(+92) 319 4080233
کالم نگار

ذبیح اللہ بلگن

ذبیح اللہ بلگن

پروفائل | تمام کالمز
2026/09/21
موضوعات
پراپرٹی ڈیلرزپراعتمادنہ کرنا
”پراپرٹی ڈیلر خواہ سگا باپ ہو یا بیٹا، کبھی زندگی میں اس کی باتوں کا اعتبار مت کرنا!“

یہ وہ الفاظ ہیں جو گزشتہ روز میرے ایک دوست نے مجھ سے کہے ہیں۔ میں نے اسے حوصلہ دینے کے لیے عرض کیا: ”بھائی! ایسی بات بھی نہیں، سارے لوگ ایک جیسے نہیں ہوتے۔ اس فیلڈ میں کچھ دیندار اور بہتر لوگ بھی موجود ہیں۔“

مگر اس کا کہنا تھا: ”آپ دیندار کی بات کرتے ہو، آئندہ میرے سامنے کوئی پراپرٹی ایجنٹ ایک ہاتھ میں قرآن اور ایک میں صحیح بخاری پکڑ کر بھی مجھ سے کوئی بات کہے گا تو میں پھر بھی کہوں گا، وہ جھوٹ بول رہا ہے۔“

میں نے اسے پوچھا کہ آپ پراپرٹی ایجنٹ کے بارے میں اتنا غصے میں کیوں ہو؟ جواب میں اس نے مجھے بتایا کہ ”ذبیح بھائی! مجھے پراپرٹی ایجنٹس نے ایک بار نہیں بلکہ بار بار لوٹا اور بیوقوف بنایا ہے۔ آپ دیندار لوگوں کی بات کر رہے تھے، اس فیلڈ میں بظاہر دیندار لوگ ہی زیادہ بے رحم اور ظالم ہیں، کیونکہ مجھے دو بار ان دیندار ڈیلروں نے ہی بے رحمی سے لوٹا ہے۔ یہ لوگ اپنی ایک بوٹی کی خاطر دوسرے کی مرغی ذبح کروا دیتے ہیں۔“

پھر اس نے ایک واقعہ سنایا:

”میں پاکستان سے باہر رہتا ہوں۔ میں نے اپنے ایک دوست، جو ایک مذہبی جماعت کا مقامی لیڈر بھی ہے، سے پلاٹ خریدنے کی خواہش ظاہر کی۔ اس نے میرے اسٹاف کو سوسائٹی میں پارک کے سامنے ایک پلاٹ دکھایا اور اس کی قیمت پچاس لاکھ روپے بتائی۔ میں نے اعتماد کیا اور سودا ہوگیا۔ رجسٹری ہونے کے چند روز بعد معلوم ہوا کہ جو پلاٹ ہمیں دکھایا گیا تھا، وہ کسی اور کا تھا، جبکہ ہمارے نام جس پلاٹ کی رجسٹری کروائی گئی، وہ کسی دوسری جگہ واقع تھا۔ مزید حیرت اس وقت ہوئی جب سوسائٹی کی طرف سے میرے اسٹاف کو بتایا گیا کہ جس پلاٹ کی رجسٹری ہوئی ہے، اس کی قیمت پچاس لاکھ نہیں بلکہ تقریباً پینتیس لاکھ روپے تھی۔“

میرا دوست بلاتوقف بولے جا رہا تھا اور میں خاموشی سے سنتا جا رہا تھا۔ اس نے بتایا کہ:

”ایک مرتبہ میں نے ایک ایسے ڈیلر سے رابطہ کیا جو ماشاء اللہ پانچ وقت کا نمازی اور ایک مذہبی جماعت سے وابستہ تھا۔ اس نے مجھے ایک گھر خرید کر دیا۔ گھر میرے نام منتقل ہونے کے بعد مجھے اسی کے دفتر سے معلوم ہوا کہ اصل مالک سے گھر کا سودا دو کروڑ بیس لاکھ روپے میں طے ہوا تھا، جبکہ مجھے قیمت اڑھائی کروڑ روپے بتائی گئی۔ میں نے اپنے پرانے تعلق کو سامنے رکھتے ہوئے یقین کر لیا کہ میرے ساتھ یہ برا تھوڑی کریں گے، مگر اس بے رحم انسان نے مجھ سے تیس لاکھ روپے بٹور لیے۔“

