انسانی زندگی کی مختلف جہات میں عقیدہ ختمِ نبوت کی اہمیت، افادیت اور اثرات پر غور کرتے ہوئے یہ بات ذہن میں آتی رہی ہے کہ یہ عقیدہ صرف ہمارے نظریہ و عقیدہ تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس عقیدہ کے اثرات سیرتِ طیبہ کے مختلف گوشوں، شعبہائے حیات کے متنوع پہلوؤں اور انسانی زندگی کی مختلف جہات میں موجود ہیں یعنی اگر اس عقیدہ کو کبھی بھی کمزور کیا گیا تو نظریہ کمزور نہیں ہوگا بلکہ انسانی زندگی کا ہر پہلو متاثر ہوگا۔
راقم نے چند دن قبل "ختمِ نبوت؛ سیرتِ نبوی کی روشنی میں" کے عنوان سے گفتگو کرنے کے لئے مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع عثمانی رحمہ اللہ کی معروف کتاب "ختمِ نبوت کامل" کا مطالعہ شروع کیا، اس کتاب میں آپ نے عقیدہ ختمِ نبوت پر 100 آیات، 200 احادیث اور کئی آثار و روایات پیش فرمائی ہیں، آیات کا مطالعہ کرتے ہوئے مذکورہ بالا عنوان پر مضمون خود بنتا چلا گیا (قارئین کی سہولت کے لئے اس کو دو قسطوں میں رکھا ہے)
سو اپنے مطالعہ کو قلمبند کرنے کی ادنیٰ سی سعی کی ہے تاکہ عقیدہ ختمِ نبوت کی نظریاتی اہمیت کے ساتھ دیگر جہات و پہلوؤں سے بھی اہمیت واضح ہوجائے۔
واضح رہے کہ یہ عقیدہ اسلام کے بنیادی اور قطعی عقائد میں سے ہے، قرآنِ کریم نے رسول اللہ ﷺ کو واضح الفاظ میں خاتم النبیین قرار دیا اور خود رسول اللہ ﷺ نے متعدد مواقع پر اپنی نبوت کے اختتام اور اپنے بعد نبوت کی نفی فرمائی۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَٰكِن رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ ۗ وَكَانَ اللهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا ٤٠(الأحزاب: 40)
محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں، لیکن وہ اللہ کے رسول اور تمام نبیوں کے خاتم ہیں، اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:أَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ، لَا نَبِيَّ بَعْدِي۔(أبوداؤد: 4252، الترمذي: 2219)
میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
رسول اللہ ﷺ پر سلسلہ نبوت ختم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسانیت کی رہنمائی کے لئے نبوت و وحی کا سلسلہ مکمل ہوگیا، دین کی تکمیل ہوگئی ہے، آخری شرعی معیار قائم ہوگیا ہے، اور اب قیامت تک آنے والی انسانیت کو اسی آخری رسول خاتم النبیین ﷺ کی تعلیمات کی پیروی کرنی ہے، اسی بنیادی حقیقت کے مختلف پہلو درج ذیل ہیں:
*① اعتقادی جہت: ایمان کا آخری مرکز*:
ختمِ نبوت کا مطلب یہ ہے کہ ایمان و ہدایت کے لئے آخری نبی خاتم النبیین محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں، اب کسی نئے مدعیِ نبوت کی طرف متوجہ ہونے کی گنجائش نہیں۔
وَلَٰكِنْ رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ (الأحزاب: 40)
یہ آیت عقیدہ ختمِ نبوت کی بنیادی اور قطعی دلیل ہے۔
*② عقلی جہت: تکمیل کے بعد نئے نبی کی ضرورت نہیں*:
