ہمیں سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ اگر کوئی شخص قرآن کو سمجھنے کے لیے صحابۂ کرامؓ کی فہم، سنتِ رسول ﷺ اور امت کے مستند علمی تسلسل کو نظرانداز کر کے صرف اپنی عقل یا متاخر تاریخی تعبیر کو معیار بنا لے، تو وہ کہاں پہنچ سکتا ہے؟

اصل مسئلہ شاید یہی ہے کہ ہم نے مصادرِ دین کے درمیان فرق کرنا چھوڑ دیا ہے:

قرآن کیا کہتا ہے؟

رسول اللہ ﷺ نے کیا فرمایا؟

صحابہؓ نے اسے کیسے سمجھا؟

اور امت کے معتبر علماء نے اسے کیسے منتقل کیا؟

یہ سوالات بنیادی ہیں۔ تاریخ کا مطالعہ ضرور کیا جائے کیونکہ تاریخ ہمیں بہت کچھ سکھاتی ہے، لیکن تاریخ کو قرآن کا متبادل نہیں بنایا جا سکتا۔ اور اگر صحابۂ کرامؓ کے بارے میں کوئی سوال پیدا ہو تو ہمیں سب سے پہلے قرآن، سنت اور معتبر اسلامی روایت کی طرف رجوع کرنا چاہیے، نہ کہ صرف ایسے تاریخی بیانیوں کی طرف جن کی صحت، سیاق اور سند خود زیرِ بحث ہو۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی علمی کمزوری کو تسلیم کریں۔ ہر شخص اپنی محدود عقل کو وحی کے برابر معیار نہیں بنا سکتا۔ عقل نعمت ہے، مگر وحی معیار ہے۔

ہمیں قرآن سے جڑنا ہے، رسول اللہ ﷺ کی سنت کو سمجھنا ہے، ختمِ نبوت کے عقیدے کو مضبوطی سے تھامنا ہے اور صحابۂ کرامؓ کے مقام و مرتبے کو سمجھنا ہے۔ کیونکہ دین اپنی مرضی سے بنائے گئے چند خیالات کا نام نہیں، دین وہ راستہ ہے جو اللہ کی وحی، رسول اللہ ﷺ کی سنت اور صحابۂ کرامؓ کی عملی زندگی سے ہم تک پہنچا ہے۔

اور شاید آج ہمارے دینی حلقوں کو سب سے زیادہ ضرورت اسی بات کی ہے کہ ہم جذبات سے پہلے علم، تحقیق اور اصول کو اپنا معیار بنائیں۔

کالم نگار : ولی اللہ، طالبِ علم شعبہ ابلاغِ عامہ
| | |
76