(+92) 319 4080233
کالم نگار

محمد علی نور،شعبہ ابلاغ عامہ جامعہ بنوریہ عالمیہ

محمد علی نور،شعبہ ابلاغ عامہ جامعہ بنوریہ عالمیہ

پروفائل | تمام کالمز
2026/09/22
موضوعات
یوم دفاع ختم نبوت۔جدوجہدکی مختصر داستان
اسلام کے بنیادی عقائد میں ایک اہم اور قابلِ غور مسئلہ جس پر ہر ایک مسلمان کا ایمان ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد کوئی نیا نبی نہیں آ سکتا۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو خاتم النبیین فرمایا ہے۔ احادیثِ مبارکہ میں بھی اس بات کو مختلف انداز سے واضح کیا گیا ہے۔ اسی لیے مسلمانوں کے نزدیک ختمِ نبوت کا عقیدہ بہت اہم ہے اور اس کے تحفظ کے لیے علماء نے ہر دور میں اپنا کردار ادا کیا۔

برصغیر کی تاریخ میں بھی اس عقیدے کے تحفظ کے حوالے سے ایک لمبی جدوجہد نظر آتی ہے، جس میں سرِ فہرست علمائے دیوبند کا کردار اور کوششیں ہیں۔ انیسویں صدی میں قادیان میں مرزا غلام احمد نامی شخص سامنے آیا۔ شروع میں وہ اسلام کے دفاع کے حوالے سے لکھتا تھا، اس نے عیسائیوں اور ہندو آریہ سماج کی طرف سے اسلام پر کیے جانے والے اعتراضات کے جوابات دیے۔ اس کی کتاب "براہینِ احمدیہ" بھی اسی سلسلے میں لکھی گئی، جس سے اسے خاصی شہرت ملی۔

اسی طرح وقت کے ساتھ اس کے دعووں میں تبدیلی آتی گئی۔ پہلے اس نے اپنے آپ کو مجدد اور مصلح کہا، پھر مسیح موعود اور مہدی ہونے کا دعویٰ کیا۔ 1889ء میں اس نے لوگوں سے بیعت لینا شروع کی، اس طرح اس کے ماننے والوں کی ایک باقاعدہ جماعت بن گئی۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس کے بعض ایسے دعوے بھی سامنے آئے جنہیں مسلمان علماء نے ختمِ نبوت کے عقیدے کے خلاف سمجھا، اور آخر میں اس نے نبی ہونے کا دعویٰ کر دیا۔

اس معاملے پر علماء نے اسی زمانے میں آواز اٹھانا شروع کر دی تھی۔ برصغیر میں اس کے ابتدائی دور ہی سے علماء اس کے خیالات پر اعتراض کرتے رہے۔ 1884ء میں لدھیانہ اور کشمیر کے علماء کی طرف سے بھی اس کے بعض عقائد کے خلاف فتویٰ سامنے آیا۔ اس کے بعد کئی دوسرے علماء نے بھی اس مسئلے پر لکھنا شروع کر دیا۔ مولانا محمد حسین بٹالوی نے مرزا غلام احمد کے دعووں پر تفصیلی بحث کی۔ مولانا رشید احمد گنگوہی، مولانا ثناء اللہ امرتسری اور دوسرے علماء نے بھی اپنے اپنے انداز میں اس کے نظریات کی مخالفت کی۔ ان علماء کی بنیادی دلیل یہی تھی کہ نبی کریم ﷺ آخری نبی ہیں اور آپ ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ اسلامی عقیدے کے خلاف ہے۔

مرزا غلام احمد 26 مئی 1908ء کو لاہور میں انتقال کر گیا۔ اس کی موت کے بعد بھی اس کے ماننے والوں کی جماعت قائم رہی اور اس کی تبلیغ کا سلسلہ مختلف علاقوں میں جاری رہا۔ اسی وجہ سے علمائے اہلِ سنت اور اس جماعت کے درمیان مذہبی اختلاف بھی آگے بڑھتا رہا۔

1930ء میں اس مسئلے پر عوامی سطح پر بھی زیادہ سرگرمی دیکھنے میں آئی۔ مجلسِ احرارِ اسلام نے قادیانیت کے مسئلے کو بھرپور انداز میں اٹھایا۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاری اور دوسرے علماء نے جلسوں اور اجتماعات میں تقاریر کیں اور لوگوں کو عقیدۂ ختمِ نبوت کی اہمیت سمجھائی۔ اس دور میں یہ مسئلہ صرف علماء کے درمیان بحث تک محدود نہیں رہا بلکہ عام لوگوں میں بھی اس کے بارے میں کافی گفتگو ہونے لگی۔

پاکستان بننے کے بعد بھی یہ معاملہ موجود رہا۔ 1953ء میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے اور بعض سرکاری عہدوں سے متعلق مطالبات کے ساتھ ایک بڑی تحریک شروع ہوئی۔ اس وقت پاکستان کے بڑے بڑے اداروں تک ان کی رسائی تھی، یہاں تک کہ آرمی چیف کے عہدے تک بھی ان لوگوں نے رسائی حاصل کر لی تھی۔ مختلف مذہبی جماعتوں اور علماء نے اس تحریک میں حصہ لیا۔ حالات اتنے خراب ہوئے کہ پنجاب میں مارشل لاء لگانا پڑا۔ گرفتاریاں ہوئیں اور بہت سے لوگ جامِ شہادت نوش کر گئے۔ اللہ تعالیٰ اس تحریک میں دی گئی قربانیوں کو قبول فرمائے۔