جب اللہ تعالیٰ نے دین کو مکمل فرمادیا تو ہدایت کی تکمیل کے لئے کسی نئے نبی کی ضرورت باقی نہیں رہی، عقل انسانی بھی "تکمیل دین" کا مفہوم سمجھتی ہے، البتہ انسانی عقل ہمیشہ اسی دین کے تابع رہے گی۔
ٱلۡیَوۡمَ أَكۡمَلۡتُ لَكُمۡ دِینَكُمۡ وَأَتۡمَمۡتُ عَلَیۡكُمۡ نِعۡمَتِی وَرَضِیتُ لَكُمُ ٱلۡإِسۡلَـٰمَ دِینࣰاۚ (المائدة: 3)
گویا ختمِ نبوت، تکمیلِ دین کا فطری اور منطقی تقاضہ ہے، اور یہی سلامتی عقل کا راستہ بھی ہے، اگر تکمیل کے بعد بھی کسی وحی کا سلسلہ جاری رہتا تو عقل انسانی بھٹکتی رہتی اور کسی نئے نظام کی منتظر رہتی اور تشویش کا شکار ہوتی۔
*③ فکری جہت: شخصیت نہیں، نبوی اصول*:
ختمِ نبوت انسان کو ہر نئے مدعی نبوت کی شخصیت کے بجائے خاتم النبیین ﷺ کے لائے ہوئے اصولوں سے وابستہ کرتی ہے، اب کوئی شخصیت نبی کی صورت میں نہ آئے گی بلکہ رسول اللہ ﷺ کے اصول ہی چلیں گے، نظریہ بھی آپ کا چلے گا، فکریہ بھی آپ کا ہوگا، اس کے علاوہ سب مردود ہے۔
وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا (الحشر: 7)
اب حق کا معیار ہر نیا دعویٰ نہیں ہے بلکہ رسول اللہ ﷺ کی ازلی تعلیمات ہیں۔
*④ علمی جہت: سلسلہ وحی ختم، رجوع إلی العلماء باقی*:
نبوت ختم ہوئی ہے مگر علم سیکھنے کا دروازہ بند نہیں ہوا، اب قرآن و سنت کو سمجھنا، تحقیق کرنا اور مسائل کا حل نکالنا علمائے امت کی ذمہ داری ہے، نیز اگر نبوت کا سلسلہ منقطع نہ ہوتا تو اہل علم کی طرف رہنمائی کی حاجت نہ رہتی، بلکہ نئے نبی کی آمد کا انتظار کیا جاتا جبکہ قرآن کریم صاف کہہ رہا ہے کہ اب تعلیمات نبویہ کی روشنی میں اہل علم سے رجوع کرو، یہ رجوع إلی العلماء کی دعوت و روایت بھی ختم نبوت کی دلیل ہے۔
فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ (النحل: 43)
*⑤ تشریعی جہت: آخری شریعت*:
خاتم النبیین محمد مصطفیٰ ﷺ پر نازل ہونے والی شریعت آخری شریعت ہے، اب کوئی نئی آسمانی شریعت نہیں آسکتی، یہی شریعت قیامت تک غالب رہے گی، سارے ادیان سابقہ پر ظاہر و فاتح رہے گی۔
هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَىٰ وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ (التوبة: 33)
خاتم النبیین ہونے کا لازمی نتیجہ یہی ہے کہ آپ ﷺ کے بعد نبوت اور اس کے ذریعہ نئی شریعت کا سلسلہ ختم ہوگیا، یہی دین و شریعت ہمیشہ رہے گا۔
وَمَن يَكْفُرْ بِهِ مِنَ الْأَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهُ ۚ فَلَا تَكُ فِي مِرْيَةٍ مِّنْهُ ۚ إِنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّكَ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يُؤْمِنُونَ (هود: 17)
احزاب سے اقوامِ عالم مراد ہیں جن کو شریعتِ محمدیہ کی اتباع کا حکم ہے۔
یہ روایت بھی سامنے رہے:
أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَتَى النَّبِيَّ ﷺ بِكِتَابٍ أَصَابَهُ مِنْ بَعْضِ أَهْلِ الْكِتَابِ فَقَرَأَهُ عَلَى النَّبِيِّ ﷺ فَغَضِبَ وَقَالَ: أَمُتَهَوِّكُونَ فِيهَا يَا ابْنَ الْخَطَّابِ؟ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ مُوسَى كَانَ حَيًّا مَا وَسِعَهُ إِلَّا أَنْ يَتَّبِعَنِي۔
