(+92) 319 4080233
کالم نگار

-ایک قاری کاانتخاب

-ایک قاری کاانتخاب

پروفائل | تمام کالمز
2026/09/20
موضوعات
ناول "نمبردار کا نیلا" کا فنی و فکری جائزہ
​ناول نمبردار کا نیلا سید محمد اشرف کا ایک منفرد ناول ہے جس میں جانور ”نیلا“ کو مرکزی کردار بنا کر انسانی جبلت، استحصال اور سماجی زوال کو بیان کیا گیا ہے۔ کہانی گاؤں کے ٹھاکر اودل سنگھ اور اس کے بھینسے نیلا کے گرد گھومتی ہے، جہاں نیلا کی آزادی اور انسانوں کی خود غرضی کی کشمکش نمایاں ہے۔ یہ ناول سیاسی و سماجی بھیڑ چال اور انسانی فطرت کی پیچیدگیوں کو بہت خوبصورتی سے پیش کرتا ہے۔ ناول نگار نے اپنے مختصر کینوس پر محیط ناول میں ہندوستان کے دیہی کلچر میں جاگیردار طبقے کی اقتدار کی ہوس اور اس کی بالادستی کو قائم رکھنے کے لیے خود غرضی اور سفاکی کے جذبے کو دکھایا ہے۔

​1۔ کہانی:
ناول کی کہانی ٹھاکر اودل سنگھ اور نیلا کے گرد گھومتی ہے۔ ناول کا آغاز میں گاؤں کے لوگ نیلا کو پکڑنے کے لیے ارہر کھیت کے گرد گھیرا تنگ کرتے ہیں لیکن نیلا آبادی کی طرف بھاگ جاتا ہے۔ نیلا ایک میل گائے کا بچہ ہے، جس کو ٹھاکر پالتا ہے۔ اس کو چارہ، بادام اور لڈو کھلاتا ہے جس سے نیلے کی صحت اچھی ہو جاتی ہے لیکن وہ گاؤں کے لوگوں کو مختلف انداز میں پریشان کرنا شروع کر دیتا ہے۔ شروع شروع میں لوگوں نے آ کر شکایت بھی کی لیکن ٹھاکر اپنی مکاری اور عیاری سے نیلے کو قصور وار نہیں ٹھہراتا تھا۔ دوسری طرف نیلے نے اب قصبے کے لوگوں کے لیے خطرہ بنتا جا رہا تھا۔ جس کے سبب انتظامیہ متحرک ہوئی لیکن ٹھاکر کے بااثر ہونے کے باعث معاملہ دبا دیا گیا اور نیلے کو ارہر کی فصل میں چھپا دیا۔ اسی اثنا میں نیلے کو خطرہ محسوس ہوتا ہے۔ لوگوں کو زخمی کرتا ہوا وہ ٹھاکر کی حویلی جا پہنچتا ہے جہاں اس کی وحشت اور خونخواری کم نہیں ہوئی۔ ٹھاکر نیلے کو پکڑنے کی کوشش کرتا ہے لیکن نیلا اس کو بھی لہولہان کر دیتا ہے۔

2۔ منظر نگاری: ناول میں منظر نگاری اتنی جاندار ہے کہ آپ پڑھتے ہوئے خود کو اس ماحول میں محسوس کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ نیلا خود ایک جیتا جاگتا کردار بن کے ابھرتا ہے جس کا سبب یہ منظر نگاری ہی ہے۔ اودھے سنگھ، اس کے گھر والے، شہر، قصبہ، گڑھی، گاؤں والے، نیلے کی تباہی وغیرہ، گو کہ ہر منظر بہترین طریقے سے پڑھنے والے کے ذہن میں رچ بس جاتا ہے۔

3۔ واقعات نگاری:
ناول میں واقعات نگاری کی بہت عمدہ مثالیں ملتی ہیں۔ ہر واقعہ چاہے وہ نیلے کے پالنے کا ہو، گاؤں میں نیلے کی تباہی کا ہو، اودل سنگھ کے بیٹے کی کارستانیاں ہوں، نیلے کو مارنے کیلئے گاؤں والوں کا اسے گھیرے میں لینا ہو، وغیرہ وغیرہ اتنی عمدگی سے بیان کیا گیا ہے کہ قاری ان واقعات میں کھو جاتا ہے۔

4۔ پلاٹ:
ناول کا پلاٹ، گو کے عمومی ہے، عام دیہات کی کہانی ہے، دیہاتوں میں ہو رہے ظلم و بربریت کی داستان ہے، کس طرح ایک جاگیردار مذہب کو مقدس بنا کے معاشرے کے مظلوم طبقے پہ سبقت حاصل کرتا ہے، کس طرح ایک ظالم انسان مذہب کی دیواروں کی پناہ کے حصار میں اپنے ظلم کو پس منظر رکھتا ہے، اگر کسی جانور کی فطرت کے خلاف اسے خوراک کھلائی جاتی رہے تو اس میں اس خوراک اور ماحول کی وجہ سے جو تبدیلیاں رونما ہوتی ہے وہ مافوق الفطرت ہونے کی وجہ سے ہمیشہ تباہی کا سبب بنتی ہیں، ظلم جب حد سے بڑھ جائے تو ظالم اپنے ہی پیدا کیے ہوئے نظام کی وجہ سے اس کی گرداب میں پھنس جاتا ہے گو کے مظلوم طبقے کی آہیں بھی اس گرداب کا دائرہ وسیع کرتی جاتی ہیں۔ عام پلاٹ کو اپنے قلم سے خاص بنانا اور اس میں جان ڈالنا ہی بڑے قلم کار کی نشانی ہے، سید محمد اشرف اس میں کامیاب ہوئے ہیں۔

