(+92) 319 4080233
کالم نگار

سارہ خانم

سارہ خانم

پروفائل | تمام کالمز
2026/09/21
موضوعات
مردانگی کاجھوٹا بھرم
چائے کی پتلی پیالی کے کنارے پر جمی سفید بھاپ جب ہلکی سی کپکپی کے ساتھ ہوا میں تحلیل ہوئی، تو صحن میں لگے نیم کے درخت سے ایک سوکھا پتا ٹوٹ کر فرش پر آ گرا۔پانچ سال پہلے، جب اس گھر کی چوکھٹ پر میرا پہلا قدم پڑا تھا، تو مہندی کی بو باس اور چوڑیوں کی چھنک میں یہ وہم ہی نہیں تھا کہ خاموشی اتنی سنگین بھی ہو سکتی ہے۔

وہ پہلے دو سال… وہ صرف ہمارے تھے۔دیوار پر لٹکی ہوئی گھڑی کی ٹک ٹک بھی خوش گواری کا حصہ لگتی تھی۔ کچن میں دو لوگوں کا کھانا بننا، شام کو آفتاب کا دفتری تھکن کے ساتھ آنا اور میرے ہاتھ سے چائے کا کپ لیتے ہوئے انگلیوں کا لمس… سب کچھ ٹھیک تھا۔

پھر تیسرے سال کی عید پر بڑی بوجھی (ساس) نے پان کی گلوری منہ میں رکھتے ہوئے سائیڈ بورڈ پر رکھی خالی گلدانی کی طرف اشارہ کیا۔"تین سال ہو گئے سارہ… اب تو اس سنسان گھر میں کوئی کھلونا گرنا چاہیے نا؟" میں نے مسکرا کر بات ٹال دی۔ مجھے لگا، تھوڑا وقت اور صابرانہ انتظار کافی ہوگا۔مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ سوال ایک زہریلی بیل کی طرح پورے گھر پر چھا گیا۔ہر خاندانی تقریب میرے لیے ایک عدالتی کٹہرا بن گئی۔ کسی کے ہاں بچے کی چھٹی ہو یا عقیقت، ساس اور نند کی نظریں میری گود پر جم جاتیں۔"ڈاکٹر ناہید کو دکھایا تم نے؟" نند نے ایک دن پراٹھا بیلتے ہوئے بیزاری سے کہا، "ہماری دور کی خالا کی بہو کا بھی یہی مسئلہ تھا، دو سال دوائیاں لیں تو اب اللہ نے بیٹا دیا ہے۔ عورت کو اتنی لاپرواہی نہیں کرنی چاہیے۔"

جملہ بہت شائستہ تھا، مگر اس کی تپش میرے چہرے پر ابھر آئی۔آفتاب اس وقت اخبار پڑھ رہے تھے۔ انہوں نے اخبار کا صفحہ ذرا سا اوپر کر لیا۔ ان کی خاموشی اس دن پہلی بار مجھے چبھی تھی۔مرد کے لیے باپ نہ بننا ایک امکان ہوتا ہے، عورت کے لیے ماں نہ بننا ایک جرم بنا دیا جاتا ہے۔ڈاکٹر کے کلینک کا سفید، بے روح ماحول اب میری زندگی کا مستقل حصہ بن چکا تھا۔خون کے نمونے، الٹراساؤنڈ کی ٹھنڈی جیل، ہارمونز کے انجیکشنز، اور ہر بار رپورٹ کے لفافے کو کھولتے ہوئے دل کی تیز دھڑکن۔

چھ ماہ بعد جب سپیشلسٹ نے رپورٹس کی فائل بند کی، تو ان کے چہرے پر ایک اطمینان بخش مسکراہٹ تھی۔

"آپ کی تمام رپورٹس بالکل نارمل ہیں، سارہ خانم۔ کوئی جسمانی نقص نہیں ہے۔"

"تو پھر…؟" میرے الفاظ حلق میں اٹک گئے۔

"کبھی کبھی صرف وقت لگتا ہے۔ میں کچھ سپلیمنٹس لکھ دیتی ہوں، جو چانسز بہتر کریں گے۔"

میں اس دن کلینک سے باہر نکلی تو میرا دام امید سے بھرا ہوا تھا۔ میں نے دوائیوں کا پورا کورس خریدا، الارم لگا کر گولیاں لیں، اور ہر ماہ ایک نئی آس کے ساتھ کیلنڈر کی تاریخوں پر سرخ دائرے بنائے۔ایک سال گزر گیا۔ دوائیاں ختم ہوتی گئیں، اور سرخ دائرے محض ناکامی کا نشان بنتے گئے۔ساس کا رویہ اب تعزیتی سے زیادہ تحقیر آمیز ہو چکا تھا۔ کچن میں برتنوں کی پٹخار اور میری ذات پر دبے الفاظ میں کسے گئے جملے روز کا معمول تھے۔