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اہلِ کتاب میں سے کسی کے پاس سے حاصل کیا ہوا ایک صحیفہ لے کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسے آپ ﷺ کے سامنے پڑھا، آپ ﷺ نے ناراضگی کا اظہار فرمایا اور ارشاد ہوا: اے ابن خطاب! کیا تم اس معاملہ میں حیرانی و تردد کا شکار ہو؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر موسیٰ علیہ السلام بھی زندہ ہوتے تو ان کے لئے بھی میری (شریعت کے) اتباع کے سوا کوئی گنجائش نہ ہوتی۔
ایک روایت میں ہے:فَغَضِبَ وَقَالَ: جِئْتُكُمْ بِهَا بَيْضَاءَ نَقِيَّةً، لَا تَسْأَلُوا أَهْلَ الْكِتَابِ عَنْ شَيْءٍ، فَيُخْبِرُوكُمْ بِحَقٍّ فَتُكَذِّبُوا بِهِ، أَوْ بِبَاطِلٍ فَتُصَدِّقُوا بِهِ۔
(ابن كثير، البداية والنهاية (٢/١٢٢) إسناده على شرط مسلم، أخرجه أحمد (١٥١٥٦)، وابن أبي شيبة (٢٦٩٤٩) كلاهما بلفظه، والدارمي (٤٤٩) باختلاف يسير)
آپ ﷺ نے فرمایا: میں تمہارے پاس اسے روشن اور پاکیزہ شریعت لے کر آیا ہوں، اہلِ کتاب سے کسی چیز کے بارے میں نہ پوچھو، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ تمہیں حق بتائیں اور تم اسے جھٹلا دو، یا باطل بتائیں اور تم اسے سچ مان لو۔
*⑥ عالمگیری جہت: سب کے لئے ایک نبی*:
آپ ﷺ کی رسالت کسی خاص قوم یا خطہ تک محدود نہیں جبکہ انبیائے سابقین علیہم السلام کی بعثت محدود زمانے، مخصوص علاقے اور خاص قوم کی طرف تھی، آپ ﷺ کی بعثت کی عالمگیری جہت بھی ختم نبوت کی دلیل ہے۔وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا كَافَّةً لِّلنَّاسِ بَشِيرًا وَنَذِيرًا (سبأ: 28)
جب آپ ﷺ کی رسالت تمام انسانوں کے لئے ہے تو کسی قوم کے لئے نئے نبی کی ضرورت باقی نہیں رہتی، روایات اس پر کثیر وارد ہوئی ہیں۔
*⑦ عملی جہت: زندگی کا آخری نمونہ*:
اب عملی زندگی کے لئے کوئی نیا نمونہ نہیں آئے گا، اس لئے اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو عملی زندگی کے لئے آخری نمونہ اور آئیڈیل بنا کر بھیجا ہے، ارشاد فرمایا:لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ (الأحزاب: 21)
عبادت، معاملات، معاشرت، اخلاق، معیشت، سیاست، عدالت، دفاع، حکومت، ریاست، نظام، ملکی قوانین، عالمی ضوابط، بین الاقوامی معاہدات اور ہر دور ہر زمانے کی رہنمائی کے لئے ہمارا اسوہ رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی ہیں۔
*⑧ اخلاقی جہت: اخلاق کا نبوی معیار*:
رسول اللہ ﷺ کی زندگی اخلاق حسنہ کی رفعت اور تکمیل کا بھی نمونہ ہے۔وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ (القلم: 4)
آپ ﷺ کے اخلاق قیامت تک انسانیت کے لئے معیار ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ مَكَارِمَ الْأَخْلَاقِ (الأدب المفرد: 273، أحمد: 8952)
مجھے مکارمِ اخلاق کی تکمیل کے لئے بھیجا گیا ہے۔
*⑨ معاشی جہت: حلال و حرام کا آخری معیار*:
اسلام نے تجارت، ملازمت، معاہدہ، قرض، زکوٰۃ، وراثت اور مالی معاملات کے اصول عطا کیے۔
