(+92) 319 4080233
کالم نگار

انتخاب:حافظ عزیز احمد

انتخاب:حافظ عزیز احمد

پروفائل | تمام کالمز
2026/09/20
موضوعات
ہمارے دفاع کا سچا ضامن
6 ستمبر ہماری تاریخ کا ایک یادگار دن ہے، اس دن بھارتی فوج نے پاکستان کے اہم شہر لاہور پر اس انداز میں حملہ کر دیا تھا جیسے کوئی زہریلا اور غضب سے مغلوب سانپ بےخبری میں کسی انسان پر حملہ آور ہو جاتا ہے۔ بھارتی فوج کو اپنی مادی طاقت، عسکری ہنرمندی، تزویراتی سازش اور مکاری و عیاری پر اس قدر اعتماد تھا کہ انہوں نے عہد کر لیا تھا کہ دوپہر کا کھانا لاہور سے پہلے نہیں کھائیں گے اور ان کے کمانڈر انچیف جنرل چودھری نے اپنے اربابِ حکومت کو یقین دلایا تھا کہ شام کو جم خانہ کلب لاہور میں شراب کا دور چلائیں گے۔

عالمی فوجی مبصرین بھی بھارت کی ظاہری برتری دیکھتے ہوئے اس کے دعووں پر اعتماد کرنے پر مجبور تھے، مسلمانوں کی روایتی دشمن ”بی بی سی“ نے تو صبح سات بجے یہ خبر پوری دنیا میں نشر کر دی تھی کہ ”بھارت نے لاہور پر قبضہ کر لیا ہے۔“ اس خبر کی بنیاد بی بی سی کی رپورٹروں کی اس رپورٹ پر تھی کہ بھارتی فوج کے مست ہاتھی اپنی راہ میں آنے والی ہر رکاوٹ، ہر بستی اور ہر پوسٹ کو روندتے ہوئے لاہور کے دروازوں پر دستک دے رہے ہیں اور اب شہر پر قبضہ، گھنٹوں کا نہیں لمحوں کا عمل ہے۔

بھارت ہی کے فراہم کردہ سامان لہو ولعب میں ڈوبے ہوئے نوجوانوں کو کیسے بتایا جائے کہ ان خبروں نے پاکستان سے دنیا کے آخری کونے تک بسنے والے مسلمانوں کے قلب و دماغ میں کیسی آندھیاں چلا دی تھیں۔ یہود و ہنود خوشی سے دیوانے ہوئے جا رہے تھے اور پاکستانی مسلمان دھاڑیں مار مار کر رو رہے تھے۔

کتنے تھے جن کے حافظے میں 1947ء کے جگر خراش اور حیا سوز مظالم کی یادیں تازہ تھیں اور وہ یہ سوچ کر ہی ہلکان ہوئے جا رہے تھے کہ کیا بزرگوں کی ذلت، جوانوں کی کٹی ہوئی گردنوں، ماؤں کی بے حرمتی اور بہنوں اور بیٹیوں کی عصمت کے لاشوں کے مناظر انہیں ایک بار پھر دیکھنا پڑیں گے؟ یہی وہ نازک گھڑی تھی جب پاکستانی قوم نے جہاد کے فراموش کردہ سبق کو دوبارہ یاد کیا اور غیبی نصرت کی طلب کے لیے اسی رحیم و کریم ذات کو پکارا جو سچے دل سے پکارنے والوں کو کبھی خالی ہاتھ واپس نہیں لوٹاتی، اسی تاریخ کو دن کے گیارہ بجے ”صدر پاکستان محمد ایوب خان“ مرحوم نے ریڈیو پر قوم سے تاریخی خطاب کیا اور بتایا کہ بھارت نے روایتی بزدلی اور مکاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے رات کے اندھیرے میں اعلانِ جنگ کیے بغیر اپنی فوجوں کو پاکستانی سرحدیں پار کرنے کا حکم دے دیا ہے، اس لیے اب ہمارا بھی فرض ہے کہ پوری طاقت سے بھارتی حملے کا منہ توڑ جواب دیں تاکہ بھارتی حکومت کے روپ میں سامراجی خطرہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے۔ انہوں نے پاکستانی افواج اور عوام کو کلمہ طیبہ ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ پڑھ کر اس جہاد میں بھرپور حصہ لینے کی ترغیب دی۔

کہا جاتا ہے کہ جب انہوں نے کلمہ پڑھ کر ہندو بنیے کو مخاطب کر کے کہا تھا کہ تم نہیں جانتے کہ تم نے کس قوم کو پکارا ہے تو آنکھیں چھلک پڑی تھیں اور سننے والوں کا خون جوش کھا گیا تھا، اس کلمہ نے کراچی سے خیبر تک سارے مسلمانوں کو متحد کر دیا تھا، نہ کوئی پنجابی رہا نہ کوئی بلوچی، نہ سندھی اور نہ پٹھان، نہ امیر نہ غریب، نہ عوام نہ خواص، وہ سب کے سب پاکستانی بن گئے۔ ایک اللہ، ایک رسول، ایک کتاب اور ایک قبلہ کے ماننے والے۔