"ہم نے تو سوچا تھا ہمارے گھر کی رونق بڑھے گی… پر نصیب اپنا اپنا۔"

میں رات کو آفتاب کا بازو پکڑ کر روتی، تو وہ صرف میرا سر تھپتھپا دیتے اور دوسری طرف منہ کر کے سو جاتے۔پھر ایک دن کلینک کے آخری وزٹ پر، ڈاکٹر نے بہت معمولی انداز میں پوچھا:"کیا آپ کے شوہر نے اپنا ٹیسٹ کروایا ہے؟"

وہ ایک چھوٹا سا جملہ تھا، مگر اس نے پانچ سال سے قائم ایک غیر مرئی دیوار کو ہلا کر رکھ دیا۔

گھر آ کر جب میں نے آفتاب سے یہ بات کی، تو ان کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ ان کی انا پر جیسے کسی نے ناخن مار دیا ہو۔

"مجھے کیا مسئلہ ہو سکتا ہے؟" ان کا لہجہ غیر معمولی طور پر سخت تھا، "مسئلہ ہمیشہ… مطلب، تمہاری رپورٹس میں شاید کچھ رہ گیا ہو۔"

تین دن کی سرد جنگ اور میری منت سماجت کے بعد، وہ ٹیسٹ کے لیے راضی ہوئے۔

وہ ایک حبس زدہ دوپہر تھی۔ ڈاکٹر کے روم میں رکھی ایئرکنڈیشنر کی گھنگھناہٹ کے علاوہ مکمل خاموشی تھی۔

ڈاکٹر نے چشمہ اتارا، فائل پر ایک نظر ڈالی اور آفتاب کی طرف دیکھا۔

"آپ کے سپرم کاؤنٹ میں شدید کمی ہے۔ اسے طبی زبان میں شدید اولیگوکونیا کہتے ہیں۔ قدرتی طور پر حمل کا امکان تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔"

کمرے کا درجہ حرارت جیسے یک دم صفر پر آ گیا۔

آفتاب نے اپنی نظریں جھکا لیں۔ ان کے ہاتھ گھٹنوں پر پڑے تھے اور وہ اتنی شدت سے کانپ رہے تھے کہ ان کی پتلون میں شکنیں پڑ رہی تھیں۔گاڑی میں بیٹھتے ہی، آفتاب نے اسٹیئرنگ وہیل پر سر رکھ دیا اور پھوٹ پھوٹ کر رو پڑے۔وہ ایک ایسا منظر تھا جس نے میرے اندر کا سارا غبار دھو دیا۔ ایک مرد کا یوں اپنی زبردستی اوڑھی ہوئی مہم جوئی اور انا کو ٹوٹتے دیکھنا سچ مچ دل دوز تھا۔

"سارہ… مجھے معاف کر دو،" وہ سسک رہے تھے، "میں نے تمہیں کتنی باتیں سنائیں… میری ماں نے تمہیں کیا کچھ نہیں کہا…"

میں نے آگے بڑھ کر ان کے برف جیسے ٹھنڈے ہاتھ کو اپنے دونوں ہاتھوں میں لے لیا۔

"آفتاب، سنیں…" میں نے ان کی آنکھوں میں جھانکا، "یہ صرف آپ کا دکھ نہیں ہے۔ ہم میاں بیوی ہیں۔ جو بھی ہے، ہم مل کر جھیلیں گے۔"

اس رات ہم نے طے کیا۔

ہم نے فیصلہ کیا کہ یہ رپورٹ کسی کو نہیں دکھائی جائے گی۔

پاکستانی معاشرے میں ایک بے اولاد عورت کو "بانجھ" کا طعنہ تو ملتا ہے، مگر ایک مرد کی مردانگی پر اٹھنے والا سوال اس کی ہستی کو مسمار کر دیتا ہے۔ میں اپنے شوہر کی عزت کو خاندانی تحقیر کے حوالے نہیں کرنا چاہتی تھی۔میں نے ان کا عیب اپنے دامن میں چھپا لیا۔مگر خاموشی کی ایک قیمت ہوتی ہے، اور وہ قیمت مجھے روز ادا کرنی پڑی۔