وَأَحَلَّ اللهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا (البقرة: 275)
آمِنُوا بِاللهِ وَرَسُولِهِ وَأَنفِقُوا مِمَّا جَعَلَكُم مُّسْتَخْلَفِينَ فِيهِ ۖ فَالَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَأَنفَقُوا لَهُمْ أَجْرٌ كَبِيرٌ (الحديد: 7)
اب کوئی نئی وحی آکر سود کو حلال یا حرام نہیں کرے گی نیز دوسری آیت میں آخرت میں "اجرِ کبیر" کا وعدہ "ایمان بالرسول ﷺ" کے بعد ہے، یہ اس بات پر دلیل ہے کہ اب مزید کسی اور نبی پر ایمان نہیں لانا اور نہ ہی کسی اور نظام معیشت چلے گا، معاشی جہت میں بھی اب شریعت مطہرہ آخری معیار ہے۔
*⑩ عدالتی جہت: آخری نبوی معیارِ عدل*:
رسول اللہ ﷺ کے عدالتی فیصلے کے آگے سر تسلیم خم کرنا ایمان کا حصہ ہے، اگر کوئی ان کے بعد بھی کسی اور عدالتی فیصلے کو پسند کرتا ہے یا رسول اللہ ﷺ کے فیصلے کو قبول نہیں کرتا، اس کا ایمان معتبر نہیں ہے، یہ ختم نبوت کا بڑا اہم پہلو ہے۔
فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا (النساء: 65)
اب یہ قیامت تک کے لئے عدالتی معیار "فیصلہ نبوی" ہی ہوگا۔
*⑪ سیاسی جہت: حکمرانی کے نبوی اصول*:
قرآن مجید نے اہلِ ایمان کے اجتماعی نظام کی ایک بنیادی صفت شورائیت بیان فرمائی، کہ اب نبی نہیں آئیں گے بلکہ امت کا نظام شورائیت سے چلے گا، گویا نظام مملکت میں نئے نبی کی آمد کا سلسلہ ختم ہوگیا، اب خلفاء ہوں گے، وہی امور حکومت دیکھیں گے اور ان کے فیصلے وحی سے نہیں بلکہ مشورہ سے چلیں گے جو وحی کے اصولوں کے تابع ہوں گے !
وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ (الشورى: 38)
رسول اللہ ﷺ نے اس کو مزید واضح فرمایا:كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ تَسُوسُهُمُ الْأَنْبِيَاءُ، كُلَّمَا هَلَكَ نَبِيٌّ خَلَفَهُ نَبِيٌّ، وَإِنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي، وَسَيَكُونُ خُلَفَاءُ فَيَكْثُرُونَ(البخاري: 3455، مسلم، كتاب الإمارة: 1842)
بنی اسرائیل کی سیاست و انتظام انبیاء کیا کرتے تھے، جب بھی کوئی نبی وفات پاتا تو اس کے بعد دوسرا نبی آتا تھا، لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا، اور میرے بعد خلفا ہوں گے اور بہت ہوں گے۔
گویا بنی اسرائیل میں ایک نبی کے بعد دوسرا نبی آکر دینی و اجتماعی رہنمائی کرتا تھا، مگر محمد ﷺ کے بعد نبوت کا سلسلہ ختم ہوگیا، اب امت کے اجتماعی معاملات کے لئے نئے نبی نہیں آئیں گے، بلکہ خلفاء ہوں گے اور ان کا نظام قرآن و سنت کی ہدایت اور شورائیت کے اصولوں پر قائم ہوگا۔
سیاسی رہنمائی بھی نبوی اصولوں سے ہوگی، کسی نئے نبی سے نہیں، یہ بھی ختم نبوت کی مضبوط ترین دلیل ہے۔
*⑫ دفاعی جہت: امن، نظم اور دفاع*:
سیرتِ نبوی ﷺ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ اسلام نے قیام امن، دفاعی نظم اور اجتماعی تحفظ کے اصول بھی دیئے ہیں، ارشاد ربانی ہے :وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ (الأنفال: 60)
