ہمارا مذہب ہماری ہر ہر حوالے سے راہ نمائی کرتا ہے؛ ایسے جذبوں کی حوصلہ شکنی کرتا ہے جو جان لیوا ہوں؛ ایسی بھی کیا افتاد پڑ جاتی ہے کہ بندا اپنی جسامت اور طاقت سے باہر نکل کر کوئی ایڈونچر کرے؟ سڑک پر ناجانے کتنی اموات تیز رفتاری، ون ویلنگ اور قانون شکنی کی وجہ سے پیش آتی ہیں۔
کیا اللّٰہ تعالیٰ نے انسان کو عقل و شعور کی دولت عطاء نہیں کی کہ جس سے وہ اندازہ لگا سکے کہ وہ جو کام کرنے جارہا ہے اس میں اس کی زندگی کی کوئی گارنٹی نہیں؟ یہ بات سطحی نظر سے شاید بھلی نہ لگ رہی ہو مگر یہ اس قدر افسوس ناک امر ہے کہ علماء کرام ایسی اموات کو خود کش/ی کے مترادف قرار دیتے ہیں، جن میں موت کا امکان زندگی کے امکان سے زیادہ ہو۔
میں نے ایک جگہ پڑھا تھا کہ: جو موٹر سائیکل سوار جان بوجھ کر تنگ راستوں سے اوور ٹیک کرتے ہیں؛ حد رفتار کی پابندی نہیں کرتے یا ون ویلنگ کرتے ہیں اور اسی دوران حادثے کا شکار ہوکر جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، ان کے متعلق قوی امکان یہی ہے کہ ان کی موت حرام موت ہوئی ہے کیوں کہ انہوں نے قرآن کی رو سے خود کو ہلا/کت میں ڈالا ہے۔
مجھے بھی افسوس ہے کہ ایک مہم جو ڈاکٹر خاتون کی نعش 6400 میٹر پر بے یار و مددگار پڑی ہے اور اس کو لانے کے لیے اپنی جان جوکھوں میں ڈالنے والے ان کے ورثاء سے تیس لاکھ روپے ڈیمانڈ کر رہے ہیں، مگر کیا ان مہم جوئی کے شوقینوں کو اتنا بھی معلوم نہیں کہ یہ قدم ان کے لیے جان لیوا بھی ہوسکتا ہے؟ کتنے مہم جوؤں کی لاشیں ان سدا بہار برفیلے پہاڑوں کی آغوش میں پڑی ہیں اور کتنی لاشیں گرم موسم میں برف کے پگھلنے سے برآمد ہوتی ہیں اور زبان حال سے اپنا نوحہ بیان کرتی ہیں مگر کیا یہ سب واقعات عبرت حاصل کرنے کو کافی نہیں؟
غیر مسلموں اور ہم میں بنیادی فرق ہی نظریے کا ہے؛ ہماری زندگی بامقصد ہے، اس جہان سے آگے ایک اور جہان کے عقیدے سے عبارت ہے اس لیے ہم مذہبی حدود و قیود کے دائرے میں رہنے کے پابند ہیں جب کہ غیر مسلموں کا مقصد فقط یہی مادی دنیا ہے اور وہ اسی میں جی کر مر کھپ جانا چاہتے ہیں جب کہ ہمارا مقصد آخرت میں سرخروئی ہے تو کیا ہمیں مذہب کے حدود و قیود سے باہر نکل کر غیر مسلموں کی پیروی کرنی چاہیے؟ اور پیچھے کیا اپنے گھر والوں کو آزمائش میں ڈالنا چاہیے؟