اگلے ہی ہفتے، ساس نے ڈائننگ ٹیبل پر چائے کا کپ رکھتے ہوئے کہا، "آفتاب! اب زیادہ دیر نہ کرو۔ اگر یہ عورت تمہیں اولاد نہیں دے سکتی، تو ہم تمہارا دوسرا نکاح سوچ رہے ہیں۔"

آفتاب نے خاموشی سے چائے کا گھونٹ لیا۔ ان کی نظریں اپنی پلیٹ پر جمی رہیں۔

انہوں نے ایک لفظ نہیں کہا۔ نہ میری صفائی دی، نہ سچ بولا، نہ میرا ہاتھ تھاما۔میں نے آفتاب کے چہرے کو دیکھا—وہ چہرہ جسے بچانے کے لیے میں نے پورے زہر کا پیالہ اکیلے پی لیا تھا—وہ خاموش تھا، محض اپنی مردانہ انا اور خاندانی ساخ کے خول میں محفوظ۔میرا دل اندر سے ٹوٹ کر کرچی کرچی ہو گیا۔باندھا ہوا ضبط اب دھاگہ دھاگہ کھل رہا تھا۔ میں نے کچن کی طرف قدم بڑھائے، جہاں کونے میں رکھا وہ خالی مٹی کا گلدان اب بھی ویسے ہی پڑا تھا—بے رنگ، خالی اور بے آواز۔

ایک عورت غیر کا دیا ہوا زہر تو پی سکتی ہے… لیکن جس کے لیے زہر پیا جائے، اگر وہی ہاتھ چھوڑ دے، تو وہ خاموشی کب تک قائم رہ سکتی ہے؟کچن کی سنگ مرمر کی سلیب پر رکھا چائے کا ساسپین اب بھی ہلکی سی سنسناہٹ کے ساتھ ٹھنڈا ہو رہا تھا۔صحن سے ساس کی بوجھل آواز آ رہی تھی جو آفتاب کی خالہ کو فون پر کسی شناسا کے ہاں "نیک اور سلیقے مند لڑکی" کا پوچھ رہی تھیں۔ ہر لفظ کچن کی جالی دار کھڑکی سے گزر کر میرے وجود میں نشتر کی طرح اتر رہا تھا۔میں نے آفتاب کی طرف دیکھا۔

وہ ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھے تھے، ان کے ہاتھ میں وہی چائے کا کپ تھا جس میں اب بھاپ بننا بند ہو چکی تھی۔ ان کی بزدلانہ خاموشی اس پورے کمرے کے حبس سے زیادہ بھاری تھی۔"آفتاب؟" میں نے دھیمی، مگر برف جیسی سرد آواز میں پکارا۔انہوں نے چونک کر میری طرف دیکھا، لیکن نظریں ملا نہ سکے۔ چائے کے کپ کو ٹیبل پر رکھتے ہوئے ان کی انگلیاں ہلکی سی کپکپائیں۔

"تم نے کچھ کہا کیوں نہیں؟"

سوال سادہ تھا، لیکن اس کے پیچھے پانچ سال کی تذلیل، ہسپتالوں کی تنہا راہداریاں، ہارمونز کی گولیاں، اور وہ تمام راتیں دفن تھیں جو میں نے تکیے میں منہ دے کر روتے ہوئے گزاری تھیں۔آفتاب نے نظریں جھکا کر اپنی گھڑی کی پٹی کو بے مقصد انگلیوں سے چھیڑنا شروع کر دیا۔

"سارہ… تم جانتی ہو امی کو۔ اس وقت اگر میں کچھ کہتا تو بات اور بگڑ جاتی۔"

"بات بگڑ جاتی؟" میں نے ایک ہلکی سی تلخ ہنسی کے ساتھ دہرایا۔ "یا تمہاری مردانگی کا خول ٹوٹ جاتا؟"

"سارہ!" ان کا لہجہ یک دم سخت ہوا، جیسے اپنی کمزوری کو چھپانے کے لیے غصے کا سہارا لیا جا رہا ہو۔ "میں نے تم سے التجا کی تھی نا کہ یہ بات ہمارے بیچ رہے گی؟ تم چاہتی ہو میں اپنے گھر والوں، اپنے رشتہ داروں کے سامنے ذلیل ہو جاؤں؟ تم جانتی ہو یہ معاشرہ مرد کو کس نظر سے دیکھتا ہے اگر…اگر وہ…"

