سات ستمبر محض ایک پارلیمانی فیصلے کی یادگار نہیں، یہ اس طویل دینی و ملی جدوجہد کا ایک سنگِ میل ہے جس میں برصغیر کے علما، اہلِ علم اور عام مسلمانوں نے عقیدۂ ختمِ نبوت کے تحفظ کے لیے جان، مال، وقت اور آبرو کی قربانیاں دیں۔ 1974ء میں قادیانیوں کو آئینی طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا فیصلہ گویا اس حقیقت کا قومی سطح پر اعلان تھا کہ محمد رسول اللّٰہ ﷺ پر نبوت کا اختتام اسلام کے اعتقادی ڈھانچے کا کوئی ضمنی مسئلہ نہیں؛ یہ خود تصورِ رسالت کی آخری اور قطعی حد ہے۔ “خَاتَمَ النَّبِيِّينَ” کے بعد کسی نئی نبوت کے لیے گنجایش پیدا کرنا دراصل صرف ایک لفظ کی نئی تعبیر نہیں، پورے محمدی تصورِ دین میں رخنہ ڈالنا ہے۔ اسی لیے سات ستمبر ہمیں ان علما اور اکابر کی قربانیاں بھی یاد دلاتا ہے جنھوں نے اس فتنے کو اس وقت پہچانا جب اس کے نتائج ابھی پوری طرح نمایاں نہ ہوئے تھے، اور جن کی مسلسل علمی، دعوتی اور عوامی جدوجہد بالآخر اس تاریخی فیصلے تک پہنچی۔
لیکن شاید اصل سوال اب یہ نہیں کہ 1974ء میں ہمارے بڑوں نے کیا کیا؛ سوال یہ ہے کہ 2026ء میں ہم کیا کر رہے ہیں؟ قانون ایک عقیدے کی آئینی سرحد متعین کرسکتا ہے، آنے والی نسلوں کے دل و دماغ میں اس عقیدے کو زندہ نہیں رکھ سکتا۔ یہ کام ہمیں کرنا ہے۔ ختمِ نبوت کا تحفظ محض جلسوں، نعروں اور سالانہ اجتماعات سے نہیں ہو گا؛ اسے علمی استدلال، معیاری لٹریچر، نئی نسل کی دینی تعلیم، دعوت کے جدید ذرائع اور خود اپنی دینی وابستگی کے عملی اظہار کے ذریعے اگلی نسل تک منتقل کرنا ہو گا۔ ہمارے اسلاف نے اپنے عہد کی ذمہ داری ادا کر کے یہ امانت ہم تک پہنچا دی؛ اب اگر ہماری نسل اسے صرف ایک تاریخی فتح کی یادگار بنا کر مطمئن ہوجائے تو شاید ہم تاریخ تو منا رہے ہوں گے، تاریخ بنا نہیں رہے ہوں گے۔ سات ستمبر کا اصل پیغام ماضی پر فخر نہیں، مستقبل کی ذمہ داری ہے: عقیدۂ ختمِ نبوت ہمیں ورثے میں ملا ہے، اگلی نسل تک اسے علم، شعور اور عمل کی پوری قوت کے ساتھ پہنچانا اب ہماری امانت ہے۔