رسول اللہ ﷺ نے امت کو امن کی حفاظت اور ضرورت کے وقت دفاع کے لئے تیار رہنے کا شعور دیا ہے، اب اس نظام کو کوئی بدل نہیں سکتا، آیات کا اسلوب بتا رہا ہے کہ اب دفاعی جہات بھی نبوی تعلیمات کی روشنی میں انجام دینے ہوں گے، کوئی ان امور کو منسوخ نہیں کرسکتا۔
*⑬ تعلیمی جہت: علم کی ذمہ داری*:
نبوی دعوت کا آغاز ہی علم کے پیغام سے ہوا اور پہلی وحی غار حرا میں نازل ہوئی :اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ (العلق: 1)
يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَكُم بُرْهَانٌ مِّن رَّبِّكُمْ وَأَنزَلْنَا إِلَيْكُمْ نُورًا مُّبِينًا (النساء: 174)
سو اب نبی نہیں آئے گا، اس لئے نبوی علم، جو نورِ نبوت ہے، اس کو اگلی نسل تک پہنچانا امت کی ذمہ داری ہے، آیت کا سیاق بتارہا ہے کہ ساری انسانیت کو خطاب ہے جو قیامت تک کے لئے کارآمد ہے، نئی آسمانی ہدایت کا اب نزول نہ ہوگا، یہی آخری آسمانی تعلیمات ہیں !
*⑭ تربیتی جہت: انسان سازی*:
رسول اللہ ﷺ نے صرف احکام بیان نہیں فرمائے بلکہ انسان تیار کئے جو آگے خوبصورت معاشرہ تشکیل دیں، اسی کا نام تزکیہ نفوس ہے، اسی کا نام تعمیر شخصیت ہے، اسی کا نام تربیت رجال کار ہے، سو قرآن کریم نے آپ ﷺ کے مشن کو یوں بیان کیا:وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ (الجمعة: 2)
اب آپ ﷺ کی تربیت یافتہ جماعت امت کے لئے نمونہ بن گئی، چنانچہ آپ نے جماعت صحابہ تیار کی اور ان کے نقش قدم پر چلنے والوں کو "الفرقة الناجیة" قرار دیا، ارشاد ہوا :ما أنا عليه اليومَ وأصحابي (الترمذي : 2641)
جماعت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا وجود اور ان کے نقش قدم پر چلنا ہی ختم نبوت کی دلیل ہے کیونکہ اگر آپ کے بعد اگر کسی نبی کی بعثت ہوتی تو کامیابی کے لئے اس کی اتباع کا حکم دیتے، جبکہ ایسا نہیں ہے، یہی ختم نبوت کی دلیل ہے۔
*⑮ اصلاحی جہت: نبوت ختم، اصلاح باقی*:
سلسلہ نبوت ختم ہوگیا، لیکن اصلاح کا کام ختم نہیں ہوا، اس لئے دعوت إلی الخیر کی ذمہ داری امت کے ایک بڑے حصہ کے ذمہ ہے کہ وہ اصلاحی جاری رکھے، اگر کسی اور نبی کی آمد متوقع ہوتی تو یہ امت بھی سابقہ امت کی طرح صرف عبادت کرتی، اصلاح و ارشاد کا کام نہ کرتی، چنانچہ ارشاد ربانی ہے :وَلْتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ ۚ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (آل عمران: 104)
گویا فلاح کا حصر اب اتباع شریعت محمدیہ میں رہتے ہوئے اصلاح و ارشاد میں ہے، ایک روایت میں رسول اللہ ﷺ نے مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ قیامت تک اب اصلاح و ارشاد کا کام صرف امت کے ذمہ ہے، یہ بھی عقیدہ ختم نبوت کی مضبوط ترین دلیل ہے :لا تزال طائفةٌ من أمَّتي ظاهرينَ على الحقِّ حتّى تقومَ السّاعةُ (الحاكم : 8389)
میری امت میں ایک جماعت ہمیشہ حق پر قائم رہے گی یہاں تک کہ قیامت قائم ہوجائے۔
گویا اب اصلاح امت کام علماء، صلحاء، مصلحین، مرشدین اور داعیان کریں گے، نبی نہیں آئیں گے، یہ انتقالِ مسئولیت ختم نبوت کی اہم دلیل ہے۔