وہ لفظ ان کی زبان پر آ کر اٹک گیا۔ وہ اپنے عیب کا نام بھی نہیں لے سکتے تھے۔

"اور یہ معاشرہ اس عورت کو کس نظر سے دیکھتا ہے آفتاب؟" میں نے قدم آگے بڑھایا۔ "جو پانچ سال سے خاموشی سے تمہارا عیب اپنے دامن میں چھپائے بیٹھی ہے؟ جو روز صبح اٹھ کر اپنی ہی ذات کی نفی کرتی ہے؟"

کمرے میں سکوت چھا گیا۔

آفتاب نے اپنا سر دونوں ہاتھوں میں تھام لیا۔ "مجھے کچھ وقت دو سارہ… میں امی سے بات کروں گا، پر طریقے سے۔ ابھی ماحول گرم ہے۔"

"طریقے سے؟" میں نے الماری کے اوپر رکھے اس سفید لفافے کو دیکھا جس میں ان کی رپورٹس بند تھیں۔ "تم روز میرا سودا کر رہے ہو آفتاب، صرف اپنے اس بھرم کو بچانے کے لیے جو طبی سائنس کی ایک رپورٹ نے پانچ منٹ میں ختم کر دیا تھا ۔"

شام کو جب بڑی بوجھی کچن میں آئیں، تو ان کے ہاتھ میں ایک تعویذ تھا جو وہ کسی پیر بابا سے لائی تھیں۔

"یہ پانی میں گھول کر پی لینا،" انہوں نے تعویذ میری طرف بڑھاتے ہوئے نفی میں سر ہلا کر کہا۔ "اللہ جانے کس کی نظر لگ گئی ہے۔ ہماری نسل آگے بڑھنے کا نام ہی نہیں لے رہی۔ آفتاب تو شیر جیسا بچہ ہے، بس تیرے ہی اندر کوئی کمی ہے سارہ۔"

میں نے اس تعویذ کو دیکھا، پھر صحن میں کھڑے آفتاب کو۔ وہ موبائل پر کسی سے بات کرنے کا ناٹک کر رہے تھے، لیکن ان کے کان ہماری طرف لگے ہوئے تھے۔

میں نے تعویذ تھام لیا۔ لیکن اسے پانی میں گھولنے کے بجائے، اپنے ہاتھ کی مٹھی میں اتنی شدت سے بھیینچا کہ کاغذ کا کونہ میری ہتھیلی میں چبھنے لگا۔

رات کو جب کمرے کی بتیاں بجھ گئیں، تو آفتاب نے میری طرف ہاتھ بڑھایا۔

"سارہ… ناراض مت ہو نا۔ میں تم سے پیار کرتا ہوں۔ میں تمہارے بغیر کسی دوسری عورت کا سوچ بھی نہیں سکتا۔"

ان کے الفاظ میں التجا تھی، لیکن اس پیار میں وہ احترام غائب تھا جو ایک انسان کو دوسرے کا تحفظ کرنے پر مجبور کرتا ہے۔

میں نے ان کا ہاتھ آہستہ سے ہٹا دیا۔

"پیار قربانی مانگتا ہے آفتاب،" میں نے اندھیرے میں چھت کو گھورتے ہوئے کہا۔ "لیکن تم مجھ سے میری عزّتِ نفس کی قربانی مانگ رہے ہو، تاکہ تم سوسائٹی کے سامنے ایک 'مکمل مرد' بنے رہو۔" "تم مجھے بلیک میل کر رہی ہو؟" ان کی آواز میں شکن آئی۔

"نہیں۔" میں نے رخ موڑ لیا۔ "میں صرف یہ دیکھ رہی ہوں کہ میں نے جس شخص کے لیے اپنی انا کی قربانی دی تھی، وہ شخص اندر سے کتنا کھوکھلا ہے۔"

اگلی صبح، ناشتے کی میز پر برتنوں کی چھنک کے ساتھ ہی ساس نے اپنا حتمی فیصلہ سنا دیا۔

"آفتاب، میں نے تمہاری خالہ سے بات کر لی ہے۔ اگلے ہفتے وہ لوگ لڑکی والے کے ہاں جا رہے ہیں۔ اب اس معاملے کو اور نہیں لٹکایا جا سکتا۔"

آفتاب نے چمچ وہیں روک دیا۔ ان کا چہرہ زرد پڑ گیا۔ انہوں نے ایک بار میری طرف دیکھا، اور پھر نظریں چرائیں۔

"امی… ابھی اتنی جلدی کیا ہے…" آفتاب کی آواز اتنی دھیمی تھی کہ جیسے کوئی مجرم اعترافِ جرم کر رہا ہو۔

