مملکتِ خداداد پاکستان ایک نظریاتی مملکت ہے، اس کی بنیاد میں ایک نظریہ ہے، جس کے دو پہلو ہیں:
① دو قومی نظریہ، جسے قرآنِ کریم نے فَمِنْكُمْ كَافِرٌ وَمِنْكُمْ مُؤْمِنٌ میں بیان کیا ہے۔
② عقیدہ ختمِ نبوت کا نظریہ، جو پوری امتِ مسلمہ کا بنیادی عقیدہ ہے، پاکستان میں یہ عقیدہ محض نظریاتی حیثیت ہی نہیں رکھتا، بلکہ دستورِ پاکستان کا بھی حصہ ہے۔
1947ء میں جب پاکستان وجود میں آیا، اسی وقت سے منکرینِ ختمِ نبوت کی یہ کوشش رہی کہ کسی نہ کسی طرح اس عقیدے کو کمزور کیا جائے، اس کے لئے طرح طرح کے ہتھکنڈے اختیار کئے جائیں اور پاکستان کی نظریاتی شناخت کو مسمار کیا جائے، چنانچہ اسی وقت سے علمائے امت، زعمائے ملت، سیاسی قائدین اور مخلص اہلِ ایمان نے اس عقیدہ کے تحفظ کے لئے قربانیاں دیں۔
پاکستان میں تحریکِ تحفظِ ختمِ نبوت کی تین بڑی تحریکیں چلی ہیں:
*① تحریکِ ختمِ نبوت 1953ء*
27 فروری 1953ء کو سات مذہبی جماعتوں نے "کل جماعتی مجلسِ عمل" کے نام سے اتحاد قائم کیا، پاکستان میں قادیانیوں (خصوصاً وزیرِ خارجہ ظفر اللہ خان) کو سرکاری عہدوں پر تعین کرنے کے خلاف شدید ردِّعمل سامنے آیا، مطالبہ یہ تھا کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے اور قادیانی وزراء کو حکومت سے ہٹایا جائے۔
یہ تحریک پنجاب اور لاہور میں اپنے عروج پر پہنچی، جہاں پرتشدد مظاہرے ہوئے، بڑی تعداد میں لوگ گرفتار ہوئے، جانی نقصان ہوا اور طاقت کا استعمال کیا گیا، حالات اس قدر کشیدہ ہوئے کہ لاہور میں 70 دن کے لئے مارشل لا نافذ کرنا پڑا، مارچ 1953ء میں لاہور میں پاکستان کی تاریخ کا پہلا مارشل لا نافذ ہوا، بظاہر تحریک کو دبا دیا گیا، لیکن اس نے آئندہ کی جدوجہد کے لئے ایک بنیاد فراہم کردی۔
*② تحریکِ ختمِ نبوت 1974ء*
یہ تحریک 1953ء کے مقابلہ میں زیادہ آئینی اور پارلیمانی نوعیت کی تھی، اس کا پس منظر یہ بنا کہ 29 مئی 1974ء کو ربوہ ریلوے اسٹیشن پر نشتر میڈیکل کالج ملتان کے طلبہ کے ساتھ قادیانی گروہ کے افراد کی طرف سے تشدد کا واقعہ پیش آیا، اس واقعہ کے بعد پورے ملک میں شدید غم و غصہ پھیلا اور ایک زبردست تحریک کا آغاز ہوا۔
محدث العصر حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ کی زیرِ قیادت تمام دینی و مذہبی جماعتوں نے مل کر "مجلسِ تحفظِ ختمِ نبوت" تشکیل دی، 30 جون 1974ء کو مولانا شاہ احمد نورانی، مفتی محمود اور دیگر علمائے کرام نے قومی اسمبلی میں ایک متفقہ قرارداد پیش کی کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔
وزیرِ اعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹوکے دور میں قومی اسمبلی کو ایک خصوصی کمیٹی میں تبدیل کیا گیا، اس کمیٹی کے سامنے قادیانی گروہ کے سربراہ مرزا ناصر احمد اور لاہوری گروہ کے رہنما نے اپنا موقف پیش کیا، جس پر طویل بحث اور جرح ہوئی۔
بالآخر 7 ستمبر 1974ء کو پاکستان کی قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر آئینِ پاکستان میں ترمیم کرتے ہوئے قادیانی گروہوں کو باضابطہ طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا، یہ تاریخی فیصلہ کسی ایک جماعت یا فرد کی کوشش کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ اس وقت کی قومی اسمبلی کے متفقہ پارلیمانی فیصلے کا نتیجہ تھا، اسی تاریخی فیصلے کی یاد میں ہر سال 7 ستمبر کو ملک بھر میں "یومِ دفاعِ ختمِ نبوت" کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔
*③ تحریکِ ختمِ نبوت 1984ء*
1974ء کے آئینی فیصلے کے بعد بھی قادیانی گروہ اپنی سرگرمیوں سے باز نہ آیا، چنانچہ 26 اپریل 1984ء کو صدرِ پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق شہیـ ـد نے امتناعِ قادیانیت آرڈیننس جاری کیا، جسے آرڈیننس نمبر 20 کے طور پر نافذ کیا گیا۔
اس آرڈیننس کے ذریعے تعزیراتِ پاکستان میں دفعات 298-B اور 298-C کا اضافہ کیا گیا، جن کے تحت قادیانیوں کے لئے اسلامی شعائر و اصطلاحات کے استعمال اور مذہبی سرگرمیوں پر قانونی پابندیاں عائد کی گئیں، اس کے نتیجہ میں قادیانی قانوناً اپنے آپ کو مسلمان ظاہر نہیں کرسکتے، اپنی عبادت گاہ کو مسجد کے نام سے موسوم نہیں کرسکتے، اذان اور بعض دیگر اسلامی شعائر کا استعمال نہیں کرسکتے اور اپنے مذہبی تشخص کے اظہار کے لئے بعض اسلامی اصطلاحات استعمال نہیں کرسکتے۔
دفاعِ ختمِ نبوت کے سلسلہ میں یہ مرحلہ دراصل سابقہ دونوں تحریکوں، 1953ء اور 1974ء کی جدوجہد کا ایک اہم قانونی نتیجہ تھا۔
7 ستمبر 1974ء کا پارلیمانی فیصلہ دفاعِ ختمِ نبوت کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل بنا، اسی مناسبت سے یہ دن یومِ دفاعِ ختمِ نبوت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔
یہ دن ہمیں ان تمام علمائے امت، زعمائے ملت، مشائخِ دین، سیاسی قائدین اور مختلف طبقات کے خواص و عوام کو یاد کرنے کا موقع دیتا ہے جنہوں نے عقیدہ ختمِ نبوت کے تحفظ کے لئے اپنی زندگیاں وقف کیں اور قربانیاں پیش کیں۔
یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیئے کہ عقیدہ ختمِ نبوت کوئی سیاسی، جماعتی یا شخصی مسئلہ نہیں، بلکہ ایمان کا مسئلہ ہے، اس عقیدے کے ساتھ ہماری صرف نظریاتی جہت وابستہ نہیں ہے بلکہ ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی کی مختلف جہتیں اور پہلو وابستہ ہیں، چنانچہ تکمیلِ دینی، تعلیمی، تربیتی، عقلی، فکری، معاشی، معاشرتی، عدالتی، اخلاقی، تشریعی، عالمگیری، سیاسی، دفاعی، دعوتی، اصلاحی، فقہی، اجتہادی، روحانی، تہذیبی، تمدنی، تاریخی، خاندانی، وحدتِ امت اور فتنوں سے تحفظ کی جہت بھی اس میں شامل ہے۔
اگر آپ عقیدہ ختمِ نبوت سے انحراف کرتے ہیں تو صرف اپنی نظریاتی شناخت نہیں کھوتے، بلکہ یہ زندگی کے مختلف پہلوؤں اور جہتوں سے منہ موڑنے کے مترادف ہوگا۔
آپ کا سیاسی ذوق جو بھی ہو، آپ کسی بھی جماعت سے وابستہ ہوں، کسی بھی شخصیت سے محبت کرتے ہوں، کسی سے بھی اختلافِ رائے رکھتے ہوں، یہ سب آپ کا ذاتی معاملہ ہے، لیکن عقیدہ ختمِ نبوت پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔
یہ زندگی کا سفر جاری ہے، آپ اس میں سوار ہیں، مختلف اسٹیشن آئیں گے، کچھ لوگ زندگی کی گاڑی سے اتریں گے، کچھ لوگ گاڑی میں سوار ہوں گے، افراد بدلتے رہیں گے، جماعتیں آتی جاتی رہیں گی، سیاسی ترجیحات تبدیل ہوتی رہیں گی، مگر خاتم النبیین محمد رسول اللہ ﷺ کی ختمِ نبوت کا عقیدہ نہیں بدل سکتا۔
اس عقیدے کے تحفظ کے لئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دور سے آج تک اہلِ ایمان نے اس عقیدے سے وفا کی ہے، یہ دن ایفائے عہد کا بھی دن ہے، تجدیدِ فکر کا بھی دن ہے۔
ہمیں ان تمام محافظینِ ختمِ نبوت سے محبت و پیار ہے جنہوں نے اس عقیدے کی حفاظت کے لئے اپنا وقت، اپنی صلاحیتیں، اپنا مال اور اپنی جانیں تک قربان کیں اور رب العالمین کی بارگاہ میں سرخرو ہو کر پہنچے!
عقیدہ ختمِ نبوت کا تحفظ اور اسے آنے والی نسلوں تک پہنچانا ہماری ذمہ داری ہے۔