*⑯ اجتہادی جہت: نئے مسائل، قدیم اصول*:
دنیا بدلتی رہے گی، نئے مسائل پیدا ہوں گے، مگر اب ہر مسئلہ کے لئے نئی وحی نہیں آئے گی، کوئی نئی شریعت نازل نہ ہوگی، بلکہ اجتہاد ہوگا، اگر نئی شریعت کا آنا ہوتا تو امت کو اجتہاد کی اجازت نہ دی جاتی۔
اللہ رب العالمین کا ارشاد ہے :فَلَوْلَا نَفَرَ مِن كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَائِفَةٌ لِّيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ (التوبة: 122)
رسول اللہ ﷺ نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجتے ہوئے اجتہاد کی راہ دکھائی:أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ لَهُ حِينَ أَرْسَلَهُ إِلَى الْيَمَنِ: بِمَ تَحْكُمُ؟ قَالَ: بِكِتَابِ اللهِ، قَالَ: فَإِنْ لَمْ تَجِدْ؟ قَالَ: بِسُنَّةِ رَسُولِ اللهِ، قَالَ: فَإِنْ لَمْ تَجِدْ؟ قَالَ: أَجْتَهِدُ رَأْيِي وَلَا آلُو، قَالَ: الْحَمْدُ لِله الَّذِي وَفَّقَ رَسُولَ رَسُولِ الله، لِمَا يُحِبُّ رَسُولُ اللهِ.(أبوداؤد: 3592)
شروع میں حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مسائل کا حل قرآن اور پھر سنت رسول میں تلاش کروں گا اور اگر اس میں نہ پایا تو میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا اور اس میں کوتاہی نہیں کروں گا، اس پر رسول اللہ ﷺ نے تصویب فرمائی۔
ختمِ نبوت نے امت کو اصولوں کے اندر اجتہاد کی ذمہ داری دی۔
*⑰ تہذیبی جہت: مستقل اسلامی شناخت*:
ختمِ نبوت نے امت کو ایک مستقل فکری و تہذیبی مرکز دیا اور اب یہود و نصاری کی تہذیب و ملت چلے گی اور نہ کسی اور کی نئی ملت چلے گی، ارشاد ربانی ہے :وَلَن تَرْضَىٰ عَنكَ الْيَهُودُ وَلَا النَّصَارَىٰ حَتَّىٰ تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ ۗ قُلْ إِنَّ هُدَى اللهِ هُوَ الْهُدَىٰ ۗ (البقرة: 120)
اور یہود و نصاریٰ آپ سے ہرگز راضی نہ ہوں گے جب تک آپ ان کے طریقے کی پیروی نہ کریں، کہہ دیجیے: اللہ کی ہدایت ہی اصل ہدایت ہے، اور اگر اس علم کے آجانے کے بعد آپ نے ان کی خواہشات کی پیروی کی تو اللہ کے مقابلے میں نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ مددگار۔
اوپر آیت کریمہ میں یہ بات صاف مذکور ہے کہ ملت اسلامیہ اور تہذیب اسلام کے بعد کے کسی مذہبی دعوے کی طرف جانا خواہشات کی طرف بڑھنا ہے، یہ حتمی فیصلہ ہے کہ اب رسول اللہ ﷺ کی ملت، آخری ملت و تہذیب ہے۔
*⑱ تاریخی جہت: نبوت کا اختتامی باب*:
سابقہ انبیائے کرام علیہم السلام کے ذکر کے بعد ایمان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو معیارِ حق بنایا گیا، معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد نبوت کا سلسلہ ختم ہے، اگر آپ کے بعد کسی اور نبی کی آمد ہوتی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو معیار حق نہ بنایا جاتا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو معیار حق بنانا بھی ختم نبوت کی دلیل ہے۔
