.... امام احمد بن حنبلؒ اور ائمہ حدیث: ائمہ اہلِ سنت نے فضائلِ اہلِ بیت کی احادیث کو اپنی جانوں پر کھیل کر کتبِ صحاح و مسانید میں محفوظ کیا، جبکہ اسی دور میں غالی راویوں نے اہلِ بیت کے نام پر باطل عقائد گھڑ کر دین کو مسخ کیا۔ .... 4. اولادِ رسول اور اولادِ علیؓ کا انتخابی انکار (Selective Belief) .... بناتِ رسول کا انکار: شیعہ یہ باور کراتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی صرف ایک ہی صاحبزادی سیدہ فاطمہؓ تھیں، جبکہ قرآن اور تاریخ شاہد ہے کہ سیدہ زینب، سیدہ رقیہ اور سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہن بھی رسول اللہ ﷺ کی حقیقی بیٹیاں تھیں۔
.... اولادِ علیؓ کی تفریق: سیدنا علیؓ کی دیگر باوقار اولاد، مثلاً امام محمد بن الحنفیہ، حضرت عباس بن علی (علم دار)، حضرت جعفر، حضرت عثمان اور حضرت ابوبکر بن علی کی عظمت کو پسِ پشت ڈال کر صرف ایک خاص سلسلے کو لیا گیا، اور جب امام محمد بن الحنفیہ نے غلو سے براءت کا اعلان کیا تو غالیوں نے ان پر بھی طعن کیے۔ .... 5. غلو کا فتنہ: عبد کو معبود اور نبی سے افضل بنانے کی کوشش: شیعہ خطابت اور مجالس میں سیدنا علیؓ کو اس مقام پر پہنچا دیا جاتا ہے جہاں وہ انبیاء علیہم السلام سے افضل اور "یا علی مدد" کے نعروں سے مشکل کشا کے درجے پر دکھائی دیتے ہیں۔ یہ عقیدہ خود سیدنا علیؓ کے اس فرمان کے خلاف ہے: "يَهْلِكُ فِيَّ رَجُلَانِ: مُحِبٌّ مُفْرِطٌ يُقَرِّظُنِي بِمَا لَيْسَ فِيَّ، وَمُبْغِضٌ يَحْمِلُهُ شَنَآنِي عَلَى أَنْ يَبْهَتَنِي" ("میرے بارے میں دو قسم کے لوگ ہلاک ہوں گے: ایک حد سے بڑھ کر تعریف کرنے والا غالی، اور دوسرا بغض کی بنا پر بہتان باندھنے والا") (نہج البلاغہ، خطبہ 127)۔ .... 6. مظلومیت کی اجارہ داری اور دیگر صحابہ کی عظیم شہادتوں کی نفی: کربلا کا سانحہ بلا شبہ تاریخِ اسلام کا ایک دردناک باب ہے، لیکن شیعہ فکر نے ایسا تاثر قائم کیا گویا پوری کائنات میں صرف سیدنا حسینؓ ہی پر ظلم ہوا:
.... سیدنا عثمان غنیؓ کی مظلومانہ شہادت: ذوالنورین سیدنا عثمانؓ کو 40 دن تک بھوکا پیاسا رکھ کر، پانی کا ایک ایک گھونٹ بند کر کے تلاوتِ قرآن کے دوران ان کے اپنے گھر میں خون میں نہلا دیا گیا۔ .... دیگر صحابہ کی قربانیاں: حضرت یاسرؓ اور سیدہ سمیہؓ کو تپتی ریت پر نیزوں سے شہید کیا گیا، حضرت خبیب بن عدیؓ کو سولی پر چڑھایا گیا، حضرت حرام بن ملحانؓ کو دھوکے سے شہید کیا گیا، اور سیدنا عمر فاروقؓ و سیدنا علی المرتضیٰؓ کو محرابِ عبادت میں شہید کیا گیا۔ ان تمام عظیم شہادتوں کو فراموش کر کے صرف 10 محرم کو رسمی ماتم تک دین کو محدود کر دینا خالص بدعت ہے۔ .... 