5. مکالمہ نگاری:
ناول کا ایک بہترین پہلو مکالمہ بھی ہے، مصنف مکالمہ نگاری میں کمال فن رکھتے ہیں، جب جب گاؤں والے نیلے کے خلاف اودل سنگھ کے پاس شکایت لے کے آتے ہیں، اودل سنگھ کے ساتھ گاؤں والوں کے مکالمے اتنی جاندار ہیں کہ گویا محسوس ہوتا ہے کہ یہ کسی پنچایت کا آنکھوں دیکھا احوال ہے۔

6. زبان و بیان:
ناول کا انداز بیان سادہ ہے۔ ”نمبردار کا نیلا“ اپنے منفرد زبان و بیان، اسلوب اور علامتی طرز نگارش کی وجہ سے اردو ادب میں ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ سید محمد اشرف نے اس ناول میں زبان کو محض کہانی بیان کرنے کا ذریعہ نہیں بنایا، بلکہ اسے ماحول اور کرداروں کی نفسیات کو اجاگر کرنے کے لیے استعمال کیا ہے۔ سید محمد اشرف کی نثر میں ایک خاص قسم کا بہاؤ اور نغمگی ہے۔ وہ مناظر اور خاص طور پر جانوروں کے احساسات کو اس طرح الفاظ کا روپ دیتے ہیں کہ قاری منظر کا حصہ بن جاتا ہے۔

7. کردار نگاری:
ناول کا ہر کردار زندہ و متحرک ہے، ہر کردار دوسرے کردار کے ساتھ جڑا ہے، ہر مکالمہ اور منظر، کرداروں کو ایسے ابھارتا ہے کہ محسوس ہوتا ہے جیسے ہم، ہمارے معاشرے کے کسی موجودہ دور کے قصبے میں ہوئے ظلم کی داستان کو بینا آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔

1. نیلا کا کردار:
نیلا نیل گائے کا بچھڑا ہے ، یہ ناول کا مرکزی کردار ہے جسے نمبردار اودل سنگھ نے اپنی جاگیر کو بچانے کیلئے مذہبی رنگ دے کے پالا اور اس میں اسے خاصی کامیابی بھی ہوئی، بس نیل گائے کی فطرت کے خلاف جب اسے خوراک دیتا رہا تو اس جانور میں ایسی علامتیں ظاہر ہونے لگیں جو اسے پالٹو سے درندگی کی طرف لے گئیں۔ وہ انسانوں پر حملے کرنے لگا، غریب کسانوں کی فصل اجاڑ دیتا۔ ٹھاکر اسے بچانے کے لیے مختلف حیلے بہانے کرتا بالآخر گاؤں کے لوگوں نے اسے قتل کر دیا۔

2. ٹھاکر اودل سنگھ کا کردار:
ٹھاکر اودل سنگھ گاؤں کا نمبردار ہے جو روایتی دیہی مائنڈ سیٹ، جاگیردارانہ سیاست اور اقتدار کی ہوس کا سب سے بڑا نمائندہ ہے۔ وہ انتہائی مکار، عیار اور خود غرض انسان ہے۔ جب گاؤں والے نیلے کی تباہ کاریوں کی شکایت لے کر آتے ہیں تو وہ اپنی چرب زبانی اور اثر و رسوخ سے نیلے کا دفاع کرتا ہے۔ انتظامیہ اور قانون بھی اس کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں۔

3. بڑی کا کردار:
بڑی ناول کا ایک اہم نسوانی کردار ہے جو دیہی معاشرے میں عورت کی حالتِ زار اور اس کے نفسیاتی کرب کو ظاہر کرتا ہے۔ وہ جاگیردارانہ ماحول اور مرد اساس معاشرے کے بنائے ہوئے سخت اصولوں اور پابندیوں میں جکڑی ہوئی ہے۔ وہ اس جبر کے خلاف براہِ راست بغاوت تو نہیں کر پاتی لیکن اس کے اندر ایک خاموش لاوا پکتا رہتا ہے۔

4. اونکار کا کردار:
اونٹکار ٹھاکر اودل سنگھ کا بیٹا ہے جو جاگیردارانہ نظام کی اگلی نسل اور اس کے بگاڑ کو پیش کرتا ہے۔ اونٹکار اپنے باپ کی طاقت اور سرمائے کے نشے میں دھت ایک بدعنوان اور عیاش نوجوان ہے۔ وہ اخلاقی اقدار سے عاری ہے اور اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے غریب کسانوں اور کمزور طبقے کو کیڑے مکوڑے سمجھتا ہے۔

5. محمود کا کردار:
محمود گاؤں کے ان چند کرداروں میں سے ہے جو صورتحال کو محض ایک جانور (نیلے) کی شرارت یا تقدیر کا کھیل نہیں سمجھتے، بلکہ وہ اس کے پیچھے چھپی سیاسی چالوں اور جاگیردارانہ ذہنیت کو بخوبی بھانپ لیتے ہیں۔ وہ اندھی تقلید یا خوف کے آگے سر جھکانے کے بجائے منطقی سوچ رکھتا ہے۔ جب نمبردار اودل سنگھ نیلے کی تباہ کاریوں کو چھپانے کے لیے اسے مذہبی رنگ دینے یا ”گاؤ ماتا“ کے خاندان سے جوڑنے کی کوشش کرتا ہے، تو محمود ان ہتھکنڈوں سے مرعوب نہیں ہوتا۔ وہ یہ سمجھتا ہے کہ کس طرح مقتدر طبقہ اپنے پالتو غنڈوں یا وحشی طاقتوں کو تحفظ دینے کے لیے مذہب اور روایات کا سہارا لیتا ہے۔

کالم نگار : -ایک قاری کاانتخاب
| | |
42