جی ہاں اس کلمہ میں آج بھی یہ تاثیر اور کشش ہے، یہ بکھرے ہوئے دانوں کو ایک تسبیح میں اور بکھری ہوئی پتیوں کو ایک گلدستے میں جمع کر سکتا ہے، پھر نہ کوئی بندہ رہتا ہے اور نہ کوئی بندہ نواز، سب ایک ہی صف میں کھڑے ہو جاتے ہیں، ناز ختم ہو جاتا ہے، بس نیاز باقی رہ جاتا ہے، لیکن قوم کا امیر اور رئیس سچے دل سے یہ کلمہ پڑھ کر تو دیکھے، مرحوم ایوب خان بلاشبہ ایک آمر تھے اور انہوں نے بزورِ بازو اقتدار پر قبضہ جمایا تھا لیکن جب انہوں نے کلمہ پڑھ کر علما کو، شعرا اور ادبا کو، تاجروں اور مزدوروں کو، فوج اور پولیس کو ایک ہو جانے اور مجاہد بن کر اسلام پر قربان ہو جانے کی دعوت دی تو وہ واقعی ایک ہو گئے۔ پوری پاکستانی قوم فوج کی پشت پر تھی اور فوج بزدل حملہ آوروں کے خلاف اسی جرات اور مردانگی کے جذبے کے ساتھ لڑ رہی تھی جو مسلمانوں کے جہاد کا خاصہ رہا ہے۔ جذبہِ جہاد نے کنجشکِ بےمایہ کو قوت و شجاعت سے بھرپور شاہین بنا دیا تھا، جوانوں کے ساتھ ساتھ ہمارے افسروں نے بھی شجاعت اور سرفروشی کی نئی داستانیں رقم کیں، وہ آٹھ آٹھ دن تک بغیر سوئے اور بغیر کچھ باقاعدہ کھائے پیے دادِ شجاعت دیتے رہے اور بالآخر دشمن کا منہ موڑ کر چھوڑا۔ پاکستانی فضائیہ نے بھی اپنا کام نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیا اور فضاؤں میں ایسی مہارت اور جرات کا مظاہرہ کیا کہ پوری دنیا عش عش کر اٹھی، برّی اور فضائی افواج کے علاوہ ہماری بحریہ نے بھی اپنی بساط سے بڑھ کر حیرتناک کارنامے انجام دیے۔ یہ جنگ سترہ روز تک جاری رہی جس نے ہندوستانی سورماؤں کے حوصلے پست کر دیے اور پاکستانی جوانوں نے دنیا پر ثابت کر دیا کہ جدید دور میں بھی اسلحہ اور عددی برتری سے کہیں زیادہ جنگ میں جذبہِ جہاد اور ایمانی طاقت مؤثر ثابت ہوتی ہے۔

ہر سال ستمبر کی 6 تاریخ کو اسی جذبہِ جہاد کو تازہ کیا جاتا ہے، اخبارات خصوصی ایڈیشن شائع کرتے ہیں، فوجی پریڈیں ہوتی ہیں، اسلحہ کی نمائش ہوتی ہے، تقریریں ہوتی ہیں، عزیز بھٹی شہید اور ایم ایم عالم جیسے سرفروشوں اور بہادروں کے کارنامے ذکر کر کے قوم کے حال کو ماضی سے جوڑنے کی کوشش کی جاتی ہے اور یقیناً ایسا کرتے رہنا چاہیے، زندہ قومیں اپنے محسنوں کو یاد رکھتی ہیں، ان کے کردار و عمل کو مشعلِ راہ بناتی ہیں، ان کے نقوشِ قدم سے منزل کا تعین کرتی ہیں، ان کی جرات و شجاعت کی داستانوں کو دہرا کر گرد آلود جذبات کو صاف کرنے اور خوابیدہ احساسات کو بیدار کرنے کا کام لیتی ہیں۔

وہ لوگ بڑے انمول اور نایاب ہوتے ہیں جو اپنا سنہری مستقبل، ولولوں سے بھرپور جوانی اور اپنی خوش کن تمنائیں اللہ کی خاطر قربان کر دیتے ہیں، وہ اپنا سر کٹواتے ہیں تاکہ لاکھوں مسلمانوں کے سر سلامت رہیں، وہ اپنے آپ کو خطرات میں ڈالتے ہیں تاکہ ان کا مذہب، ملک اور ان کی قوم خطرات سے محفوظ ہو جائیں، وہ آگ میں کود جاتے ہیں تاکہ مسلمان ماؤں بہنوں کے آنچل شعلوں کی زد میں آنے سے بچ جائیں، وہ اپنی زندگی داؤ پر لگا دیتے ہیں تاکہ ان کے دینی بھائیوں کی زندگی رواں دواں رہے، وہ منوں مٹی کے نیچے دفن ہو جاتے ہیں تاکہ اس مٹی سے خودداری، شجاعت و ایثار اور حمیت و غیرت جیسے کمیاب پھولوں کی نشوونما ہوتی رہے۔ اس حوالے سے دیکھا جائے تو جنگِ ستمبر کے شہدا واقعی عظیم لوگ تھے کیونکہ انہوں نے ایک عظیم مقصد کی خاطر اپنی زندگیاں، اپنی جوانیاں اور اپنی تمنائیں قربان کر دیں اور ہر سال 6 ستمبر کو ہم عظمتوں کی اسی داستان کو دہراتے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ کیا صرف یومِ دفاع منانے سے ملک اور قوم کا دفاع ہو سکتا ہے؟