وہ کچھ دیر رکا اور پھر بولا:

”ذبیح بھائی! کوئی ایک واقعہ ہو تو بتاؤں۔ ابھی حال ہی میں ایک اور پراپرٹی ایجنٹ کے ذریعے ایک بلڈنگ میں کروڑوں روپے کی سرمایہ کاری کی۔ میرے سامنے ایک پورا ڈرامہ رچایا گیا، ایسی کہانی بنائی گئی کہ مجھے ہر بات سچ محسوس ہوئی۔ بعد میں میرے علم میں آیا کہ اس سودے میں بھی مجھے تقریباً ایک کروڑ روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔“

میں نے ایک بار پھر اپنے دوست کو سمجھانے کی کوشش کی اور عرض کیا: ”میرے بھائی! اچھے برے لوگ ہر شعبے میں ہوتے ہیں۔ تاہم آپ کے معاملے میں بدقسمتی یہ ہوئی کہ آپ کا واسطہ بار بار غلط لوگوں سے پڑا۔ ورنہ میں بہت سارے ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو پراپرٹی کا کام ہی کرتے ہیں اور اس میں دیانت داری کو ملحوظ رکھتے ہیں۔ وہ کئی سالوں سے یہ کام کر رہے ہیں، مگر ان کا دامن آج بھی اجلا اور شفاف ہے۔“

میرے دوست نے مجھ سے پوچھا: ”آپ جن کی بات کر رہے ہو، کبھی ان کے ساتھ کوئی لین دین کیا ہے؟“

میں نے عرض کیا: ”نہیں۔“

وہ دوبارہ گویا ہوا: ”اسی لیے وہ تمہیں ایمان دار دکھائی دیتے ہیں۔ جس روز ان سے کام کرو گے، تجربے سے گزرو گے، اس دن میں تم سے دوبارہ پوچھوں گا کہ کیا وہ اب بھی ایماندار اور اجلے ہی ہیں؟ ذبیح بھائی! وہ تب تک ایماندار ہیں جب تک آپ کا ان سے واسطہ نہیں پڑتا۔ جس دن مالی لین دین کریں گے، آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ یہ ایمانداری والا روپ محض آپ کا واہمہ ہے اور حقیقت اس سے بالکل مختلف ہے۔“

خدا جانے میرے دوست کے دل و دماغ میں پراپرٹی ڈیلرز کے حوالے سے اتنا غم و غصہ اس کے تلخ تجربات نے بھر دیا ہے یا واقعی اس شعبے میں اعتماد کا کوئی سنجیدہ بحران پیدا ہوچکا ہے۔ میں نے اسے بہت سمجھانے کی کوشش کی کہ چند لوگوں کے کردار کو پورے شعبے پر منطبق کرنا انصاف نہیں۔ یقیناً اس کاروبار میں ایسے لوگ بھی موجود ہوں گے جو دیانت داری سے روزی کما رہے ہیں اور کسی کے اعتماد کو بیچ کر اپنی جیب نہیں بھرتے۔

مگر میرے دوست کا ایک ہی جواب تھا: ”وہ سب آپ کو تب تک ایماندار نظر آتے ہیں جب تک آپ کا ان سے مالی واسطہ نہیں پڑتا۔“

میں اس کی اس بات سے مکمل اتفاق نہیں کرتا، کیونکہ کسی بھی شعبے کے تمام لوگوں کو ایک ہی ترازو میں تولنا درست نہیں۔ اب اللہ ہی جانے، میرا دوست زیادہ جذباتی ہو رہا ہے یا واقعی پراپرٹی ایجنٹ عوام میں اپنا اعتبار کھو چکے ہیں۔

کالم نگار : ذبیح اللہ بلگن
| | |
70