آج کل بعض لکھاریوں کے بارے میں یہ بات سننے کو ملتی ہے کہ شاید وہ اشتیاق احمد کے جانشین ثابت ہو سکتے ہیں۔ یہ دعویٰ پڑھ کر مجھے واقعی حیرت ہوتی ہے۔
اشتیاق احمد جس مقام پر تھے، وہاں تک پہنچنا کوئی خالہ جی کا گھر نہیں ہے۔ میرے خیال میں نہ کوئی اشتیاق احمد جیسا تھا، نہ آج ہے، اور شاید آنے والے وقت میں بھی کوئی ایسا مصنف پیدا ہو جو ان کی جگہ لے سکے۔
ان کی لکھنے کی رفتار، تخلیقی صلاحیت، کردار نگاری، زبان اور سب سے بڑھ کر بچوں کے ذہن اور نفسیات کو سمجھنے کی جو صلاحیت تھی، وہ آج کے دور کے کسی بھی جاسوسی ادیب میں دکھائی نہیں دیتی۔
اشتیاق احمد کی رفتار بھی ان کی خداداد صلاحیتوں میں شامل تھی۔ آپ ان کی رفتار کی نقل نہیں کر سکتے اور نہ ہی تعداد بڑھانے سے اشتیاق احمد جیسا بن سکتے ہیں۔
یار لوگوں نے دعوے ضرور کیے کہ وہ اشتیاق احمد کی طرح ہر ماہ چار ناول لکھ کر دکھائے گے پھر دو تین ماہ یہ رفتار چلی، پھر خاموشی چھا گئی۔ ان جلدی جلدی لکھے گئے ناولوں کا معیار کیا تھا، اس پر بات نہ ہی کی جائے تو بہتر ہے۔ آج صورتحال یہ ہے کہ ان کا مہینے میں ایک ناول بھی نہیں آتا۔
شاید کچھ لوگوں کو یہ غلط فہمی ہے کہ زیادہ سے زیادہ غیر معیاری ناولوں کی لائن لگا دینے سے وہ اشتیاق احمد ثانی بن جائیں گے۔ یہ کچھ ایسی ہی بات ہے کہ چاہت فتح علی خان زندگی بھر سر دھڑ کی بازی لگا دے، تب بھی نصرت فتح علی خان کی ایک قوالی کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔
اور جانشینی صرف رفتار یا تعداد کا نام بھی نہیں ہے۔اگر کوئی مصنف کسی بڑے مصنف کے انداز تحریر کی نقل کرے، اس کے کرداروں کے نام بدل کر ویسی ہی کہانیاں لکھے، یا کردار بدل کر بھی وہی فضا اور وہی طرز اختیار کرے، تو کیا وہ واقعی اس مصنف کا جانشین کہلائے گا؟
ابن صفی صاحب کے کتنے ہی کرداروں اور انداز کی نقل کی گئی، مگر نقل کرنے والوں میں سے کوئی ابن صفی کا جانشین نہیں بن سکا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اشتیاق احمد خود ابن صفی صاحب کو اپنا روحانی استاد مانتے تھے، مگر انہوں نے کبھی ابن صفی بننے کی کوشش نہیں کی۔ انہوں نے اپنے کردار تخلیق کیے، اپنا انداز بنایا اور پھر ایک ایسی دنیا آباد کی جس پر لاکھوں بچوں نے برسوں حکمرانی کی۔
اشتیاق احمد کے کرداروں سے ملتے جلتے کردار بنانے والے بھی آئے۔ ان کے انداز میں ناول لکھنے والے بھی آئے۔ کچھ نے ان کے مشہور کرداروں، حتیٰ کہ انسپکٹر جمشید سیریز کے اصل کرداروں کے نام استعمال کرکے بھی ناول لکھے۔ چند کتابیں آئیں اور پھر یہ سلسلہ کہیں گم ہو گیا۔
یہاں تک کہ اشتیاق احمد صاحب کے بھائی نے بھی جمشید سیریز کے کچھ ناول لکھے، مگر وہ بھی وہ مقبولیت حاصل نہ کر سکے جو اصل مصنف کو حاصل تھی۔اس کی ایک سادہ سی وجہ ہے۔ جب قاری کے پاس اشتیاق احمد کے اصل ناول موجود ہوں تو وہ ان کی نقل کیوں پڑھے گا؟آپ پچاس ناول لکھیں یا سو۔ اگر انہیں پڑھنے والے دس پندرہ لوگوں سے آگے نہ بڑھ سکیں تو صرف تعداد کی بنیاد پر آپ یہ دعویٰ نہیں کر سکتے کہ آپ اشتیاق احمد کے قریب بھی پہنچ گئے ہیں۔
اشتیاق احمد کو لاکھوں لوگوں نے پڑھا۔ ان کے ناولوں سے کہانی پڑھنے کا ذوق پیدا ہوا، بہت سے بچوں نے ان سے بہت کچھ سیکھا اور ان کے ادب نے ایک پوری نسل کی صحت مند تربیت میں اپنا کردار ادا کیا۔
یہی اصل کامیابی ہے۔
میرے نزدیک اشتیاق احمد کے بعد جاسوسی ادب میں کوئی ایسا نام سامنے نہیں آیا جس کے بارے میں ہم یہ بھی اطمینان سے کہہ سکیں کہ وہ اشتیاق احمد کے کچھ قریب پہنچا ہے۔ جانشینی تو بہت دور کی بات ہے۔
سینیئر لکھاریوں کو بھی اس معاملے میں احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔ کسی نئے مصنف کی کتابیں پڑھے اور اس کے کام کو سمجھے بغیر، محض چند ناولوں کی تعداد دیکھ کر کسی کو اشتیاق احمد کا جانشین قرار دینا مناسب یا معقول بات نہیں۔
اشتیاق احمد کے پڑھنے والے، چاہنے والے کبھی بھی اس بات پر راضی نہیں ہوں گے کہ آپ ایسے لوگوں کو جانشین بنانے کی بات کریں جو محض ان کے کردار اور انداز تحریر کی نقل کر کے لکھ رہے ہیں۔
اشتیاق احمد صرف ایک مصنف نہیں تھے، وہ اردو کے جاسوسی ادب کا ایک پورا عہد تھے۔ ان کی جگہ لینے کا دعویٰ صرف زیادہ ناول لکھنے سے نہیں کیا جا سکتا۔ جانشینی تعداد سے نہیں، تخلیق کے اثر، معیار اور قارئین کے دلوں میں بننے والی جگہ سے ثابت ہوتی ہے۔
اشتیاق احمد کے لاکھوں قارئین ہیں، ان کے کردار آج بھی زندہ ہیں، اور ان کی کتابیں آج بھی پڑھی جاتی ہیں۔ شاید اسی لیے اشتیاق احمد کا جانشین تلاش کرنے کے بجائے یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اشتیاق احمد آخر اشتیاق احمد کیوں تھے۔