"جلدی؟" ساس کی آواز بلند ہوئی۔ "پانچ سال کم ہوتے ہیں؟ ہم اور کتنا انتظار کریں؟ اگر سارہ کا نصیب ہی خراب ہے تو میری اولاد کا گھر تو برباد نہ ہو۔"

میں خاموشی سے اپنی کرسی سے اٹھی۔

پورے گھر کی نظریں مجھ پر جمی ہوئی تھیں۔ میں اپنے کمرے میں گئی، ڈریسنگ ٹیبل کی دراز کھولی اور وہ سفید لفافہ نکال لیا جس پر لیبارٹری کا مہر لگی ہوئی تھی۔

جب میں واپس ڈائننگ ہال میں آئی، تو آفتاب کی آنکھوں میں خوف کی ایک لہر دوڑ گئی۔ وہ اپنی جگہ سے آدھے کھڑے ہو گئے۔

"سارہ! تم کیا کر رہی ہو؟" ان کا لہجہ التجائیہ اور سراسیمہ تھا۔

میں ڈائننگ ٹیبل کے پاس جا کر رک گئی۔ وہ لفافہ میرے ہاتھ میں تھا—ایک ایسا کاغذ کا ٹکڑا جو اس گھر کی بنیادوں کو ہلا سکتا تھا، جو آفتاب کی فرضی انا کو سیکنڈوں میں راکھ کر سکتا تھا، اور مجھے اس طوق سے آزاد کر سکتا تھا جو پانچ سال سے میرے گلے میں ڈالا گیا تھا۔

ساس نے حیرت اور بیزاری سے مجھے دیکھا۔ "یہ کیا ڈراما ہے سارہ؟"

میں نے آفتاب کے چہرے کو دیکھا۔ وہ کانپ رہے تھے۔ ان کا جلال، ان کی مردانہ انا، سب کچھ اس ایک کاغذ کے لفافے کے سامنے گھٹنے ٹیک چکا تھا۔

اور پھر… میں نے لفافے کو دیکھا۔

ایک عورت جب کسی مرد سے محبت کرتی ہے، تو وہ اسے دنیا کی نظروں میں بلند دیکھنا چاہتی ہے۔ لیکن جب وہی مرد اسے دنیا کے سامنے تنہا چھوڑ دے، تو محبت صرف ایک تلخ یاد بن کر رہ جاتی ہے۔ میں نے لفافہ ٹیبل پر نہیں رکھا۔

میں نے اسے ساس کی طرف بڑھانے کے بجائے، اپنی گود کے پاس لایا اور اسے آہستہ آہستہ دو حصوں میں پھاڑ دیا۔

کاغذ کے ٹکڑے ہونے کی آواز اس خاموش کمرے میں گونج اٹھی۔

"یہ کیا ہے؟" ساس نے غصے سے پوچھا۔

میں نے پھٹے ہوئے کاغذ کے ٹکڑے ڈسٹ بن میں ڈالے اور آفتاب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا—وہ آنکھیں جو اب شرمندگی اور احسان مندی سے جھکی ہوئی تھیں۔

"کوئی ڈراما نہیں ہے امی،" میں نے نہایت ہموار اور پرسکون آواز میں کہا۔ "آپ آفتاب کی دوسری شادی کی تیاری کریں۔"

آفتاب نے بے یقینی سے مجھے دیکھا، جیسے ان کی سانس اٹک گئی ہو۔

"سارہ…!" ان کے حلق سے بمشکل لفظ نکلا۔

میں نے ان کی طرف ایک آخری نظر ڈالی—ایک ایسی نظر جس میں نہ غصہ تھا، نہ سچ بتانے کی التجا، اور نہ ہی محبت۔

"میں نے اپنوں کی عزت بچانے کے لیے اپنا آپ مار دیا تھا آفتاب،" میں نے صرف ان کے قریب سے گزرتے ہوئے دھیمے سے کہا۔ "لیکن آج میں نے تمہارا عیب نہیں، تمہارے ساتھ اپنا رشتہ ختم کر دیا ہے۔"

میں کمرے کی طرف بڑھ گئی، جہاں میرا سامان میرا منتظر تھا—نہ کوئی آنسو، نہ کوئی فریاد۔

کبھی کبھی سب سے بڑا انتقام سچ بولنا نہیں ہوتا… بلکہ اس شخص کو اس کی اپنی ہی نظروں میں ننگا کر کے چھوڑ دینا ہوتا ہے۔

کالم نگار : سارہ خانم
| | |
95