(+92) 319 4080233
کالم نگار

نادیہ زید

نادیہ زید

پروفائل | تمام کالمز
2026/09/20
موضوعات
وہ ماں باپ جن کے سب بچے کامیاب ہوئے
آپ نے بہت سے ایسے والدین دیکھے ہوں گے جن کے ایک دو بچے غیر معمولی طور پر کامیاب نکلتے ہیں، جبکہ کسی ایک آدھ کے لیے وہ عمر بھر دل ہی دل میں فکر مند رہتے ہیں۔ ماما پاپا کی تربیت مجھے اس لیے ہمیشہ قابلِ غور لگی کہ ان کے سب کے سب بچے، الحمدللہ، اپنی اپنی جگہ کامیاب اور مطمئن زندگیاں گزار رہے ہیں۔ چند دن پہلے ماما کے ساتھ بیٹھی گفتگو کے دوران میں نے ان سے پوچھا، ’’آخر آپ نے ایسا کیا کیا تھا کہ سب بچے اس قدر متوازن نکلے؟‘‘ ماما نے سادہ سا جواب دیا، ’’اگر آپ کے پاپا کسی بچے کو ڈانٹتے تھے تو میں بیچ میں نہیں آتی تھی۔ نہ انہیں روکتی، نہ بچے کی طرف سے دلیل دیتی۔ کبھی غلطی پوری طرح بچے کی نہ بھی ہوتی، تب بھی اسی لمحے اس کی حمایت میں کھڑی نہیں ہوتی تھی۔ اور جب میں کسی بچے کو ڈانٹتی تھی تو آپ کے پاپا بھی مجھے نہیں ٹوکتے تھے۔ بچوں کے سامنے ہماری بات ایک ہی رہتی تھی۔''

ماما کی یہ مختصر سی بات دیر تک ذہن کے کسی گوشے میں گونجتی رہی۔ گھریلو زندگی کے بہت سے بڑے اصول اسی طرح معمولی جملوں میں چھپے ہوتے ہیں۔ خاندان پر لکھی جانے والی Family Systems Theory بھی اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ خاندان محض چند افراد کا مجموعہ نہیں ،، بلکہ ایک ایسا مربوط نظام ہے۔ ماں باپ باہم ایک دوسرے کے فیصلوں، اختیار اور طرزِ تربیت کو جس وقار سے برتتے ہیں، بچہ اسی سے گھر کے اندر رشتوں اور مراتب کی ترتیب سمجھنا سیکھتا ہے۔ اگر ہر اختلاف اسی کے سامنے ایک دوسرے کی تردید اور بےاعتباری میں بدل جائے، تو رفتہ رفتہ اصول اپنی وقعت کھو دیتے ہیں اور بچے کی توجہ اس بات پر جا ٹھہرتی ہے کہ کس کی بات کس کے ذریعے ٹلوائی جا سکتی ہے۔ اور اگر اختلاف کو بچے کے سامنے ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہونے کے بجائے الگ بیٹھ کر سلیقے اور احترام سے طے کیا جائے، تو بچہ یہ سیکھتا ہے کہ رائے کا فرق، رشتے کی حرمت اور دوسرے کے مقام کو مجروح کیے بغیر بھی باقی رہ سکتا ہے۔ Coparenting Theory، Triangulation، Social Learning Theory، Authoritative Parenting جیسے تصورات اسی بات کو اپنے اپنے طریقے سے واضح کرتے ہیں۔ البتہ یہاں بھی حد بالکل واضح ہے۔ معمول کے تربیتی اختلاف میں ایک دوسرے کو بےاختیار نہ کرنا اور صریح زیادتی کے سامنے خاموش رہنا دو بالکل مختلف باتیں ہیں۔

ماما پاپا کی زندگی ہمیشہ ہموار نہیں رہی۔ پاپا G. C فیصل آباد کے فارغ التحصیل تھے اور گریجویشن کے بعد انہوں نے شیشے کا اپنا کاروبار شروع کیا تھا۔ ایک زمانے میں کاروبار خوب پھلا پھولا، پھر مشترکہ خاندانی نظام کے بعض پیچیدہ معاملات نے نقصان کا سلسلہ شروع کر دیا اور ایک وقت آیا کہ مالی تنگی خاصی بڑھ گئی۔ مگر ماما جب اس زمانے کا ذکر کرتی ہیں تو ان کی یادوں کا مرکز تنگ دستی نہیں ہوتا۔ وہ کہتی ہیں، ’’ہم سوچتے تھے بچوں کو بہت کچھ نہیں دے سکتے تو اپنا وقت اور پیار تو دے سکتے ہیں۔‘‘ بچے سکول سے آتے تو پاپا کی دوکان پہ چلے جاتے جہاں پاپا انہیں پڑھاتے، شام کو سب اکٹھے بیٹھتے، کبھی کوئی کھیل کھیلتے، کبھی باتیں ہوتیں، اور ہر بچہ اپنے دن کی پوری روداد سناتا۔ گھر کے وسائل کم ہوئے، پر محبت کم نہ ہوئی۔ فیملی سٹریس ماڈل Family Stress Model ہمیں یہ بتاتا ہے کہ معاشی تنگی کا اثر صرف وسائل کی کمی سے نہیں پڑتا، یہ نظریہ واضح کرتا ہے کہ اصل ضرب اس وقت پڑتی ہوتی ہے جب مالی دباؤ والدین کے سکون، باہمی تعلق اور طرزِ تربیت کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لے۔ ماما پاپا نے حالات کی سختی کو بچوں کے لیے محبت، توجہ اور موجودگی پر غالب نہیں آنے دیا۔