1953ء کی تحریک اپنے مطالبات حاصل نہ کر سکی، لیکن اس کے بعد ختمِ نبوت کا مسئلہ پاکستان کے اندر ایک اہم قومی مسئلہ بن گیا۔ علماء نے اس موضوع پر اپنا کام جاری رکھا اور مختلف مکاتبِ فکر کے علماء اس بات پر متفق نظر آئے کہ حضرت محمد ﷺ آخری نبی ہیں۔

1974ء میں یہ مسئلہ ایک مرتبہ پھر قومی سطح پر سامنے آیا۔ ربوہ ریلوے اسٹیشن پر پیش آنے والے ایک واقعے کے بعد ملک میں حالات کشیدہ ہو گئے۔ اس کے بعد قادیانیوں کی آئینی حیثیت کا سوال قومی اسمبلی میں زیرِ بحث آیا۔

30 جون 1974ء سے قومی اسمبلی میں اس معاملے پر کارروائی شروع ہوئی۔ اس مقصد کے لیے خصوصی پارلیمانی کمیٹی بھی بنائی گئی۔ اس معاملے پر کافی عرصے تک بحث ہوئی۔ قادیانی جماعت کے نمائندوں کو بھی اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیا گیا، جبکہ علماء نے بھی اپنے دلائل اور عقیدۂ ختمِ نبوت کی وضاحت سامنے رکھی۔ اس موقع پر مولانا شاہ احمد نورانی، مولانا مفتی محمود اور دوسرے علمائے کرام نے اہم کردار ادا کیا۔ مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے علماء کا بنیادی موقف ایک ہی تھا کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ آخری نبی ہیں اور آپ ﷺ کے بعد کسی شخص کا نبی ہونے کا دعویٰ اسلامی عقیدے سے متصادم ہے۔

آخرکار 7 ستمبر 1974ء کو بھٹو کی حکومت میں قومی اسمبلی نے آئینی ترمیم منظور کی۔ اس ترمیم کے نتیجے میں قادیانی گروپ اور لاہوری گروپ کو آئینِ پاکستان کے تحت غیر مسلم قرار دیا گیا اور ان کی آئینی حیثیت واضح ہو گئی۔ تاہم اس وقت اس پر کوئی الگ قانون نہیں بنایا گیا بلکہ صرف آئینی حیثیت کا تعین ہوا۔

یہاں میں یہ بات بھی قابلِ ذکر سمجھتا ہوں کہ 7 ستمبر 1974ء کا فیصلہ کسی ایک عالم یا کسی ایک مذہبی جماعت کا فیصلہ نہیں تھا بلکہ یہ پاکستان کی قومی اسمبلی کا آئینی فیصلہ تھا۔ البتہ اس فیصلے تک پہنچنے سے پہلے علماء اور مذہبی جماعتیں کئی دہائیوں تک اس مسئلے پر اپنا موقف پیش کرتی رہی تھیں۔

اگر پوری تاریخ کو دیکھا جائے تو ختمِ نبوت کے تحفظ کی یہ جدوجہد ایک دن یا ایک سال کی کہانی نہیں ہے۔ برصغیر میں مرزا غلام احمد کے ابتدائی دعووں کے بعد علماء کی مخالفت، 1930ء کی دہائی کی تحریکیں، 1953ء کی تحریک اور پھر 1974ء کی پارلیمانی کارروائی — یہ سب اس تاریخ کے مختلف مرحلے ہیں۔

ایک مسلمان کے لیے ختمِ نبوت صرف ایک سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ ایمان کا بنیادی عقیدہ ہے۔ ایک مسلمان ہر گناہ کر سکتا ہے لیکن نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کبھی برداشت نہیں کر سکتا۔ مسلمانوں کا ایمان ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں اور آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آ سکتا۔ اسی عقیدے کی وضاحت اور حفاظت کے لیے برصغیر کے علماء نے مختلف ادوار میں اپنی علمی اور دینی کوششیں جاری رکھیں، اور پاکستان میں 7 ستمبر 1974ء کا آئینی فیصلہ اس طویل تاریخی سلسلے کا ایک اہم مرحلہ بن گیا۔

اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ اسلام اور ملکِ پاکستان کی ایسے شرور سے حفاظت فرمائے۔ اور جو لوگ ختمِ نبوت کے منکر اور اس کے خلاف ہیں، وہ دراصل ملکِ پاکستان اور مسلمانوں کے دشمن ہیں جنہوں نے معصومیت کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے۔ اللہ رب العزت ان کو ذلیل و رسوا کرے، آمین!

کالم نگار : محمد علی نور،شعبہ ابلاغ عامہ جامعہ بنوریہ عالمیہ
| | |
84