قُولُوا آمَنَّا بِاللهِ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنزِلَ إِلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطِ وَمَا أُوتِيَ مُوسَىٰ وَعِيسَىٰ وَمَا أُوتِيَ النَّبِيُّونَ مِن رَّبِّهِمْ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّنْهُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ مَا آمَنتُم بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوا ۖ وَإِن تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا هُمْ فِي شِقَاقٍ ۖ فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللهُ ۚ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ(البقرة: 136، 137)
کہہ دو: ہم اللہ پر ایمان لائے اور اس پر جو ہماری طرف نازل کیا گیا، اور جو ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب اور ان کی اولاد کی طرف نازل کیا گیا، اور جو موسیٰ و عیسیٰ کو دیا گیا، اور جو دوسرے نبیوں کو ان کے رب کی طرف سے دیا گیا، ہم ان میں سے کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے اور ہم اسی کے فرمانبردار ہیں، پھر اگر وہ بھی اسی طرح ایمان لے آئیں جس طرح تم ایمان لائے ہو تو وہ ہدایت پاگئے، اور اگر منہ پھیر لیں تو وہ محض مخالفت میں ہیں، پس اللہ ان کے مقابلے میں آپ کے لیے کافی ہوگا، اور وہ سننے والا، جاننے والا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے اپنی مثال انبیاء کی عمارت میں آخری اینٹ سے دی:فَأَنَا اللَّبِنَةُ، وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ (البخاري: 3535)
میں وہ آخری اینٹ ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں۔
یہ انسانی تاریخ میں نبوت کے دور کی تکمیل کا اعلان ہے۔
*⑲ وحدتِ امت کی جہت*:
ختمِ نبوت امت کو ایک نبی، ایک کتاب اور ایک شریعت پر جمع کرتی ہے، اب اس کے بعد کسی اور جہت سے وحدت امت ہوتی تو اس کی طرف متوجہ کیا جاتا مگر قرآن کریم نے "حبل اللہ" کو تھامنے کا حکم دیا۔
وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا (آل عمران: 103)
ہر نئے مدعیِ نبوت کے ساتھ ایک نئی مذہبی مرکزیت پیدا ہوسکتی تھی، مگر ختمِ نبوت نے اصل مرکز کو ہمیشہ کے لئے متعین کردیا۔
*⑳ دعوتی جہت: اب امت کی ذمہ داری*:
سلسلی نبوت ختم ہوا، مگر دعوتِ کار نبوت ختم نہیں ہوئی، سو اب یہ امت کے ہر فرد کے ذمہ ہے، اگر کار نبوت کی طرف دعوت دینے کے لئے کسی نبی کی بعثت ہوتی تو امت کو یہ کام نہ سونپا جاتا۔
كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ (آل عمران: 110)
اب دنیا تک دین پہنچانا امت کی ذمہ داری ہے، کسی نئے نبی کی آمد نہیں ہوگی۔
*㉑ خاندانی جہت: اب کسی خاندان میں نبوت نہ آئے گی*:
ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کو ماں کا رتبہ دے کر یہ طے کردیا کہ اب امت میں کسی اور نبی کی شریعت نہ آئے گی، یہ ازواج قیامت تک کے لئے امت کی مائیں ہیں اور ساری انسانیت ان کی روحانی اولاد ہے، گویا آپ کا خاندان، نبوت کا آخری خاندان ہے اور آپ کی ازواج ساری امت کی مائیں ہیں !
