میں نے امریکہ کی کم از کم چار یا پانچ ریاستوں میں کام کیا ہے اور اسپتال بھی ان گنت تھے۔ کسی ریاست میں سالوں پہلے کا ذکر ہے کہ ایک ویک اینڈ پر مجھے کام کرنا تھا۔ زیادہ تر ڈاکٹروں کی طرح ویک اینڈ ایک ذمہ داری لگتی ہے اور خواہش ہوتی ہے کہ کم از کم رات کو سونے کا موقع تو ضرور مل جائے۔ ھفتہ کو مریض دیکھے ، ضروری ٹیسٹ آرڈر کئیے اور نوٹس لکھ کر سُکھ کا سانس لیا۔ اب اتوار کو ہمیشہ خواہش ہوتی تھی کہ مریض کم آئیں۔ اس دن تو خوب یاد تھا کہ اللہ تعالی سے بڑی دعا کی کہ اتوار آسان گزرے لیکن اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ اتنے مریض داخل ہوئے کہ میری کمر ہی ٹوٹ گئی ۔ دل میں سوچا بھی کہ دعا قبول نہیں ہوئی۔ ایمرجنسی روم نے ایک یا دو مزید مریضوں کے داخلے کا کہا جہاں مجھے انکار کرنا پڑا کیونکہ فلور پر مزید گنجائش ہی نہیں تھی۔ قہر درویش برجان درویش۔ اگلے دن میری کال نہیں تھی۔ ایمرجنسی روم کے اس مریض کو جو انتظار کر رہا تھا۔ داخل کر لیا گیا۔ میں نہ داخل کرنے والا ڈاکٹر تھا اور نہ ہی آرڈر دینے والا۔ مریض داخل ہوا۔ بظاہر ٹھیک تھا لیکن طبیعت بگڑی اور انتقال کر گیا ۔ اس کے خاندان والے سخت ناراض ہوئے اور اسپتال اور سارے ڈاکٹروں حتی کہ سوشل ورکر تک پر مقدمہ کر دیا اب اصل رقم تو معلوم نہیں لیکن ایسے معاملوں میں عموما” کئی ملین ڈالروں کے ہرجانے کا تقاضہ کیا جاتا ہے۔ جہاں بہت سے لوگ اس مقدمے میں ملوث ہوئے وہاں اس مریض میں میرا نام کہیں نہیں آیا کیونکہ میں اس کو داخل کرنے والوں میں یا اس کا علاج کرنے والوں میں شامل نہیں تھا۔ ایک مشکل اور مصروف اتوار نے بظاہر اگلے کئی مہینوں سالوں تک چلنے والے مقدمے سے میری جان بچا لی۔
مختار مسعود صاحب نے اپنی مشہور کتاب سفر نصیب میں اپنی ایک خواہش کا حال لکھا۔ وہ شمالی علاقوں کی طرف گئے اور انہیں ایک خوش نظر جھیل دکھائی دی۔ علاقہ اس قدر خوبصورت تھا کہ انہوں نے اُس جھیل کے کنارے گھر بنانے کی خواہش کی۔ بعد میں اپنے ہمراہیوں کو لے کر اُس پرسکون جگہ پر دوبارہ آن پہنچے۔ اس جگہ پر سب کچھ تھا۔ انہوں نے منظر کشی کرتے ہوئے برف پوش پہاڑ، نیلا آسمان، نیلگوں جھیل برف سے ڈھکی چوٹیاں اور دیودار سے ڈھکی ڈھلوانوں کا ذکر کیا لیکن جب واپس پہنچے تو سوائے ایک بدبودار جوہڑ کے کچھ دکھائی نہیں دیا۔ معلوم یہ ہوا کہ وہاں ایک ریسٹ ہاؤس تو بنوایا گیا لیکن راتوں رات برف کا ایک ایسا تودہ پہاڑ سے چلا جو ساری خوبصورتی کو ملیامیٹ کرتے ہوئے ریسٹ ہاؤس کو نہ صرف تباہ کر گیا بلکہ اس نیلگوں جھیل کو بھی جوہڑ بنا گیا۔
انہوں نے بالکل درست لکھا کہ ہماری کتنی ہی خواہشوں میں ہماری ہلاکت کا سامان ہوتا ہے اور قدرت انہیں پُورا نہیں کرتی اور ہم سمجھتے ہیں کہ دعا قبول نہیں ہوئی۔
سالوں پہلے ایک مرتبہ مسجد نبوی ﷺ جانا ہوا۔ اگر آپ جا چُکے ہیں تو واقف ہوں گے کہ وہاں رمضان کے علاوہ بھی شام کو افطار کا بندوبست ہوتا ہے۔ رمضان کے دن تو نہیں تھے لیکن کسی وجہ سے میرا روزہ تھا ۔ عصر پڑہ کر میں اپنے افطار کیلئے کچھ لینے کیلئے گیا۔ عموما” ایک آدھ جوس کا گلاس اور تازہ تیار کیا ہوا شوارما مل جاتا ہے۔ راستے میں ایک بظاہر مفلوک الحال خاتون نے مجھے روک لیا۔ وہ خاتون مکمل پردے میں تھیں لیکن انہوں نے اپنی مٹھی میں بند ایک کھجور میرے حوالے کی۔ یہ بات بالکل واضح تھی کہ وہ خاتون بظاہر خوش حال نہیں تھیں لیکن شاید نیکی کرنے کی خواہش اُن کو حرم میں لے آئی اور اس خواہش کے نتیجے میں ایک ہی کھجور جو اُن کے پاس تھی وہ مجھے دے ڈالی۔ اُن کے پاس کوئی ایسا سامان بھی نہیں تھا جو یہ بتاتا کہ اُن کے پاس بانٹننے کو بہت کچھ تھا۔ مجھے اعتراف کرنے میں کوئی عار نہیں ہے کہ میرا اس کھجور کا استعمال کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ میں نے رسمی سا شکریہ ادا کیا اور کھجور کو اپنی پشت کے تھیلے میں پھینک دیا۔
جب میں افطار کا سامان لینے اپنی مخصوص جگہ پر پہنچا تو معاملات کچھ ایسے بنے کہ میں کچھ بھی نہیں خرید پایا لیکن میرا دل مطمئن تھا کیونکہ مسجد نبوی ﷺ کی مخصوص جگہ پر بہرحال افطار کا انتظام ہوتا ہے۔ واپس آ کر مجھے اپنی جگہ مل گئی اور وقت مقرر پر افطار کے پیک ڈبے بھی آ گئے۔ فرق صرف اتنا تھا کہ میری بھرپور کوشش کے باوجود مجھے کوئی ڈبہ نہیں مل سکا۔ اتنی دیر میں مغرب کی اذان ہو گئی اور ناچار واحد چیز جو افطار کیلئے میرے پاس تھی وہ اُس بوسیدہ لباس میں ملبوس نیک دل خاتون کی دی ہوئی کھجور تھی جس سے مجھے افطار کرنا پڑا۔
اب اس واقعے کو ایسے دیکھیے کہ رمضان کے دن نہیں ہیں لیکن ایک سمندر پار مسافر جو روزے سے ہے اور وہ مسجد نبوی میں آتا ہے اور ایک مفلوک الحال خاتون کو صدقہ کرنے کیلئے صرف وہی ملتا ہے۔ خواہش کے باوجود افطار کے سارے راستے بند ہیں اور افطاری اسی کھجور سے کی جاتی ہے۔
کئی سال پہلے ہمارے علاقے میں مسجد نہیں تھی اور بہت دور جانا پڑتا تھا۔ چند ایک مسلمانوں نے مسجد بنانے کا بیڑہ اٹھایا۔ مسائل بہت زیادہ تھے اور وسائل مقابلتا” بہت تھوڑے تھے۔ ایک نیک دل عربی النسل مسلمان نے کم و بیش پچاس ہزار ڈالر کا چیک تھما دیا۔ معلوم ہوا کہ اس کریم النفس مہربان انسان نے اپنی ریٹائرمنٹ کا فنڈ نکلوا کر دے دیا تھا۔ کچھ مہینے بعد علم ہواکہ اس کے بچے کو ایک ممتاز یونیورسٹی میں ایک ایسا سکالر شپ ملا جو صرف قواعد کی تبدیلی کی وجہ سے ہی مل پایا اور قواعد اس کے بچے کے داخلے کے موقعے پر ہی بدلے گئے۔ پُرانے قواعد اور ضوابط کے مطابق یہ ممکنات میں سے نہیں تھا۔
جب زندگی میں مہربانی کا راستہ اختیار کریں، لوگوں کی راہ سے نوکیلے پتھر ہٹا دیں، مسائل کی تیز دھوپ سے بچانے کو آسانی کی چھتری لے کر کھڑے ہو جائیں ۔ اپنے آپ کو تکلیف دے کر دوسروں کی آسانی کردیں۔ کسی کو سردی میں ایک کمبل یا رضائی لے دیں۔ کھانا کھلاتے ہوئے تھوڑا حفظ مراتب بھی ہو جائے۔ کسی ہمسائے کو کبھی سودا سلف پوچھ لیں۔ کچھ نہیں تو ایک اچھا بول ، کسی غلطی سے چشم پوشی ، کام کرنے والی کو بس اسٹاپ اتار کر اُس دن کا کرایہ دے ڈالنا آپ کے نزدیک تو چھوٹی سی نیکی ہو گی لیکن بس اتنا یاد رکھئیے کہ بنی اسرائیل کی فاحشہ کی بخشش ایک پیاسے کُتے کو پانی پلانے پر ہو گئی تھی۔
کریم کی گٹھڑی بظاہر خالی بھی ہو جائے تو بھرنے میں دیر نہیں لگتی۔ برکت ایک کیفیت ہے جو دکھائی تو نہیں دیتی لیکن گھر بھر دیتی ہے۔ وجہ جانے بغیر اور ان دیکھے انداز میں معاملے سنور جانے کے حکم کہیں اور سے آتے ہیں اور اس کے وسائل غیر محسوس اور انجان ہوتے ہیں بالکل ایسے ہی جیسے ایک گرم دوپہر کو ساون کے بادل نہ جانے کس طور پر نمودار ہوتے ہیں اور شدید گرمی کو خوشگوار موسم سے بدل دیتے ہیں۔ یہ سودا کر لیجئیے فائدے میں رہیں گے۔