آج جب کہ پاکستان کے اکثر گھرانوں اور خاندانوں نے ہندوؤں کی سڑی ہوئی تہذیب، حیا سوز معاشرتی رسم و رواج اور مادر پدر آزاد ثقافت کو عملی طور پر قبول کر لیا ہے۔ ایسا تو ممکن ہے کہ ہائی سوسائٹی کے بچوں کو صحابیات اور صحابہ کے نام یاد نہ ہوں جن کی قربانیوں کے صلہ میں ہمیں کائنات کی عظیم ترین نعمت ”ایمان“ نصیب ہوئی لیکن ایسا نہیں ہو سکتا کہ انہیں انڈیا کی فلمیں ایکٹروں اور ایکٹرسوں کے نام یاد نہ ہوں، وہ ہندوستانی گلوکاروں کے گانے سنتے ہوئے جوان ہوئے ہیں۔ انڈیا کے اداکاروں کی فلمیں دیکھتے ہوئے بوڑھے ہو جاتے ہیں اور ان کی تہذیب و ثقافت کو گلے لگاتے ہوئے موت کی آغوش میں چلے جاتے ہیں۔ جو قوم اپنی تہذیب و ثقافت اور دین و مذہب سے بیگانہ ہو اور جس کا سینہ جہاد جیسے مقدس جذبہ سے خالی ہو وہ اپنے ملک اور اپنے قومی وجود کا دفاع نہیں کر سکتی۔

یقین جانیے! کہ مضبوط ملکی اور ملی دفاع کے لیے ہم پر لازم ہے کہ ہم سب یعنی امیر سے غریب تک، آمر سے مامور تک، فوج سے عوام تک، سیاست دانوں سے لیڈروں تک دوبارہ کلمہ پڑھیں، پورے شعور اور یقین کے ساتھ، نئے جذبہ اور نئے اعتماد کے ساتھ۔ یہ کلمہ پڑھے بغیر نہ ہم کل اپنا دفاع کر سکے تھے، نہ آج اپنا دفاع کر سکتے ہیں۔ دل کی گہرائی سے کلمہ پڑھنے سے جذبہِ جہاد پیدا ہوتا ہے اور جذبہِ جہاد جان و مال، اولاد سب کچھ قربان کرنے کا حوصلہ پیدا کرتا ہے اور یہ حوصلہ بہت سی برائیاں اور کمزوریاں ازخود ختم کر دیتا ہے۔ آج شاید بہت سے لوگوں کے لیے یہ خبر ایک ”انکشاف“ کی حیثیت رکھتی ہو، لیکن ہے یہ حقیقت کہ 1965ء کی سترہ دن تک رہنے والی جنگ کے دوران جب پوری قوم اور قوم کا امیر کلمہ پڑھ کر مجاہد بن گئے تھے تو ان سترہ دنوں میں پورے ملک میں نہ کوئی چوری کی واردات ہوئی، نہ دو آدمیوں کے درمیان جھگڑے کی کوئی رپورٹ پولیس میں درج کرائی گئی اور نہ ہی ملک بھر میں کوئی سیاسی اور فرقہ وارانہ تصادم کا واقعہ پیش آیا۔

جنرل صاحب! آج پھر ہندوستان کی افواج ہماری سرحدوں پر جمع ہیں، ان کے عزائم خطرناک ہیں، ان کے بیانات ہولناک ہیں، ان کی تیاریاں خوفناک ہیں، امریکا، اسرائیل اور برطانیہ ان کی پشت پناہی کر رہے ہیں، ان حالات میں آپ کی رعایا کا ایک عاجز اور کمزور فرد بصد احترام آپ سے گزارش کر رہا ہے کہ آپ پہل کیجئے اور پوری بصیرت اور شعور کے ساتھ کلمہ پڑھیے! آپ کی اتباع میں ساری قوم کلمہ پڑھے گی، ہم سب نئے سرے سے مسلمان ہوں گے، ہمارے دلوں میں جذبہِ جہاد ہو گا، پھر کوئی کمینہ دشمن ہمیں میلی نظروں سے دیکھنے کی جرأت نہیں کرے گا۔ ہاں! یہ کلمہ ہی ہمارے دفاع، ہمارے وجود اور ہماری بقا کا سچا ضامن ہے۔

کالم نگار : انتخاب:حافظ عزیز احمد
| | |
87