النَّبِيُّ أَوْلَىٰ بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنفُسِهِمْ ۖ وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ ۗ (الأحزاب: 6)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:إِنِّي تَارِكٌ فِيكُمْ مَا إِنْ تَمَسَّكْتُمْ بِهِ لَنْ تَضِلُّوا بَعْدِي، أَحَدُهُمَا أَعْظَمُ مِنَ الْآخَرِ: كِتَابُ اللَّهِ حَبْلٌ مَّمْدُودٌ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ، وَعِتْرَتِي أَهْلُ بَيْتِي، وَلَنْ يَفْتَرِقَا حَتَّىٰ يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ، فَانْظُرُوا كَيْفَ تَخْلُفُونِي فِيهِمَا (الترمذي: 3788)
یہاں کتاب اللہ کے بعد خاندان نبوت سے جڑنے کو فرمایا (دوسری روایات میں سنت رسول، سنت خلفائے راشدین اور جماعت صحابہ رضی اللہ عنہم کا بھی ذکر ہے) گویا اس طرف واضح اعلان ہے کہ اب صرف یہی خاندان نبوت قیامت تک "سادات" رہے گا، کسی اور خاندان میں نبوت جاری نہ ہوگی۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے:لَوْ لَمْ أَخْتِمْ بِهِ النَّبِيِّينَ لَجَعَلْتُ لَهُ ابْنًا يَكُونُ بَعْدَهُ نَبِيًّا (تفسیر بغوی)
اگر اللہ تعالی کی مشیت میں محمد ﷺ کے ذریعہ نبیوں کو ختم نہ کرنا نہ ہوتا تو آپ ﷺ کو ایسا بیٹا دیا جاتا جو آپ ﷺ کے بعد نبی ہوتا۔
*㉒ دستوری جہت: اسلام ہمیشہ کے لئے ضابطہ حیات*:
ختمِ نبوت نے دینِ اسلام کو ہمیشہ کے لئے دستورِ حیات طے کردیا ہے، اب اس کے بعد کسی آسمانی ہدایت اور شریعت کی ضرورت نہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:تركتُ فيكم أَمْرَيْنِ لن تَضِلُّوا ما تَمَسَّكْتُمْ بهما: كتابَ اللهِ وسُنَّةَ نبيِّهِ صلّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ (أخرجه مالك في الموطأ 899/2 بلاغاً)
میں تم میں دو چیزیں چھوڑ کر جارہا ہوں، جب تک تم انہیں مضبوطی سے تھامے رہو گے گمراہ نہیں ہوگے: اللہ کی کتاب اور اس کے نبی کی سنت۔اس سے معلوم ہوا کہ اب کتاب اللہ اور سنتِ رسول اللہ ﷺ کا نظام چلے گا، یہی دستور حیات ہے، ضابطہ زندگی ہے۔
*㉓ تحفظِ ختمِ نبوت اور انکارِ ختمِ نبوت پر پیشگوئی*:
رسول اللہ ﷺ نے پہلے ہی پیشگوئی دی تھی کہ میرے بعد جھوٹے مدعیان نبوت پیدا ہوں گے :وَإِنَّهُ سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي كَذَّابُونَ كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ، وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ، لَا نَبِيَّ بَعْدِي۔(أبوداؤد: 4252، الترمذي: 2219)
اور میری امت میں جھوٹے لوگ ہوں گے، ان میں سے ہر ایک دعویٰ کرے گا کہ وہ نبی ہے، حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
ختمِ نبوت امت کے لئے جھوٹے مدعیانِ نبوت کو پہچاننے کا واضح نبوی معیار ہے۔
یہ 23 جہات ہی لکھی ہیں، اگر مزید بھی نکالی جائیں تو سامنے آجائیں، 23 کا عدد عہد نبوت کے 23 سالہ عرصہ کی مناسب سے رکھا ہے، یہ بھی حصول برکت کے لئے ہے۔صلی اللہ علیه و علی آله و أصحابه و بارك و سلم
*???? خلاصہ کلام*:
عقیدہ ختمِ نبوت کو صرف ایک جملے میں یوں سمجھا جاسکتا ہے:"نبوت ختم ہوئی مگر ہدایت ختم نہیں ہوئی، وحی ختم ہوئی مگر قرآن باقی ہے، انبیاء نہیں آئیں گے مگر سیرتِ محمدی ﷺ باقی ہے، نئی شریعت نہیں آئے گی مگر شریعتِ محمدی ﷺ قیامت تک زندہ و جاوید ہے، آسمان سے نیا پیغام ربانی نہیں آئے گا، مگر زمین پر امتِ محمدیہ ﷺ کا علمی فکری دعوتی عملی سفر جاری رہے گا، یہی عقیدہ ختم نبوت کی برکات ہیں جو تاقیامت جاری و ساری رہیں گی۔