(+92) 319 4080233
کالم نگار

جمع وترتیب:محمدحذیفہ

جمع وترتیب:محمدحذیفہ

پروفائل | تمام کالمز
2026/09/22
موضوعات
زندہ بزرگوں کی قدر کجیے
مجلسِ جمعہ برائے طلبہ (١):
☆ ہر جمعہ مختلف مدارس کے طلبہ حضرت شیخ زید مجدہم سے ملاقات کے لیے حاضرِ خدمت ہوتے ہیں، جن کے لیے صبح پونے گیارہ تا سوا گیارہ بجے کا وقت متعین ہے، حضرت شیخ زید مجدہم پہلے تو "انفاسِ عیسی" کی روشنی میں کچھ باتیں عرض کردیا کرتے تھے، تاہم آج کل حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب رحمہ اللہ کے مواعظِ حسنہ "مواعظِ دردِ محبت" کی روشنی میں تشریحات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ذیل میں حضرت رحمہ اللہ کے ایک بیان "منازلِ سلوک" کے کچھ حصہ پر حضرت شیخ زید مجدہم کے اضافات ملاحظہ فرمائیے۔

● لوگوں کا کہنا ہے کہ آج بڑے اللہ والے موجود نہیں ہیں جن کے ہاتھ پر بیعت کی جائے، اب آپ مجھے بتلائیے کہ اس زمانہ میں شیخ الاسلام حضرت مدنی، حضرت تھانوی، حاجی امداد اللہ مہاجر مکی اور امام غزالی رحمہم اللہ کو ہم کہاں سے لائیں؟! اس لیے حضرت (حکیم محمد اختر صاحب) فرماتے ہیں کہ جب ہم بیمار ہوتے ہیں تو طب و حکمت کے لحاظ سے ہم انتظار نہیں کرتے کہ حکیم اجمل خان صاحب، فلاں صاحب و فلاں صاحب جو دنیا سے چلے گئے ہیں، ہم ان سے علاج کروائیں گے، بھئی وہ تو دنیا سے چلے گئے، علاج کے لیے تو ہم فورا کسی حکیم یا ڈاکٹر سے رجوع کرتے ہیں، دیر نہیں کرتے، ٹھیک اسی طرح وقت کے جو علماء و مشائخ حیات ہیں، خواہ ان کا مقام لوگوں کی نگاہ میں بہت بلند نہ ہو، لیکن ان کے ہاتھ میں آدمی بیعت کرلے، ان سے آدمی تصوف کے اسباق لے، خوب یاد کرے، مشق کرے اور آگے بڑھتا جائے۔

شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریا رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جب بانیِ تبلیغ حضرت مولانا الیاس صاحب رحمہ اللہ کا انتقال ہوا اور حضرت مولانا محمد یوسف کاندھلوی رحمہ اللہ علیہ کو امیرِ تبلیغ بنایا گیا، تو لوگ میرے پاس آئے اور مولانا الیاس صاحب کی بابت کہنے لگے کہ ان کے تو کیا کہنے! وہ اپنی مثال آپ تھے، وہ بڑے بزرگ اور اللہ والے تھے جبکہ مولانا یوسف صاحب تو نوجوان ہیں، یہ کہاں پورا نظام سنبھال سکیں گے۔ بہرکیف! خدا تعالی نے حضرت مولانا یوسف کاندھلوی صاحب سے عرب و عجم میں تبلیغ کا بڑا کام لیا، پھر مولانا یوسف صاحب کے انتقال کے بعد جب مولانا انعام الحسن صاحب کے پاس امارت آئی تو پھر لوگ میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ مولانا یوسف صاحب کے تو کیا کہنے! وہ تو بہت بڑے آدمی تھے جبکہ مولانا انعام صاحب اتنے بڑے نہیں ہیں۔ میں نے لوگوں سے کہا:

اللہ کے بندو! وقت کے امیر اور وقت کے بزرگ کی قدر کرلو! یہ اگر چلے گئے تو تم روتے رہو گے کہ فلاں آدمی تو بڑا اچھا تھا، ہم اس کی قدر نہیں کرسکے۔ اسی لیے فی زمانہ آج کے ہمارے جتنے مشائخ و بزرگ حیات ہیں، ان سے آدمی خوب فیض حاصل کرے، ان کے ہاتھ پر بیعت ہو، ان سے اپنی تربیت کروائے اور اپنے آپ کو آگے بڑھاتا رہے۔

مأخَذ

افادات: شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد یوسف افشانی

کالم نگار : جمع وترتیب:محمدحذیفہ
| | |
105