(+92) 319 4080233
کالم نگار

خالد قیوم تنولی

خالد قیوم تنولی

پروفائل | تمام کالمز
2026/09/21
موضوعات
مٹی میں شفاہے
بچے کی پہلی سالگرہ ہم نے ہسپتال کے چلڈرن وارڈ میں منائی جہاں وہ دس دن سے مسلسل داخل تھا۔ متعدد ٹیسٹ ہوۓ۔ ادویات اور معالج بدلے لیکن بیماری کی ٹوہ میں رہنا سبھی کا اکارت جاتا دکھاٸی دیتا۔ جاناں کو اولیاۓ کرام سے بڑی عقیدت ھے لہذا ان کے اصرار پر ہم بچے کو مزار سلطان باہو ، داتا صاحب ، میاں میر ، بی بی پاک دامن ، کھڑی شریف اور مزار حضرت مہر علی شاہ بھی لے گئے۔ کہیں بھی افاقہ نہ ہُوا۔ سبھی دیسی و روایتی حکمت کے ٹوٹکے بھی آزما دیکھے۔

ایک دن جلالہ روڈ پر اپنے دیرینہ ہومیو معالج قیصر اسلام کے کلینک پر جانا ہوا تو انھوں نے لفافہ دیکھ کر خط کا مضمون بھانپ لیا۔ پوچھنے پر ہم نے ساری غم کتھا سنا ڈالی۔ پہلے تو بہت بگڑے اور ہماری میٹھی میٹھی کلاس لے لی۔ پھر کلینک بند کر کے ہمارے ساتھ گھر آۓ۔ بچے کو منگوایا۔ تا دیر معاٸنہ کیا۔ بیسیوں سوال پوچھے اور آخر میں فرمایا : ”ایک تو گھر دوسری منزل پہ ھے ، دوسرا صاف ستھرا اتنا ھے کہ گرد و غبار کہیں بھی نہیں ، تیسرا بچہ ہر وقت لپٹا لپٹایا اور بنا ٹھنا رہتا ھے ، فرش پر اسے کھیلنے اور گِھسٹنے گِھسنے نہیں دیا جاتا۔ بچے کا دھرتی اور مٹی سے کوٸی تعلق ہی نہیں۔ چوتھی وجہ ، چونکہ بچے نے ماں کا دودھ پینا تو کُجا ، چکھا تک نہیں تو قدرتی قوتِ مدافعت کی شدید کمی ھے۔ معمولی سا بخار بھی بڑی مصیبت بن گیا۔ اوپر سے ایلوپیتھک تجربات نے مزید خرابی پیدا کر دی۔ رہتی کسر درباروں کے دوروں نے نکال دی۔ زیادہ تاخیر ہوتی تو کٸ ڈس آرڈرز کا قوی امکان تھا۔ اب اس کا ایک ہی علاج ھے کہ بچے کو روزانہ دو بار ننگی زمین پر چھوڑ دیا جاۓ تا کہ یہ خوب لوٹنیاں لگاۓ ، گھیسیاں کرے ، مٹی سے اپنے ہاتھ پاٶں کو آلودہ کرے ، بھلے کیچڑ میں کھیلے ، خوب گندہ ہو ۔۔۔ دھرتی سے جڑت میں ہی شفا ھے۔ جو دواٸیں چل رہی ہیں ، آج سے سب بند کر دو ۔ میں بھی کوٸی دوا تجویز نہیں کر رہا ۔۔۔ جو ہدایت ھے ، عمل شروع کر دو۔“

ہم دونوں نے اسی دن شام کو جی ٹی روڈ پار کینٹ مال کے کنارے گھاس کے ہموار قطعے پر جا بیٹھنے کا معمول آغاز کیا۔ بچے نے صرف چڈی اور بنیان پہنی ہوتی۔ گھاس پر گھسٹتا ہوا وہ نرم مٹی والے ٹکڑے پر جا نکلتا اور تھوڑی ہی دیر میں خود کو ٹھیک ٹھیک خراب کر لیتا۔ ہم دونوں کے روکتے روکتے کچھ مٹی پھانک بھی لیا کرتا۔ جاناں نے چھت کو پانی سے دھونا موقوف کر دیا ورنہ بڑی شاھراہ سے قریب ہونے کی بدولت گرد کی اچھی خاصی تہہ روز جم جاتی تھی۔ اب محی میاں کو وہاں چھوڑ دیا جاتا جہاں گاتو(بلی) اس کی گیندیں اور کھلونے جھپٹ کر ادھر ادھر چھوڑ دیتی اور وہ ان کے پیچھے گرد آلود فرش پر ہمکتا پھرتا۔ ہفتہ بھر بعد کافی حوصلہ افزا تبدیلی ظاہر ہونے لگی۔ ہشاش بشاش ہونے لگا۔ رونا اور ضد کرنا بھی چھوڑ دیا۔ ڈاکٹر صاحب نے اس کے لیے بکری کا دودھ تجویز کیا تھا تو جو گوالا ہمیں دودھ پہنچایا کرتا ، ہم نے اس سے استدعا کی کہ بچے کے لیے بطور دوا درکار ھے۔ اللہ بھلا کرے ، وہ ہر دوسرے دن ایک لیٹر بلا ناغہ پہنچا دیتا۔ ڈاکٹر قیصر اسلام (مرحوم) ایک دن خود ہی نتیجہ دیکھنے کو آۓ اور بچے کو دیکھ کر بولے : ”یہ ہوٸی نا بات ۔۔۔ ناتجربہ کاری و نادانستگی سے آپ دونوں نے اگرچہ بچے کو بڑی تکلیف میں رکھا ، مگر اب یہ بالکل ٹھیک ہے۔ اس معمول کو کبھی ترک مت کرنا۔“

کالم نگار : خالد قیوم تنولی
| | |
61