(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولاناانس انور بدخشانی

مولاناانس انور بدخشانی

پروفائل | تمام کالمز
2026/09/22
موضوعات
ایک سایہ شفقت اٹھ گیا
ایک چراغ ہدایت بُجھ گیا: گزشتہ ہفتے مادر علمی جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کے قدیم استاذ حضرت مولانا شکور احمد رحمہ اللہ اچانک وفات پاگئے،ابھی یہ صدمہ ختم نہ ہوا تھا کہ گزشتہ کل مرکز رُشد وہدایت رائے ونڈ کے وہ عظیم مبلّغ ،شیخ الحدیث، استاذ الاساتذہ ، نسبتوں کے امین حضرت مولانا محمد احسان الحق صاحب رحمہ اللہ بھی مالکِ حقیقی سے جا ملے، جن کی زندگی کا ایک ایک سانس امت کو جوڑنے اور رب سے ملانے میں گزرا۔ اور پھر آج توحید کی صدا بلند کرنے والے خطیب باعمل حضرت مولانا عبدالحنان صدیقی رحمہ اللہ بھی خاموش ہو کر آسودہ خاک ہوگئے۔

یہ محض چند افراد کی وفات نہیں، یہ محراب و منبر کی وہ اداسی ہے جو دلوں کو توڑ کر رکھ دیتی ہے۔ جب جنازے پر جنازہ اٹھتا ہے اور علم کے سورج ایک کے بعد ایک غروب ہوتے ہیں، تو آنکھیں بے اختیار رو پڑتی ہیں مگر آنسوؤں کی اس وادی میں، ذرا اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر سوچئے…!

کیا یہ چہرے صرف چلے جانے کے لیے آئے تھے؟ نہیں! یہ ہمیں جگانے کے لئے آئے تھے۔ ان پاکیزہ روحوں کی زندگی کا پیغام صرف اتنا تھا کہ جسم تو پیوند خاک ہوسکتے ہیں، مگر حق کا چراغ کبھی بجھ نہیں سکتا۔ علمائے حق کی بظاہر خاموشی ہمیں پیغام دے رہی ہے کہ ان کے جانے سے جو منبر ومحراب خالی ہوئے ہیں، ہمیں اب انہیں اپنے اخلاص، توبہ اور سجدوں سے بھرنا ہوگا۔ علم وعمل کی مشعل کو گرنے سے پہلے تھامنا اب ہم سب کی ایمانی ذمہ داری ہے۔

روئیے دل کھول کر روئیے کہ ان کی مفارقت کا غم ایمان کی علامت ہے۔ مگر اس غم کو مایوسی نہ بننے دیجیے۔ ان اکابرین کا رب آج بھی زندہ ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گا۔ اٹھائیے اپنے ہاتھ، اور اپنے آنسوؤں کو ان کے درجات کی بلندی کا ذریعہ بنائیے۔اے اللہ! ان علمائے حق کی قبروں کو نور سے بھر دے، امت مسلمہ کو ان کا نعم البدل عطا فرما، اور ہم سب کو جنت الفردوس میں اکٹھا فرمادے آمین!

کالم نگار : مولاناانس انور بدخشانی
| | |
86