سوشیالوجی کی نظر سے یہ Social Capital Theory اور Family Resilience Theory کا ایک نہایت خوب صورت نمونہ ہے۔ حالات نے گھر کے مادی وسائل کو ضرور محدود کیا، مگر اعتماد، باہمی تعلق، گفتگو، وقت اور جذباتی وابستگی جیسے وسائل محفوظ رہے۔ اور Family Investment Model اور Attachment Theory بھی اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ بچے صرف چیزوں کی فراوانی سے نہیں بنتے، بلکہ اس سے بھی کہ والدین اپنے محدود وسائل کو تعلق، اطمینان، تحفظ اور تربیت میں کس قدر دانش مندی سے بدل دیتے ہیں۔

ماما جب زید کے بچپن کا ذکر کرتی ہیں تو ان کی تربیت کی ایک نہایت خوب صورت نسبت سامنے آتی ہے۔ زید زیادہ تر انہی کے ساتھ پڑھتے، اور نتیجہ آنے پر اگر کہتے، ’’پینتیس میں سے اکتیس نمبر آئے ہیں‘‘، تو ماما فوراً پوچھتیں، ’’سب سے زیادہ کتنے آئے؟‘‘ جواب تینتیس ہوتا تو کہتیں، ’’تینتیس تم بھی لے سکتے تھے، اگلی بار اور محنت کرنا۔‘‘ نہ بےحساب داد، نہ ایسی گرفت جو بچے کے اندر سے اعتماد کھینچ لے۔ محبت نے بچے کو سہارا دیا اور توقع نے اسے آگے بڑھنے کی سمت۔ Authoritative Parenting بھی اسی ربط کو اہم سمجھتی ہے۔ میرے لیے اس میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ کامیابی کبھی محبت کا جواز نہیں بنی۔ بچے کو یہ نہیں سکھایا گیا کہ محبت کمانا پڑتی ہے، بلکہ یہ کہ محبت اپنی جگہ یقینی ہے، اور اسی یقین کے ساتھ تم سے تمہاری بہترین صلاحیت کے مطابق امید رکھی جاتی ہے۔

آج زید امریکا کی ایک university میں پڑھاتے ہیں، ان کے دونوں بڑے بھائی سافٹ ویئر انجینئر ہیں، سب سے بڑے بھائی امریکا میں مقیم ہیں، دوسرے Principal Software Engineer ہیں، جبکہ ان کی بہن غذائیت کے شعبے میں پی ایچ ڈی کر رہی ہیں اور ساتھ پیشہ ورانہ ذمہ داریاں بھی نبھا رہی ہیں۔

مگر مجھے ان سب کامیابیوں سے بڑھ کر یہ بات خوب صورت لگتی ہے کہ ماما پاپا نے اپنے بچوں کو اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے دیے، اپنی پسند کے رشتے قائم کرنے دیے اور اپنے اپنے گھروں میں اپنے طریقے سے خوش رہنے دیا۔ اب وہ اپنے بچوں کو دیکھتے ہیں تو ان کے چہروں پر ایک ایسی آسودگی نظر آتی ہے جس کا تعلق کسی سند، عہدے یا آمدن سے نہیں۔ اس میں اللہ کی رحمت بلاشبہ شاملِ حال ہے، مگر بعض نعمتیں انسان کے اپنے رویّے، اپنی نیت اور برسوں کی دی ہوئی محبت کا پھل بھی محسوس ہوتی ہیں۔ بچے تو سب پال لیتے ہیں، مگر کم لوگ انہیں یہ یقین دے پاتے ہیں کہ وہ قابل بھی ہیں، عزیز بھی، اور گھر ان کے لیے ہمیشہ ایک محفوظ جگہ رہے گا۔

کالم نگار : نادیہ زید
| | |
112