7. صلحِ حسنؓ کے بعد صحابہ کو فاسق و کافر ٹھہرانے کا تضاد: جب سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے 41 ہجری میں امت کو خونریزی سے بچانے کے لیے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے تاریخی صلح فرمائی (عام الجماعۃ)، تو شیعہ تاریخ کا تضاد کھل کر سامنے آیا۔ جو صحابہ اور تابعین سیدنا حسنؓ کے اس فیصلے کے ساتھ کھڑے ہوئے، انہیں کوفہ کے سبائیوں نے "مذل المؤمنین" (مومنوں کو رسوا کرنے والا) تک کہا۔ جلیل القدر صحابہ جیسے سیدنا قیس بن سعد بن عبادہؓ اور سیدنا سلیمان بن صرد خزاعیؓ کو جنہوں نے بیعت کی، شیعہ روایات میں کٹہرے میں کھڑا کر دیا گیا۔ .... 8. دین کی قربانیوں کا کریڈٹ اور عملی منافقت: جب کسی شیعہ سے اسلام کی فتوحات، تبلیغ اور قربانیوں کے بارے میں پوچھا جائے تو وہ سیدنا علیؓ، سیدہ فاطمہؓ اور حسنین کریمینؓ کے نام گنوانا شروع کر دیتے ہیں، گویا یہ ہستیاں سنیوں کی نہیں صرف ان کی تھیں۔ سوال یہ ہے کہ اس کے بعد چودہ سو سال کی تاریخ میں شیعہ فکر نے اسلام کو کیا دیا؟ نہ سندھ و ہند کی فتوحات میں ان کا نام ہے، نہ طارق بن زیاد و محمد بن قاسم ان کے تھے، نہ صلاح الدین ایوبی ان کے تھے، اور نہ ہی برصغیر و وسطی ایشیا میں اسلام پھیلانے والے اولیاء و صوفیاء ان کے تھے۔ .... 9. اپنے ہی حق پسند علماء کا بائیکاٹ: جب بھی کسی شیعہ محقق یا عالم نے عقل، علم اور حقیقت پسندی کی بات کی اور ان خرافات کا انکار کیا، ان کے اپنے معاشرے نے انہی کو مطعون کیا: .... آیت اللہ سید ابو الفضل البرقعی: جنہوں نے غلو کے خلاف کتابیں لکھیں تو انہیں کافر قرار دے کر قاتلانہ حملے کیے گئے۔ .... علامہ سید محمد حسین فضل اللہ (لبنان): جنہوں نے واقعہ بابِ سیدہ (دروازہ جلانے اور پسلی توڑنے) کا علمی رد کیا تو قم و نجف کے روایتی مراجع نے ان کے خلاف فتوے جاری کیے۔ .... احمد الکسروی اور علی شریعتی: جنہیں حقائق بیان کرنے پر فکری و جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ .... 10. ایران، اسرائیل اور صیہونیت کے تاریخی و اسٹریٹجک تعلقات کا پردہ چاک: شیعہ سیاسی لابی آج ایران کو "محورِ مقاومت" اور اسلام کا واحد علم بردار بنا کر پیش کرتی ہے، جبکہ تاریخ کے اوراق ایران، اسرائیل اور صیہونی گٹھ جوڑ کی تلخ حقیقتوں سے بھرے پڑے ہیں: .... پہلوی دور کا کھلم کھلا اسٹریٹجک اتحاد: 1948ء میں اسرائیل کے قیام کے فوراً بعد ترکی کے بعد ایران دوسرا اکثریتی مسلم ملک تھا جس نے اسرائیل کو "ڈی فیکٹو" تسلیم کیا۔ شاہِ ایران کے دور میں "پیریفیری ڈاکٹرائن" (Periphery Doctrine) کے تحت ایران اور اسرائیل کا خفیہ سیکیورٹی معاہدہ "ٹرائیڈن" (Trident) قائم ہوا، جس میں موساد اور ایرانی خفیہ ایجنسی "ساواک" (SAVAK) نے مشترکہ انٹیلی جنس نیٹ ورک چلایا اور ایران نے اسرائیل کو سستے داموں تیل فراہم کیا۔ .... ایران-کونٹرا اسکینڈل اور اسرائیلی ہتھیاروں کی ترسیل (1980 کی دہائی): 1979 کے نام نہاد "انقلاب" اور "مرگ بر اسرائیل" کے کھوکھلے نعروں کے باوجود، ایران-عراق جنگ کے دوران ایران نے خفیہ طور پر اسرائیل سے اربوں ڈالر کا اسلحہ خریدا۔ اسرائیلی تاریخ دان رونن برگمین (Ronen Bergman) نے اپنی دستاویزی کتاب The Secret War with Iran میں ثابت کیا ہے کہ اسرائیل نے ایران کو ہزاروں TOW اینٹی ٹینک میزائل، ہاک (Hawk) اینٹی ایئرکرافٹ سسٹمز اور ایف-4 جیٹ طیاروں کے اسپیئر پارٹس فراہم کیے۔ سابق اسرائیلی وزیرِ دفاع موشے آرینز (Moshe Arens) نے واضح بیان دیا تھا کہ "ہم نے صدام کے خلاف توازن قائم رکھنے کے لیے ایران کو اسلحہ فراہم کیا"۔ .... آپریشن اوپرا (Operation Opera - 1981): عراق کے اوسیراک (Osirak) ایٹمی ری ایکٹر پر اسرائیلی حملے سے قبل، ایرانی فضائیہ نے خفیہ طور پر اس تنصیب کی جاسوسی تصاویر اور نقشے اسرائیل کو فراہم کیے تاکہ سنی اکثریتی عرب ملک کی ایٹمی صلاحیت تباہ ہو سکے۔ .... اصفہان اور یہودیت کی تاریخی ہم آہنگی: ایران کے شہر اصفہان، تہران اور شیراز میں مشرقِ وسطیٰ کی سب سے بڑی غیر عرب یہودی آبادی آزادی سے بستی ہے، جن کے پاس ایرانی پارلیمنٹ (مجلس) میں مخصوص نشست ہے اور وہ ریاستی تحفظ میں رہتے ہیں، جبکہ تہران جیسے کروڑوں کی آبادی والے دارالحکومت میں اہلِ سنت والجماعت کو ایک بھی جامع مسجد تعمیر کرنے کی اجازت نہیں۔ .... عرب و مسلم دنیا کی تباہی بمقابلہ زبانی زرد صحافت: ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) اور اس کی پراکسیز (حزب اللہ، حوثی، حشد الشعبی) نے شام، عراق، یمن اور لبنان میں لاکھوں سنی مسلمانوں کا قتلِ عام کیا، تاریخی سنی شہروں کو کھنڈر بنا دیا، مگر 45 سالہ تاریخ میں ان کا ایک بھی میزائل براہِ راست اسرائیل کے قبضے سے بیت المقدس کی ایک اینٹ بھی آزاد نہ کروا سکا۔ یہ سارا کھیل سنی دنیا کے گرد گھیرا ڈالنے کی ایک خالص قوم پرستانہ اور جغرافیائی سیاست ہے۔ شیعہ درحقیقت تاریخی اہلِ بیت کے پاکیزہ اسوۂ حسنہ، ان کے اعتدال، ان کی شجاعت، اور ان کے صحابہ کے ساتھ پیار و الفت کے قائل ہی نہیں ہیں۔ انہوں نے اپنے تعصبات کو زندہ رکھنے کے لیے ایک خیالی خاکہ تیار کر رکھا ہے۔سیدنا علیؓ، سیدہ فاطمہؓ اور حسنین کریمینؓ تمام اہلِ ایمان کی آنکھوں کا تارا ہیں، اور ان کا اصل وارث وہ ہے جو ان کی سیرت پر چلے، نہ کہ وہ جو ان کے نام پر امت میں تفریق پیدا کرے۔ ان شوخ حسینوں کی ادا اور ہی کچھ ہے یہ دل ہے مگر دل میں بسا اور ہی کچھ ہے
کالم نگار : تحریر: محمد غفران الندوی الہندی